مضمون کے اہم نکات
مختلف موضوعات پر قرآنی آیات
[1] اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ گئی۔ (الاعراف:188)
[2] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق۔ (التوبہ:100)،(الفتح: 18، 29)
[3] قیامت کے دن گواہی۔ (البقرہ:143)،(الحج:78)
[4] شہید کی برزخی زندگی۔ (البقرہ:154)،(آل عمران:169تا171)
[5] جادوگری سے بچو۔ (البقرہ:102)،(یونس:77)
[6] تقویٰ میں تعاون کرو گناہ میں تعاون نہ کرو۔ (المائدۃ:2)
[7] انعام یافتہ کون ہیں؟ (الفاتحه:5، 6)،(النساء:69)
[8] سورہ انعام مسائل عقائد پر مشتمل ہے۔
[9] سورۃ النحل کو سورۃ النعم بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں نعمتوں کا ذکر ہے۔
[10] ولی اللہ کا دشمن اللہ کا دشمن ہے۔ (البقرۃ:98)
[11] اللہ تعالیٰ آسانی چاہتا ہے۔ (البقرۃ:185)
[12] انبیاء(علیہم السلام) کفر و شرک کی تعلیم نہیں دے سکتے۔ (آل عمران:79، 80)
[13] محمد (ﷺ) نام قرآن میں چار جگہ آیا ہے۔ (آل عمران:144)،(الأحزاب:40)،(محمد:2)،(الفتح:29)
[14] نیکی بڑھتی ہے۔ (النساء:40)،(الأنعام:160)
[15] مولویوں اور درویشوں کے غلط کام۔ (المائدۃ:44، 63)،(التوبہ:31، 34)
[16] دنیا میں ایک گھڑی رہے۔ (النازعات:46)،(یونس:45)
[17] ابلیس جن تھا۔ (الکہف:50)
[18] مسلمان نام رکھا۔ (الحج:78)
[19] انسان کی زندگی کے مراحل۔ (الحج:5)،(المؤمنون:12تا14)
[20] برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کرنا۔ (الفرقان:70، 71)
[21] شیطان کا دھوکا۔ (فاطر:5)
[22] مومن۔ (یس:11)
[23] شیطان نے اکثریت کو گمراہ کیا۔ (یس:62)
[24] نیک اعمال کے بدلے دنیا کمانا۔ (الشوریٰ:20)،(بنی اسرائیل:18، 19)
[25] ایمان و عمل والے کم ہیں۔ (ص:24)
[26] دنیا و آخرت۔ (آل عمران:14، 15)،(الحدید:19تا21)
[27] ایمان کا فائدہ۔ (آل عمران:138، 139)
[28] اچھے یا برے کام کی سفارش کا بدلا۔ (النساء:85)
[29] شیطانی کام۔ (النساء:117تا119)
[30] (رسول) کے معنی ہیں بھیجا ہوا اور(نبی) کے معنی ہیں اللہ کا پیغام سنانے والا۔ (مریم:51)،(الحجر:49، 51)،(التحریم:3)
[31] دین حنیف اور آسان ہے۔ (الحج:78)
[32] ظالم کی پہچان، مومن کی پہچان۔ (النور:47تا56)
[33] کامیابی کا فارمولا۔ (حم السجدہ:34، 35)
[34] کافر کون؟ (المجادلہ:4، 5)،(الحج:72)
[35] مردوں کے لیے ایصالِ ثواب۔ (القمر:36تا42)
[36] اللہ کو قرض دینا۔ (الحدید:11)،(المزمل:20)
[37] آخرت میں کامیاب ہونے والوں کی پہچان۔ (الحشر:9)
[38] مشرک کی پہچان۔ (الصف:9)۔ مومن کی پہچان۔ (الصف:10تا14) کافر کے اوصاف۔ (القلم:10تا14) فلاح پانے والے۔ (الشمس:9) بدعتی کی پہچان یہ ہے کہ وہ سنت یعنی رسول اللہﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کو کافی نہیں سمجھتا۔ (النساء:115)،(الأحزاب:36، 66تا71)
[39] دو زندگیاں، دو موتیں۔ (البقرۃ:28)،(المؤمن:11)
[40] مسجدوں سے منع کرنا۔ (البقرۃ:114)،(التوبہ:17، 18)
[41] یتیم کے مال کے متعلق۔ (النساء:2، 6، 10، 127)،(الانعام:152)،(بنی اسرائیل:34)
[42] منافق کی نشانیاں۔ (النساء:61)
[43] ہماری ان کے آگے، ان کی اللہ کے آگے کی تردید (جیسا کہ آج لوگ قبروں پر جا کر قبر والوں سے کہتے ہیں کہ ہماری تمہارے آگے اور تمہاری اللہ کے آگے) ایسے لوگ قرآن کی رو سے کافر ہیں۔ (یونس:18)،(الزمر:3)
[44] تقلیدِ ناجائز کی جڑ کٹ گئی۔ (الأنفال:24)،(الأحزاب:36)
[45] اللہ تعالیٰ ناظر ہے۔ (البقرۃ:96، 237، 271، 273)
[46] اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی پر ہمیشہ دوزخ میں۔ (الجن:23)
[47] موت۔ (آل عمران:185،168) سب کو موت۔ (العنکبوت:57)،(الرحمن:26، 27)
[48] موت کے بعد دنیا میں آنے کا رد۔ (یس:31)،(الانبیاء:95)
[49] موت مؤخر نہیں۔ (المنافقون:11)
[50] آخرت میں موت نہیں۔ (ابراہیم:17)،(طٰہٰ:74)
[51] موت اور نیند برابر ہیں۔ (الزمر:42)
[52] اپنا اپنا عمل ہی کام آئے گا۔ (البقرۃ:134، 139)
[53] قبر میں برزخی زندگی۔ (المؤمن:11، 46)
[54] دین کو چھپانا جرم ہے۔ (البقرۃ:159)
[55] نہ خوف نہ غم (ایسے لوگ کون ہیں؟) (البقرۃ:38، 39، 62، 112، 262، 274، 277)
[56] انکارِ آیات خطرناک ہے۔ (البقرۃ:39، 85، 99، 101، 121)
[57] آیات میں جھگڑا خطرناک ہے۔ (الشوریٰ:16۔17)
[58] آیات کا ٹیڑھا مطلب نکالنا خطرناک ہے۔ (حم السجدہ:40)،(یونس:59، 60)
[59] کتاب میں اختلاف کرنا خطرناک ہے۔ (البقرۃ:75، 85، 176،91)
[60] تقلیدِ ناجائز ہے۔ (الزخرف:43-44)،(البقرۃ:120، 137، 145)
[61] اللہ اور اس کے رسولﷺ کے علاوہ کسی کا حکم ماننا طاغوت کی پیروی ہے۔ (البقرۃ:256)،(النحل:36)
[62] حرام چیزیں۔ (النحل:115)،(المائدۃ:3)،(البقرۃ:173)،(الأنعام:145)
[63] قیامت کے دن مشرکوں کا حال۔ (البقرۃ:165تا167)،(الأنعام:22تا24)،(یونس:28تا30)
[64] اللہ کے سامنے استغفار اور توبہ کرنی چاہیے، یہ بہت فائدہ مند ہے۔ (نوح:10تا12)،(الأنفال:38تا40)
[65] اللہ تھکتا نہیں۔ (البقرۃ:255) اللہ کھاتا نہیں۔ (الأنعام:14) اللہ کو نیند نہیں، اونگھ نہیں۔ (البقرۃ:255) اللہ کو موت نہیں۔ (الرحمن:26-27) اللہ بھولتا نہیں۔ (مریم: 64)
[66] آسمان اور زمین میں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ (الرحمن:29-30) وہ ہر روز ایک نئے کام میں لگا ہے۔ (الرحمن:29-30)
[67] اللہ ظاہر اور باطن کو جانتا ہے۔ (البقرۃ: 33-77)
[68] مردے سنتے نہیں۔ (النحل:20، 21)،(فاطر: 13، 14، 22)،(الزخرف:3، 4)،(النمل:80)،(الروم:52)،(یٰس:26، 27، 31)،(المؤمنون:12تا16، 100)،(ہدایہ:922/1تا925)،(ہدایہ:314/4)
[69] دنیا میں انسان کو ظاہری اختیار ہے، موت کے بعد یہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ (الأعراف: 124، 127، 129)
[70] غیراللہ کی عبادت منع ہے۔ (البقرۃ:83)،(آل عمران:64، 79، 80)
[71] شیطانی کام۔ (البقرۃ:168، 169، 208، 209)،(المائدۃ:90-91)
[72] اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کا ذکر بلند فرمایا۔ (الانشراح:4) جس کی تفسیر یہ ہے کہ انبیاء اور فرشتوں میں آپﷺ کا نام بلند کیا اور دنیا اور آخرت میں آپ ﷺ کے نام کا چرچا کیا، چنانچہ کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا مگر اس کے ساتھ آپ ﷺ کا نام ضرور لیتا ہے۔ کلمہ شہادت، اذان، اقامت، خطبہ اور تشہد وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے نام کے بعد آپﷺ کا نام لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم فرمایا ہے وہیں آپﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔
[73] اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (العلق:5)
[74] آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر جنت میں کوئی نہیں جا سکتا، اپنے اعمال کی وجہ سے بھی کوئی جنت میں نہیں جا سکتا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی:کیا آپ (ﷺ) بھی؟ فرمایا: ہاں! میں بھی۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة على العمل:[6463،[مسلم، کتاب صفات المنافقین، باب لن يدخل أحد الجنة بعمله، بل برحمة الله تعالى:2816]
[75] رسول اللہﷺ کا نشانیاں دکھانے اور ہدایت دینے سے عجز (عاجز ہونا)۔ (الأنعام:50، 57، 58، 107)،(القصص:56)
مندرجہ بالا متفرقات میں سے کچھ کی تفصیل درجہ ذیل ہے۔
[1] کوئی نبی بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں:
اے پیغمبر! کہہ دے میں اپنی ذات کے نفع اور نقصان کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب کی بات جانتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سی بھلائی جمع کر لیتا اور مجھے کچھ تکلیف نہ پہنچتی، میں تو کچھ نہیں مگر (ایک بندہ) ایمان داروں کو ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔ (الأعراف:188)
(یعنی) مشیت الہی سے جو کچھ ہونا ہے ہو رہا ہے، مجھ میں ذاتی طور پر اتنا بھی اختیار و قدرت نہیں کہ میں اپنی جان سے کسی نقصان کو روک سکوں یا کچھ نفع حاصل کر سکوں۔ (کذا فی السلفیہ) (یعنی) نہ میں غیب دان ہی ہوں، اگر ایسا ہوتا تو کتنے ہی فائدے ہیں جن کو پیشگی علم کی وجہ سے میں سمیٹ لیتا اور کتنے ہی نقصانات ہیں جن سے قبل از وقت آگاہ ہونے کی بنا پر میں بچ جاتا۔ یہاں لفظ ،،لو،، سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ باوجود افضل المرسلین ہونے کے علم غیب نہیں رکھتے تھے، خود واقعہ افک ہمارے سامنے ہے۔ اس میں رسول اللہﷺ کتنے دنوں تک مضطرب اور پریشان رہے۔ آخر قرآن میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت نازل فرمائی تو آپ ﷺ حقیقت حال سے آگاہ ہوئے۔ اس ایک واقعہ ہی سے آپﷺ کو مختار کل اور غیب دان کہنے والے خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں سے بڑا بنایا ہے، سو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ بتاتے ہیں اور اس بات میں کچھ ان کی بڑائی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عالم میں تصرف کی قدرت دے دی ہو کہ موت و حیات ان کے اختیار میں ہو یا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیب دانی دے دی ہو کہ جس کے احوال جب چاہیں معلوم کر لیں۔ (سلفیہ) اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ گئی، جب رسول اللہﷺ کو، جو تمام عالم کے سردار ہیں، اپنی جان کے نفع و نقصان کا اختیار ہو نہ غیب کی بات معلوم ہو تو کسی اور نبی یا ولی یا بزرگ یا فقیر یا جن یا فرشتے کو کیا قدرت ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچائے یا کوئی غیب کی بات بتائے۔ البتہ اللہ تعالیٰ جو غیب کی بات رسول اللہﷺ کو بتا دیتا وہ آپ کو معلوم ہو جاتی اور آپ لوگوں کو اس کی خبر دے دیتے۔ (از وحیدی)
[3] قیامت کے دن گواہی:
ویسے ہی ہم نے تم کو (اے مسلمانو!) ایک معتدل امت بنایا، تاکہ تم دوسرے لوگوں پر (قیامت کے دن) گواہ بنو اور پیغمبر (یعنی محمد ﷺ) تم پر گواہ ہوں اور (اے پیغمبر!) جس قبلہ پر تو پہلے تھا (یعنی کعبہ) ہم نے اسی کو (دوبارہ) مقرر کر دیا۔ اس کی غرض یہ تھی کہ ہم کو یہ بات کھل جائے کہ کون پیغمبر کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور قبلہ بدلنا بھاری (یعنی شاق) ہوا مگر ان پر جن کو اللہ تعالیٰ نے راہ بتلائی اور اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو بے فائدہ کر دے، یہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تو لوگوں پر بڑی شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔ (البقرہ:143)
(یعنی) تمہیں امتِ وسط قرار دینے سے غرض یہ ہے کہ تم کو دنیا اور آخرت میں لوگوں پر شاہد ہونے کا درجہ حاصل ہو جائے۔ تم قیامت کے دن انبیاء کے حق میں گواہی دو کہ انہوں نے اپنی امتوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ یہ گواہی دیں کہ تم نے اس کے مطابق عمل کر کے دکھایا۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور میری امت قیامت کے دن ایک بلند ٹیلے پر بیٹھے ہوں گے کہ جب کوئی امت اپنے نبی علیہ السلام کی تکذیب کرے گی تو ہم گواہی دیں گے کہ بے شک اس نبی نے امت کو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دیے تھے۔ امت کی یہ شہادت قرآن کے بیان پر مبنی ہوگی، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اس شہادت پر امتِ محمدیہ سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں ان واقعات کا کیسے علم ہوا تو وہ کہیں گے: (أخبرنا نبينا بذلك أن الرسل قد بلغوا)کہ ہمارے پیغمبر نے خبر دی تھی کہ تمام انبیاء نے اپنی امتوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دیے تھے۔
[ابن ماجه، أبواب الزهد، باب صفة أمة محمدﷺ: 4284]
امتِ محمد (ﷺ) کی شہادت کے متعلق بھی احادیث وارد ہیں۔ ایک حدیث میں ہے اچھے اور برے لوگوں کی تمیز اور معرفت تمہاری شہادت پر ہوگی، جس کی تم نے تعریف کر دی وہ اچھا ہے اور جس کی تم نے مذمت کر دی وہ برا ہے۔ [تفسیر ابن کثیر:262/1] ایک مرتبہ دو جنازوں کے بارے میں بھی رسول اللہ ﷺنے جنتی اور دوزخی ہونے کا حکم صحابہ کی شہادت ہی پر فرمایا تھا اور ساتھ ہی اس کی وجہ بیان فرمائی کہ (أنتم شهداء الله في الأرض) کہ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہ ہو۔ [بخاری، كتاب الجنائز، باب ثناء الناس على الميت: 1367]
[4] شہید کی برزخی زندگی:
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردے مت کہو، بلکہ زندہ ہیں لیکن تم کو خبر نہیں۔ (البقرہ:154)
اوپر کی آیت میں اقامتِ دین کے لیے صبر و صلوٰۃ سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب یہاں جہاد کی ترغیب ہے (کبیر) جب غزوہ بدر میں کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے تو بعض لوگ کہنے لگے فلاں مر گیا، اس سے زندگی کا عیش و آرام چھن گیا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شہداء کے متعلق کفار نے اس قسم کی باتیں کیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح البیان و کبیر) شہیدوں کو برزخی حیات حاصل ہے اور احادیث سے ثابت ہے کہ ان کی روحیں جنت میں عیش و آرام سے گزر بسر کر رہی ہیں۔ (دیکھیے آل عمران:169-170) اور قرآن و احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد برزخ میں ہر شخص کو زندگی حاصل ہے۔ (دیکھیے سورۃ المؤمن:11، 46)،(سورۃ ابراہیم:27) مگر مومن کی روح راحت میں ہے اور کافر کی روح کو عذاب ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اے پیغمبر!) جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ مت سمجھ، وہ اپنے مالک کے پاس زندہ ہیں، ان کو روزی ملتی ہے اور اللہ نے جو اپنے فضل سے ان کو دیا ہے اس پر خوش ہیں اور جو لوگ ابھی ان کے پاس نہیں پہنچے ان کے پیچھے (دنیا میں زندہ) ہیں (لیکن جہاد میں مصروف ہیں) ان کی خوشی مناتے ہیں کہ نہ ان کو ڈر ہوگا اور نہ غم۔ اللہ کی نعمت و فضل کی خوشی کر رہے ہیں اور اس کی (خوشی کر رہے ہیں) کہ اللہ مسلمانوں کا ثواب ضائع نہیں کرتا۔ (آل عمران:169تا171)
احادیث میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں جنت کی سیر کرتی ہیں اور عرش کے نیچے قندیلوں کے ساتھ آویزاں رہتی ہیں۔
[مسلم، كتاب الإمارة، باب بيان أن أرواح الشهداء.. الخ : 1887]
عالمِ برزخ کی یہ زندگی شہداء کو حاصل ہے۔ نیز دیکھیے: (البقرہ:154) ثابت ہوا کہ شہداء جنت میں زندہ ہیں، اپنی قبروں میں زندہ نہیں۔
[15] مولویوں اور درویشوں کے غلط کام:
بے شک ہم نے تورات اتاری، اس میں ہدایت اور روشنی ہے، اللہ کے تابع فرمان پیغمبر (جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں آئے) یہودیوں کو اسی کے موافق حکم دیتے رہے اور پیغمبروں کے علاوہ مشائخ اور مولوی (بھی اسی پر حکم دیتے رہے) اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے وہ حافظ (امانتدار) بنائے گئے تھے اور اس کی نگہبانی کرتے تھے تو اے یہودو! لوگوں سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے (دنیا کا) تھوڑا مول مت لو (رشوت کھا کر میرے حکم مت چھپاؤ) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اترے کے موافق حکم نہ دیں وہی کافر ہیں۔ (المائدۃ:44)
حسن بصری فرماتے ہیں: کہ حکام پر اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں لازم کی ہیں: خواہش کی پیروی نہ کریں، درست فیصلہ کرنے میں کسی کی پرواہ نہ کریں اور رشوت لے کر غلط فیصلہ نہ کریں۔ اور سورۃ المائدۃ ہی میں ہے: ان کے مشائخ اور مولوی جھوٹ بولنے اور حرام کا مال کھا جانے سے ان کو منع کیوں نہیں کرتے، بے شک برا (کام) کرتے رہے۔ (المائدۃ:63) یعنی جنہوں نے سچ بات کہنے اور منکرات سے روکنے سے اپنی زبانوں کو گنگ بنا لیا ہے ایسے مشائخ اور مولویوں کو یقیناً گناہ کرنے والوں سے بھی سخت سزا ملے گی۔ (ابن جریر)
اور ان کی بری خصلتوں کا ذکر کرتے ہوئے، سورۃ التوبۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان لوگوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں (علماء و مشائخ) کو اور مسیح مریم کے بیٹے کو اللہ کے سوا (جو اکیلا ہے) داتا بنا لیا، حالانکہ ان کو (اللہ کے پاس سے) اور کچھ نہیں یہی حکم ملا تھا کہ ایک (اکیلے سچے) اللہ کی پرستش کریں، اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں (سب جھوٹے معبود ہیں) وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔ (یہ لوگ) چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (قرآن یا دین یا پیغمبر کی پیغمبری) کو اپنے منہ سے (جھوٹی باتیں بنا کر) بجھا دیں اور اللہ تو ماننے والا نہیں جب تک اپنے نور کو پورا نہ کرے، گو کافر برا مانیں۔ وہی اللہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت کی باتیں (معجزے اور شریعت کے احکام) اور سچا دین (اسلام) دے کر بھیجا۔ اس لیے کہ اس کو (یعنی پیغمبر کو یا دینِ اسلام کو) ہر دین پر غالب کرے گو مشرک برا مانیں۔ مسلمانوں! (اہلِ کتاب کے) بہت سے مولوی اور مشائخ لوگوں کے مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے (لوگوں کو) روکتے ہیں۔ (التوبۃ:31تا34)
(یعنی) رشوت لے کر، غلط مسئلے بتا کر، رسول اللہﷺ کے متعلق بشارتوں کو چھپا کر اور ان کو غلط معنی پہنا کر اور لوگوں کو دین کی حفاظت اور تبلیغِ دین کا چقمہ دے کر۔ امام رازی فرماتے ہیں: فی زمانہ بھی بہت سے علماء اور مشائخ اسی طرح کے حیلے حوالوں سے لوگوں کے مال ہضم کر رہے ہیں۔ (کبیر، ابنِ کثیر)
[24] نیک اعمال کے بدلے دنیا کمانا:
جو کوئی (نیک عمل کر کے) آخرت کی کھیتی (وہاں کا ثواب) چاہے ہم اس کی کھیتی اور بڑھائیں گے اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہے (یہاں کا فائدہ، مال و متاع) ہم اس کو وہی دیں گے اور آخرت میں کچھ حصہ اس کا نہ رہے گا۔ (الشوریٰ:20)
(یعنی) ہم اسے دنیا میں نیک کاموں کی زیادہ توفیق دیتے ہیں اور آخرت میں دس سے سات سو گنا تک اس کا اجر بڑھائیں گے اور جو دنیا کی کھیتی چاہے اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، کیونکہ اس نے جو اعمال کیے اس سے اس کی نیت یہ تھی ہی نہیں کہ آخرت کا ثواب حاصل کیا جائے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ جو شخص آخرت کا عمل کر کے دنیا چاہے گا اس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا۔ دیکھیے: (بنی اسرائیل:18، 19)
شاہ صاحب لکھتے ہیں: دنیا کے واسطے جو محنت کرتے موافق قسمت کے ملے یہ اس کی محنت کا فائدہ آخرت میں نہیں۔ اور بنی اسرائیل میں ہے: جو شخص دنیا کی بھلائی چاہتا ہو تو جتنا ہم چاہتے ہیں اس کو جلدی سے دنیا میں دے دیتے ہیں پھر (آخرت میں تو) ہم نے اس کے لیے دوزخ ٹھہرا رکھی ہے جس میں برے حالوں مردود ہو کر اس کو جانا ہے اور جو شخص (اچھے عمل کر کے) آخرت کی بھلائی چاہتا ہو اور اسی کے لیے جیسی کوشش کرنی چاہیے ویسی کوشش کرے اور ایماندار ہو تو ایسے لوگوں کی کوشش اللہ کی درگاہ میں قبول ہوگی۔ دنیا چاہنے والے اور آخرت چاہنے والے ہر ایک کو ہم تیرے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں اور تیرے رب کی بخشش کسی نے نہیں گھیری۔ (بنی اسرائیل: 18تا20)
(یعنی) وہ نیک اعمال محض اس لیے کرتا ہو کہ اسے دنیا کا فائدہ اور اس کی خوشحالی حاصل ہو جیسے منافق یا ریا کار۔ یعنی اس کا مقصد پورا کر دیتے ہیں مگر اتنا نہیں جتنا وہ چاہتا ہے بلکہ جتنا ہم چاہتے ہیں۔ پہلے گزر چکا ہے کہ سورۃ ہود کی آیت: [نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ][ہود:15]اس آیت کے ساتھ مقید ہے۔
[35-52] ایصالِ ثواب کی حقیقت:
موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کے ورقوں میں ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی کتاب کے ورقوں میں جس نے اللہ کا حق پورا ادا کیا ان کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ بھی لکھا ہے کہ آدمی کو اپنی ہی کوشش سے ایمان سے فائدہ ہوگا اور یہ کہ اس کی کوشش آگے چل کر اور قیامت کے دن اس کو دکھائی جائے گی۔ (النجم:36تا40)
(یعنی) کسی دوسرے کا عمل فائدہ نہیں دے سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کی شریعت میں یہ حکم عام ہو لیکن ہماری شریعت میں کچھ مستثنیات ہیں، مثلاً گنہگاروں کے لیے انبیاء اور فرشتوں کی شفاعت، مردوں کے لیے زندوں کی دعا اور باپ کے عمل سے اولاد کے درجوں کا بلند ہونا تو قرآن سے ثابت ہے اور میت کی طرف سے صدقہ و خیرات اور حج کرنا وغیرہ کا نافع ہونا صحیح احادیث سے ثابت ہے، اب رہی نماز اور قرآن خوانی تو اس کے متعلق چونکہ قرآن یا کسی حدیث میں صراحت نہیں ہے اس لیے یہ اس آیت کے عام حکم کے تحت رہیں گے اور انسان کی اولاد بھی چونکہ اس کی سعی کا نتیجہ ہے، اس لیے اس کے نیک عمل کا ثواب پہنچنا اس آیت کے تحت داخل ہے۔ (قرطبی)
[44] تقلید چھوڑو، اتباعِ رسول کرو:
مسلمانو! جب رسول (ﷺ) تم کو ایسے کام کے لیے بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے تو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کا حکم مانو (جواب دو۔ فوراً حاضر ہو جاؤ) اور یہ سمجھ لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے بیچ میں آڑ ہو جاتا ہے اور تم کو آخر اسی کی طرف جمع ہونا ہے، وہ ہر کام کا بدلا دے گا۔ (الأنفال:24)
(یعنی) اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہنا تم پر لازم ہے۔ ،،وہ جو تمہیں زندگی بخشتا ہے،، میں علمائے سلف سے مختلف اقوال منقول ہیں، بعض نے ایمان و اسلام اور بعض نے قرآن لیکن اکثر نے اس سے جہاد مراد لیا ہے کیونکہ جہاد دنیا و آخرت میں زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور پھر سیاقِ کلام کے مناسب بھی یہی ہے لیکن اگر اس سے مراد حق و ثواب لیا جائے تو قرآن، ایمان، جہاد اور اطاعت کے جملہ امور کو یہ لفظ شامل ہو جاتا ہے۔ مولانا علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں: ان آیات سے تقلیدِ ناجائز کی جڑ کٹ گئی۔ جب اللہ کا حکم یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کہا مانو تو کیونکر یہ درست ہو سکتا ہے کہ رسول کے حکم کی موجودگی میں دوسرے مجتہد یا امام کی بات پر عمل کیا جائے۔ دوسرے ائمہ تو رسول اللہ ﷺ کے کفش بردار ہیں، جب رسول اللہ ﷺ کا حکم معلوم ہو جائے تو تابعداروں کی بات سننا اور رسول اللہ ﷺ کا کہنا نہ ماننا اپنے آپ کو تباہ کرنا ہے، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھے۔ (مختصر از وحیدی)
اسی طرح یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حق واضح ہو جانے کے بعد بھی اگر کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہنا نہ مانے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو یہ سزا ملتی ہے کہ وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق نہیں ملتی، جیسے فرمایا:[فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ] وہ خود ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔ (الصف:5)
آیت کے یہ معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور مفسرین نے بیان فرمائے ہیں۔ (ابن کثیر)
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے دل کے قریب ہے، اس لیے کہ وہ انسان کے دل کے حالات سے خوب واقف ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دعوت پر اخلاص سے لبیک کہہ رہے ہو یا کسی دوسرے جذبے سے، مطلب یہ ہے کہ دلوں میں اخلاص پیدا کرو۔ (الفوائد)
شاہ صاحب اس آیت کی تشریح یہ فرماتے ہیں: کہ حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو، شاید اس وقت دل ایسا نہ رہے، دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں اللہ کا حائل ہونا موت سے کنایہ ہے (یعنی) موت آنے سے قبل نیکی اور اطاعت بجا لاؤ۔ اس کے بعد [وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ] کے جملے سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ (رازی)
[58] آیات کا ٹیڑھا مطلب نکالنے کی مذمت:
جو لوگ ہماری آیتوں کا (جان بوجھ کر) ٹیڑھا مطلب نکالتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں (ان کا حال ہم کو معلوم ہے) بھلا جو کوئی دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا جو قیامت کے دن بے کھٹکے آئے، جو چاہو سو کر لو، وہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ [حم السجدة:40]
لفظی ترجمہ یہ ہے: جو لوگ ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں: الحاد کے معنی ہیں حق سے پھر کر ٹیڑھی راہ اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد یہ ہے کہ ان کا سیدھا سادا اور واضح مطلب لینے کی بجائے غیر متعلق بحثیں کرے اور انھیں غلط مطلب پہنانے کی کوشش کرے، جو لوگ مسلمان ہو کر باطل نظریات، مثلاً : انکارِ حدیث، اشتراکیت، سرمایہ داری، بدعات وغیرہ کے حامی بن جاتے ہیں وہ یہی طرز اختیار کرتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں سخت سرزنش بھی ہے کہ ایسے لوگ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ سورہ یونس میں ہے: اے پیغمبر! ان لوگوں سے پوچھ، بھلا بتلاؤ تو سہی اللہ نے جو روزی تمہارے لیے اتاری پھر تم نے اس میں سے کچھ حلال ٹھہرائے کچھ حرام (اے پیغمبر!) کہہ دے کیا اللہ نے تم کو یہ حکم دیا یا تم اپنی طرف سے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں انہوں نے قیامت کے دن کو کیا سمجھ رکھا ہے، بے شک اللہ تو لوگوں پر فضل کرتا ہے، بہت لوگ شکر نہیں کرتے۔ (یونس:59-60)
اس سے معلوم ہوا کہ اپنی خواہشوں سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ (ابنِ کثیر) قاضی شوکانی فرماتے ہیں: اس آیت میں ان مقلد حضرات کے لیے سخت وعید ہے جو فتوے کی کرسی پر بیٹھ کر حلال اور حرام، جواز و عدمِ جواز کے فتوے صادر کرتے ہیں، حالانکہ ان کا مبلغ علم صرف اتنا ہوتا ہے کہ امت کے کسی ایک شخص نے جو بات کہہ دی ہے اسے نقل کر دیتے ہیں، گویا انہوں نے اس شخص کو ایک شارع کی حیثیت دے رکھی ہے، کتاب و سنت کے جس حکم پر اس نے عمل کیا اس پر یہ بھی عمل کریں گے اور جو چیز اسے نہ پہنچی یا پہنچی مگر وہ اسے ٹھیک طرح سمجھ نہ سکا یا سمجھا مگر اپنے اجتہاد و ترجیح میں غلطی کر بیٹھا وہ ان کی نظر میں منسوخ اور مرفوع الحکم ہے، حالانکہ جس کی یہ لوگ تقلید کر رہے ہیں وہ بھی اس شریعت اور اس کے احکام کا اسی طرح پابند تھا جس طرح خود یہ لوگ۔
سورۃ الانعام کا خلاصہ:
سورۃ الانعام اصولِ عقائد کے اثبات اور مشرکین و اہل بدعت کے اقوال کے ابطال میں ایک اصل کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ پورے علم اصول یعنی عقائد پر حاوی ہے۔ (شوکانی و کبیر) اس سورت کا خلاصہ درج ذیل ہے:
[1] دلائلِ توحید:1تا3، 6، 12، 13، 14، 22 تا 24، 95تا99، 141تا144
[2] دلیل لاؤ:148، 149، 150
[3] کسی چیز (شے) کو اللہ کا شریک نہ بناؤ: 151
[4] اللہ کے برابر کوئی نہیں، غیراللہ کو اللہ کے برابر سمجھنا کفر ہے: 1، 150
[5] انسان مٹی سے پیدا کیا گیا: 2
[6] اللہ سب ظاہر اور باطن جانتا ہے: 3، 73، 117، 132، 139
[7] سب کچھ اللہ کا ہے: 13
[8] رسول اللہﷺ (اور امت کو) اللہ کے حکم (آسمانی ہدایت) ماننے کا حکم دیا گیا: 14، 15، 50، 56، 57، 106، 114تا116، 121، 144، 145، 148، 150، 153تا157، 161تا165
[9] صرف اللہ تعالیٰ نفع و نقصان کا مالک ہے: 17، 18، 14، 39، 46، 50، 57، 58، 60، 65، 62، 81، ف1، 83، 86، 87، 88، 107، 111، 125، 133، 142۔ فائدہ 81: اس امت کے کلمہ گو پیر پرست بھی اہل توحید سے کہتے ہیں جو شخص بڑے پیر کی گیارھویں چھوڑ دے اس کا بیٹا یا بھینس مر جاتی ہے،یا کوئی اور نقصان پہنچ جاتا ہے، تو ان کا بھی یہی جواب ہے جو ابراہیم علیہ السلام نے اس آیت میں دیا ہے۔
[10] معبود ایک ہے، شرک سے آپﷺ (اور امت) کو منع کیا گیا ہے: 19، 14، 161تا165
[11] مشرکین قیامت کے دن شرک سے مکر جائیں گے: 22تا24
[12] ہدایتِ رسول کائناتﷺ کے اختیار میں نہیں: 33تا35
[13] غیراللہ کو پکارنا شرک ہے: 40، 41،63تا66
[14] معبود کون ہے؟ 46، 102، 19
[15] غیراللہ کو پکارنا ان کی عبادت ہے: 56
[16] اللہ خالق ہے: 1،2، 73، 101، 102
[17] يَرَوْا: 6
[18] اللہ تعالیٰ ناظر ہے: 13، 115
[19] معجزات کا اختیار آپﷺ کو نہ تھا: 35، 37، 109
[20] آپﷺ کے پاس اللہ کے خزانے نہیں، آپ غیب نہیں جانتے:50، 59
[21] آپﷺ کا الہ بھی اللہ ہے:19
[22] آپﷺ کسی کے نفع و نقصان کے مالک نہیں: 52، 57، 58، 66، 107
[23] پیغمبر صرف بشیر و نذیر تھے: 48
[24] شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے اور وہی والی یعنی کارساز ہے: 94، 51، 70
[25] قرآن کے متعلق: 55، 19، 104، 115، 126، 154تا157۔ 161، 66،92
[26] دین میں ہنسی مذاق منع ہے: 10، 5
[27] اللہ تعالیٰ کن فیکون کا مالک ہے: 73
[28] اللہ تعالیٰ علیٰ کل شیء قدیر ہے: 17
[29] پہلے ایمان پھر عمل: 48
[30] انکارِ آیات: 21، 26، 27، 39، 49، 93
[31] رسولوں کی اللہ نے مدد کی: 34
[32] اعمال اپنے اپنے: 52
[33] اللہ سب جہانوں کا رب (داتا) ہے: 45،71،162،164
[34] اللہ وہاب (داتا) ہے: 84
[35] اللہ آپﷺ کا رب (داتا) ہے: 15،57،106،112،114،117،119،126،132،133،158،164،165
[36] اللہ ابراہیم (علیہ السلام) کا رب (داتا) ہے: 76، 77، 78 ،80
[37] مشرکین مکہ کے کام: 63تا66، 1، 4، 14، 22تا24، 26، 40، 41، 130تا140، 119، ف:37
(الف) وہ غیراللہ کو پکارتے تھے، لہٰذا مشرک قرار پائے: 63تا66 اور 40،41، 56،71
(ب) وہ غیراللہ کو اللہ کے برابر ٹھہراتے تھے، اس لیے کافر قرار پائے: 1
(ج) وہ اللہ کی آیتوں سے منہ پھیر لیتے تھے: 4
(د) وہ غیراللہ کو اپنا والی یعنی کارساز بناتے تھے، اس لیے مشرک ٹھہرے: 14، 51، 70
(ر) وہ غیراللہ کو اللہ کا شریک ٹھہراتے لیکن قیامت کے دن مکر جائیں گے: 22تا24
(س) ترجمہ: 26 (اور وہ لوگوں کو اس سے روکتے ہیں اور خود بھی الگ رہتے ہیں اور یہ لوگ کچھ نہیں مگر اپنے تئیں آپ تباہ کرتےہیں، اور سمجھتے نہیں۔ اور اے پیغمبر! اگر تو ان کو اس وقت دیکھے جب دوزخ پر ٹھہرائے جائیں گے تو عجب تماشا یا بڑا ہولناک سانحہ دیکھے گا، یہ کہتے ہوں گے کاش! پھر ہم دنیا میں بھیج دیے جائیں اور اب کی بار اپنے مالک کی آیتوں کو جھٹلائیں نہیں اور ایماندار ہو جائیں، یہ جو خود آرزو کریں گے وہ بھی سچے دل سے نہیں، ایمان کو اچھا سمجھ کر نہیں، بلکہ جس بات کو پہلے وہ چھپاتے تھے وہ ان کے سامنے نکل گئی۔ یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے دوسرے لوگوں کو بھی منع کرتے ہیں۔ (کذا فی الکبیر) بہت سے بدعت پرست علماء اپنے ماننے والوں کو اس قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے منع کرتے ہیں کہ کہیں وہ عشق و جذب، پاگل پن کی بھول بھلیوں سے نکل کر وہابی (ایک داتا کو ماننے والے) نہ بن جائیں (لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم)
(ص) وہ آسمانی ہدایت کی بجائے اپنے خیالات و خواہشات اور اٹکل پچو کی پیروی کرتے تھے:116، 119، 150، 121، 153، 56
(ع) وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے:(6) 21
[38] ،،دون اللہ،، غیراللہ: 50، 70، 71، 51، 46، 145، 164
[39] توبہ: 54
[40] مشرکینِ مکہ رسول کا ئناتﷺ کی قوم تھے: 22
[41] اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے: 71
[42] ابراہیم علیہ السلام سب کو چھوڑ کر اللہ کے ہو گئے: 79تا82، 161
[43] ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے: 84تا88
[44] شرک کسی کو معاف نہیں خواہ نبی ہو: (6) 84تا88
[45] آپﷺ بشر، سب انبیاء علیہم السلام بشر: 91، 133، 135، 84تا88، 66 سب اولادِ آدم : 98، 133
[46] اللہ کی قدر نہ کی: 91
[47] توحیدِ خالص: 71تا73، 79تا82، 95، 100تا104، 106، 161تا165
[48] آپﷺ کی رسالت عالمگیر ہے: (6) 90
[49] عذابِ قبر: 93
[50] اللہ پر جھوٹ بولنا: 93، 21
[51] مخلوق خالق کی شریک نہیں ہو سکتی: 100
[52] لوگوں کی اطاعت نہ کرو وہ تمھیں گمراہ کر دیں گے: 116، 121، 153
[53] اپنے خیالات، خواہشات اور اٹکل پچو پر نہ چلو: 116، 119، 150
[54] اللہ تعالیٰ کی پسند و ناپسند: 151تا153
[55] یتیم کے مال کو استعمال کرنے میں غلط طریقہ سے بچو: 152 (جیسے تیجہ، دسواں، چالیسواں اور دوسرے غیر شرعی طریقوں سے لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں)۔
[56] فرقہ بازوں سے رسولِ کائنات ﷺ کا کوئی تعلق نہیں: 159 (مراد یہود و نصاریٰ ہیں جنھوں نے گمراہی میں مبتلا ہو کر اپنے دین میں فرقہ بندیاں قائم کر لیں،یا تفریقِ دین کے یہ معنی ہیں کہ کتاب کے بعض حصوں پر ایمان لائے اور بعض کے ساتھ کفر کیا اور خود مسلمانوں میں سے وہ اہل بدعت حضرات بھی اس کے مصداق ہیں جو دین میں بدعات پیدا کر کے اس میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں۔ (کذا المروی عن عائشہ رضی اللہ عنہا۔ ابن کثیر: 316/2)،(الانعام:159) سورۃ الانعام کا مختصر خلاصہ ختم ہوا۔