حجیتِ حدیث سے انکار، قرآن سے انکار کیوں؟ قرآنی دلائل کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حجیت حدیث سے انکار، قرآن کی حجیت سے انکار ہے

گزشتہ ابواب میں ثابت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے شارح ہیں، اور قرآن کریم کی طرح حدیث بھی محفوظ ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث دین میں حجت ہیں اور یہ حجیت حدیث قرآن کریم نے ثابت کی ہے۔ جو شخص حجیت حدیث نہیں مانتا وہ دراصل قرآن کریم کو نہیں مانتا۔

حجیت حدیث قرآن کریم کی روشنی میں

➊ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
رُسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ
”ان سب رسولوں کو ہم نے خوش خبری دینے اور (منکروں کو عذاب سے) ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تا کہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی اعتراض باقی نہ رہے۔“
(4-النساء:165)
آیت کا ظاہری مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ رسول نہ بھیجتا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کے منکر لوگ اللہ تعالیٰ کے خلاف اعتراض کرتے کہ اس نے رسول نہیں بھیجا تھا جس کی وجہ سے ہم گمراہ ہو گئے، لہذا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو لوگوں پر حجت بنا کر بھیجا لیکن رسولوں کی ذات بطور ذات حجت نہیں بلکہ وہ رسالت کی جس صفت سے متصف ہیں وہ حجت ہے اور آپ کی رسالت میں آپ کی تمام احادیث داخل ہیں۔ مذکورہ آیت میں کتاب اللہ کا ذکر نہیں کیونکہ رسالت، وحی جلی اور وحی خفی دونوں کو شامل ہے، لہذا معلوم ہوا کہ جو شخص احادیث رسول کو حجت نہیں مانتا وہ اس آیت کریمہ کا بھی منکر ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ
”اور کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو وہ اپنے کسی معاملے میں اپنی طرف سے کوئی اختیار استعمال کریں۔“
(33-الأحزاب:36)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم و فیصلہ کو مسلمانوں کے اختیارات پر حاکم اور غالب قرار دیا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے کسی کا اختیار نہیں چلتا۔ اس حاکمیت اور غلبے کا مقصد حجیت ہے، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم و فیصلہ لوگوں پر حجت ہے اس سے نافرمانی کرنے کی کوئی اجازت نہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ زینب رضی اللہ عنہا کے نکاح کا تذکرہ کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح زید رضی اللہ عنہ سے کیا جائے اور یہ حکم حدیث ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حجت قرار دیا ہے، لہذا جو شخص حجیت حدیث کو نہیں مانتا وہ اس آیت کریمہ کو بھی نہیں مانتا۔
➌ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا
”اور ہم ہرگز عذاب نہیں بھیجتے حتی کہ کوئی رسول بھیج دیں۔“
(17-الإسراء:15)
یعنی اللہ تعالیٰ پہلے رسول مبعوث کرتا ہے اور اگر کوئی قوم رسول کی نافرمانی کرتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس نافرمان قوم پر عذاب بھیجتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول کی رسالت کو ان پر حجت بناتا ہے۔ اگر وہ اس حجت سے انکار کر دیں تو اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کرتا ہے۔ سابقہ آیت میں کتاب اللہ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ صرف رسول کا ذکر کیا ہے۔ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ رسول کی صفت رسالت میں وحی جلی اور وحی خفی دونوں شامل ہیں، لہذا اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کی احادیث پوری امت پر حجت ہیں اور جو شخص اس کی حجیت سے انکار کرتا ہے وہ دراصل اس آیت کا منکر اور عذاب کا مستحق ہے۔
➍ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ
”اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس کے لیے سیدھا راستہ خوب واضح ہو چکا اور مومنوں کی راہ کے علاوہ کسی دوسری راہ پر چلنے لگے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔“
(4-النساء:115)
اس آیت میں صرف رسول اور اس کی ہدایت کا ذکر کیا گیا ہے، کتاب اللہ کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ ”مشاقة“ دراصل عملی مخالفت کو کہا جاتا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اعمال کیے اگر کوئی شخص ان کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے لیے وعید اور تخویف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال احادیث میں مذکور ہیں۔ لفظ الہدی بھی عام ہے اور کتاب اللہ اور حدیث دونوں ہدایت کے سرچشمے ہیں۔ اس ہدایت کی مخالفت جہنم میں داخل ہونے کا سبب بنتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال اور ہدایت کی مخالفت کرنے والا اس کی حجیت سے انکار کرتا ہے، لہذا منکرین حجیت حدیث اس آیت کے منکر ہیں۔
➎ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
”پس وہ لوگ جو اس (رسول) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انھیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی مصیبت آ پڑے یا انھیں دردناک عذاب آ پڑے۔“
(24-النور:63)
اس آیت میں لفظ ”أمره“ پر غور فرمائیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت، سنت اور آپ کی احادیث قولیہ و فعلیہ سب کو شامل ہے۔ یہاں بھی کتاب اللہ کی تخصیص نہیں فرمائی، لہذا اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص بھی آپ کے امر، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت یا حدیث کی مخالفت کرے گا وہ ضرور کسی نہ کسی آفت اور عذاب سے دوچار ہو گا۔ اگر امر رسول (حدیث و سنت) دین میں حجت نہیں تو پھر اس کی مخالفت عذاب کا باعث کیونکر ہو سکتی ہے؟ ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث دین میں حجت ہیں اور جو شخص اس حجیت کا منکر ہے، وہ اس آیت اور قرآن کا منکر ہے۔
➏ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ
”بلاشبہ تمھارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، (پیروی کے لیے) ایسے شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔“
(33-الأحزاب:21)
اس آیت میں لفظ ”رسول الله“ ایک جامع لفظ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی کو محیط ہے۔ اس میں آپ کی قولی اور فعلی تمام احادیث شامل ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اس پر یہ لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کو نمونہ بنائے اور یہ تب ممکن ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو حجت کی حیثیت سے مان لے۔ اگر وہ انھیں حجت تسلیم نہیں کرتا یا اپنی خواہش کے تابع تحقیق کرتا ہے تو ایسا شخص اس آیت کریمہ کا منکر ہے۔
➐ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
”اور جس روز نافرمان شخص اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا: اے کاش! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔“
(25-الفرقان:27)
اس آیت کریمہ میں اس شخص کے افسوس اور حسرت کا ذکر کر کے اسے ظالم قرار دیا جس نے اپنی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ چھوڑ دیا۔ یہاں سبیل رسول کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ کی تمام زندگی کو محیط ہے اور آپ کی اس زندگی کی تفصیلات آپ کی احادیث میں موجود ہیں۔ یہ صریح دلیل ہے کہ سبیل رسول حجت ہے لیکن جس نے اسے حجت تسلیم نہیں کیا اور اس کا اتباع نہیں کیا وہ حجیت احادیث کا منکر ہے اور اس آیت کا منکر اور ظالم ہے، نیز ارشاد فرمایا:
يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا ‎﴿٢٨﴾‏
”ہائے میری کم بختی! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔“
(25-الفرقان:28)
”فلاں“ سے وہ شخص مراد ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی حجیت سے انکار کر کے لوگوں کو گمراہ کیا۔

حجیت حدیث عقلی دلائل کی روشنی میں

ہم نے نقلی دلائل کے طور پر چند آیات کریمہ پیش کیں، اب کچھ عقلی دلائل ملاحظہ فرمائیں:
➊ احادیث قرآن کی عملی تفسیر : قرآن کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا، آپ نے اسے امت تک پہنچایا، اسے سکھایا اور اس پر عمل کر کے دکھایا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ عملی تفسیر جو ذخیرہ احادیث میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق تھی یا مخالف؟ اگر مخالف ہو تو پہلا اعتراض اللہ تعالیٰ پر وارد ہوتا ہے کہ اس نے ایسا رسول کیوں بھیجا جس نے عمدا یا سهوا اللہ تعالیٰ کے منشا کے خلاف کام کیا؟ اس طرح تمام مسلمان بھی اس کی زد میں آتے ہیں کہ جب ان کے دین اسلام کی بنیاد غلط ہے تو کیا اسلام صحیح دین ہو سکتا ہے؟ لہذا ہمیں لازماً کہنا پڑے گا کہ عملی تفسیر اللہ تعالیٰ کے منشا کے عین مطابق ہے۔ اب جو شخص منکرین حدیث کی طرح اس تفسیر سے اختلاف کرتا ہے، اس کا انکار کرتا ہے یا اسے حجت تسلیم نہیں کرتا تو ایسا شخص یقیناً دیوانہ، عقل سلیم سے عاری اور پاگل ہے۔ وہ اپنی بے جا تاویلات کی بنا پر امت میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ احادیث قرآن کریم کی تفسیر ہیں، لہذا وہ حجت ہیں اور ان کا انکار قرآن سے انکار ہے۔
➋ تعامل امت یا اجماع امت: مطلب یہ ہے کہ دور نبوی سے لے کر آج تک ہر دور میں کروڑوں مسلمان احادیث نبویہ پر عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ ان کے درمیان اصول و مبادی میں کوئی اختلاف نہیں۔ اگر کوئی فروعی اختلاف ہے تو وہ اجتہاد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، یعنی ایسے مسائل میں اختلاف جو کتاب و سنت سے نص صریح کے ذریعے سے ثابت نہ ہوں یا احادیث کے رفع تعارض میں مجتہدین میں اختلاف ہے کہ کسی نے ایک حدیث کو معمول بہ قرار دیا تو کسی نے دوسری حدیث کو لیکن وہ سب حجیت حدیث میں متفق ہیں۔
➌ موضوع احادیث کا وجود: موضوع احادیث کا وجود حجیت احادیث کے لیے ایک قوی دلیل ہے جس کا منکرین حدیث بھی انکار نہیں کر سکتے۔ وہ اس طرح کہ اگر احادیث شرعی حجت نہ ہوتیں تو پھر احادیث گھڑنے کا کیا فائدہ؟ جب اصلی سکے کی بازار میں قدر و قیمت ہوگی تو کھوٹے سکے بنائے جائیں گے۔ منکرین حدیث بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا آیا کہ جب موضوع روایات کا سیلاب امڈ آیا تھا جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس وقت تک امت کی اکثریت حجیتِ احادیث کی قائل تھی، ابتدائی دور میں منکرین حدیث کا مشہور خطیب جاحظ معتزلی موضوع احادیث گھڑا کرتا تھا تا کہ اس کے ذریعے سے اپنا بدعی عقیدہ ثابت کرے۔ اسی طرح اب ادارہ طلوع اسلام نے اپنی غلط باتوں کو مستند بنانے کے لیے کئی من گھڑت احادیث کا سہارا لیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ معاشرہ متشکل کیا جو قرآنی نظام ربوبیت کا حامل تھا۔
(قرآنی نظام ربوبیت، ص: 180)
یہ اصطلاح احادیث یا تاریخ کی کون سی کتاب میں ہے؟ یہ وضع کردہ لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا موضوع احادیث کے زمرے میں آتا ہے، اسی طرح پرویز صاحب نے کہا: یہ قرآن بعینہ اسی شکل و ترتیب میں جو اس وقت ہمارے پاس موجود ہے لاکھوں مسلمانوں کے پاس موجود تھا اس کی مستند کاپی مسجد نبوی میں ایک ستون کے قریب صندوق میں رکھی رہتی تھی جس میں آپ سب سے پہلے وہی لکھوایا کرتے تھے۔
(طلوع اسلام، فروری 1982ء، ص: 112)
اس بات کا ذکر تاریخ اسلام یا حدیث کی کسی کتاب میں ہے؟ یہ من گھڑت اور بے سروپا بات اپنی طرف سے وضع کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دی، لہذا یہ بھی موضوع روایت ہے۔