مزارعت بٹائی
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ زمین کا مالک اپنی زمین کسی ایسے شخص کو دے دے جو اپنے آلات بیج اور جانوروں کے ذریعہ اس کی کاشت اس شرط پر کرے کہ زمین کی پیداوار کا مقررہ حصہ جس پر وہ دونوں باہم متفق ہوں، مثلاً نصف یا ایک تہائی حصہ اس کو ملے گا۔ زمیندار کا کاشتکار کو بیج، آلات اور جانور فراہم کرنا بھی جائز ہے۔ اس طریقہ کو مزارعہ مساقاۃ اور مخابرہ کہتے ہیں۔
صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ نصف پیداوار پر معاملہ کیا تھا۔
بخاری کتاب الحرث باب المزارعة بالشطر ونحوه ح : 2328 ، مسلم كتاب المساقاة باب المساقاة ح : 1551
جو فقہاء کرام اس قسم کی مزارعت کو صحیح سمجھتے کہتے ہیں، وہ اس مذکورہ حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ صحیح اور مشہور بات ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات تک عمل درآمد فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد والے بھی اسی طریقہ پر عمل کرتے رہے۔ اور مدینہ کا تو کوئی گھر ایسا نہیں تھا، جس کے لوگوں نے اس طریقہ پر عمل نہ کیا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس طریقہ پر معاملہ کرتی رہیں۔ ایسے ثابت شدہ معاملہ کو منسوخ قرار دینے کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں ہے۔
المغنى – ج : 5 ص : 384
فاسد مزارعت
مزارعت بٹائی کی ایک قسم وہ ہے جو عہدِ رسالت میں رائج تھی اور جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو منع فرمایا۔ کیونکہ اس میں ایک طرح کی مجہولیت پائی جاتی تھی اور دھوکہ دہی کا پہلو بھی، جس کی وجہ سے نزاع پیدا ہو سکتا تھا۔ نیز یہ طریقہ صریحاً عدل کی روح کے خلاف تھا۔ چنانچہ زمیندار کاشتکاروں سے اس شرط پر معاملہ کرتے تھے کہ وہ زمین کے معینہ حصہ مثلاً : ایک چوتھائی حصہ کی پیداوار کے حقدار ہوں گے یا غلہ کی مقررہ مقدار ان کو ملے گی اور باقی حصہ یا تو کاشتکار کو پورا ملے گا یا دونوں میں تقسیم ہوگا۔ مثلاً نصف نصف۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے میں عدل کا تقاضا یہ تھا کہ جملہ پیداوار میں خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، دونوں فریق شریک ہوں۔ اور یہ صورت صحیح نہیں تھی کہ ایک فریق کا حصہ متعین ہو اور وہ تنہا فائدہ میں رہے اور دوسرا نقصان اٹھائے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے زمین کے دوسرے حصہ میں پیداوار ہی نہ ہو۔ ایسی صورت میں ضروری تھا کہ دونوں کو پیداوار میں طے شدہ تناسب کے مطابق حصہ ملے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جن کے پاس زمین تھی وہ اکثر مزارعت کا معاملہ کرتے تھے۔ وہ زمین کو اس طرح کرایہ پر دیتے کہ اس کے ایک گوشہ کی پیداوار زمین کے مالک کے لیے مخصوص ہوتی، لیکن کبھی زمین کے مخصوص حصہ میں پیداوار نہ ہوتی بلکہ بقیہ زمین میں ہوتی۔ اور کبھی مخصوص حصہ میں ہوتی اور بقیہ زمین میں نہ ہوتی۔ اسی لیے ہمیں اس طرح معاملہ کرنے سے منع کر دیا گیا۔
بخاری کتاب الحرث باب (7) ح : 2327
بخاری کی ایک دوسری حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا : ہم بٹائی پر دیتے ہیں۔ یعنی ایک چوتھائی پیداوار کی شرط پر یا کھجور اور جو کی مقررہ مقدار پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا نہ کرو۔
بخاری کتاب الحرث باب ماكان اصحاب النبي لم يواسي بعضهم ح : 2339 ، مسلم كتاب البيوع باب كراء الأرض بالطعام ح : 1548
اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معاشرہ میں مکمل عدل قائم کرنے کے بے حد خواہشمند تھے اور افراد معاشرہ کو ان تمام باتوں سے دور رکھنا چاہتے تھے جو نزاع کا باعث بن سکتی ہوں۔ زمین کے مالک اور کسان دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کریں اور نرمی برتیں۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت بٹائی کو حرام نہیں کیا ہے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔
ترمذی کتاب الاحكام باب (42) من المزارعة ح : 1385
اس لیے جب طاؤس رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ اے ابو عبد الرحمن ! اگر آپ اس مخابرہ بٹائی کو ترک کر دیتے تو اچھا ہوتا کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ! تو انہوں نے جواب دیا : میں ان کی مدد کرتا ہوں اور انہیں دیتا ہوں۔
ابن ماجه كتاب الرهون باب الرخصة فى المزارعة بالثلث والربع ح : 2462 ، وقد اخرجه البخاري ايضاً في كتاب الحرث باب (10) ح : 2330
ان کو محض روزی روٹی کمانے کی فکر نہیں تھی کہ خواہ محنت مزدوری کرنے والے بھوکے مرجائیں انہیں ان کی پروا نہ ہو بلکہ وہ ان کی مدد کرتے تھے اور انہیں عطا کرتے تھے۔ یہ تھا حقیقی مسلم معاشرہ۔
بعض اوقات زمیندار زمین کو بغیر زراعت کیے بے کار چھوڑ دینا پسند کرتے، لیکن کسی کاشت کرنے والے کو تھوڑے معاوضہ پر دینے کے لیے آمادہ نہ ہوتے۔ اسی لیے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے امراء کو ہدایت کی تھی کہ زمین کو پیداوار کے چوتھائی یا تہائی یا پانچویں دسویں حصہ کی شرط پر دے دیں اور اس کو غیر آباد نہ چھوڑیں۔