میت کو قربانی میں شامل کرنے کا حکم اور روایات کی تحقیق

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

میت کو قربانی میں شامل کرنا

میت کو قربانی میں شریک کرنا جائز نہیں، کیونکہ میت کو قربانی میں شریک کرنے کے جواز کے بارے میں صحیح مسلم کی جس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے وہ استدلال درست نہیں، ذیل میں حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا اور اس سے اخذ کیا جانے والا استدلال پیش خدمت ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن، يطأ فى سواد، ويبرك فى سواد، وينظر فى سواد، فأتي به ليضحي به قال لعائشة: هلمي المدية، ثم قال: اشحذيها بحجر، ففعلت، ثم أخذها، وأخذ الكبش فأضجعه، ثم ذبحه، ثم قال: باسم الله، اللهم! تقبل من محمد و آل محمد و من أمة محمد، ثم ضحی به
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے ایسے مینڈھے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا (یعنی اس کے ہاتھ پاؤں سیاہ تھے)، سیاہی میں بیٹھتا (اس کا پیٹ سیاہ تھا) اور سیاہی میں دیکھتا (یعنی اس کی آنکھیں سیاہ تھیں) ہو۔ پھر (ان صفات کا حامل) مینڈھا ذبح کرنے کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”چھری لاؤ“ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسے پتھر پر تیز کرو۔ انھوں نے (اس حکم کی تعمیل کی)، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری پکڑی، پھر مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا، اس کے بعد اسے ذبح کرنے لگے تو یہ کلمات کہے: باسم الله، اللهم! تقبل من محمد و آل محمد و من أمة محمد ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آلِ محمد اور امتِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے قبول فرما۔ پھر اسے ذبح کر دیا۔“
صحیح مسلم، کتاب الأضاحي، باب استحباب الضحية 1967۔ سنن أبي داود، کتاب الضحايا، باب ما يستحب من الضحايا: 2792 ۔
اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی میں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شریک کیا ہے اور امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کئی فوت شدگان بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے فوت ہو چکے تھے۔ لہٰذا میت کو قربانی میں شریک کرنا جائز ہے، یہ استدلال سراسر باطل اور بے سروپا ہے، کیونکہ الفاظِ حدیث میں تو امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی میں شریک کرنے کا ذکر ہی نہیں۔ حدیث میں تو فقط اتنا وارد ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آلِ محمد اور امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبولیتِ قربانی کی دعا کی ہے، انھیں قربانی میں شریک نہیں کیا۔

فضیلۃ الشیخ حافظ عبد المنان نور پوری رحمہ اللہ کا فتوی:

”صحیح مسلم والی حدیث سے زندہ (لوگ) مراد ہیں، پھر صحیح مسلم کے لفظ ہیں:
و أخذ الكبش، فأضجعه، ثم ذبحه، ثم قال: بسم الله، اللهم! تقبل من محمد، و آل محمد و من أمة محمد
اس میں یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل اور آل اور امتِ محمدیہ کی طرف سے قربانی کی، اس میں تو ذبح کے بعد اپنی، آلِ محمد اور امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبولیت کی دعا کا تذکرہ ہے۔“
احکام و مسائل از حافظ عبد المنان نورپوری 444/1-445۔
پھر جن احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ میت کو قربانی میں شریک کرنا جائز ہے، وہ احادیث ضعیف ہیں۔
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين سمينين أملحين أقرنين موجوءين فذبح أحدهما فقال: اللهم عن محمد وأمته من شهد لك بالتوحيد و شهد لي البلاغ
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹے تازے، چتکبرے، سینگوں والے دو خصی مینڈھے ذبح کیے اور ایک کو ذبح کیا تو یہ کلمات کہے: اے اللہ! (یہ قربانی) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی امت کے ان افراد کی طرف سے ہے، جنھوں نے تیری توحید کی گواہی دی ہے اور میری تبلیغ کے گواہ ہیں۔“
ضعیف: مستدرک حاکم 227/4-228۔ سنن بیہقی 287/9۔ سنن ابن ماجہ، أبواب الأضاحي، باب أضاحي رسول الله صلى الله عليه وسلم :3122۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب، ہاشمی ضعیف راوی ہے، دیکھیے تحریر تقریب التہذیب۔
② سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أتي بكبشين أقرنين أملحين عظيمين موجوءين، فأضجع أحدهما و قال: بسم الله و الله أكبر، اللهم عن محمد و آل محمد، ثم أضجع الآخر فقال: بسم الله و الله أكبر عن محمد و أمته، من شهد لك بالتوحيد و شهد لي البلاغ
”یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چتکبرے، سینگوں والے، موٹے تازے، دو خصی مینڈھے لائے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو لٹایا اور ذبح کرتے وقت یہ کلمات کہے: بسم اللہ واللہ اکبر، اے اللہ! (یہ قربانی) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا مینڈھا لٹایا اور اسے ذبح کرتے وقت یوں گویا ہوئے: اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! (یہ قربانی) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی امت کے ان افراد کی طرف سے جنھوں نے تیری توحید کی گواہی دی اور میری تبلیغ کی شہادت دی۔“
ضعیف: مسند أبي يعلى 1792۔ سنن بیہقی 268/9۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب ہاشمی ضعیف راوی ہے۔
③ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا ضحى اشترى كبشين سمينين أقرنين أملحين فإذا صلى و خطب الناس، أتي بأحدهما وهو قائم فى مصلاه، فذبحه بنفسه بالمدية، ثم يقول: اللهم! إن هذا عن أمتي جميعا ممن شهد لك بالتوحيد و شهد لي بالبلاغ، ثم يؤتى بالآخر فيذبحه بنفسه و يقول: هذا عن محمد و آل محمد فيطعمهما جميعا المساكين، ويأكل هو و أهله منهما
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ کرتے تو دو موٹے تازے سینگوں والے، چتکبرے مینڈھے خریدتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (عید) پڑھتے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے تو ایک مینڈھا لایا جاتا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی جگہ پر کھڑے ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اسے چھری سے ذبح کرتے اور یہ کلمات کہتے: اے اللہ! یہ (قربانی) میری امت کے ان تمام افراد کی طرف سے ہے جنھوں نے تیری توحید کی گواہی دی اور میرے پیغام پہنچانے کی شہادت دی۔ پھر دوسرا مینڈھا لایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خود ذبح کرتے اور کہتے: ”یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آلِ محمد کی طرف سے ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں جانوروں کا گوشت مساکین کو بھی کھلاتے، خود بھی تناول کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ بھی ان سے کھاتے۔“
ضعیف: مسند أحمد 391/6۔ طبرانی کبیر 915۔ سنن بیہقی 259/9۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل ضعیف راوی ہے۔
ایسی تمام مطلق روایات جن سے فوت شدگان کو قربانی میں شامل کرنے کی دلیل لی جاتی ہے وہ ضعیف ہیں۔ نیز اوپر بیان کردہ صحیح مسلم کی روایت میں منقول الفاظ: (بسم الله، اللهم! تقبل من محمد و آل محمد و من أمة محمد) ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آلِ محمد اور امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما۔“
صحیح مسلم: 1967۔
اور سنن ابی داؤد میں مینڈھے ذبح کرتے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول یہ الفاظ: (اللهم منك و لك عن محمد و أمته باسم الله و الله أكبر) ”اے اللہ! (یہ قربانیاں) تیرا عطیہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی امت کی جانب سے تیرے لیے ہیں، اللہ کے نام سے اور وہ سب سے بڑا ہے۔“
حسن: سنن أبي داود، کتاب الضحايا، باب ما يستحب من الضحايا: 2795۔ سنن ابن ماجہ، أبواب الأضاحي، باب أضاحي رسول الله صلى الله عليه وسلم 3121۔ مسند أحمد 375/3۔ صحیح ابن خزیمہ 2899۔ مستدرک حاکم 1669۔ صحیح ابن خزیمہ، مسند احمد اور مستدرک حاکم میں محمد بن اسحاق کے سماع کی تصریح موجود ہے، لہٰذا یہ حدیث حسن درجہ کی ہے۔
ان روایات سے یہ استدلال کرنا کہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو قربانی میں شریک کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض امتی وفات پا چکے تھے، لہٰذا میت کو قربانی میں شریک کرنا جائز ہے۔ یہ استدلال کئی اعتبار سے باطل ہے۔
① یہ مطلق روایت ہے اور اصولِ فقہ کا معروف قاعدہ ہے کہ ایک ہی مسئلہ میں مقید اور مطلق روایات منقول ہوں تو مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، چنانچہ آئندہ عنوان کے تحت منقول روایت مقید ہے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان زندہ افراد کو قربانی میں شریک کرنا ثابت ہے، جو قربانی کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔
② امت کے ایسے زندہ افراد جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، ان کی طرف سے قربانی کرنا خاصۂ رسول ہے، کسی عام امتی کو اس کی اجازت نہیں، لہٰذا قربانی میں میت کو بلا ثبوت شامل نہیں کیا جا سکتا۔