غض بصر، بدنظری اور ستر کے احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

جنس مقابل کو بنظر شہوت دیکھنا

اسلام نے اس بات کو بھی حرام ٹھہرایا ہے کہ مرد اپنی نگاہ عورت پر ڈالے اور عورت مرد پر۔ اس لیے کہ آنکھیں دل کی کلید ہیں اور نظر فتنہ کی پیغامبر اور زنا کی قاصد ہے۔ ایک قدیم شاعر نے کہا ہے :
كل الحوادث مبدأها من النظر ومعظم النار من مستصغر الشرر
”تمام حوادث کی ابتدا نظر سے ہوتی ہے اور چھوٹی سی چنگاری سے زبردست آگ بھڑک اٹھتی ہے۔“
نظرة فابتسامة فسلام فكلام فموعد فلقاء
”پہلے نظر پھر مسکراہٹ پھر سلام پھر کلام پھر وعدہ اور پھر ملاقات“
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کو جہاں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے، وہاں بالخصوص غض بصر کی ہدایت بھی کی ہے چنانچہ فرمایا :
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ‎30 وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ
”مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے حق میں زیادہ پاکیزہ بات ہے۔ یقیناً جو کچھ بھی لوگ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر ہے۔ اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔“
سورة النور : 30-31
ان دونوں آیتوں میں مرد اور عورت دونوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
نگاہیں نیچی رکھنے کے سلسلہ میں قرآن نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ہیں۔ یعنی حکم غض من البصر کا ہے۔ لیکن شرمگاہوں کی حفاظت کے بارے میں مِنْ فُرُوجِهِمْ کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے ہیں بلکہ يَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کیونکہ شرمگاہ کی حفاظت بغیر کسی رعایت کے مکمل طور سے مطلوب ہے لیکن نگاہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ رفع حرج اور مصلحت کی رعایت کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے اس میں نرمی برتی ہے۔ (یہ نکتہ لفظ من کے عدم استعمال سے واضح ہوتا ہے)
پس غض من البصر کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آنکھیں بالکل بند کر لی جائیں یا سر کو زمین کی طرف جھکائے رکھیں۔ نہ آیت کا یہ منشا ہے اور نہ یہ بات ممکن ہی ہے۔ آیت وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ میں بھی غض من الصوت کا مطلب منہ بند کیے رہنا نہیں ہے، بلکہ آواز کو پست کرنا ہے نہ کہ بالکل چپ رہنا۔ لہذا غض من البصر کے معنی نظروں کو پست کرنے کے ہیں۔ نظروں کو بالکل آزاد نہ چھوڑ دیا جائے کہ وہ آنے جانے والیوں یا آنے جانے والوں پر پڑیں، لہذا جب کسی کی نظر جنس مقابل پر پڑے تو نہ اس کے محاسن پر نظریں جمائے اور نہ اس کو گھور گھور کر دیکھیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا :
يا على لا تتبع النظرة النظرة فإنما لك الأولى وليست لك الآخرة
اے علی! پہلی نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو۔ پہلی نظر معاف ہے لیکن دوسری نہیں۔
مسند احمد : 5/353 ، وابوداود كتاب النكاح باب ما يؤمر به من غض البصر ح : 2149، ترمذي كتاب الأدب باب ما جاء في نظرة الفجأة ح : 2777
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنس مقابل پر حریصانہ نگاہیں ڈالنے کو آنکھوں کے زنا سے تعبیر کیا ہے :
العينان تزنيان وزناهما النظر
”آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا نظر ہے۔“
بخاری كتاب الاستئذان باب زنا الجوارح دون الفرج ح : 6243 ، ومسلم كتاب القدر باب قدر على ابن آدم حظه من الزنى ح : 2657 ، مسند احمد : 2/343 واللفظ له
اس کو زنا اس لیے قرار دیا ہے کہ اس میں ایک قسم کا تلذذ ہے اور اس سے غیر مشروع طریقہ پر جنسی خواہش پوری ہوتی ہے۔ یہ بات انجیل میں مذکور سیدنا مسیح علیہ السلام کے اس قول کے بالکل مطابق ہے :
”اس سے پہلے تم سے کہا جاتا رہا کہ زنا نہ کرو۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ جس نے اپنی آنکھوں سے نظر ڈالی اس نے بھی زنا کیا۔“
یہ لذت کی حریص نگاہیں صرف عفت ہی کے لیے خطرناک نہیں ہیں بلکہ ذہنی یکسوئی اور سکونِ قلب کے لیے بھی خطرناک ہیں کہ اس سے ذہنی انتشار اور قلبی اضطراب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

ستر پر نظر ڈالنے کی حرمت

ستر سے نگاہوں کو بچانا ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر پر نظر ڈالنے سے منع فرمایا ہے خواہ کوئی مرد کسی مرد کے ستر پر نظر ڈالے یا کوئی عورت کسی عورت کے ستر پر نظر ڈالے اور خواہ شہوت سے نظر ڈالی جائے یا بغیر شہوت کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل ولا تنظر المرأة إلى عورة المرأة ولا يفضي الرجل إلى الرجل فى الثوب الواحد ولا تفضي المرأة إلى المرأة فى الثوب الواحد
”کوئی مرد کسی مرد کے ستر پر نظر نہ ڈالے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ستر پر نظر ڈالے۔ اور نہ مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ہو جائے اور نہ عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں ہو جائے۔“
مسلم كتاب الحيض باب تحريم النظر إلى العورات ح : 338
مرد کا ستر جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اور جس پر نظر ڈالنا کسی مرد و عورت کے لیے جائز نہیں، ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ ہے۔
ابو داود كتاب الصلاة باب متى يؤمر الغلام بالصلاة ح : 496
اور بعض ائمہ جیسے ابن حزم رحمہ اللہ اور بعض مالکیہ کی رائے میں، ران ستر میں داخل نہیں ہے۔
عورت کا ستر اجنبی مرد کے لیے اس کا پورا جسم ہے بجز چہرہ اور ہتھیلیوں کے۔ اور عورت کا ستر اس کے محرم کے لیے کیا ہے؟ اس کا بیان آگے زینت کے اظہار کے سلسلہ میں ہوگا۔
ستر پر نظر ڈالنے یا چھونے کی حرمت کا یہ جو ذکر ہوا وہ ایسی صورت میں ہے کہ کوئی مجبوری یا ضرورت لاحق نہ ہو لیکن اگر واقعی کوئی مجبوری یا ضرورت پیش آجائے مثلاً طبی امداد یا علاج کی ضرورت ہو تو پھر حرمت زائل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح نظر کے جواز کے سلسلہ میں ہم نے جو کچھ بیان کیا وہ بھی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ فتنہ اور شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ بصورت دیگر سد ذریعہ کے طور پر اباحت زائل ہو جائے گی۔

مرد یا عورت کو دیکھنے کے جواز کے حدود

اوپر جو کچھ بیان کیا گیا اس سے واضح ہے کہ عورت کا مرد کے جسم کے اس حصہ کو دیکھنا جو ستر میں داخل نہیں ہے یعنی ناف کے اوپر اور گھٹنے کے نیچے والے حصہ کو دیکھنا مباح ہے بشرطیکہ بنظر شہوت نہ ہو اور نہ فتنہ کا اندیشہ ہو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حبشیوں کو دیکھنے کی اجازت دی تھی جبکہ وہ مسجد نبوی میں اپنے نیزوں سے کرتب دکھا رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی طرف مسلسل دیکھتی رہیں یہاں تک کہ تھک کر واپس لوٹ گئیں۔
بخاری كتاب العيدين باب الحراب والدرق يوم العيد ح : 950 ، مسلم كتاب صلاة العيدين باب الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه ح : 892
اس طرح مرد کا عورت کے جسم کے اس حصہ پر نگاہ ڈالنا جو ستر میں داخل نہیں ہے یعنی اس کے چہرہ اور ہتھیلیوں کو دیکھنا جائز ہے۔
اجنبي كے ليے غير محرم عورت كا چهره ديكهنا جائز نهيں سوائے خاطب اور منگيتر كے، جبكه عورت كے ساته نكاح كرنے كا اراده هو. تفصيل كے ليے شيخ عبد القادر حبيب الله سندهي كي كتاب ”حجاب المرأة المسلمة“ ملاحظه كريں. (ابوالحسن مبشر احمد رباني)
بشرطیکہ بنظر شہوت نہ دیکھا جائے اور نہ اس سے کسی فتنہ کا اندیشہ ہو۔
عن عائشة أن أسماء بنت أبى بكر دخلت على النبى صلى الله عليه وسلم فى لباس رقيق يشف عن جسمها فأعرض النبى صلى الله عليه وسلم عنها وقال : يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح أن يرى منها إلا هذا وهذا وأشار إلى وجهه وكفيه
سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کی بہن اسماء بنت ابوبکر رضي اللہ عنہا باریک لباس پہنے ہوئے، جس کے اندر سے جسم نظر آرہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا اور فرمایا: ”اے اسماء! جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے روا نہیں کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی دے سوائے اس اور اس حصہ کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔
ابوداود كتاب اللباس باب فيما تبدى المرأة من زينتها ح : 4104، قال شيخنا الحافظ زبير علي زئي رحمه الله : الوليد بن مسلم عنعن، وسعيد بن بشير ضعيف (تقريب) حدث عن قتادة بمناكير وقتادة عنعن، و (خالد) بن دريك عن عائشة رضي الله عنها منقطع (انوار الصحيفة في الاحاديث الضعيفة ص : 60)
اس حدیث میں اگرچہ ضعف ہے لیکن صحیح احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے یعنی چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنا جبکہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو مباح ہے۔
الغرض پاکیزہ نظر مرد یا عورت کے جسم کے اس حصہ پر ڈالنا، جو ستر میں داخل نہیں ہے جائز ہے، بشرطیکہ بار بار نظر نہ ڈالی جائے اور نہ گھور گھور کر دیکھا جائے کہ یہ اکثر تلذذ اور فتنہ کے اندیشہ کا باعث بنتا ہے۔
عورت كي طرف پاكيزه نظر سے ديكهنے كو جائز قرار دينا باطل هے. عورت كي طرف ديكهنا هرگز جائز نهيں هے. اگر كسي عورت پر غير محرم مرد يا بعض حالات ميں محرم مرد كي نظر پڑ جائے تو اسے چاهيے كه اپني نظر كو فورا پهير لے. قرآن مجيد نے عورتوں اور مردوں كو ايك دوسرے كي طرف تانك جهانك كرنے يا كسي بهي انداز سے ديكهنے سے منع كيا هے. پردے كا حكم جاري كرنے كا مقصد اور اس كي اوليں حكمت يهي تهي كه مردوزن ايك دوسرے كي طرف نه ديكهيں. عورت صرف اپنے خاوند اور خاوند صرف اپني بيوي كے مخصوص مقامات ستر كو بهي ديكه سكتا هے. اس كے علاوه عورت اپنے هاته، پاؤں، چهره اور سر كے بال اپنے محرم رشته داروں كے سامنے اگر نهيں بهي چهپاتي تو كوئي حرج نهيں هے. تاهم مكمل پرده بهرحال عورت كے ليے لازمي اور فرض هے. يه ايك الگ بحث هے كه علماء كے درميان مكمل چهرے كے پردے كا مسئله مختلف فيه هے، ليكن عورت كي عفت وعصمت كے تحفظ كي ضمانت پردے هي ميں مضمر هے. اور چهرے كا پرده ازحد ضروري اور واجب هے كيونكه چهرے كي كشش هي تو مردوں كو فتنه ميں مبتلا كرتي هے. اس ليے غير محرم خواتين كي طرف ديكهنا بالكل ناجائز هے. اور اس امر ميں كسي بهي قسم كي كوئي گنجائش نكالنا يا اسے جائز قرار دينا بالخصوص آج كے پرفتن دور ميں، بهرحال غلط اور باطل هے. بلكه دور كوئي بهي هو، الله تعالىٰ نے نگاهيں نيچي ركهنے كا حكم ديا هے تو هم اس حكم كي تعميل كرنے كے پابند هيں. مصنف نے پاكيزه نظر كي شرط لگائي هے جو كه باطل شرط هے، كيونكه جب نظر غير محرم خاتون پر جائے گي تو اسي لمحے ميں شيطان اس نظر كو بهكائے گا اور اس كي پاكيزگي كا تصور بهي ختم هو جائے گا. الله تعالىٰ نے يا الله كے رسول صلى الله عليه وسلم نے تو يه شرط نهيں لگائي كه اگر پاكيزه نظر هو تو عورتوں كي طرف ديكهنے ميں كوئي حرج نهيں هے. بلكه الله تعالىٰ نے تو اپنے نبي صلى الله عليه وسلم كو حكم ديا كه اهل ايمان مردوں اور اهل ايمان عورتوں سے كهه ديجيے كه اپني نظريں نيچي ركهيں اسي طرح سے ان كے ستر كي حفاظت ره سكتي هے. (مفهوم آيت مباركه سورة النور : 30-31)
مصنف سے پوچهنا چاهيے كه جس دور ميں يه آيات نازل هوئي تهيں اس دور كے افراد، جن كو صحابه رضي الله عنهم كے نام سے جانا جاتا هے، كيا ان كي نظريں (نعوذ بالله، ثم نعوذ بالله) پاكيزه نهيں تهيں؟ الله تعالىٰ نے يه كيوں نه فرما ديا كه اگر تمهاري نظر پاكيزه هو، تمهاري نظر ميں بد اخلاقي كا اراده نه پايا جاتا هو تو پهر تم عورتوں كي طرف ديكه سكتے هو ورنه نگاهيں نيچي ركهو. پاكيزه لوگوں، رضي الله عنهم كا رتبه پانے والوں كو بهي اگر اس امر سے مستثنيٰ نهيں كيا گيا تو اس كي ايك هي وجه هے كه مرد و عورت كے فطري جذبات كو كسي بهي وقت شيطان پهسلا سكتا هے اس ليے نگاهوں كو نيچا ركهنا، بالخصوص غير محرم كي طرف نه ديكهنا هي عفت و پاكدامني كي ضمانت اور فتنوں سے بچنے كا راسته هے. والله اعلم بالصواب. (ابوالحسن مبشر احمد رباني)

اسلام نے اُچٹتی ہوئی نظر کو جو اچانک پڑ جاتی ہے قابل معافی قرار دے کر بڑی فراخی کا ثبوت دیا ہے۔ جریر بن عبد اللہ رضي اللہ عنہ کہتے ہیں :
سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نظر الفجاءة فأمرني أن أصرف بصري
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نگاہ پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نگاہ پھیر لو۔“ یعنی دوبارہ نظر نہ ڈالو۔
مسند احمد : 4/371 ، ومسلم كتاب الآداب باب نظر الفجأة ح : 2159