جمعتہ المبارک پڑھنے کے فضائل
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ . فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ .
”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو۔“
(62-الجمعة:9۔10)
مفسرین نے لکھا ہے کہ بعض اہل مدینہ ”بقیع الزبیر“ میں جمعہ کی اذان ہونے کے بعد بھی خرید و فروخت میں مشغول رہتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ: ”وہ جمعہ کی نماز کا خاص اہتمام کریں، اور اذان ہونے کے بعد اپنے کاروبار چھوڑ کر مسجد کی طرف چل پڑیں، تاکہ خطبہ اور نماز کے فضائل و برکات سے مستفید ہو سکیں اور مزید تاکید کے طور پر فرمایا کہ کاروبار دنیا چھوڑ جمعہ کی نماز کے لیے جانے ہی میں تمہارے لیے ہر بہتری ہے۔ کاش تم اس بات کو سمجھ جاؤ۔“ (تیسیر الرحمن: 2/ 1589)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
من توضأ فأحسن الوضوء، ثم أتى الجمعة فاستمع وأنصت، غفر له ما بينه وبين الجمعة، وزيادة ثلاثة أيام، ومن مس الحصا فقد لغا .
”جس شخص نے اچھے طریقے سے وضو کیا، پھر جمعہ پڑھنے آیا اور نہایت توجہ اور خاموشی سے خطبہ سنا تو اس کے (گزشتہ) اور اس جمعہ کے دوران کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، بلکہ مزید تین دن کے اور۔ اور جس شخص نے کنکریوں کو چھوا تو اس نے بے کار حرکت کی۔“
صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب فضل من استمع وأنصت في الخطبة، رقم: 857.
عن ابن عمر رضي الله عنهما ، أن رسول الله ، قال: إذا جاء أحدكم الجمعة ، فليغتسل
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کی نماز کے لیے آئے تو اسے چاہیے کہ (پہلے) غسل کرے۔“
صحيح بخاري، كتاب الجمعة، باب فضل الغسل يوم الجمعة، رقم: 877۔ صحیح مسلم، کتاب الجمعة، رقم: 844
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ذكر يوم الجمعة، فقال: فيه ساعة لا يوافقها عبد مسلم ، وهو قائم يصلي يسأل الله تعالى شيئا إلا أعطاه إياه وأشار بيده يقتلها
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعے کا ذکر کیا تو فرمایا: ”اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس مسلمان بندے کو وہ میسر آ جائے اور وہ کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا ہو، تو وہ اللہ سے جس چیز کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرما دیتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس گھڑی کے مختصر ہونے کا اشارہ فرمایا۔
صحيح بخاري، كتاب الجمعة، باب الساعة التي في يوم الجمعة، رقم: 935 ـ صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب في الساعة التى في يوم الجمعة، رقم: 852
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة ، فيه خلق آدم ، وفيه أدخل الجنة ، وفيه أخرج منها
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے، اسی میں سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی میں وہ جنت میں داخل کیے گئے اور اسی میں ان کو نکالا گیا۔“
صحیح مسلم، كتاب الجمعة، باب فضل يوم الجمعة، رقم: 854.
أن ابن عمر وأبا هريرة رضي الله عنهما حدثاه، أنهما سمعا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول: على أعواد منبره : لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات، أو ليختمن الله على قلوبهم ، ثم ليكونن من الغافلين .
سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے منبر کے تختوں پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ جمعے چھوڑنے سے باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ یقیناً غافل لوگوں میں سے ہو جائیں۔“
صحيح مسلم، کتاب الجمعة، باب التغليظ في ترك الجمعة، رقم: 865