کچے گوشت کو ہاتھ لگ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا:
حدثنا محمد بن العلاء وأيوب بن محمد الرقى وعمرو بن عثمان الحمصي المعنى قالوا حدثنا مروان بن معاوية أخبرنا هلال بن ميمون الجهني عن عطاء بن يزيد الليثي قال هلال لا أعلمه إلا عن أبى سعيد وقال أيوب وعمرو أراه عن أبى سعيد أن النبى مر بغلام وهو يسلخ شاة فقال له رسول الله تنح حتى أريك فأدخل يده بين الجلد واللحم فدحس بها حتى توارت إلى الإبط ثم مضى فصلي للناس ولم يتوضأ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لڑکے کے پاس سے گزرے جو کہ (ذبح کرنے کے بعد) ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیچھے ہٹ جاؤ، میں تجھے کھال اتارنے کا طریقہ بتاتا ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت اور جلد کے درمیان اپنا ہاتھ داخل کیا اور دھکا دے کر ہاتھ جلد میں گھسایا یہاں تک کہ بغل تک ہاتھ اندر چلا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی۔
(سنن ابی داود : 185، سنن ابن ماجہ : 3179، ابن حبان : 3/ 438 ح 1113، وسندہ صحیح)
والد محترم رحمہ اللہ دروس ابی داود میں فرماتے ہیں:
➊ سلخ يسلخ کھال اتارنے کو کہا جاتا ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے بہترین معلم ہیں، صحابی فرماتے ہیں: ”میں نے آپ جیسا بہترین تعلیم دینے والا معلم نہ پہلے دیکھا نہ بعد میں۔“ (صحیح مسلم: 537)
➌ وہ بچہ تھا، اسے کھال اتارنے کا طریقہ نہیں آتا ہو گا۔ جسے طریقہ نہ آئے تو کٹ لگ جاتا ہے۔ کبھی اپنا ہاتھ زخمی کر دیتا ہے، کبھی چمڑے کو یا گوشت کو کٹ لگ جاتا ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”میں تمہیں طریقہ دکھاتا ہوں۔“
➍ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت بہت زیادہ تھی۔
➎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ ہاتھ دھونا ثابت ہے نہ ہی وضو کرنا ثابت ہے۔ پانی کو چھوا ہی نہیں۔
➏ دو راوی اس روایت کو مرسل بیان کرتے ہیں، جو متصل بیان کرتا ہے اسے شک ہو گیا کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنی ہے یا نہیں۔ تاہم اس روایت کے شواہد بھی ہیں، جس کے ساتھ یہ بھی صحیح ہو جاتی ہے۔
➐ اس حدیث سے باب کے تحت وہ مسئلہ ثابت ہو گیا کہ اگر کچے گوشت کو ہاتھ لگ جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ ہاتھ دھونا بھی ضروری نہیں اگرچہ دھونا بہتر ہے کیونکہ بعض اوقات ہاتھوں پر خون بھی لگ جاتا ہے، چکناہٹ بھی لگ جاتی ہے۔