عن أبى عمرو الشيباني قال سألت عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قلت يا رسول الله أى العمل أفضل قال الصلاة على ميقاتها قلت ثم أى قال ثم بر الوالدين قلت ثم أى قال الجهاد فى سبيل الله فسكت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو استزدته لزادني
”ابو عمرو شیبانی سے روایت ہے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (دین کے) کاموں میں سب سے افضل کون سا کام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقت پر نماز پڑھنا۔ “ میں نے پوچھا: پھر کون سا کام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماں باپ سے نیک سلوک کرنا۔ “ میں نے پوچھا: پھر کون سا کام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ پھر میں خاموش ہو رہا، اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید بیان کرتے۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواه البخاري كتاب الجهاد والسير باب فضل الجهاد والسير الرقم: 2782 واللفظ له / مسلم: كتاب الايمان باب بیان کون الایمان بالله تعالى أفضل الأعمال الرقم: 85)
فوائد مستنبطہ
حدیث مذکور سے کئی باتوں کی اہمیت معلوم ہوتی ہے جن میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:
وقت پر نماز پڑھنے کی فضیلت:
جس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی نماز کا وقت آ جائے تو اس وقت نماز پڑھنے سے افضل کوئی بھی عمل نہیں۔
والدین کی خدمت:
اسی طرح ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ان بہترین اعمال میں سے ہے جس پر انسان کو ثواب ملتا ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت:
ساتھ ہی حدیث مذکور سے جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ وہ ان اعمالِ صالحہ میں سے ہے کہ جن پر قیامت کے دن انسان کو اجر و ثواب ملتا ہے۔
اعمالِ صالحہ پر حرص:
حدیث مذکور سے اعمالِ صالحہ پر حرص بھی معلوم ہوئی، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حرص کہ وہ بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان اعمالِ خیرہ کے متعلق سوال کر رہے تھے۔