دنیا میں صرف ایک ہی صحیح عقیدہ کیوں نہیں؟

Read in English
فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

9- دنیا میں صرف ایک ہی صحیح عقیدہ کیوں نہیں؟

اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ مختلف قسم کے عقائد موجود ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ [التغابن: 2]
”وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور تم میں سے کوئی ایمان دار ہے۔“
اور فرمایا:
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً [هود: 118]
”اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقیناً سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔“
یعنی اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی دین اور عقیدہ پر جمع فرما دیتا۔ لیکن:
وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ [هود: 118، 119]
”اور وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔ مگر جس پر تیرا رب رحم کرے اور اس نے انھیں اسی لیے پیدا کیا۔“
اگر عقیدے کا اختلاف نہ ہوتا تو جنت اور جہنم کی تخلیق بے مقصد تھی، کیونکہ جنت کے لیے جنتیوں اور جہنم کے لیے جہنمیوں کا ہونا ضروری ہے اور یہ اختلافِ عقائد کے بغیر ناممکن ہے۔
ہاں یہ بات ضروری ہے کہ صحیح اور غلط عقیدے کی پہچان کا قانون اور ضابطہ کیا ہے؟ تو اس بارے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ صحیح عقیدہ وہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے عقیدے کے موافق و مطابق ہو اور جو اس کے مخالف ہو وہ غلط و فاسد عقیدہ ہے۔ یہی قانون اعمال بدنیہ کے متعلق بھی ہے، لہٰذا عمل صالح اسے کہیں گے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے عمل کے موافق ہو، جو ایسا نہ ہو وہ عمل صالح نہیں بلکہ عمل فاسد کہلاتا ہے۔ یہی وہ اصل ہے جس کے متعلق ہمیں تحقیق کرنی چاہیے کہ کیا واقعی ہمارا عقیدہ وہی عقیدہ ہے اور کیا ہمارے اعمال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے اعمال کے موافق ہیں یا مخالف؟ (ابن عثیمین: نور علی الدرب: 8/2)