قبر مبارک پر درود و سلام پڑھنے کا طریقہ :
ہم نے کسی دوسرے رسالے میں مناسک حج کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسجد نبوی کی طرف سفر کرنا اور قبر مکرم کی زیارت ایک مستحب عمل ہے جسے تمام ائمہ اسلام تسلیم کرتے ہیں لیکن جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہے کہ درود و سلام پڑھتے وقت انسان کو قبلہ رخ ہونا چاہئے یا وہ اپنا چہرہ حجرہ مبارک کی طرف رکھے؟ اس میں ائمہ کرام دو صورتیں نقل کرتے ہیں:
پہلی صورت :
یہ کہ حجرہ مبارک کی طرف منہ کر کے درود و سلام پڑھنا چاہئے۔ اکثر علماء کا قول یہی ہے، سیدنا امام مالک رحمہ اللہ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ایک قول تو یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر اس حالت میں سلام کرے کہ حجرہ مبارک بائیں ہاتھ ہو۔
دوسری صورت:
دوسرا قول یہ ہے کہ حجرہ مبارک پیچھے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک حجرہ مبارک مسجد نبوی سے باہر رہا اور صحابہ کرام وہاں درود و سلام پڑھتے رہے، اس وقت کسی کے لیے ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ حجرہ مبارک کی طرف رخ کرے اور کعبہ کی طرف پشت ہو جیسا کہ حجرہ مبارک کے مسجد میں شامل ہونے کے بعد ممکن ہوا۔ بلکہ اس وقت صورت یہ تھی کہ اگر منہ قبلے کی طرف کرتے تھے تو حجرہ مبارک انسان کے بائیں ہاتھ ہوتا تھا۔ چنانچہ اس وقت صحابہ کرام حجرہ مبارک کی طرف منہ اور مغرب کی جانب پشت کر کے درود و سلام پڑھتے تھے، تو اس صورت میں پہلا قول راجح ہے۔ اور اگر دوسری صورت پر عمل کرے تو دوسرا قول راجح ہوگا۔