برے اخلاق، عاجزی، زیادہ ہنسنے اور حقیقت سے بڑھ کر ظاہر کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

برے اخلاق کی ممانعت

① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خصلتان لا يجتمعان فى مؤمن : البخل وسوء الخلق
”دو خصلتیں ایسی ہیں جو کسی مومن میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں: بخل اور برے اخلاق۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1962۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من الشقاق والنفاق وسوء الأخلاق
”اے اللہ! میں اختلاف، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“
ابو داؤد، كتاب الصلوة 1546، النسائي، الاستعاذة 232/8۔

عاجزی اختیار کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف ، وفي كل خير ، احرص على ما ينفعك واستعن بالله ولا تعجز ، وإن أصابك شيء فلا تقل : لو أني فعلت كان كذا وكذا ، ولكن قل : قدر الله وما شاء فعل ، فإن لو تفتح عمل الشيطان
”قوی مومن اللہ کے ہاں ضعیف مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ پسندیدہ ہے، اور ہر ایک میں خیر و بھلائی ہے۔ جو چیز تیرے لیے نفع مند ہے اس پر پوری کوشش کر، اللہ سے مدد طلب کر اور عاجزی کا اظہار نہ کر۔ اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو یوں نہ کہو: اگر میں کرتا تو ایسے ایسے ہوتا، بلکہ یوں کہو: اللہ نے جو مقدر کیا اور جو چاہا ہوا، کیونکہ ”اگر“ عمل شیطان کو کھولتا ہے۔“
مسلم، کتاب القدر 34 / 2064، ابن ماجه المقدمه 1 31 حدیث 29.

زیادہ ہنسنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
من يأخذ هذه الكلمات فيعمل بهن ، أو يعلم من يعمل بهن ؟
”کون ہے جو ان کلمات کو سیکھ کر ان کے مطابق عمل کرے یا یہ کلمات ایسے شخص کو سکھائے جو ان پر عمل کرے؟“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ کو پکڑا اور پانچ باتیں گنوائیں، تو فرمایا:
اتق المحارم تكن أعبد الناس ، وارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس ، وأحسن إلى جارك تكن مؤمنا ، وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما ، ولا تكثر الضحك ، فإن كثرة الضحك تميت القلب
”محارم سے بچتے رہنا، تم سب سے زیادہ عبادت گزار بن جاؤ گے۔ اللہ نے تمہاری قسمت میں جو تقسیم کر دیا ہے اس پر راضی ہو جانا، تم سب سے زیادہ بے نیاز و مال دار بن جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرنا، تم مومن بن جاؤ گے۔ اور جو کچھ اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی لوگوں کے لیے پسند کرنا، تم مسلمان بن جاؤ گے۔ اور زیادہ نہ ہنسنا، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔“
ترمدی، کتاب الزهد 2305، مسند احمد، باقی مسند المكترين 415/2، حدیث 8115۔

حقیقت اور اصلیت سے بڑھ کر ظاہر کرنے کی ممانعت

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں کہتی ہوں، میرے شوہر نے مجھے یہ کچھ دیا ہے حالانکہ اس نے مجھے وہ دیا نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور
”جو شخص ایسی چیز کا اظہار کرے جو اسے نہیں دی گئی، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہوں۔
مسلم، كتاب اللباس والزينة 126 / 2129۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 6 / 100، حديث 24647.
متشبع اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے آپ کو سیر شکم ظاہر کرے حالانکہ وہ ایسا نہیں ہوتا، یعنی اس لحاظ سے بھی مستعار لیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو کسی فضیلت، اہلیت اور زہد و تقویٰ کے ایسے معیار پر ظاہر کرے جس کا وہ اہل نہ ہو، اور اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو لوگوں سے بڑے زاہدانہ اور متقیانہ انداز میں ملتا ہے حالانکہ وہ اس طرح کا نہیں ہوتا۔“