قبرِ نبوی ﷺ سے تبرک: دلائل، روایات اور منہجِ سلف کی روشنی میں تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب تبرکات کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قبرِ نبوی سے تبرک

نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک ہے، کیونکہ اس میں آپ ﷺ کا جسدِ اطہر مدفون ہے، لیکن اسے متبرک قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ کسی صحابیِ رسول، کسی تابعی یا تبع تابعی سے با سندِ صحیح آپ ﷺ کی قبر مبارک سے تبرک حاصل کرنا ثابت نہیں۔ یہ دین میں غلو ہے اور غلو اسلام میں ممنوع ہے۔ اسی طرح قبرِ نبی کو مَس کرنا اور بوسہ دینا بھی ثابت نہیں۔
حق دین صرف وہ ہے، جو سلف صالحین نے اپنایا۔ شریعت میں ایسی باتوں کا کوئی اعتبار نہیں، جن سے سلف صالحین ناواقف تھے۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

[إنهم لما فتحوا تستر، قال: فوجد رجلا أنفه ذراع في التابوت، كانوا يستظهرون ويستمطرون به، فكتب أبو موسى إلى عمر بن الخطاب بذلك، فكتب عمر : إن هذا نبي من الأنبياء، والنار لا تأكل الأنبياء، والأرض لا تأكل الأنبياء، فكتب أن انظر أنت وأصحابك، يعني أصحاب أبي موسى، فادفنوه في مكان لا يعلمه أحد غيركما، قال: فذهبت أنا وأبو موسى، فدفناه.]
جب صحابہ کرام نے تستر کو فتح کیا، تو وہاں تابوت میں ایک شخص کا جسم دیکھا، ان کی ناک ہمارے ایک ہاتھ کے برابر تھی۔ وہاں کے لوگ اس تابوت کے وسیلے سے غلبہ و بارش طلب کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھ کر سارا واقعہ بیان کیا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں سے ایک نبی ہیں۔ نہ آگ نبی کو کھاتی ہے نہ زمین۔ پھر فرمایا: تم اور تمہارے ساتھی کوئی ایسی جگہ دیکھو جس کا تم دونوں کے علاوہ کسی کو علم نہ ہو، وہاں اس تابوت کو دفن کر دو۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما گئے اور انہیں (ایک گم نام جگہ میں) دفن کر دیا۔
[مصنف ابن أبي شيبة:33819، وسنده صحيح]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو "جید” کہا ہے۔
[البداية والنهاية: 377/2]

اگر نبی کی قبر سے تبرک لینا جائز ہوتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کبھی یہ نہ فرماتے: تم اور تمہارے ساتھی کوئی ایسی جگہ دیکھو جس کا تم دونوں کے علاوہ کسی کو علم نہ ہو اور وہاں اس تابوت کو دفن کر دو۔ صحابہ کرام کبھی ایسا نہ کرتے۔
حکمت کی بات تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی قبر کے علاوہ کسی نبی کی قبر کا علم ہمیں نہیں دیا اور نبی کریم ﷺ کی قبر کو ہر قسم کے غلو سے بچا کر بھی رکھا گیا۔ اسی طرح بہت سے صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین اعلام کی قبروں کا ہمیں علم نہیں، کیونکہ قبروں سے تبرک اور وسیلہ جائز نہیں، ورنہ انبیاءِ کرام کی قبریں ہم پر ظاہر کر دی جاتیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (سفر سے واپسی کے موقع پر) نبی کریم ﷺ کی قبر کی زیارت کرتے، تو آپ ﷺ اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے لیے رحمت کی دُعا کرتے۔
[الموطأ للإمام مالك: 166/1، ح: 68، وسنده صحيح]

نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

[إن ابن عمر كان يكره مس قبر النبي صلى الله عليه وسلم]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کو چھونا مکروہ سمجھتے تھے۔
[جزء محمد بن عاصم، ص 106، سِيَر أعلام النُبلاء للذهبي: 378/12، وسنده صحيح]

ابو العالیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[لما افتتحنا «تستر» وجدنا في بيت مال الهرمزان سريرا عليه رجل ميت، عند رأسه مصحف له، فأخذنا المصحف، فحملناه إلى عمر بن الخطاب، رضي الله عنه، فدعا له كعبا فنسخه بالعربية، أنا أول رجل من العرب، قرأه، قرأته مثل ما أقرأ القرآن هذا. فقلت لأبي العالية: ما كان فيه؟ فقال:
سيرتكم، وأموركم، ودينكم، ولحون كلامكم، وما هو كائن بعد. قلت: فما صنعتم بالرجل؟ قال حفرنا بالنهار ثلاثة عشر قبرا متفرقة، فلما كان في الليل دفناه وسوينا القبور كلها، لنعميه على الناس لا ينبشونه، فقلت وما ترجون منه؟ قال: كانت السماء إذا حبست عليهم برزوا بسريره فيمطرون. قلت: من كنتم تظنون الرجل؟ قال: رجل يقال له: دانيال فقلت مذ كم وجدتموه مات؟ قال: مذ ثلاثمائة سنة. فقلت: ما كان تغير شيئا؟ قال: لا، إلا شعيرات من قفاه، إن لحوم الأنبياء لا تبليها الأرض، ولا تأكلها السباع] 

ہم نے جب تستر شہر کو فتح کیا، تو ہر مزان کے بیت المال میں ایک چار پائی دیکھی، جس پر ایک فوت شدہ شخص پڑا تھا۔ اس کے سر کے پاس ایک کتاب پڑی تھی۔ ہم نے وہ کتاب اٹھالی اور اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے گئے۔ انہوں نے کعب احبار تابعی رحمہ اللہ کو بلایا، جنہوں نے اس کتاب کا عربی میں ترجمہ کر دیا۔ میں عربوں میں پہلا شخص تھا، جس نے اس کتاب کو پڑھا۔ میں اس کتاب کو یوں پڑھ رہا تھا گویا کہ قرآن کو پڑھ رہا ہوں۔
ابو العالیہ رحمہ اللہ کے شاگرد کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: اس کتاب میں کیا لکھا تھا؟ انہوں نے فرمایا: اس میں امت محمدیہ کی سیرت، معاملات، دین، تمہارے لہجے اور بعد کے حالات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ میں نے عرض کیا: آپ نے اس فوت شدہ شخص کا کیا کیا؟ انہوں نے فرمایا: ہم نے دن کے وقت مختلف جگہوں پر تیرہ (13) قبریں کھودیں، پھر رات کے وقت ان میں سے ایک میں انہیں دفن کر دیا اور سب قبریں زمین کے برابر کر دیں۔ اس طرح کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو صحیح قبر کا علم نہ ہو اور قبر کشائی نہ کر سکیں۔ میں نے عرض کیا: وہ لوگ اس فوت شدہ سے کیا امید رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ان کا خیال یہ تھا کہ جب وہ قحط سالی میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی چار پائی کو باہر نکالنے سے بارش برسائی جاتی ہے۔ میں نے پوچھا: آپ کے خیال میں وہ شخص کون ہو سکتا تھا؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی تھا، جسے دانیال کہا جاتا تھا۔ میں نے پوچھا: آپ کے خیال کے مطابق وہ کتنے عرصے سے فوت ہو چکے تھے؟ انہوں نے فرمایا: تین سو (300) سال سے (لگتا ہے کہ تین ہزار سال کے الفاظ تین سو سال میں تبدیل ہو گئے ہیں)۔ میں نے کہا: کیا ان کے جسم میں کوئی تبدیلی آئی تھی؟ انہوں نے فرمایا: بس گدی سے چند بال گرے تھے، کیونکہ انبیائے کرام کے اجسام میں نہ زمین تصرف کرتی ہے، نہ درندے اسے کھاتے ہیں۔
[السيرة لابن إسحاق: 66-67، دلائل النبوة للبیہقي: 382/1، وسنده حسن]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
[البداية والنهاية: 377/2]

ان آثار سے ثابت ہوا کہ صحابہ، انبیائے کرام کی قبروں سے تبرک اور توسل کو ناجائز سمجھتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے بڑے اہتمام سے ایک نبی کی قبر کو چھپا دیا تا کہ نہ لوگوں کو ان کی قبر کا علم ہو، نہ وہ اس سے تبرک اور توسل حاصل کر سکیں۔

شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[في هذه القصة ما فعله المهاجرون والأنصار، من تعمية قبره، لئلا يفتتن به الناس، وهو إنكار منهم لذلك]
اس واقعے میں مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دانیال علیہ السلام کی قبر کو چھپایا تاکہ لوگ اس کی وجہ سے شرک و بدعت میں مبتلا نہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام انبیا و صلحا کی قبروں سے توسل کو ناجائز سمجھتے تھے۔
[اقتضاء الصراط المُستقيم: 200/2]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

[ففى هذه القصة ما فعله المهاجرون والأنصار من تعمية قبره لئلا يفتتن به الناس، ولم يبرزوه للدعاء عنده والتبرك به، ولو ظفر به المتأخرون لجالدوا عليه بالسيوف، ولعبدوه من دون الله، فهم قد اتخذوا من القبور أوثانا من لا يدانى هذا ولا يقاربه، وأقاموا لها سدنة، وجعلوها معابد أعظم من المساجد.
فلو كان الدعاء عند القبور والصلاة عندها والتبرك بها فضيلة أو سنة أو مباحاً، لنصب المهاجرون والأنصار هذا القبر علما لذلك، ودعوا عنده، وسنوا ذلك لمن بعدهم ولكن كانوا أعلم بالله ورسوله ودينه من الخلوف التى خلفت بعدهم، وكذلك التابعون لهم بإحسان راحوا على هذا السبيل، وقد كان عندهم من قبور أصحاب رسول الله صلى الله تعالى وآله وسلم بالأمصار عدد كثير، وهم متوافرون. فما منهم من استغاث عند قبر صاحب، ولا دعاه، ولا دعا به، ولا دعا عنده، ولا استشفى به، ولا استسقى به، ولا استنصر به، ومن المعلوم أن مثل هذا مما تتوفر الهمم والدواعى على نقله، بل على نقل ما هو دونه.
وحينئذ، فلا يخلو، إما أن يكون الدعاء عندها والدعاء بأربابها أفضل منه فى غير تلك البقعة، أولا يكون، فإن كان أفضل، فكيف خفى علما وعملا على الصحابة والتابعين وتابعيهم؟ فتكون القرون الثلاثة الفاضلة جاهلة بهذا الفضل العظيم، وتظفر به الخلوف علما وعملاً؟ ولا يجوز أن يعلموه ويزهدوا فيه، مع حرصهم على كل خير لا سيما الدعاء، فإن المضطر يتشبث بكل سبب، وإن كان فيه كراهة ما، فكيف يكونون مضطرين فى كثير من الدعاء، وهم يعلمون فضل الدعاء عند القبور، ثم لا يقصدونه؟ هذا محال طبعاً وشرعاً.
فتعين القسم الآخر. وهو أنه لا فضل للدعاء عندها، ولا هو مشروع، ولا مأذون فيه بقصد الخصوص، بل تخصيصها بالدعاء عندها ذريعة إلى ما تقدم من المفاسد. ومثل هذا مما لا يشرعه الله ورسوله البتة، بل استحباب الدعاء عندها شرع عبادة لم يشرعها الله، ولم ينزل بها سلطاناً.]

اس واقعہ میں مہاجرین و انصار صحابہ کرام نے سیدنا دانیال علیہ السلام کی قبر کو چھپا دیا تاکہ لوگ اس کی وجہ سے فتنہ شرک و بدعت میں مبتلا نہ ہوں۔ انہوں نے دعا اور تبرک کی خاطر قبر کو ظاہر نہیں کیا۔ اگر بعد والے مشرک وہاں ہوتے، تو تلواریں لے کر ٹوٹ پڑتے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کی عبادت کرتے، ان کی قبروں کو بت خانہ بنا لیتے، وہاں ایک قُبہ بنا دیتے، اس پر مجاور بن بیٹھتے، اسے مساجد سے بھی بڑی عبادت گاہ بنا ڈالتے، کیونکہ وہ ان لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا چکے ہیں، جو ان سے کم درجہ ہیں۔
اگر قبروں کے پاس دعا مانگنا اور وہاں نماز پڑھنا اور فیضِ روحانی حاصل کرنا فضیلت والا کام یا سنت، بلکہ مباح بھی ہوتا، تو مہاجرین و انصار اس قبر پر جھنڈا گاڑ دیتے، وہاں اپنے لیے دعا کرتے اور بعد والوں کے لیے ایک طریقہ جاری کر دیتے، لیکن وہ بعد والوں کی نسبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دین کو زیادہ جاننے والے تھے۔ یہی حال تابعینِ عظام کا تھا کہ وہ بھی انہی کے راستے پر چلتے رہے، حالانکہ ان کے پاس مختلف شہروں میں صحابہ کرام کی بے شمار قبریں تھیں، لیکن انہوں نے کسی صحابی کی قبر سے فریاد نہیں کی، نہ اسے پکارا، نہ اس کے ذریعے دعا کی، نہ اس کے پاس جا کر دعا کی، نہ اس کے واسطے سے شفا طلب کی، نہ اس کے واسطے سے بارش طلب کی، نہ اس کے ذریعے سے مدد طلب کی اور یہ بات تو طے شدہ ہے کہ ان کے پاس ایسی باتوں کو نقل کرنے کی استطاعت اور وافر اسباب موجود تھے، بلکہ انہوں نے اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں بھی نقل کی ہیں۔
یوں یہ صورتِ حال دو باتوں سے خالی نہیں ہے؛ یا تو قبر کے پاس دعا کرنا اور اس کے وسیلے سے مانگنا دوسری جگہوں سے افضل ہے یا نہیں۔ اگر افضل ہے، تو اس کا علم اور عمل صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین سے کیسے مخفی رہا؟ کیا پھر تین افضل ادوار اس فضلِ عظیم سے لاعلم رہے اور برے جانشینوں نے اسے ڈھونڈ لیا؟ کیونکہ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ انہیں پتہ بھی چل جائے، مگر وہ اس سے صرفِ نظر کر جائیں، حالانکہ وہ ہر نیکی بالخصوص دعا کے حریص تھے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مجبور آدمی تو ہر ذریعہ استعمال کرتا ہے، اگرچہ اس میں کراہت ہی ہو؟ تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ دعاؤں کی قبولیت کے سلسلے میں مجبور بھی ہوں اور وہ قبروں کے پاس دعا کی فضیلت جانتے ہوئے بھی اس کا قصد نہ کرتے ہوں، یہ بات طبعاً اور شرعاً ناممکن ہے؟
اب دوسری قسم کا تعین ہو گیا کہ ان قبروں کے پاس دعا کرنے میں فضیلت اور مشروعیت نہیں ہے، نہ خصوصی طور پر وہاں جانے کی اجازت ہے، بلکہ وہاں خصوصیت کے ساتھ دعا کرنا ان خرابیوں کا سبب بنتا ہے، جو شروع کتاب میں بیان ہو چکی ہیں۔ وہاں اپنے لیے دعا مانگنے کو جائز اور افضل جاننا ایسی عبادت ہے، جس کی شرع میں اجازت نہیں، نہ ہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اسے جائز رکھا اور نہ ہی اس کے حق میں کوئی دلیل نازل کی ہے۔
[إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان: 203/1-204]
من وعن یہی عبارت علامہ برکوی رحمہ اللہ (981ھ) نے اپنی کتاب زيارة القبور (ص 39-40) میں ذکر کی ہے۔

قبروں کو چھونا اور بوسہ دینا اہل علم کی نظر میں:

قبروں کو چھونے اور ان کو بوسہ دینے کے بارے میں علماء اسلام کی آراء ملاحظہ ہوں:

علامہ غزالی رحمہ اللہ (505ھ) قبروں کو چھونے اور انہیں بوسہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں:

[إنه عادة النصارى واليهود] ایسا کرنا یہود و نصاریٰ کی عادت ہے۔ (إحياء علوم الدين:244/1)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کو چومنے اور اس پر ماتھا وغیرہ ٹیکنے کے بارے میں فرماتے ہیں:
[لا يجوز أن يطاف بقبر النبي صلى الله عليه وسلم ويكره إلصاق البطن والظهر بجدار القبر قاله الحليمي وغيره، ويكره مسحه باليد وتقبيله بل الأدب أن يبعد منه كما يبعد منه لو حضر في حياته صلى الله عليه وسلم هذا هو الصواب وهو الذي قاله العلماء وأطبقوا عليه، وينبغي أن لا يغتر بكثير من العوام في مخالفتهم ذلك فإن الاقتداء والعمل إنما يكون بأقوال العلماء ولا يلتفت إلى محدثات العوام وجهالاتهم، ولقد أحسن السيد الجليل أبو علي الفضيل بن عياض رحمه الله تعالى في قوله ما معناه: اتبع طرق الهدى ولا يضرك قلة السالكين، وإياك وطرق الضلالة ولا تغتر بكثرة الهالكين، ومن خطر بباله أن المسح باليد ونحوه أبلغ في البركة فهو من جهالته وغفلته لأن البركة إنما هي فيما وافق الشرع وأقوال العلماء، وكيف يبتغي الفضل في مخالفة الصواب؟]
نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کا طواف کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح قبر مبارک کی دیوار سے اپنا پیٹ اور اپنی پشت چمٹانا بھی مکروہ ہے، علامہ حلیمی وغیرہ نے یہ بات فرمائی ہے۔ قبر کو (تبرک کی نیت سے) ہاتھ لگانا اور اسے بوسہ دینا بھی مکروہ عمل ہے۔ قبر مبارک کا اصل ادب تو یہ ہے کہ اس سے دور رہا جائے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارک میں آپ کے پاس حاضر ہونے والے کے لیے ادب دور رہنا ہی تھا۔ یہی بات درست ہے اور علماء کرام نے اسی بات کی صراحت کی ہے اور اس پر اتفاق بھی کیا ہے۔ کوئی مسلمان اس بات سے دھوکا نہ کھا جائے کہ عام لوگ ان ہدایات کے برعکس عمل کرتے ہیں، کیونکہ اقتدا تو علماءِ کرام کے (اتفاقی) اقوال کی ہوتی ہے، نہ کہ عوام کی بدعات اور جہالتوں کی۔ سیدِ جلیل، ابو علی فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا ہے: راہِ ہدایت کی پیروی کرو، اس راہ پر چلنے والے لوگوں کی قلت نقصان دہ نہیں۔ گمراہیوں سے بچو اور گمراہوں کی کثرتِ افراد سے دھوکا نہ کھاؤ۔ (ہم اس قول کی سند پر مطلع نہیں ہو سکے)۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ قبرِ مبارک کو ہاتھ لگانے اور اس طرح کے دوسرے بدعی کاموں سے زیادہ برکت حاصل ہوتی ہے، وہ اپنی جہالت اور کم علمی کی بنا پر ایسا سوچتا ہے، کیونکہ برکت تو شریعت کی موافقت اور اہل علم کے اقوال کی روشنی میں ملتی ہے۔ خلافِ شریعت کاموں میں برکت کا حصول کیسے ممکن ہے؟ [الإيضاح في مناسك الحج والعمرة، ص 456]

نیز نقل ہیں:

[لا يقبله ولا يمسه فإن ذٰلك عادة النصارٰى]
نہ قبر کو بوسہ دے، نہ اسے ہاتھ سے چھوئے، یہ نصاریٰ کی عادت ہے۔
[المجموع:311/5]

شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[أما التمسح بالقبر أو الصلاة عنده، أو قصده لأجل الدعاء عنده، معتقدا أن الدعاء هناك أفضل من الدعاء في غيره، أو النذر له ونحو ذٰلك، فليس هٰذا من دين المسلمين، بل هو مما أحدث من البدع القبيحة التي هي من شعب الشرك، والله أعلم وأحكم]
قبر کو (تبرک کی نیت سے) ہاتھ لگانا، اس کے پاس نماز پڑھنا، دعا مانگنے کے لیے قبر کے پاس جانا، یہ اعتقاد رکھنا کہ وہاں دعا کرنا عام جگہوں پر دعا کرنے سے افضل ہے اور قبر پر نذر و نیاز کا اہتمام کرنا وغیرہ ایسے کام ہیں، جن کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کام تو ان قبیح بدعات میں سے ہیں، جو شرک کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھتی ہیں۔ واللہ اعلم واحکم۔
[مجموع الفتاوى:321/24]

نیز فرماتے ہیں:

[وأما التمسح بالقبر -أي قبر كان- وتقبيله وتمريغ الخد عليه فمنهي عنه باتفاق المسلمين ولو كان ذلك من قبور الأنبياء ولم يفعل هذا أحد من سلف الأمة وأئمتها بل هذا من الشرك قال الله تعالى: ،،وقالوا لا تذرن آلهتكم ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا يغوث ويعوق ونسرا،، ،،وقد أضلوا كثيرا،، وقد تقدم أن هؤلاء أسماء قوم صالحين كانوا من قوم نوح وأنهم عكفوا على قبورهم مدة ثم طال عليهم الأمد فصوروا تماثيلهم. لا سيما إذا اقترن بذلك دعاء الميت والاستغاثة به]
قبر کسی کی بھی ہو، اس کو (تبرک کی نیت سے) چھونا، بوسہ دینا اور اس پر اپنے رخسار ملنا منع ہے اور اس بات پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ یہ کام انبیاء کرام کی قبورِ مبارکہ کے ساتھ بھی کیا جائے، تو اس کا یہی حکم ہے۔ اسلافِ امت اور ائمہ دین میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا، بلکہ یہ کام شرک ہے، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: [وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا]،[وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا] (نوح: 23-24) وہ [قومِ نوح کے مشرکین] کہنے لگے: تم کسی بھی صورت وَدّ، سُوَاع، يَغُوث، يَعُوق اور نَسْر کو نہ چھوڑو، [یوں] انہوں نے بے شمار لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ یہ سب قومِ نوح کے نیک لوگوں کے نام تھے۔ ایک عرصہ تک یہ لوگ ان کی قبروں پر ماتھے ٹیکتے رہے، پھر جب لمبی مدت گزر گئی، تو انہوں نے ان نیک ہستیوں کی مورتیاں گھڑ لیں۔ قبروں کی یہ تعظیم اس وقت خصوصاً شرک بن جاتی ہے جب اس کے ساتھ ساتھ میت کو پکارا جانے لگے اور اس سے مدد طلب کی جانے لگے۔
[مجموع الفتاوى: 91/27-92]

نیز فرماتے ہیں:

[اتفق السلف على أنه لا يستلم قبرا من قبور الأنبياء وغيرهم، ولا يتمسح به، ولا يستحب الصلاة عنده، ولا قصده للدعاء عنده، أو به، لأن هٰذه الأمور كانت من أسباب الشرك وعبادة الأوثان]
سلف صالحین کا اس پر اتفاق ہے کہ قبریں انبیاءِ کرام کی ہوں یا عام لوگوں کی، ان کو نہ بوسہ دینا جائز ہے، نہ ان کو (تبرک کی نیت سے) چھونا۔ قبروں کے پاس نماز کی ادائیگی اور دعا کی قبولیت کی غرض سے جانا یا ان قبروں کے وسیلے سے دعا کرنا مستحسن نہیں۔ یہ سب کام شرک اور بت پرستی کا سبب بنتے ہیں۔
[مجموع الفتاوى:31/27]

علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ (737ھ) قبرِ نبوی کے بارے میں فرماتے ہیں:

[ترى من لا علم عنده يطوف بالقبر الشريف، كما يطوف بالكعبة الحرام، ويتمسح به ويقبله، ويلقون عليه مناديلهم وثيابهم، يقصدون به التبرك، وذٰلك كله من البدع، لأن التبرك إنما يكون بالاتباع له عليه الصلاة والسلام، وما كان سبب عبادة الجاهلية للأصنام؛ إلا من هٰذا الباب]
آپ جاہلوں کو دیکھیں گے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک کا کعبہ کی طرح طواف کرتے ہیں، اور تبرک کی نیت سے اس کو چھوتے ہیں، بوسہ دیتے ہیں، اس پر اپنے رومال اور کپڑے ڈالتے ہیں۔ یہ سارے کام بدعت ہیں، کیونکہ برکت تو صرف اور صرف آپ علیہ السلام کے اتباع سے حاصل ہوتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں بتوں کی عبادت کا سبب یہی چیزیں بنی تھیں۔ (المدخل: 263/1)

علامہ احمد ونشریسی رحمہ اللہ (914ھ) فرماتے ہیں:

[منها تقبيل قبر الرجل الصالح أو العالم، فإن هٰذا كله بدعة]
ان کاموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی نیک شخص یا عالم کی قبر کو چوما جائے، یہ سب کام بدعت ہیں۔ (المعیار المعرب: 490/2)

علامہ طحطاوی رحمہ اللہ (1231ھ) فرماتے ہیں:

[لا يمس القبر، ولا يقبله، فإنه من عادة أهل الكتاب]
قبروں کی زیارت کرنے والا نہ قبر کو چھوئے اور نہ بوسہ دے، کیونکہ یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے۔ [حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: 620]

علامہ عبد الرؤوف، مناوی رحمہ اللہ (1031ھ) فرماتے ہیں:

[«فزوروا القبور»، أي بشرط أن لا يقترن بذٰلك تمسح بالقبر، أو تقبيل، أو سجود عليه، أو نحو ذٰلك، فإنه كما قال السبكي: بدعة منكرة، إنما يفعلها الجهال]
تم قبروں کی زیارت کرو، یعنی اس شرط پر کہ زیارت کے ساتھ قبر کو چھونے یا چومنے یا اس پر سجدہ وغیرہ کرنے کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ بقول علامہ سبکی منکر بدعت اور جاہلوں کا کام ہے۔
[فیض القدیر: 55/5، شفاء السقام للسبکی، ص 313]
اس سے معلوم ہوا کہ سلف صالحین انبیاءِ کرام کی قبروں سے تبرک حاصل نہیں کرتے تھے، لیکن جو لوگ سلف صالحین کی مخالفت اور بدعت کو بھی جائز سمجھتے ہوں، ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ اس کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:

علامہ ابن عابدین، شامی حنفی رحمہ اللہ (1252ھ) فرماتے ہیں:

[وضع الستور، والعمائم، والثياب على قبور الصالحين الأولياء كرهه الفقهاء، حتى قال في فتاوى الحجة: وتكره الستور على القبور، ولٰكن نحن الآن نقول: إن كان القصد بذٰلك التعظيم في أعين العامة، حتى لا يحتقروا صاحب هٰذا القبر، فهو أمر جائز لا ينبغي النهي عنه، لأن الأعمال بالنيات، ولكل امرئ ما نوى، فإنه وإن كان بدعة على خلاف ما كان عليه السلف]
نیک اولیا کی قبروں پر چادریں، پگڑیاں اور کپڑے رکھنے کو ہمارے فقہا نے مکروہ قرار دیا ہے، حتیٰ کہ فتاویٰ الحجہ میں لکھا ہے: قبروں پر چادریں ڈالنا مکروہ ہے۔ لیکن ہم اب کہتے ہیں کہ اگر اس سے عام لوگوں کی نظروں میں صاحبِ قبر کی تعظیم پیدا کرنا مقصود ہو تاکہ وہ صاحبِ قبر کو حقیر نہ سمجھیں، تو یہ جائز ہے، اس سے روکنا درست نہیں، کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملتا ہے، جس کی وہ نیت کرتا ہے۔ یہ عمل اگرچہ بدعت ہے اور اس طریقے کے خلاف ہے، جس پر سلف صالحین کاربند تھے۔
[العقود الدرّية في تنقيح الفتاوى الحامدية: 325/2 ، فتاویٰ شامی: 363/6]

اسے بدعت بھی قرار دیا جا رہا ہے اور یہ بھی اقرار کیا جا رہا ہے کہ سلف صالحین اس عمل پر کاربند نہیں تھے، لیکن پھر بھی اسے جائز کہا جا رہا ہے۔ اگر شریعت میں اس کا کوئی تصور ہوتا، تو سلف صالحین اسے ضرور اپناتے۔ صحابہ کرام نے قبرِ نبی اور تابعین عظام نے قبورِ صحابہ کے ساتھ اور تبع تابعینِ اعلام نے قبورِ تابعین کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں کیا۔

علمائے احناف کا فتویٰ ہے:

[لا يمس القبر ولا يقبله، فإن ذٰلك من عادة النصارٰى، ولا بأس بتقبيل قبر والديه]
قبرستان جانے والا قبر کو نہ چھوئے، نہ بوسہ دے، کیونکہ یہ نصاریٰ کی عادت ہے، البتہ اپنے والدین کی قبر کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
[فتاویٰ عالمگیری: 351/5]
قبروں کو بوسہ دینا جب نصاریٰ کی عادت ہے، تو یہ عادت والدین کی قبر پر کیسے سندِ جواز حاصل کر لے گی؟

صحابہ کرام اور قبرِ رسول ﷺ سے تبرک:

بعض نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک سے تبرک حاصل کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں، ان کے دلائل کا انتہائی مختصر اور جامع تبصرہ پیشِ خدمت ہے:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور قبرِ نبوی سے تبرک:

[1] جب سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے خط پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو شام کی طرف کوچ کرنے کے لیے شہر سے باہر نکلنے کو کہا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے مسجدِ نبوی میں حاضر ہو کر چار رکعت نماز ادا کی، پھر قبرِ رسول کی زیارت کی اور سلام کیا۔
[فتوح الشام للواقدي: 306/1-307]

یہ بے سند کہانی محمد بن عمر واقدی کی گھڑنتل ہے۔

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[عندي ممن يضع الحديث]
میرے نزدیک محمد بن عمر واقدی کا شمار حدیث گھڑنے والوں میں ہوتا ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 21/8 ، وسنده صحيح]
اسے امام ابو حاتم رحمہ اللہ (الجرح والتعديل: 21/8)، امام بخاری رحمہ اللہ (الضُّعَفَاء الكبير للعُقَيلي: 107/4، وسنده صحيح)، امام مسلم رحمہ اللہ (الكنى والأَسماء:1952)، امام نسائی رحمہ اللہ (الضُّعَفَاء: 557) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تقريب التّهذيب: 6175) نے ”متروک الحديث“ کہا ہے۔

امام محمد بن بشار بندار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ما رأيت أكذب شفتين من الواقدي]
میں نے واقدی سے بڑھ کر جھوٹے ہونٹوں والا شخص نہیں دیکھا۔
[تاريخ بغداد للخطيب: 14/3، وسنده صحيح]
اسے امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 21/8) اور امام دارقطنی رحمہ اللہ (سنن الدَّارَقُطْنِي: 164/2) نے ”ضعيف“ کہا ہے۔

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[يروي أحاديث غير محفوظة، والبلاء منه، ومتون أخبار الواقدي غير محفوظة، وهو بين الضعف]
یہ شخص غیر محفوظ احادیث بیان کرتا ہے اور یہ مصیبت اسی کی اپنی طرف سے ہے۔ نیز اس کی روایات کے متون غیر محفوظ ہیں اور وہ خود واضح ضعیف ہے۔
[الكامل في ضعفاء الرِّجال: 243/6]

خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[الواقدي عند أئمة أهل النقل؛ ذاهب الحديث]
واقدی ائمہ محدثین کرام کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔ (تاريخ بغداد: 37/1)

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ضعفه الجمهور]
اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف کہا ہے۔ (مجمع الزوائد: 255/3)

حافظ ابنِ ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قد ضعفه الجمهور]
اسے جمہور محدثین نے ضعیف کہا ہے۔ (البدر المُنير: 324/5)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قد تقرر أن الواقدي ضعيف]
یہ بات مسلّم ہے کہ واقدی ضعیف ہے۔ (سير أعلام النبلاء: 454/9)

[2] کعب احبار رحمہ اللہ کے قبولِ اسلام کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: کیا آپ قبرِ رسول کی زیارت کے لئے میرے ساتھ چلو گے؟ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین، جی ہاں! پھر جب کعب احبار رحمہ اللہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ آئے، تو سب سے پہلے قبرِ رسول کی زیارت کی اور سلام کہا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قبر پر کھڑے ہو کر سلام کیا اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ (فُتُوح الشَّام للواقدي: 318/1)
یہ بے سند روایت بھی محمد بن عمر واقدی کی گھڑنتل ہے، ایسی باتوں کا کوئی اعتبار نہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور قبرِ نبی سے تبرک:

ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ رحمہ اللہ سے مروی ہے:

[قحط أهل المدينة قحطا شديدا، فشكوا إلىٰ عائشة، فقالت: انظروا قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فاجعلوا منه كوى إلى السماء، حتىٰ لا يكون بينه وبين السماء سقف، قال: ففعلوا، فمطرنا مطرا حتى نبت العشب، وسمنت الإبل، حتى تفتقت من الشحم، فسمي عام الفتق]
ایک دفعہ اہل مدینہ سخت قحط کا شکار ہو گئے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (اس کیفیت کی) شکایت کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قبر رسول کے پاس جائیں اور وہاں سے ایک کھڑکی آسمان کی طرف کھولیں، اس طرح کہ قبر اور آسمان کے درمیان پردہ نہ رہے، اہل مدینہ نے اسی طرح کیا، تو بہت بارش ہوئی، خوب سبزہ اُگا اور اونٹ فربہ ہو گئے یوں لگتا تھا کہ ابھی پھٹ جائیں گے، لہٰذا اس سال کا نام عام الفتق (پیٹ پھاڑنے والا سال) رکھ دیا گیا۔
[سنن الدارمي:58/1، ح:93 ، مشكاة المصابيح:5950]
سند ضعیف ہے۔
[1] ابو نعمان محمد بن فضل عارم آخری عمر میں حافظہ کی خرابی کا شکار ہو گئے تھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ ان میں سے نہیں ہیں، جنہوں نے ان سے اختلاط سے پہلے سماع کیا ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[تغير بآخرة] آخری عمر میں حافظہ بگڑ گیا تھا۔ [التاريخ الكبير: 208/1]

امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[إختلط عارم في آخر عمره وزال عقله، فمن سمع عنه قبل الإختلاط فسماعه صحيح، وكتبت عنه قبل الإختلاط سنة أربع عشرة، ولم أسمع منه بعد ما اختلط فمن كتب عنه قبل سنة عشرين ومائتين فسماعه جيد]
عارم آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، ان کی عقل زائل ہو گئی تھی۔ جس نے ان سے اختلاط سے پہلے سماع کیا، اس کی سماع صحیح ہے۔ میں نے ان سے قبل از اختلاط سن 214ھ میں سماع کیا، اختلاط کے بعد سماع نہیں کیا۔ پس جس نے ان سے سن 220ھ سے پہلے پہلے حدیث لکھی، اس کا سماع درست ہے، (یعنی عارم 220ھ میں مختلط ہو گئے تھے)۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 59/8]

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[إختلط في آخر عمره وتغير حتى كان لا يدري ما يحدث به فوقع المناكير الكثرة في روايته فما روى عنه القدماء قبل اختلاطه إذا علم أن سماعهم عنه كان قبل تغيره]
یہ آخری عمر میں سٹھیا گئے تھے، حافظہ اتنا بگڑ گیا تھا کہ انہیں کوئی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کیا بیان کر رہے ہیں، اس لیے ان کی روایات میں بہت سے منکر روایات شامل ہو گئیں۔ لہٰذا اگر جس کے متعلق معلوم ہو جائے کہ اس نے ان سے قبل از اختلاط سماع کیا ہے، (تو اس کا سماع درست ہے)۔
[كتاب المجروحين: 294/2]
امام دارقطنی رحمہ اللہ کا قول ابو عبد الرحمن سلمی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
[2] ابو الجوزاء کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں۔

حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لم يسمع من عائشة وحديثه عنها مرسل]
ابو الجوزاء نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا، اس کی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت مرسل (منقطع) ہوتی ہے۔
[التّمهيد: 206/20]
امام بخاری رحمہ اللہ کا بھی اسی طرف میلان ہے، جیسا کہ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اس طرف اشارہ کیا ہے۔
[الكامل في ضُعَفَاء الرِّجال: 331/3]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابو الجوزاء عن عائشہ کی ایک روایت کو منقطع کہا ہے۔
[التَّلخيص الحَبير: 559/1]
[3] عمرو بن مالک نکری کی حدیث ابو الجوزاء سے غیر محفوظ ہوتی ہے، یہ روایت بھی اسی سے ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قال ابن عدي: حدث عنه عمرو بن مالك قدر عشرة أحاديث غير محفوظة]
ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو الجوزاء سے عمرو بن مالک نے تقریباً دس غیر محفوظ احادیث بیان کی ہیں۔ [تهذيب التَّهذيب: 336/1]
یہ جرح مفسر ہے، مذکورہ اثر بھی عمرو بن مالک نکری نے اپنے استاذ ابو الجوزاء سے بیان کیا ہے، لہٰذا غیر محفوظ ہے۔

شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[ما روي عن عائشة رضي الله عنها من فتح الكوة من قبره إلى السماء، لينزل المطر، فليس بصحيح، ولا يثبت إسناده، ومما يبين كذب هٰذا أنه في مدة حياة عائشة لم يكن للبيت كوة، بل كان باقيا كما كان على عهد النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعضه مسقوف وبعضه مكشوف، وكانت الشمس تنزل فيه، كما ثبت في الصحيحين عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يصلي العصر والشمس في حجرتها، لم يظهر الفيء بعد، ولم تزل الحجرة النبوية كذٰلك في مسجد الرسول صلى الله عليه وآله وسلم، ومن حينئذ دخلت الحجرة النبوية في المسجد، ثم إنه بني حول حجرة عائشة التي فيها القبر؛ جدار عال، وبعد ذٰلك جعلت الكوة لينزل منها من ينزل إذا احتيج إلى ذٰلك لأجل كنس أو تنظيف، وأما وجود الكوة في حياة عائشة؛ فكذب بين]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو بارش کے لیے قبرِ نبوی پر سے کھڑکی کھولنے کی روایت مروی ہے، وہ صحیح نہیں۔ اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔ اس کے خلافِ واقعہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیاتِ مبارکہ میں حجرہ مبارکہ میں کوئی کھڑکی نہیں تھی۔ وہ حجرہ تو اسی طرح تھا، جس طرح نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں تھا کہ اس کا بعض حصہ چھت والا اور بعض کھلا تھا۔ دھوپ اس میں داخل ہوتی تھی جیسا کہ صحیح بخاری (522) و مسلم (611) میں ثابت ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ جب عصر کی نماز ادا فرماتے، تو ابھی حجرہ مبارکہ میں دھوپ ہوتی تھی اور ابھی تک سایہ نہ آیا ہوتا تھا۔ مسجدِ نبوی کے ساتھ یہ حجرہ نبویہ بالکل اسی طرح قائم رہا۔ (پھر جب مسجد میں توسیع ہوئی) تو اس وقت سے حجرہ مسجد میں داخل ہو گیا۔ پھر حجرہ عائشہ، جس میں نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک ہے، اس کے گرد ایک بلند دیوار بنا دی گئی۔ اس کے بعد اس دیوار میں ایک کھڑکی رکھی گئی تاکہ صفائی وغیرہ کی ضرورت کے لیے اس میں داخل ہوا جا سکے۔ جہاں تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیاتِ مبارکہ میں کسی کھڑکی کے ہونے کی بات ہے تو یہ واضح طور پر جھوٹ ہے۔“
[الردّ على البَكْرِي، ص68]

ایک الزامی جواب:

اس روایت کا ایک الزامی جواب یہ بھی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
[من حدثك أنه يعلم الغيب، فقد كذب، وهو يقول: لا يعلم الغيب إلا الله]
جو کوئی تمہیں بتائے کہ سیدنا محمد ﷺ غیب جانتے ہیں، وہ جھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ غیب کی باتوں کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
[صحيح البخاري: 7380، صحيح مسلم: 177]

اس روایت پر تبصرہ کیا گیا ہے:

آپ رضی اللہ عنہا کا یہ قول اپنی رائے سے ہے، اس پر کوئی حدیثِ مرفوع پیش نہیں فرماتیں، بلکہ آیات سے استدلال فرماتی ہیں۔ (جاء الحق: 124/1)
ہم پوچھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمِ غیب کے متعلق قول قبول نہیں، تو ان کا نبی کریم ﷺ کی قبر کے متعلق یہ قول کیوں قبول ہے؟ جبکہ وہ اس پر بھی کوئی آیت وحدیث پیش نہیں فرما رہیں۔ اس پر سہاگہ کہ یہ قول ثابت بھی نہیں ہے۔

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما اور قبرِ نبی سے تبرک:

محمد بن منکدر رحمہ اللہ سے مروی ہے:

[رأيت جابرا رضي الله عنه، وهو يبكي عند قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو يقول: هٰهنا تسكب العبرات، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما بين قبري ومنبري روضة من رياض الجنة]
میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک کے پاس روتے دیکھا۔ وہ فرما رہے تھے: آنسو بہانے کی جگہ یہی ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری قبر اور میرے منبر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔
[شعب الإيمان للبيهقي: 3866]
سند سخت ضعیف ہے۔
[1] محمد بن حسین ابو عبد الرحمن سلمی ضعیف ہے۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[تكلموا فيه، وليس بعمدة]
محدثین کرام نے اس پر جرح کی ہے، یہ قابلِ اعتماد شخص نہیں تھا۔
[ميزان الاعتدال: 523/3]

محمد بن یوسف قطان نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[غير ثقة، وكان يضع للصوفية الأحاديث]
یہ قابلِ اعتبار شخص نہیں تھا اور یہ صوفیوں کے لیے روایات گھڑتا تھا۔
[تاريخ بغداد للخطيب: 247/2، وسنده صحيح]
[2] محمد بن یونس بن موسیٰ کُدَیْمی متہم بالکذب ہے۔

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[اتهم بوضع الحديث وبسرقته]
محدثین کرام اس پر حدیث گھڑنے اور چوری کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔
[الكامل في ضُعَفَاء الرِّجال: 292/6]

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[كان يضع على الثقات الحديث وضعا، ولعله قد وضع أكثر من ألف حديث]
یہ شخص ثقہ راویوں سے منسوب کر کے خود حدیث گھڑ لیتا تھا۔ شاید اس نے ایک ہزار سے زائد احادیث گھڑی ہیں۔ (كتاب المجروحين: 313/2)
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ”متروک“ قرار دیا ہے۔
[سؤالات الحاكم:173]

نیز فرماتے ہیں:

[كان الكديمي يتهم بوضع الحديث]
کدیمی پر حدیث گھڑنے کا الزام تھا۔ (سؤالات السهمي: 74)
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ کے سامنے اس کی ایک روایت پیش کی گئی، تو فرمایا:
[ليس هٰذا حديث من أهل الصدق]
یہ سچے شخص کی بیان کردہ حدیث نہیں ہے۔ (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 122/8)

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور قبرِ نبی سے تبرک:

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

[إن بلال رأى في منامه النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقول ما هذه الجفوة يا بلال أما آن أن تزورني فانتبه حزينا وجلا خائفا فركب راحلته وقصد المدينة فأتى قبر النبي صلى الله عليه وسلم فجعل يبكي عنده وجعل يمرغ وجهه عليه وأقبل الحسن والحسين صلوات الله عليهما فجعل يمهما ويقبلهما فقالا له يا بلال نشتهي نسمع أذانك الذي كنت تؤذنه لروس الله صلى الله عليه وسلم في السحر ففعل فعلا سطح لمسجد فوقف موقفه الذي كان يقف فيه فلما أن قال الله أكبر الله أكبر ارتجت المدينة فلما أن قال أشهد أن لا إله إلا الله زاد تعاجيجها فلما أن قال أشهد أمحمدا رسول الله خرج العواتق من خ دورهن فقالوا أبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم فما رؤى يوم أكثر باكيا ولا باكية بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذلك اليوم]
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے خواب میں اللہ کے رسول ﷺ کی زیارت کی۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اے بلال! یہ کیا بے رُخی ہے؟ کیا تمہارے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ تم میری زیارت کرو؟ اس پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے۔ انہوں نے اپنی سواری کا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر لیا۔ نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک پر پہنچے اور اس کے پاس رونا شروع کر دیا۔ اپنا چہرہ اس پر ملنے لگے۔ سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما ادھر آئے، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے انہیں سینے سے لگایا اور ان کو بوسہ دیا۔ ان دونوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم آپ کی وہ اذان سننا چاہتے ہیں، جو آپ مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے لیے کہا کرتے تھے۔ انہوں نے ہاں کر دی۔ مسجد کی چھت پر چڑھے اور اپنی اس جگہ کھڑے ہو گئے جہاں دورِ نبوی میں کھڑے ہوتے تھے۔ جب انہوں نے الله أكبر، الله أكبر کہا، تو مدینہ (رونے کی آواز سے) گونج اٹھا۔ پھر جب انہوں نے أشهد أن لا إلٰه إلا الله کہا، تو آوازیں اور زیادہ ہو گئیں۔ جب وہ أشهد أن محمدا رسول الله پر پہنچے، تو دوشیزائیں اپنے پردوں سے نکل آئیں اور لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: کیا رسول اللہ ﷺ دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نے مدینہ میں مردوں اور عورتوں کے رونے والا اس سے بڑا دن کوئی نہیں دیکھا۔
[أخبار وحكايات للغَسَّاني: 75، تاريخ ابن عساكر: 137/7]
روایت من گھڑت ہے۔
[1] ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سلیمان بن بلال مجهول ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”مجہول“ کہا ہے۔
[تاريخ الإسلام: 67/17]

نیز فرماتے ہیں:

[فيه جهالة] یہ نامعلوم راوی ہے۔ (ميزان الاعتدال: 64/1، ت: 205)

حافظ ابن عبد الهادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[هٰذا شيخ لم يعرف بثقة وأمانة، ولا ضبط وعدالة، بل هو مجهول غير معروف بالنقل، ولا مشهور بالرواية، ولم يرو عنه غير محمد بن الفيض، روى عنه هٰذا الأثر المنكر ]
یہ ایسا راوی ہے، جس کی امانت ودیانت اور ضبط وعدالت معلوم نہیں۔ یہ مجہول ہے اور نقلِ روایت میں غیر معروف ہے۔ یہ روایت میں بھی مشہور نہیں۔ اس سے محمد بن فیض کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور اس نے بھی یہ منکر قصہ اس سے روایت کیا ہے۔ (الصّارم المُنكي، ص 314)
[2] سلیمان بن بلال بن ابی درداء مجہول الحال ہے۔

حافظ ابن عبد الهادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[بل هو مجهول الحال، ولم يوثقه أحد من العلماء، فيما علمناه]
یہ مجہول الحال ہے۔ ہمارے مطابق کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔
[الصّارم المُنكي: ص 314]
[3] سلیمان بن بلال کا سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے سماع بھی ثابت نہیں۔

حافظ ابن عبد الهادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لا يعرف له سماع من أم الدرداء]
اس کا سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے سماع بھی معلوم نہیں ہو سکا۔
[الصّارم المُنكي: ص 314]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[هي قصة بينة الوضع]
یہ داستان واضح طور پر کسی کی گھڑنتل ہے۔ (لسان الميزان: 108/1)

حافظ ابن عبد الهادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[هٰذا الأثر المذكور عن بلال؛ ليس بصحيح]
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منسوب مذکورہ روایت ثابت نہیں۔
[الصّارم المُنكي: ص314]

نیز فرماتے ہیں:

[هو أثر غريب منكر، وإسناده مجهول، وفيه انقطاع]
یہ روایت غریب اور منکر ہے، اس کی سند مجہول ہے، نیز انقطاع بھی ہے۔
[الصّارم المُنكي، ص 314]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[إسناده لين، وهو منكر]
اس کی سند کمزور ہے اور یہ روایت منکر ہے۔ (سير أعلام النبلاء: 358/1)

ابن عراق کنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[هي قصة بينة الوضع] یہ قصہ مبینہ طور پر گھڑا ہوا ہے۔ [تنزيه الشريعة: 59]

تنبیہ:حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[إسناده جيد، ما فيه ضعيف، لٰكن إبراهيم هٰذا مجهول]
اس کی سند جید ہے۔ اس میں کوئی ضعیف راوی نہیں، البتہ یہ ابراہیم نامی راوی مجہول ہے۔ (تاريخ الإسلام: 373/5)
یہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا علمی تسامح ہے۔ جس روایت کی سند میں دو راوی ”مجہول“ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ ”انقطاع“ بھی ہو، وہ جید کیسے ہو سکتی ہے؟
پھر خود انہوں نے اپنی دوسری کتاب (سير أعلام النبلاء: 358/1) میں اس کی سند کو کمزور اور اس روایت کو ”منکر“ بھی قرار دے رکھا ہے، جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں۔
اس بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ وغیرہ کی بات درست ہے کہ یہ قصہ جھوٹا اور من گھڑت ہے۔ یہ ان ”مجہول“ راویوں میں سے کسی کی کارروائی ہے۔ واللہ اعلم!

سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور قبرِ نبی سے تبرک:

داؤد بن ابی صالح حجازی سے مروی ہے:

[أقبل مروان يوما، فوجد رجلا واضعا وجهه على القبر، فقال: أتدري ما تصنع؟ فأقبل عليه، فإذا هو أبو أيوب، فقال: نعم، جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم آت الحجر، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تبكوا على الدين إذا وليه أهله، ولٰكن ابكوا عليه إذا وليه غير أهله]
ایک دن مروان آیا، تو اس نے دیکھا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے تھا۔ مروان نے کہا: تمہیں معلوم ہے کہ کیا کر رہے ہو؟ اس شخص نے مروان کی طرف اپنا چہرہ موڑا، تو وہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! مجھے خوب معلوم ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ہوں، پتھر پر نہیں۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جب دین کا والی کوئی دین دار شخص بن جائے، تو اس پر نہ رونا۔ اس پر اس وقت رونا جب اس کے والی نا اہل لوگ بن جائیں۔
[مسند الإمام أحمد: 23585 ، المُستدرك للحاكم:8784]
سند ضعیف ہے۔ داؤد بن ابی صالح حجازی مجہول ہے۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لا يعرف] یہ مجہول ہے۔ (ميزان الاعتدال:2/ 9)

فائدہ:

یہ روایت قبر کے ذکر کے بغیر معجم کبیر طبرانی (189/4، ح:3999) اور معجم اوسط طبرانی (94/1، ح:284) میں بھی آئی ہے، مگر اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
سفیان بن بشر کوفی نامعلوم اور غیر معروف ہے۔

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لم أعرفه] میں اسے نہیں پہچانتا۔ (مجمع الزوائد: 130/9)
مطلب بن عبد الله بن حنطب مدلس ہے، سماع کی تصریح نہیں ملی۔
مطلب بن عبد الله کا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے سماع بھی ثابت نہیں۔
ہارون بن سلیمان ابو ذر مجہول ہے۔
احمد بن محمد بن حجاج بن رشدین ضعیف ہے۔

امام عبد الرحمن بن ابی حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[سمعت منه بمصر، ولم أحدث عنه، لما تكلموا فيه]
میں نے اس سے مصر میں احادیث سنی تھیں، لیکن میں وہ احادیث بیان نہیں کرتا، کیونکہ محدثین کرام نے اس پر جرح کی ہے۔ (الجرح والتعديل: 75/2)

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[صاحب حديث كثير، أنكرت عليه أشياء، وهو ممن يكتب حديثه مع ضعفه]
اس کے پاس بہت سی احادیث تھیں، ان میں سے کئی روایات کو (محدثین کی طرف سے) منکر قرار دیا گیا ہے، اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث (متابعات وشواہد میں) لکھی جائے گی۔
[الكامل في ضُعَفَاء الرِّجال: 198/1]
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔
[مَجمَع الزّوائد: 25/2 ، 694/6]

فائدہ:

اس کی تیسری سند ابو الحسین یحییٰ بن حسن بن جعفر بن عبید اللہ حسینی کی کتاب أخبار المدينة میں آتی ہے۔ (شفاء السَّقام للسُّبكي، ص 343)
اس کی سند ضعیف ہے۔
عمر بن خالد نامعلوم ہے۔
مطلب بن عبد الله کا عنعنہ ہے۔
مطلب کا سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔

دورِ فاروقی میں ایک شخص کا قبرِ نبی سے تبرک:

مالک الدار سے مروی ہے:

[أصاب الناس قحط في زمن عمر، فجاء رجل إلىٰ قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله! استسق لأمتك، فإنهم قد هلكوا، فأتي الرجل في المنام، فقيل له: ائت عمر فأقرئه السلام، وأخبره أنكم مستقيمون، وقل له: عليك الكيس، عليك الكيس، فأتى عمر فأخبره، فبكى عمر، ثم قال: يا رب! لا آلو إلا ما عجزت عنه]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے۔ ایک صحابی نبی کریم ﷺ کی قبر پر حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے بارش طلب فرمائیں، امت قحط سالی کے باعث تباہ ہو گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ اس صحابی کے خواب میں آئے، فرمایا: عمر کے پاس جا کر میرا سلام کہیں اور انہیں بتائیں کہ بارش ہو گی، عمر سے یہ بھی کہیں کہ وہ سمجھداری سے کام لیں۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں خبر دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا: یا اللہ! میں کوتاہی نہیں کرتا، مگر اس بار عاجز آ گیا تھا۔
[مُصَنَّف ابن أبي شيبة: 356/6، تاريخ ابن أبي خيثمة: 70/2، دلائل النُّبُوَّة للبيهقي: 47/7، الاستيعاب لابن عبد البرّ: 1149/11، تاريخ ابن عساكر: 345/44 ، 489/56]
سند ضعیف ہے۔ اعمش مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لا نقبل من مدلس حديثا حتى يقول فيه: حدثني أو سمعت]
ہم مدلس سے اس وقت تک حدیث قبول نہیں کرتے، جب تک وہ سماع کی تصریح نہ کر دے۔ (الرّسالة، ص 380)

امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لا يكون حجة فيما دلس] مدلس کی تدلیس والی روایت حجت نہیں ہوتی۔
[الكامل لابن عدي: 34/1، وسنده حسنٌ]

حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ممن ذهب إلى هٰذا التفصيل الشافعي وابن معين وابن المديني]
جو ائمہ اس موقف کے حامل ہیں، ان میں امام شافعی، امام ابن معین اور امام علی بن مدینی رحمہ اللہ کے نام شامل ہیں۔ (فتح المغيث: 182/1)

حافظ علائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[الصحيح الذي عليه جمهور أئمة الحديث والفقه والأصول]
جمہور ائمہ حدیث و فقہ اور ائمہ اصول کا مذہب ہی درست ہے۔ [جامع التحصيل، ص 111]

حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قالوا: لا يقبل تدليس الأعمش]
محدثین فرماتے ہیں کہ اعمش کی تدلیس قبول نہیں۔ (التّمهيد: 30/1)

علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[إن الأعمش مدلس ، وعنعنة المدلس لا تعتبر إلا إذا علم سماعه]
”اعمش ”مدلس“ ہیں اور ”مدلس“ کی عن والی روایت اسی وقت قابلِ اعتبار ہوتی ہے، جب سماع کی تصریح مل جائے۔ [عمدة القاري، تحت الحديث: 219]

امام بیہقی رحمہ اللہ ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

[هٰذا الحديث لم يسمعه الأعمش باليقين من أبي صالح وإنما سمعه من رجل، عن أبي صالح]
یہ حدیث اعمش نے ابو صالح سے بالیقین نہیں سنی، بلکہ ایک شخص کے واسطے سے سنی ہے، جو ابو صالح سے بیان کرتا ہے۔ [السّنن الكبرىٰ: 430/1]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[عندي أن إسناد الحديث الذي صححه ابن القطان معلول، لأنه لا يلزم من كون رجاله ثقات أن يكون صحيحا، لأن الأعمش مدلس، ولم يذكر سماعه من عطاء، وعطاء يحتمل أن يكون هو عطاء الخراساني، فيكون فيه تدليس التسوية بإسقاط نافع بين عطاء وابن عمر]
میرے خیال میں جس حدیث کو ابن قطان نے ”صحیح“ کہا ہے، وہ معلول (ضعیف) ہے، کیونکہ راویوں کے ثقہ ہونے سے حدیث کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا۔ اس میں اعمش ”مدلس“ ہیں اور انہوں نے عطاء سے سماع کا ذکر نہیں کیا، یہ احتمال بھی ہے کہ اس سند میں مذکور عطاء، خراسانی ہوں، یوں اعمش کی تدلیس تسویہ بن جائے گی، کیونکہ اس صورت میں انہوں نے عطاء اور ابن عمر کے درمیان نافع کا واسطہ بھی گرا دیا ہے۔
[التَّلخيص الحَبير: 19/3]

حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قال علي بن المديني: قال يحيى بن سعيد: قال سفيان وشعبة: لم يسمع الأعمش هٰذا الحديث من إبراهيم التيمي، قال أبو عمر: هٰذه شهادة عدلين إمامين على الأعمش بالتدليس، وأنه كان يحدث عن من لقيه بما لم يسمع منه، وربما كان بينهما رجل أو رجلان، فلمثل هٰذا وشبهه قال ابن معين وغيره في الأعمش: إنه مدلس]
امام علی بن مدینی رحمہ اللہ نے امام یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ امام سفیان رحمہ اللہ اور امام شعبہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اعمش نے یہ حدیث ابراہیم تیمی سے نہیں سنی۔ میں (ابن عبد البر) کہتا ہوں کہ اعمش کے ’مدلس‘ ہونے پر یہ دو عادل اماموں کی گواہی ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اعمش ان لوگوں سے ان سنی روایات بیان کرتے تھے، جن سے ان کی ملاقات تھی۔ بسا اوقات اعمش ایسے لوگوں سے ایک، دو واسطے گرا کر بھی روایت کر لیتے تھے۔ ان حقائق کی بنا پر ابن معین وغیرہ نے اعمش کو ’مدلس‘ کہا ہے۔
[التّمهيد لما في الموطّأ من المعاني والأسانيد: 32/1]

تنبیہ:

تاریخ طبری (98/4) اور البدایہ والنہایہ لابن کثیر (71/1) میں ہے:
[حتى أقبل بلال بن الحارث المزني، فاستأذن عليه، فقال: أنا رسول رسول الله إليك، يقول لك رسول الله]
بلال بن حارث مزنی آئے، انہوں نے اجازت طلب کی اور کہا: میں آپ کی طرف رسول اللہ ﷺ کا ایلچی ہوں، رسول اللہ ﷺ آپ سے فرماتے ہیں۔
یہ جھوٹی روایت ہے۔
[1] شعیب بن ابراہیم رفاعی کوفی مجہول ہے۔

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[شعيب بن إبراهيم هٰذا، له أحاديث وأخبار، وهو ليس بذٰلك المعروف، ومقدار ما يروي من الحديث والأخبار ليست بالكثيرة، وفيه بعض النكرة، لأن في أخباره وأحاديثه ما فيه تحامل على السلف]
شعیب بن ابراہیم نے کچھ احادیث اور روایات بیان کی ہیں۔ یہ فنِ حدیث میں معروف نہیں۔ اس نے کوئی زیادہ احادیث بیان نہیں کیں، اس کے باوجود ان میں نکارت ہے، ان روایات میں سلف صالحین کی اہانت ہے۔ [الكامل في ضُعَفَاء الرِّجال: 7/5]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[فيه جهالة] اس میں جہالت ہے۔ (ميزان الاعتدال: 275/2)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[في ثقات ابن حبان: شعيب بن إبراهيم من أهل الكوفة، يروي عن محمد بن أبان البلخي الجعفي، روى عنه يعقوب بن سفيان، قلت: فيحتمل أن يكون هو، والظاهر أنه غيره]
ثقات ابن حبان (309/8) میں ہے: شعیب بن ابراہیم کوفی، محمد بن ابان بلخی جعفی سے روایت کرتا ہے اور اس سے یعقوب بن سفیان نے روایت کیا ہے۔ (میں کہتا ہوں) ممکن ہے کہ یہ وہی راوی ہو، لیکن ظاہراً کوئی اور لگتا ہے۔
[لسان الميزان: 145/3]
[2] سیف بن عمر باتفاقِ محدثین ضعیف، متروک اور وضاع ہے۔
[3] سہل بن یوسف بن سہل بن مالک انصاری مجہول ہے۔
[لسان الميزان لابن حَجَر: 122/3]

حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لا يعرف] مجہول الحال ہے۔ (الاستيعاب: 667/2)
ثابت ہوا خواب دیکھنے والے شخص کو بلال مزنی رضی اللہ عنہ قرار دینا درست نہیں۔

محمد بن منکدر کی طرف منسوب واقعہ:

اسماعیل بن یعقوب تیمی سے مروی ہے:

[كان محمد بن المنكدر يجلس مع أصحابه، فكان يصيبه الصمات، فكان يقوم كما هو يضع خده علىٰ قبر النبي صلى الله عليه وسلم، ثم يرجع، فعوتب في ذٰلك، فقال: إنه تصيبني خطر، فإذا وجدت ذٰلك؛ استغثت بقبر النبي صلى الله عليه وسلم، وكان يأتي موضعا في المسجد في الصحن، فيتمرغ ويضطجع، فقيل له في ذٰلك، فقال: إني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم في هٰذا الموضع، قال: أراه في النوم]
محمد بن منکدر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھتے، تو ان کو بہرے پن کا مرض لاحق ہو جاتا۔ وہ وہاں سے اٹھ کر نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک پر اپنے رخسار رکھتے، پھر واپس پلٹ آتے۔ اس فعل پر انہیں ملامت کیا گیا، تو انہوں نے کہا: جب مجھے اس مرض کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو میں نبی کریم ﷺ کی قبر پر جا کر فریاد کرتا ہوں۔ اسی طرح وہ مسجد کے صحن میں مٹی میں پلٹیاں مارتے اور وہاں لیٹ جاتے۔ ان سے اس بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اس جگہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا تھا۔
[التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة: 258/2-259 ، ت:2778، تاريخ ابن عساكر:50/56، سِيَر أعلام النُّبَلاء للذَّهبي: 358/5-359]
یہ اثر سخت ضعیف اور منکر ہے۔ اسماعیل بن یعقوب تیمی مجروح ہے۔

امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[هو ضعيف الحديث] یہ ضعیف الحدیث ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 204/2]
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے الضعفاء (123/1) میں ذکر کیا ہے۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ضعفه أبو حاتم، وله حكاية منكرة عن مالك، ساقها الخطيب]
اسے امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔ اس نے امام مالک رحمہ اللہ سے ایک منکر حکایت بیان کی ہے، جسے خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔
[ميزان الاعتدال: 254/1]

تنبیہ: امام عبد اللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[سألته عن الرجل يمس منبر النبي صلى الله عليه وسلم ويتبرك بمسه ويقبله ويفعل بالقبر مثل ذٰلك أو نحو هٰذا يريد بذٰلك التقرب إلى الله جل وعز، فقال: لا بأس بذٰلك]
میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا کہ جو نبی کریم ﷺ کے منبر کو چھونے سے تبرک حاصل کرتا ہے، اسے بوسہ دیتا ہے اور قبرِ نبی ﷺ کے ساتھ بھی ایسے کام سر انجام دیتا ہے، اگر وہ اس سے تقرب الی اللہ کا ارادہ رکھتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ اس پر انہوں نے کہا: ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
[العِلَل ومعرفة الرِّجال: 294/2، ت: 3243]
اس روایت کی بنا پر قبرِ نبوی کو چھونے کی نسبت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف کرنا درست نہیں، اس کی وضاحت دوسری روایت سے ہو جاتی ہے۔

امام ابو بکر اثرم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[قلت لأبي عبد الله يعني أحمد بن حنبل: قبر النبي صلى الله عليه وسلم يمس ويتمسح به؟ فقال: ما أعرف هٰذا، قلت له: فالمنبر؟ فقال: أما المنبر فنعم قد جاء فيه]
میں نے امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا: قبرِ نبوی کو (تبرک کے لیے) ہاتھ سے چھونا کیسا ہے؟ فرمایا: اس بارے میں مجھے (سلف سے کسی روایت کا) علم نہیں، میں نے پوچھا: منبرِ رسول ﷺ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں، منبر کو چھونا جائز ہے، اس بارے میں آثار ہیں۔
[اقتضاء الصّراط المُنستقيم لابن تيمية: 244/2]
امام ابو بکر اثرم رحمہ اللہ والی روایت نص ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ قبرِ نبوی کو چھونا جائز نہیں سمجھتے تھے اور منبرِ رسول ﷺ کو چھونا درست سمجھتے تھے، جبکہ امام عبد اللہ بن احمد رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا روایت میں ابہام ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے جواز کی بات صرف منبرِ رسول ﷺ کو چھونے اور بوسہ دینے کے متعلق کی ہو، مگر امام عبد اللہ بن احمد رحمہ اللہ سے خطا ہو گئی ہو اور انہوں نے قبرِ رسول ﷺ کا ذکر بھی منبرِ رسول کے ساتھ کر دیا ہو۔
دونوں روایتوں میں تطبیق کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ پہلے قبرِ رسول ﷺ کو چھونا جائز سمجھتے ہوں، بعد میں رجوع کر لیا ہو۔
بالفرض اگر امام عبد اللہ بن احمد رحمہ اللہ کی روایت کو درست مان لیا جائے، تب بھی یہ امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی علمی اور اجتہادی خطا ہے، اس مسئلہ میں سلف میں سے کوئی ان کا ہم خیال نہیں۔ خوب یاد رہے کہ ہر ایک کی بات کو قرآن وحدیث اور خیر القرون کے اسلاف پر پیش کیا جائے گا، اگر موافق ہو، تو قبول، ورنہ رد کر دی جائے گی۔
یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے اگر ائمہ اہل سنت میں سے کسی کی بات قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے مخالف ہو، تو وہ اس کی اجتہادی خطا ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا حق گو عالم ہے، لیکن اگر وہی بات غالی، بدعتی، معاند اور متعصب کہے، تو وہ بدعت ہوگی، کیونکہ وہ حق سے چشم پوشی کرتا ہے، قرآن وحدیث اور سلف کے عقیدہ کو ردّ کرتا ہے۔ ایک کی بنیاد تقویٰ اور علم پر ہے، جبکہ دوسرے کی بنیاد جہالت اور تعصب پر ہے۔

علامہ ابن مفلح رحمہ اللہ (763ھ) فرماتے ہیں:

[إتفقوا أنه لا يقبله ولا يتمسح به]
اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ قبرِ نبوی کو بوسہ نہیں دے گا اور نہ (تبرک کے لیے) چھوئے گا۔
[الفروع: 66/6]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:

[عن ابن عمر:أنه كان يكره مس قبر النبي صلى الله عليه وسلم. قلت: كره ذلك لأنه رآه إساءة أدب. وقد سئل أحمد بن حنبل عن مس القبر النبوي وتقبيله فلم ير بذلك بأسا، رواه عنه ولده عبد الله بن أحمد. فإن قيل: فهلا فعل ذلك الصحابة قيل: لأنهم عاينوه حيا وتملوا به وقبلوا يده وكادوا يقتتلون على وضوئه واقتسموا شعره المطهر يوم الحج الأكبر، وكان إذا تنخم لا تكاد نخامته تقع إلا في يد رجل فيدلك بها وجهه، ونحن فلما لم يصح لنا مثل هذا النصيب الأوفر ترامينا على قبره بالالتزام والتبجيل والاستلام والتقبيل، ألا ترى كيف فعل ثابت البناني، كان يقبل يد أنس بن مالك ويضعها على وجهه ويقول: يد مست يد رسول الله صلى الله عليه وسلم. وهذه الأمور لا يحركها من المسلم إلا فرط حبه للنبي صلى الله عليه وسلم، إذ هو مأمور بأن يحب الله ورسوله أشد من حبه لنفسه وولده والناس أجمعين]
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک کو مس کرنا ناپسند کرتے تھے۔ میں (حافظ ذہبی رحمہ اللہ) یہ کہتا ہوں کہ سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کے ناپسند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے بے ادبی خیال کرتے تھے، لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے قبرِ نبی کو مس کرنے اور بوسہ دینے کے متعلق دریافت کیا گیا، تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ اس روایت کو ان سے ان کے بیٹے عبد الله بن احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ اگر کوئی کہے: صحابہ نے کیوں ایسا نہیں کیا؟ تو اسے کہا جائے گا: وہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے، آپ ﷺ سے ملاقات کرتے رہے۔ انہوں نے آپ کے مبارک ہاتھوں کو بوسے دیے، آپ ﷺ کے وضو کے بچے پانی پر جھگڑے کے قریب جا پہنچتے۔ انہوں نے حجِ اکبر کے موقع پر آپ ﷺ کے بابرکت بالوں کو تقسیم کیا، جب آپ ﷺ بلغم پھینکتے، تو صحابہ کرام اسے اپنے ہاتھوں پر مل کر اپنے چہروں کے اوپر مل لیتے، لیکن ہمارا اتنا نصیب کہاں؟ اب ہمارے مقدر میں آئی، تو صرف قبر کی مٹی کہ اس سے جسم کو چمٹا لیں، اس کی تکریم کریں، اسے چھوئیں اور بوسہ دیں۔
کیا آپ ثابت بنانی رحمہ اللہ کے عمل کو نہیں دیکھتے کہ وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے، پھر انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیتے اور ساتھ کہتے: یہ وہ ہاتھ ہیں، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے مبارک ہاتھوں کو چھوا ہے۔ یہ سارے کام ایک مسلمان سے نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت میں افراط کی وجہ سے صادر ہو جاتے ہیں، کیونکہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے اپنی جان، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبت کرے۔
[مُعجم الشُّيوخ الكبير: 73/1]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی اس عبارت سے عیاں ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اور خیر القرون میں کوئی فردِ بشر ایسا نہیں گزرا، جو نبی کریم ﷺ کی قبر کو مس کرنے، بوسہ دینے اور تبرک حاصل کرنے کو جائز سمجھتا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام چونکہ تبرکات سے مستفید ہوتے رہے، اب ہمارے لیے یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی قبرِ مبارک سے ایسا ایسا کر لیں۔
جس دلیل کی بنیاد پر انہوں نے یہ کہا، وہ ثابت نہیں، جیسا کہ ہم ابھی ذکر کرنے والے ہیں۔ جب وہ دلیل ثابت نہیں، تو موقف بے دلیل ہوا، بے دلیل موقف کا کیا اعتبار؟
دوسری بات یہ کہتے ہیں کہ اس میں اصل تبرک محبتِ رسول ہے، اس ضمن میں ہم کہتے ہیں کہ محبتِ رسول کا طریقہ کون متعین کرے گا؟ کیا ہر ایک محبتِ رسول کے دعویٰ میں جو اس کے دل میں آئے گا، کرے گا، یا اس کا کوئی سلف ہوگا یا پھر کوئی دلیل رہنما ہو گی؟ محبتِ رسول کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کی قبر کو بوسہ دینا شروع کر دیں، اس کے ساتھ جسم ملتے رہیں۔ محبتِ رسول کے اظہار کے لیے معیار صحابہ ہیں، وہ ایسا نہیں کرتے تھے، لہذا ہم بھی ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ یہ دین نہیں ہے۔ نہ ہی محبتِ رسول کا تقاضا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے جو ثابت بنانی والی روایت ذکر کی ہے، وہ حدیث محمّد بن عبد الله الأنصاري (63)، شُعَب الإيمان للبيهقي (1492)، حلية الأولياء لأبي نُعَيم الأصبهاني (327/2) اور تاريخ ابن عَسَاكِر (359/9) میں موجود ہے۔
اس میں جمیلہ مولاة انس مجہولہ ہے، لہذا یہ روایت بھی ثابت نہیں۔

انبیا و صلحا سے متعلق بعض عقائد:

ہمارے ہاں بہت سارے لوگ انبیا، رسل اور اولیا و صلحا کے بارے میں مختارِ خزائنِ الٰہی، اللہ تعالیٰ کی ذات کا مظہر، پناہِ عالم، ہر بلا کے دافع، جان و مال کے مالک، عالم میں تصرف اور تدبیر کرنے والے، دنیا و آخرت کی تمام نعمتیں عطا کرنے والے، اللہ تعالیٰ کے نائب، قسیم النار، شمس و قمر اور ملکوت السماوات والارض پر حکم چلانے والے، نفع و نقصان کی کنجیاں جن کے قبضہ اور مٹھی میں، حاجت روا، مشکل کشا، فریاد رس، روزی رساں، کارساز، مافوق الاسباب میں مدد کرنے والے، فتح و نصرت عطا کرنے والے، داتا، دستگیر، لجپال، غریب نواز اور اس جیسے دیگر عقائد رکھتے ہیں۔
ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ دور و نزدیک سے انہیں پکارنا، ان کے نام کی دہائی دینا، مشکل میں ان سے مدد مانگنا، انہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی بنانا، ان سے دعائیں مانگنا، ان سے صحت و شفا کا سوال کرنا، ان کے سامنے اپنی حاجات رکھنا، ان سے خیر و برکت اور فتح و کامیابی کی امیدیں قائم کرنا، ان سے استعانت و التجاء اور استغاثہ کرنا جائز ہے، وہ ان کے نام کی نذر اتارنے کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے جھکتے اور سجدے کرتے ہیں۔
ان کے عقائد میں یہ بھی شامل ہے کہ اولیا دلوں کے بھیدوں سے واقف ہوتے ہیں، وہ ہمارے حالات سے بخوبی آگاہ ہیں، سارا جہاں ان کے سامنے ہے، وہ علمِ غیب رکھتے ہیں، سنتے ہیں اور جانتے ہیں۔
ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ صلحا و اولیا کی قبروں کو پختہ کرنا، ان کی تزئین و زیبائش کرنا، ان پر قبے بنانا، ان کی طرف سفر کرنا، ان کی قبروں پر عرس و میلے لگانا، ان کی قبروں کی مجاوری اختیار کرنا، وہاں سبیلیں لگانا، قبروں پر چادریں اور پھول چڑھانا، ان پر چراغ جلانا، قبروں کا طواف، ان پر اعتکاف بیٹھنا، قبروں کو بوسے دینا، مس کرنا، قبر کے سامنے باادب اور باوضو کھڑے ہونے کا اہتمام کرنا، قبروں پر نماز اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا، دیگیں چڑھانا اور قبروں کو تریاقِ مجرب سمجھنا جائز ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ اولیاء اللہ کی تعظیم و تکریم ہے، جو یہ اعتقاد نہ رکھے، وہ ایسا ویسا ہے۔
ان تمام چیزوں کو روا رکھنے کے لیے ناجائز تبرک اور ناجائز توسل کا چور دروازہ کھولا گیا ہے۔ تبرک نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی کے ساتھ خاص ہے، یہ وہ تعظیم ہے جس میں آپ کا کوئی شریک و سہیم نہیں۔ اس حوالے سے مدلل تحریر پیش کی جا چکی ہے۔ اس کے برعکس بعض لوگ اولیا و صالحین سے بھی تبرک کے قائل ہیں، ان کے دلائل ملاحظہ ہوں۔

دلیل نمبر ①: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس، فيقولون: فيكم من صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فيقولون: نعم فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس، فيقال: هل فيكم من صاحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟، فيقولون: نعم فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس، فيقال: هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فيقولون: نعم فيفتح لهم]
لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی۔ ان سے کہا جائے گا: کیا تم میں کوئی رسول اللہ ﷺ کا صحابی ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! تو انہیں فتح نصیب ہو گی۔ پھر لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی، تو ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے، جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی صحبت اختیار کی ہو (تابعی ہو)؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! تو انہیں فتح نصیب ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی، تو ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے، جو اصحابِ رسول کی صحبت اختیار کرنے والوں کی صحبت سے مشرف ہوا ہو (تبع تابعی ہو)؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! تو انہیں فتح حاصل ہوگی۔
[صحيح البخاري: 3649، صحيح مسلم: 2532]

تبصرہ:

کسی چیز کا مبارک اور بابرکت ہونا الگ چیز ہے، متبرک ہونا ایک الگ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو خیر و برکت عطا فرما دیتے ہیں۔ ان کے اعمالِ صالحہ، ان کی دعاؤں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے معاشرے میں آسودگی آتی ہے۔ اہل خیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انسانوں کو ڈھیروں برکات سے نوازتے ہیں، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان سے تبرک حاصل کیا جائے۔ صحابہ کرام اور تابعینِ عظام کے اعمالِ صالحہ کی بدولت اللہ تعالیٰ نے امت کو بھلائیاں عطا فرمائی ہیں۔ ان کی دعاؤں اور اخلاص کی وجہ سے مسلمانوں کو فتح ونصرت نصیب ہوتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

[هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم]
تمہیں نصرت و رزق تمہارے کمزوروں ہی کی وجہ سے عطا کیا جاتا ہے۔
[صحيح البخاري: 2596]

ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

[ابغوني ضعفاءكم، فإنكم إنما ترزقون وتنصرون بضعفائكم]
مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کرو۔ بلا شبہ تمہیں کمزوروں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور انہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے۔
[مسند الإمام أحمد:21731، سنن أبي داؤد: 2594، سنن النسائي: 3181، سنن الترمذي: 1702، وسنده صحيحٌ]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”حسن صحیح“ ، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4767) نے ”صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ (104/2، 105) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔

ان دونوں حدیثوں کی وضاحت ایک اور حدیث میں یوں آتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

[إنما ينصر الله هٰذه الأمة بضعيفها، بدعوتهم وصلاتهم وإخلاصهم]
اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد صرف اس کے کمزور لوگوں کی دعا، نماز اور ان کے اخلاص کی وجہ سے کرتا ہے۔
[سنن النسائي: 3180، حلية الأولياء لأبي نُعَيم: 26/2، وسنده صحيحٌ]
اتنی وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی اس حدیث سے فوت شدگان یا زندوں کا تبرک ثابت کرے، تو اس کا یہ عمل دیانتِ علمی کے خلاف ہے۔ اس حدیث سے اولیا و صالحین کے تبرک کا جواز ثابت کرنا شرعی نصوص کی معنوی تحریف ہے۔ اس سے زندہ لوگوں کی دعا کا وسیلہ ثابت ہوتا ہے اور اسے اہل سنت والجماعت اہل حدیث جائز اور مشروع سمجھتے ہیں۔