عذابِ جہنم اور انعاماتِ جنت کا بیان
عذابِ جہنم کی کیفیت:
دوزخ کی آگ دنیا کی آگ سے ستر حصے زیادہ تیز ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے تین ہزار سال تک دہکایا ہے۔ اگر دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری دنیا میں آ جائے تو ساتوں زمینوں کو اور جو ان کے درمیان ہے سب کو جلا کر بھسم کر ڈالے۔ دوزخ کی سختی و شدت کی کیفیت قرآن مجید میں یوں بیان کی گئی ہے:
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ]
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ اس کے موکل ہیں فرشتے نہایت بے رحم اور سنگ دل کہ سزا دیتے کسی کا لحاظ نہیں کرتے، جیسا حکم الہی پاتے ہیں ویسی تعمیل کرتے ہیں۔ (التحريم:6)
ہزار طرح پر روؤ، گڑگڑاؤ، معافی چاہو، مگر وہ جلانے اور تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ رحم تو ان کے پاس نام تک کو نہیں، یہ فرشتے دوزخیوں کو آتشی زنجیروں میں جکڑیں گے، دوزخ میں آتشی زنجیریں ہوں گی، ستر ستر گز لمبی۔ فرشتے دوزخیوں کے منہ کی راہ سے یہ زنجیریں ڈالیں گے اور پاخانہ کی راہ سے نکال کر خوب جکڑ بند کر دیں گے۔ دوزخ میں آگ کے گرز ہوں گے، جن سے فرشتے دوزخیوں کو مارتے، ہانکتے ہوئے دوزخ میں لا ڈالیں گے۔ دوزخ میں ایسے غضب کے زہریلے سانپ و بچھو ہوں گے کہ ایک دفعہ کاٹنے سے ہزار برس تک دوزخی روئے گا، چلائے گا، تڑپے گا لیکن زہر نہ اترے گا، موت مانگے گا وہ بھی نہ آئے گی۔ دوزخ میں خراسانی اونٹ کے برابر سانپ اور گدھے کے پالان برابر بچھو ہوں گے، جو ہمیشہ دوزخیوں کو کاٹتے رہیں گے، کبھی فرصت نہ دیں گے۔ قیامت کے دن فرشتے دوزخ کو ستر ہزار زنجیروں میں جکڑ کر میدانِ محشر میں کھینچتے ہوئے لائیں گے، ایک ایک زنجیر کو ستر ستر ہزار فرشتے پکڑ کر گھسیٹیں گے، دوزخ دوزخیوں کا نام لے کر پکارے گی، دوزخی ڈر کے مارے بھاگیں گے کہ آگ کی ایک بڑی لمبی گردن دوزخ سے نکلے گی اور نافرمانوں کو دو سو برس کی مسافت سے اس طرح گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دے گی جیسے مرغ دانہ کو چگ لیتا ہے۔
دوزخیوں کا جسم اس قدر بڑھ جائے گا کہ ایک کندھے سے دوسرے تک تیز رو سوار تین روز میں پہنچ سکے۔ ان کی ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر اور ران بیضاء پہاڑ کے برابر ہو جائے گی۔ دوزخیوں کے جوتے بھی آتشی ہوں گے۔ دوزخ کی ایک چنگاری بڑے محل کے برابر ہو گی۔ دوزخ کی گہرائی اتنی عمیق ہے کہ اگر ایک بھاری پتھر چھوڑا جائے تو ستر برس کی مدت میں تہ میں پہنچے۔ دوزخ میں ایک آگ کے پہاڑ کا نام صعود ہے جس کی بلندی سیکڑوں برس کا سفر ہے۔ اس پر دوزخیوں کو چڑھائیں گے اور چوٹی پر سے دوزخ میں دھکیل دیں گے۔ اسی طرح ہمیشہ عذاب ہوتا رہے گا۔ دوزخ میں زقوم کے سوا اور کچھ کھانا نہ ملے گا۔ زہریلے کانٹوں کا ایک درخت ہے جسے زقوم کہتے ہیں، یہ درخت آگ میں پیدا ہو گا۔ اسی طرح دوزخیوں کو پینے کے لیے کچھ نہ ملے گا مگر کبھی گرم کھولتا ہوا پانی اور کبھی گرم کھولتی ہوئی سڑی پیپ، جسے منہ کے قریب کرتے ہی تمام منہ کا گوشت گل کر گر پڑے گا۔ دوزخی پیاس کی شدت سے وہی پی جائیں گے۔ یہ پیٹ میں پہنچتے ہی آنتوں کو پاخانہ کی راہ سے نکال دے گا۔ ہزاروں برس پیاس پیاس کہہ کر تھک جائیں گے، ہرگز فریاد رسی نہ کی جائے گی، جب دوزخی دوزخ کے دروازہ پر پہنچیں گے تو دوزخ کا داروغہ پوچھے گا کیا تمھارے پاس اللہ کے پیغمبر کتاب اللہ کے سنانے اور دوزخ سے ڈرانے اور قیامت کے مصائب یاد دلانے کو نہیں آئے تھے؟ دوزخی جواب دیں گے کہ آئے تو تھے اور انھوں نے ہمیں اللہ کے غضب اور قیامت کی ہولناکی سے ڈرایا بھی تھا لیکن ہم نے اسے نہ مانا ان کا کہا مانا بلکہ جھٹلایا اور جھگڑا کیا، اگر ہم ان کے وعظ سنتے، سمجھتے اور مانتے تو آج دوزخ میں مبتلاۓ عذاب کیوں ہوتے۔ الغرض دوزخیوں کو جان
گزر مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں گی کہ ویسی مصیبتیں کسی نے آنکھوں سے دیکھی نہ کانوں سے سنی۔ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
[ثُمَّ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَ لَا یَحۡیٰی] کہ دوزخی نہ تو دوزخ میں مر ہی جائے گا کہ جھگڑا ختم ہو نہ چین ہی سے زندہ رہے گا بلکہ اس کی جان غضب میں رہے گی۔ (الأعلى:13)
جنت کی خوبی اور اہل جنت کے عیش:
بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور جو سچے مسلمان بنے اور جنھوں نے عمل کیے اچھے اور چلے پیغمبر کے طریقہ پر، وہ جنت ایسی ہے جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ یہ احوال اس بہشت کا ہے کہ جس کا وعدہ ملا ہے اللہ پاک کی طرف سے ڈرنے والے موحد مسلمانوں کو۔ اس بہشت میں کئی قسم کی نہریں ہیں، کوئی دودھ کی ہے جس کا مزہ نہیں بدلتا، کوئی صاف پانی کی ہے جس کی بو نہیں پلٹتی، کوئی شراب کی جو پینے والوں کو لذت دیتی ہے۔ کوئی شہد کی ہے جس پر جھاگ نہیں ہوتی۔ نہایت صاف اور شیریں خوش ذائقہ بہت پاکیزہ اور ان کے لیے وہاں میوے ہیں ہر قسم کے لذت دار اور اللہ کی طرف سے ان لوگوں کو وہاں معافی ہے۔
اور فرمایا: تمھارے واسطے وہاں جو تم چاہو گے موجود ہے اور مہمانی ہے ہماری سرکار سے۔ (حم السجدة:31)
بہشتیں آٹھ ہیں: جنتِ عدن، جنت الفردوس، جنت الخلد، جنت النعیم، جنت الماویٰ، جنت القرار، دارالسلام، دار المقام۔ یہ ان کے نام ہیں۔ نہایت خوبیوں کے ساتھ بنائی گئی ہیں۔ بہشت کی دیواریں ایک اینٹ سونے اور ایک اینٹ چاندی سے بنائی گئی ہیں اور ان میں مشک کا گارا لگایا گیا ہے۔ جنت میں کنکریاں موتی، یاقوت کی ہیں۔ خاک وہاں کی زعفران اور خوشبودار ہے۔ جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے وہ چین و آرام پائیں گے اور ہمیشہ زندہ رہیں گے، نہ ان کی جوانی فنا ہو گی اور نہ ان کے کپڑے میلے ہوں گے۔ ہر جنتی کو جنت میں سو درجے اتنے بڑے ملیں گے کہ جیسے آسمان و زمین اور ہر مسلمان کے واسطے دو باغ ہوں گے
سونے کے جن کا کل سامان بھی سونے کا ہو گا اور باغ ہوں گے چاندی کے جن کا کل سامان بھی چاندی کا ہو گا۔ ان کے سوا اور ایک ایک موتی کے محل ملیں گے جن کا عرض و طول ساٹھ ساٹھ میل کا ہو گا، ہر ایک محل میں پردہ والی بیبیاں رہیں گی جن کو نہ کوئی دیکھے گا اور نہ ان سے سوا ان کے خاوندوں کے اور کوئی مباشرت کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جنت نور کی مانند چمکدار ہوتی ہے اور اس کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جنت میں خوشگوار ہوائیں چلتی ہیں۔ جنت کے محل بڑے مضبوط ہیں، ہر محل میں نہریں جاری ہیں، میوے پکے ہوئے تیار ہیں۔ عورتیں کنواریاں جن پر کسی آدمی یا جن نے ہاتھ نہیں ڈالا، چہرے ان کے یاقوت و مونگے سے زیادہ روشن، بناؤ سنگار کیے ہوئے ہر محل میں موجود ہیں کیونکہ بہشت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ (بخاری:2796)
اور فرمایا: جنت والے اونچے محلوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے تم روشن ستاروں کو آسمان کے کناروں میں دیکھتے ہو مشرق و مغرب کی طرف۔ صحابہ نے عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)! ایسے عمدہ محل تو خاص پیغمبروں کے واسطے ہوں گے۔ فرمایا: نہیں، قسم ہے اللہ کی! ان کو میری امت کے مسلمان پائیں گے۔(بخاری: 3256)
اور فرمایا: اللہ سے جنت الفردوس مانگو۔ (بخاری:2790)
اور دیکھیں گے بہشتی لوگ جنت کے جھروکوں میں سے بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کو اور نہ دیکھ سکیں گے ایک دوسرے کی بیوی کو اور ان کی بیویاں ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں گی۔ جنت میں سایہ دار اس قسم کے تخت ہیں جن پر آبخورے لبریز بھرے ہوئے رکھے ہیں۔ شہد، شراب، شربت، دودھ ذائقہ دار اور خوشبودار ہے اور ان پر تکیے برابر کے لگے ہوئے ہیں۔ قالین اور اونچی مسندیں ہیں ان پر بچھائی ہوئی ہیں۔
اور فرمایا: نیک لوگ نعمتوں کے اندر تختوں پر بیٹھے ہوئے ہر طرف کے تماشے دیکھتے ہوں گے۔ ان کے چہروں سے جنت کی نعمتوں کی سرسبزی پائی جائے گی۔ پیئیں گے وہ شرابِ خالص جس پر مشک کی مہریں لگی ہوں گی، چاہیے کہ رغبت کرنے والے اس کی رغبت کریں۔ ملاوٹ اس میں ایک چشمہ سے ہو گی جس میں سے خاص مقرب بندے پیئیں گے۔ (المطففین:22تا28)
فرمایا: جنتی بندے بہشت میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے اپنی بیویوں کو ساتھ لیےبہشت کی نعمتیں کھاتے پیتے سیر و تماشے میں مشغول رہیں گے۔(یس:55، 56)
ہر جنتی کو جنت میں بڑا ملک عطا کیا جائے گا خواہ وہ کیسا ہی کم رتبہ والا ہے، دنیا سے 10 حصہ زیادہ، جن میں سے ایک درخت کے نیچے ہو کر تیز گھوڑے کا سوار سو برس تک چلے تو بھی اس کے سایہ کو طے نہ کر سکے۔
جنت کی فراخی اور بڑائی سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ جنت کے دروازے اس قدر کشادہ ہیں کہ ایک چوکھٹ سے دوسری چوکھٹ تک چالیس برسوں کا فاصلہ ہے۔ باوجود ایسی کشادگی کے محمد ﷺ کی امت والوں کا کھوے سے کھوا چھلتا ہو گا، جنت میں داخلے کے وقت، جب جنتیوں کا سیر کو جی چاہے گا اپنے اپنے تختوں پر سوار ہو کر اپنی اپنی عورتوں کو ساتھ لے کر سیر کرنے کو نکلا کریں گے، جہاں تک ان کا جی چاہے گا وہ تختِ بہشتی ان کو اشارہ کے ساتھ سیر کروائے گا۔
ہر مرد کو جنت میں سو عورتوں سے صحبت کرنے کی طاقت ملے گی اور اس سے اس کو ہرگز تکان نہ معلوم ہو گی بلکہ قوت اور بڑھتی رہے گی۔ جنت کی عورتوں کی آنکھیں بڑی بڑی، دل کو بھانے والی، رسیلی اور خوش نما ہوں گی۔ ان کی اوڑھنی کا ایک پلو دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی ہے۔
اگر جنت کی ایک عورت دنیا میں جھانکے تو مشرق سے لے کر مغرب تک سب روشن ہو جائے اور چاند و سورج ماند ہو جائیں اور کل اہل دنیا بے ہوش ہو جائیں۔
[رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ]
اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ (البقرة:201)
[اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي]
اے اللہ! تو درگزر کرنے والا ہے اور درگزر کرنے کو پسند کرتا ہے، پس مجھ سے درگزر کر۔
نوٹ:
یہاں یہ بات واضح رہے کہ جنت کے آٹھ دروازے صحیح حدیث سے ثابت ہیں، لیکن ان ناموں کو مستقل طور پر آٹھ الگ الگ جنتیں کہنا درست نہیں۔ قرآنِ مجید میں جنت کے مختلف نام اور اوصاف بیان ہوئے ہیں، جن سے جنت کی عظمت، دوام، نعمت، سلامتی اور رہائش کی کیفیت واضح ہوتی ہے۔ مثلاً
[1] قرآن میں جنتِ عدن کا ذکر آیا ہے، یعنی ہمیشہ رہنے کی جنتیں:
[جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا]
وہ ہمیشہ رہنے کی جنتوں میں داخل ہوں گے۔ (النحل:31)
[2] اسی طرح جنت الفردوس کا ذکر آیا ہے:
[كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا]
ان کے لیے فردوس کی جنتیں مہمانی کے طور پر ہوں گی۔ (الکہف:107)
[3] جنت الخلد یعنی ہمیشہ رہنے والی جنت کا ذکر یوں آیا ہے:
[جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ]
ہمیشہ رہنے والی جنت، جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (الفرقان:15)
[4] جنات النعیم یعنی نعمتوں والی جنتوں کا ذکر فرمایا:
[لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِيْمِ]
ان کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں۔ (لقمان:8)
[5] جنت المأویٰ کا ذکر فرمایا:
[عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوٰى]
اسی کے پاس جنت المأویٰ ہے۔ (النجم:15)
[6] دار السلام یعنی سلامتی کے گھر کا ذکر فرمایا:
[وَاللّٰهُ يَدْعُوْا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ]
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ (یونس:25)
[7] اسی طرح دار المقامة کا ذکر آیا ہے:
[الَّذِيْٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ]
جس نے اپنے فضل سے ہمیں ہمیشہ رہنے کے گھر میں اتارا۔ (فاطر:35)
لہٰذا زیادہ درست بات یہ ہے کہ کہا جائے:
قرآن و حدیث میں جنت کے مختلف نام، اوصاف اور درجات بیان ہوئے ہیں، جبکہ جنت کے آٹھ دروازوں کا ثبوت صحیح حدیث سے ملتا ہے۔ ان ناموں کو قطعی طور پر آٹھ الگ الگ جنتیں کہنا محلِ نظر ہے۔ (واللہ اعلم)