مریض کے روزے اور علاج کے دوران رخصت کے احکام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

مریض کے روزے اور علاج کے دوران رخصت کے احکام :۔

سوال :۔

میں ہسپتال میں علاج کرا رہا ہوں اور ایسی دوا کھا لیتا ہوں جو شدید بھوک کا سبب بن جاتی ہے۔ کیا میں روزہ چھوڑ دوں یا صبر کئے رہوں؟
میں اپنی عمر کے سولھویں سال میں ہوں اور تقریباً عرصہ پانچ سال سے اب تک مستشفى ملک فیصل میں خصوصی علاج کرا رہا ہوں۔ پچھلے سال ماہ رمضان میں ڈاکٹر نے حکم دیا کہ میری ورید میں کیمیاوی علاج دیا جائے اور میں روزہ دار تھا اور یہ علاج بڑا قوی معدہ اور تمام جسم پر اثر انداز ہونے والا تھا۔ ایک دن جب میں یہ علاج کرا رہا تھا تو مجھے سخت بھوک محسوس ہوئی جبکہ ابھی فجر کو تقریباً سات گھنٹے گزرے تھے۔ عصر کے قریب مجھے اتنی درد ہوئی کہ یوں محسوس ہونے لگا کہ میں مر جاؤں گا، لیکن میں نے مغرب کی اذان تک روزہ نہ چھوڑا اور اس سال ماہ رمضان میں ان شاء اللہ ڈاکٹر مجھے یہی علاج کرنے کا حکم دے گا۔ کیا اس دن میں روزہ چھوڑ دوں یا نہ چھوڑوں؟ اور اگر میں روزہ نہ چھوڑوں تو کیا اس دن کی قضا مجھے دینا پڑے گی؟ اور کیا ورید میں خون لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ اور اسی طرح اس علاج سے جس کا میں نے ذکر کیا ہے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ مجھے مطلع فرمائیں۔

جواب :۔

ماہ رمضان میں مریض کے لئے روزہ نہ رکھنا مشروع ہے جب کہ روزہ اسے نقصان دیتا ہو یا اس پر گراں گزرتا ہو یا دن کے وقت اسے علاج کی خاطر گولیاں کھانے یا دوائی پینے کی ضرورت پیش آئے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ آيَامٍ أُخَرَ(البقرہ : 185)
”اور جو شخص تم میں سے مریض ہو یا سفر میں ہو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔“
کون پسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔
(مسند احمد : 2/108 ، مسند البزار : 988 ، صحیح ابن خزیمہ : 950 ، شعب الایمان : 3890)
اور ایک دوسری روایت میں کہا :
كما يحب أن تؤتى عزائمه
جیسے وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے ضروری (واجبی) احکام پر عمل کیا جائے۔
(صحیح ابن حبان : 3568)
رہی تحلیل یا کسی دوسرے مقصد کے لئے ورید میں خون لینے کی بات تو صحیح قول یہی ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ لیکن اگر زیادہ خون لینا پڑے تو بہتر یہ ہے کہ اسے رات تک مؤخر کر دیا جائے۔ اگر دن کو کرے تو پھر محتاط روش یہ ہے کہ اسے حجامت (پچھنے لگوانا) کی مانند قرار دے کر اس کی قضا دے۔