دورانِ ولادت نماز پڑھنے کا حنفی موقف
سوال:
کیا فقہ حنفی میں ثابت ہے کہ اگر عورت بچہ جنم دے رہی ہے، اس دوران نماز کا وقت ختم ہونے کا اندیشہ ہو، تو نماز پڑھے گی؟
جواب:
جی ہاں! فقہ حنفی میں ثابت ہے کہ اگر عورت بچہ جنم دے رہی ہو، بچے کا ایک ہاتھ باہر آ جائے، اس دوران نماز کا وقت ختم ہو رہا ہو، تو وہ پہلے نماز پڑھے گی، بعد میں بچہ جنم دے گی، بشرطیکہ بچے کو نقصان نہ پہنچے۔
علمائے احناف نے لکھا ہے:
[ما لو كان في بطنها ولد فأخرجت إحدى يديه وتخاف خروج الوقت تصلي بحيث لا يلحق الولد ضرر لأن الجمع بين حق الله وحق الولد ممكن كما في التجنيس]
اگر عورت کے پیٹ میں بچہ ہو اور اس بچے کا ایک ہاتھ باہر نکل آئے، عورت کو نماز کا وقت ختم ہونے کا خدشہ ہو، تو وہ پہلے نماز پڑھے گی، بشرطیکہ بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور بچے کے حق کو جمع کرنا ممکن ہے، جیسا کہ ”تجنیس“ میں لکھا ہے۔
[البحر الرائق لابن نُجَيْم الحَنَفِي: 199/2، فتاوىٰ فيض كركي: 275/3، مخطوط، بہشتی زیور، ازعلامہ اشرف علی تھانوی، حصہ دوم، صفحہ 48، نفاس کا بیان]
جو لوگ فقہ حنفی کو قرآن وحدیث کا نچوڑ کہتے ہیں، ان سے عرض ہے کہ کیا ایسا مضحکہ خیز اور حیا باختہ مسئلہ دین ہو سکتا ہے؟ محدثین کی فقہ کتاب وسنت سے ماخوذ ہے، وہ قرآن، حدیث، آثارِ سلف اور اجماعِ امت کے دلائل سے واقف تھے، انہوں نے اپنے اجتہادات کی بنیاد انہی اصولوں پر رکھی۔