تیئیسواں شبہ: حیات و نزول مسیح عیسیٰ علیہ السلام
تمام اہل سنت والجماعت اور سلف صالحین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ حالت میں آسمان پر اٹھائے گئے اور وہ وہاں زندہ ہیں۔ قیامت کے قریب اتریں گے، دین محمدی پر فیصلے کریں گے اور پھر کچھ وقت بعد وفات پا جائیں گے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور انہوں نے اپنے الہام سے ثابت کیا ہے کہ ان کی قبر کشمیر میں ہے۔ ان کے نزدیک احادیث میں جس عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام خود نہیں بلکہ ان کی مثیل اور شبیہ پیدا ہوگا جو جہاد کو منسوخ کرے گا اور وہ نبی غیر تشریعی ظلی بروزی ہوگا۔
ان دونوں فریقوں کے درمیان عیسیٰ علیہ السلام کی موت اور حیات میں اختلاف ہے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانے میں بھی اختلاف ہے۔ دوسرے فریق کے لوگ ظاہری طور پر اس کی شبیہ کو نبی غیر تشریعی مانتے ہیں۔ لیکن جب کہتے ہیں کہ وہ جہاد منسوخ کرے گا تو معلوم ہوا کہ وہ نبی تشریعی ہوگا اور مرزائیوں کے نزدیک اس مثیل عیسیٰ کا مصداق خود مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
منکرین حدیث کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے نہ وہ زندہ ہیں بلکہ وہ اپنی موت مر گئے اور ان کے دوبارہ آسمان سے اتر آنے کی باتیں سب خرافات ہیں۔
جب میں یہ کتاب لکھ رہا تھا تو ایک شخص میرے پاس ایک کتاب لایا جس کا نام تھا ”عقیدہ خاتم النبیین“ مولف کا نام محمد ہادی اور اپنے آپ کو فاضل علوم دینیہ تعلیم القرآن رستم ضلع مردان قرار دیا ہے۔ میں نے مؤلف رسالہ کی مدرسہ تعلیم القرآن کی طرف جھوٹی نسبت سے اندازہ لگایا کہ کتاب کا نام ”خاتم النبیین“ بھی کسی جھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ میں نے کہا: اس مؤلف سے پوچھیں کہ اس نے حصول علم کے لیے اس دار العلوم میں کتنی مدت صرف کی؟ پھر اس سے پوچھیں کہ کیا اس کے پاس دار العلوم کی سند فراغت ہے کیونکہ فاضل علوم دینیہ وہی ہوتا ہے جس کے پاس سند فراغت ہو، پھر اس سے پوچھیں کہ دار العلوم میں کسی استاد نے اسے رسالے میں مذکور مسئلے کا درس دیا تھا اور حیات، رفع عیسیٰ اور نزول عیسیٰ کا انکار آپ کسی بھی استاد کے حوالے سے ثابت کر سکتے ہیں۔ ہر گز نہیں کر سکتے۔ اس ظالم مؤلف نے رسالے کے آغاز پر سراسر جھوٹ سے کام لیا اور ہمارے دار العلوم تعلیم القرآن کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ رسالے کے عنوان سے معلوم ہوا کہ رسالے کے اندر ضرور غلط باتیں لکھی ہوں گی جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اس نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق احادیث کا برملا انکار کیا ہے اور سلف صالحین کے عقیدے کو چھوڑ کر چند غیر معتبر متاخرین کی تقلید کی ہے، لہذا میں اس بحث میں اس کذاب کو خاص طور پر مخاطب کروں گا۔
ساتھیوں کے مشورے سے اس بحث میں قدرے تطویل سے کام لیا جائے گا تاکہ مسلمان اس شخص کی تلبیس اور تدلیس سے بچ جائیں۔
اس بحث میں دو فصلیں ہوں گی۔