امام ابو حنیفہ خطا پر قائم رہتے اور اس کے حق میں دلائل دیتے تھے

فونٹ سائز:
تحریر وکالم غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

سونے کا ستون!

امام مالک بن انس رحمہ اللہ (179ھ) امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق فرماتے ہیں:

[ما ظنكم برجل، لو قال هٰذه السارية من ذهب، لقام دونها، حتٰى يجعلها من ذهب، وهي من خشب أو حجارة؟]

ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے کہ اگر وہ کہہ دے کہ یہ ستون سونے کا ہے، تو وہ اس پر ڈٹ جائے، یہاں تک کہ اسے سونا ثابت کر دے، حالانکہ وہ لکڑی یا پتھر کا ہو؟

[مناقب الشافعي وآدابہ لابن أبي حاتم: ص 162، وسندہ صحیح]

امام عبدالرحمن بن ابی حاتم رحمہ اللہ (327ھ) اس قول کا معنی بیان کرتے ہیں:

[يعني أنه كان يثبت علی الخطأ ويحتج دونه، ولا يرجع إلی الصواب، إذا بان له].

امام مالک رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنی خطا پر قائم رہتے تھے اور اس کے حق میں دلائل دیتے تھے اور حق واضح ہو جانے کے باوجود اس کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے۔

(مناقب الشافعي وآدابہ: ص 162)

امام ابو حنیفہ خطا پر قائم رہتے اور اس کے حق میں دلائل دیتے تھے – WhatsApp Image 2026-05-06 at 8.58.30 PM