خصی اور غیر خصی جانور کی قربانی کا حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

خصی اور غیر خصی جانور کی قربانی

خصی اور غیر خصی دونوں قسم کے جانور کی قربانی کرنا سنت سے ثابت ہے۔ ذیل میں اس بارے میں توفیق الہی سے دو روایتیں پیش کی جا رہی ہیں:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصی جانور کی قربانی کرنے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس کو امام ابو یعلی نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، کہ
أن رسول الله ﷺ أتي بكبشين أقرنين أملحين عظيمين موجوء بن ، فأضجع أحدهما ، وقال: "بسم الله والله أكبر عن محمد ﷺ وأمته من شهد لك بالتوحيد، وشهدلي بالبلاغ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوسینگوں والے، چت کبرے، بڑے بڑے خصی مینڈھے لائے گئے۔ آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو پچھاڑا اور کہا: ”اللہ تعالیٰ کے نام سے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کی طرف سے، جنہوں نے آپ کی توحید کی گواہی دی اور میرے پیغام [ الہی] کو پہنچانے کی شہادت دی۔“
حوالہ حدیث کے لیے ملاحظہ ہو: اس کتاب کا ص 37
➋ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غیر خصی جانور کی قربانی دینے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس کو حضرات ائمہ ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضحي بكبش أقرن فحل ينظر فى سواد ويأكل فى سواد ويمشي فى سواد“
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سینگوں والے، غیر خصی مینڈھے کی قربانی کیا کرتے تھے [اور] اس کی آنکھیں، منہ اور ہاتھ پاؤں سیاہ ہوتے تھے۔“
سنن ابی داود، كتاب الضحايا، باب ما يستحب من الضحايا، رقم الحديث 2793، 352/7؛ وسنن الترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما يستحب من الأضاحي، رقم الحديث 66/5،1529-67؛ وسنن النسائي، كتاب الضحايا الكبش 220/7 – 221؛ وسنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، ما يستحب من الأضاحي، رقم الحديث 204/2،3166. الفاظ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود 538/2؛ وصحيح سنن الترمذى (88/7) .
علامہ سندھی اس حدیث کی شرح میں تحریر کرتے ہیں، کہ اس روایت میں اور وہ روایت، جو اس کے بظاہر خلاف ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی جانور کی قربانی دی، ان دونوں میں حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ دونوں قسم کے جانوروں کو الگ الگ وقت میں قربانی کی غرض سے ذبح کیا گیا ۔
حاشية السندي على سنن النسائي 221/7