مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت رسول اللہ پر سلام کا طریقہ
دوسری قسم یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت آپ پر سلام پڑھا جائے، جیسا کہ مسند اور سنن میں فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو کہے:
بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
”اللہ کا نام لے کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“
اور جب مسجد سے باہر نکلے تو یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ
”اللہ کا نام لے کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔“
(مسند أحمد 282/2، سنن الترمذى كتاب الصلاة: باب ما جاء ما يقول عند دخوله المسجد، حديث: 314، سنن ابن ماجه كتاب المساجد: باب الدعاء عند دخول المسجد، حديث: 771)
صحیح مسلم میں مروی ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت مندرجہ بالا دعا پڑھنی سنت مؤکدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے اپنی اپنی کتبِ مناسک میں لکھا ہے کہ جو شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا اس کے لیے مندرجہ بالا دعا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ پس مسجد میں داخل اور مسجد سے نکلتے وقت اور نماز کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہنا قبر مکرم کے نزدیک سلام کہنے سے زیادہ افضل ہے۔ اس میں مصلحت ہی مصلحت ہے اور نقصان کا خطرہ بالکل نہیں، اس سے اللہ تعالیٰ راضی بھی ہوتا ہے اور اس کا اجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام مومنین کو بھی پہنچاتا ہے۔