مسافر کا قربانی کرنا
مقیم کی طرح مسافر کے لیے قربانی کرنا مشروع ہے، البتہ علماء کا مسافر کے لیے قربانی کی مشروعیت کے مسئلہ میں اختلاف ہے، ذیل میں علماء کے مذاہب نقل کرنے کے بعد ہم راجح موقف کی نشاندہی کریں گے۔
مذاہب و آراء:
① شافعیہ اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ جیسے مقیم کے لیے قربانی مسنون ہے، اسی طرح مسافر کے لیے بھی قربانی مشروع ہے۔
② ابراہیم نخعی اور ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ مسافر پر قربانی نہیں ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی قول منقول ہے۔
③ مالک اور علماء کی ایک جماعت کا موقف ہے کہ مسافر کے لیے منیٰ اور مکہ میں قربانی مشروع نہیں۔
شرح النووی: 13 / 133۔ عون المعبود: 8 / 27
راجح موقف:
اس مسئلہ میں جمہور علماء کا موقف رائج ہے اور اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
① سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحيته ثم قال : يا ثوبان : أصلح لحم هذه، فلم أزل أطعمه منها حتى قدم المدينة
”(حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی ذبح کی پھر فرمایا: اے ثوبان! اس کا گوشت ذخیرہ کر لو۔ بعد ازاں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلسل اس سے کھلاتا رہا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے۔“
صحيح مسلم، کتاب الأضاحى، باب بيان ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث في أول الإسلام : 1975۔ سنن أبى داؤد، کتاب الأضاحي، باب في المسافر يضحى : 2814
فوائد:
① قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ ذخیرہ کرنا اور اسے زادِ راہ بنانا جائز ہے۔
② سفر کے لیے سامانِ سفر ذخیرہ کرنا اور زادِ راہ لینا توکل میں قادح نہیں اور ایسا شخص توکل کے زمرے سے خارج نہیں ہوتا۔
③ مسافر کے لیے قربانی ایسے ہی مشروع ہے، جیسے مقیم کے لیے اور ہمارا (شافعیہ کا) اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔
شرح النووى : 134/13۔ عون المعبود : 27/8
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم دخل عليها و حاضت بسرف قبل أن تدخل مكة و هي تبكي فقال : ما لك، أنفست، قالت : نعم، قال : إن هذا أمر كتبه الله على بنات آدم، فاقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت، فلما كنا بمنى، أتيت بلحم بقر، فقلت ما هذا ؟ قالوا ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أزواجه بالبقر
وہ مکہ داخل ہونے سے قبل مقامِ سرف پر حیض سے دو چار ہو گئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے جب کہ وہ رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کیا ہے؟ تو حیض میں مبتلا ہو گئی ہے؟“ انھوں نے عرض کی: ”ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہ امر (حیض) آدم زادیوں پر لکھ دیا ہے۔ سو حج کرنے والا جو اعمال کرے وہ اعمال کر، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) پھر جب ہم (دس ذوالحجہ کو) منیٰ میں تھے، میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا: ”یہ کیسا گوشت ہے؟“ انھوں (گوشت لانے والوں) نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی ہے۔“
صحيح بخاری، کتاب الأضاحی، باب الأضحیة للمسافر: 5548۔ صحيح مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوه الإحرام: 1211
فوائد:
① امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ باب ”باب الأضحية للمسافر والنساء“ (مسافر اور عورتوں کے لیے قربانی کا بیان) قائم کر کے مسافر کے لیے قربانی کا جواز بیان کیا ہے۔
② حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، اس عنوان میں اشارہ ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ مسافر کے لیے قربانی مشروع نہیں، ان کا موقف خلافِ سنت ہے۔
فتح الباری: 10 / 8
③ ابن بطال رحمہ اللہ حدیثِ الباب کی شرح میں لکھتے ہیں کہ شافعی کہتے ہیں: ”قربانی تمام لوگوں کے لیے مسنون ہے اور منیٰ میں حج کرنے والے پر بھی قربانی مشروع ہے۔“ ابو ثور کا بھی یہی موقف ہے اور شافعی کی دلیل اوپر بیان کردہ حدیث ہے۔
شرح ابن بطال: 11 / 4
④ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى سفر فحضر الأضحى، فاشتركنا فى البقرة سبعة و فى البعير عشرة
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں سفر میں تھے اور عید آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس افراد شریک ہوئے۔“
حسن: جامع سنن ترمذی، أبواب الأضاحي، باب ما جاء في الاشتراك في الأضحية: 1501۔ صحیح ابن حبان: 4007۔ صحیح ابن خزیمہ: 2908۔ علباء بن احمر صدوق اور باقی راوی ثقہ ہیں۔
یہ حدیث بھی واضح نص ہے کہ حالتِ سفر میں قربانی کرنا جائز اور حالتِ اقامت کی طرح سنتِ مؤکدہ ہے۔