رفع الیدین: متواتر سنت نبوی ﷺ اور ائمہ حدیث کا متواتر عمل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب مسئلہ رفع الیدین سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

رفع الیدین اور ائمہ حدیث:

① حافظ بغوی رحمہ اللہ (516ھ) فرماتے ہیں:

[أحاديث رفع اليدين في المواضع الأربع أصح وأثبت فاتباعها أولىٰ]

چار مقامات پر رفع الیدین کی احادیث ”صحیح“ اور ”اثبت“ ہیں، انہی پر عمل کرنا چاہیے۔

[شرح السنّة: 24/3]

② ابو عبداللہ محمد بن جابر فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[رأيت أبا عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل وأبا يعقوب إسحاق ابن إبراهيم بن مخلد وأبا جعفر أحمد بن صالح المصري وأبا حمزة محمد بن عبد الله ابن عمر وأبا عبد الله محمد بن يحيى الذهلي وأبا زرعة عبيد الله بن عبد الكريم وأبا الحسن أحمد بن سيار وأبا عبد الله أحمد بن نصر النيسابوري وقتيبة بن سعيد وهدبة ابن خالد البصري ونصر بن علي وحبان بن موسى وأبا إبراهيم إسماعيل بن يحيى والربيع بن سليمان ومحمد بن بشار ومحمد بن المثنى وعبد الأعلى بن حماد وعباس ابن الوليد النرسيين ومحمد بن المصفى وهشام بن عمار وعمرو بن عثمان ومحمود بن خالد وإسحاق بن منصور وأبا سعيد عبد الرحمن بن إبراهيم ومن لا يحصى كثرة من الأئمة المقتدي بهم يرفعون أيديهم إذا كبروا لافتتاح الصلاة حذو مناكبهم وإذا ركعوا وإذا رفعوا رؤوسهم من الركوع قال أبو عبد الله محمد بن جابر فإن قال قائل فإن مالك بن أنس لم يكن يرفع يديه إلا عند الافتتاح وهو احد أعلامكم الذين تقتدون به قيل له صدقت هو من كبار من يقتدى به ويحتج به وهو أهل لذلك رحمه الله عليه ولكنك لست من العلماء بقوله حدثنا حرملة بن عبد الله التجيبي أنبأنا عبد الله بن وهب قال رأيت مالك بن أنس يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع من الركوع قال أبو عبد الله فذكرت ذلك لمحمد بن عبد الله بن عبد الحكم وهو ناب أصحاب مالك بمصر والعالم بقوله وما مات مالك عليه فقال هذا قول مالك وفعله الذي مات عليه وهو السنة وأنا عليه وكان حرملة على هذا]

میں نے دیکھا کہ حضرات ائمہ کرام ابو عبداللہ احمد بن محمد بن حنبل، ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم بن مخلد، ابو جعفر احمد بن صالح مصری، ابو حمزہ محمد بن عبداللہ بن عمر، ابو عبداللہ محمد بن یحییٰ ذہلی، ابو زرعہ عبیداللہ بن عبدالکریم، ابو الحسن احمد بن سیار، ابو عبداللہ احمد بن نصر نیسابوری، قتیبہ بن سعید، ہدبہ بن خالد بصری، نصر بن علی، حبان بن موسیٰ، ابو ابراہیم اسماعیل بن یحییٰ، ربیع بن سلیمان، محمد بن بشار، محمد بن مثنیٰ، عبدالاعلیٰ بن حماد، عباس بن ولید نرسیین، محمد بن مصفیٰ، ہشام بن عمار، عمرو بن عثمان، محمود بن خالد، اسحاق بن منصور، ابو سعید عبدالرحمن بن ابراہیم رحمہم اللہ اور بے شمار ائمہ مقتدیٰ نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کندھوں تک رفع الیدین کرتے تھے۔ امام ابو عبداللہ محمد بن جابر فرماتے ہیں: کوئی کہہ سکتا ہے کہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ بھی تو ائمہ مقتدیٰ میں سے ہیں، وہ تو صرف نماز شروع کرتے وقت ہی رفع الیدین کرتے تھے، تو اسے کہا جائے گا: آپ نے صحیح کہا، امام مالک رحمہ اللہ یقیناً قابلِ اقتداء اور حجت ائمہ کرام میں ہیں، آپ رحمہ اللہ تو اس کے اہل ہیں، لیکن آپ کو ان کے اقوال کا علم نہیں ہے۔ مجھے حرملہ بن عبداللہ تجیبی نے بتایا کہ انہیں عبد اللہ بن وہب مصری نے بیان کیا کہ انہوں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ کو نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے رفع الیدین کرتے دیکھا۔ امام ابو عبداللہ حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے یہ بات محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم رحمہ اللہ، جو کہ مصر میں اصحابِ مالک کے نائب تھے اور امام مالک رحمہ اللہ کے اقوال اور ان کے آخری قول و عمل کو بخوبی جاننے والے تھے، سے ذکر کی، تو فرمانے لگے: امام مالک رحمہ اللہ کا قول تھا اور مرتے دم تک یہی عمل تھا، سنت بھی یہی ہے۔ میں بھی اسی پر کاربند ہوں اور حرملہ رحمہ اللہ بھی اسی پر عمل پیرا تھے۔

[تاریخ دمشق لابن عساکر: 179/52، وسنده صحيح]

③ امام ابو الفضل صالح بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[قال أبي: رأيت إسماعيل بن أبي علية يرفع يديه وكان حسن الصلاة ومعتمر بن سليمان وعبد الرحمٰن بن مهدي ويحيى بن سعيد كانوا يرفعون أيديهم في الصلاة]

میرے والد محترم (احمد بن حنبل رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابی علیہ رحمہ اللہ کو رفع الیدین کرتے دیکھا، آپ بہت ہی اچھی نماز پڑھتے تھے۔ اسی طرح معتمر بن سلیمان، عبدالرحمن بن مہدی اور یحییٰ بن سعید رحمہم اللہ کو بھی نماز میں رفع الیدین کرتے دیکھا۔

[مسائل الإمام أحمد بن حنبل برواية ابنه أبي الفضل صالح: 165/3]

④ ابو القاسم بغوی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[رأيت أبا عبد الله أحمد ابن حنبل رحمه الله، إذا افتتح الصلاة رفع يديه حتىٰ يحاذي بهما أذنيه، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع فعل ذٰلك]

میں نے امام ابو عبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کانوں کے برابر رفع الیدین کرتے دیکھا۔

[مسائل الإمام أحمد بن حنبل برواية أبي القاسم البغوي، ص 46]

⑤ اسحاق بن منصور کوسج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[قلت: كيف يرفع يديه في الصلاة؟ قال: حذو منكبيه إذا كبر وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع، قال إسحاق كما قال، ولا يفعل في شيء من السجود ذٰلك]

میں نے (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے) پوچھا: نمازی نماز میں رفع الیدین کیسے کرے؟ فرمایا: کندھوں کے برابر۔ نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت۔ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے بھی ایسی ہی بات کی (مگر یہ بھی فرمایا کہ) سجدوں میں کہیں بھی رفع الیدین نہ کرے۔

[مسائل الإمام أحمد وإسحاق بن راهويه برواية اسحاق الكوسج: 130/1]

⑥ امام ابو الفضل صالح بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[سألته عن رجل يبلي بأرض ينكرون فيها رفع اليدين في الصلاة وينسبون إليه الرفض إذا فعل ذٰلك، هل يجوز له ترك الرفع قال أبي: لا يترك ولٰكن يداريهم]

میں نے آپ (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ) سے ایسے شخص کی بابت سوال کیا، جو کسی ایسے علاقے میں پھنس گیا، جو نماز میں رفع الیدین کے منکر ہیں اور جب کوئی کرے، تو اسے رافضی کہتے ہیں، آیا وہ وہاں رفع الیدین چھوڑ سکتا ہے؟ فرمایا: نہ چھوڑے، بلکہ ان سے بچ بچاؤ کرے۔

[مسائل الإمام أحمد برواية ابنه أبي الفضل صالح بن أحمد: 268/1]

⑦ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[أما رفع اليدين عند الركوع، فإن ذٰلك سنة يرفع يديه عند افتتاح الصلاة حذو منكبيه، وإذا ركع وإذا رفع رأسه، ولا يفعل ذٰلك في السجود ولا من السجدتين]

رہا رکوع والا رفع الیدین، تو یہ سنت ہے۔ نمازی کو چاہیے کہ نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کندھوں تک رفع الیدین کرے، سجدوں یا سجدوں سے اٹھتے وقت ایسا نہ کرے۔

[مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه: 213/1]

⑧ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

مستحب است برداشتن دو دست برابر دو دوش نزدیک تکبیر افتتاح و نزد یک رکوع و وقت قیام از رکوع۔

تکبیرِ تحریمہ، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کندھوں کے برابر رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔

[المصفٰى شرح موطأ الإمام مالك: 102/1]

الحاصل:

رفع الیدین رسول اللہ ﷺ کی متواتر سنت ہے۔ امت کا اس پر ہمیشہ سے عمل رہا ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی رفع الیدین کو ترک نہیں کیا۔