أخبرنا طلحة بن أبى سعيد قال سمعت سعيد المقبري يحدث أنه سمع أبا هريرة رضى الله عنه يقول قال النبى صلى الله عليه وسلم من احتبس فرسا فى سبيل الله إيمانا بالله وتصديقا بوعده فإن شبعه وريه وروثه وبوله فى ميزانه يوم القيامة.
”ہمیں طلحہ بن ابی سعید نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں میں نے سعید مقبری سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ پر ایمان اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا کھانا، پینا، پیشاب اور لید روز قیامت اس کے ترازو میں ہو گا اور سب پر اس کو ثواب ملے گا۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواہ البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب من احتبس فرسا فی سبیل اللہ، الرقم: 2853)
تشریح
اس حدیث میں خطے کے دفاع کے لیے اگرچہ گھوڑے پالنے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے یہ بھی استدلال کیا جا سکتا ہے کہ دور حاضر میں جو آلات حرب ہیں ان کا بنانا، خطے کے دفاع کے لیے ان کا خریدنا ان کی حفاظت کرنا ان کے استعمال کی پریکٹس کرنا وغیرہ بھی جائز ہے، ان کی فراہمی بھی دور رسالت میں گھوڑوں کی فراہمی جیسے ثواب کا موجب ہو گی۔