اہل بیت
یہ اہل سنت کا امتیازی وصف ہے کہ انہیں حق جس طرف پھیرتا ہے، وہ پھر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں توسط عطا فرمایا ہے، افراط و تفریط اور غلو و تقصیر سے محفوظ رکھا ہے، ان کے یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبہ کو کما کان کی بنیادوں پر تسلیم کرنے کی روش ہے۔ دواوین اسلام اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عطربیز تذکروں سے معطر ہیں، اہل سنت، اہل بیت کے متعلق افراط و تفریط سے محفوظ رکھے گئے ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم ان کے فضائل کا انکار کر دیں یا پھر انہیں ان کے اصل مرتبہ سے بڑھا کر صدیق و فاروق سے بڑھا دیں اور بسا اوقات خدا کے مقابلہ میں لا کھڑا کریں، اہل سنت والجماعت کے یہاں محبت اہل بیت، عین ایمان اور ان سے بغض نفاق کی نشانی ہے اور ان کا احترام واجب ہے، اللہ کریم فرماتے ہیں :
إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
”اہل بیت! اللہ نے آپ سے گندگی دور کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور آپ کی تطہیر کر دی ہے۔“
(الأحزاب : 33)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نزلت فى نساء النبى صلى الله عليه وسلم خاصة.
”یہ آیت خاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“
(تفسير ابن كثير : 410/6 ، بتحقيق سلامة ، وسنده حسن)
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
من شاء باهلته أنها نزلت فى أزواج النبى صلى الله عليه وسلم.
”میں اس پر مباہلے کو تیار ہوں کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں نازل ہوئی۔“
(تفسير ابن كثير: 411/6، وسنده حسن)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
هذا نص فى دخول أزواج النبى صلى الله عليه وسلم فى أهل البيت هاهنا؛ لأنهن سبب نزول هذه الآية.
”یہ آیت نص ہے کہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت میں شامل ہیں، کیونکہ ازواج مطہرات ہی اس آیت کے نزول کا سبب ہیں۔“
(تفسير ابن كثير : 410/6)
یہ آیت کریمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی، آیت کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے، صحابہ و تابعین کی گواہی بھی اسی پر ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
إن هذه الآية تدل على أنهن من أهل بيته، وإلا لم يكن لذكر ذلك فى الكلام معنى.
”یہ آیت کریمہ دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے ہیں، ورنہ آیت میں اہل بیت کے لفظ کا کوئی معنی نہیں۔“
(منهاج السنة : 76/7)
آل رسول یا اہل بیت سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اور اولاد ہے۔
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ فرمایا :
اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته، كما صليت على آل إبراهيم، وبارك على محمد وأزواجه وذريته، كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد.
”اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر رحمت فرما، جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام کی آل پر رحمت کی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر برکت فرما، جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام کی آل پر برکت کی، یقیناً تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔“
(الموطأ للإمام مالك : 165/1 ، صحيح البخاري : 3369 ، صحیح مسلم : 407)
البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کے ساتھ ساتھ اپنے بعض قرابت داروں کو بھی یہ شرف بخشا اور انہیں اپنے اہل بیت میں شامل فرمایا، جن میں سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ کئی احادیث میں اس کا ثبوت ہے۔ لہٰذا آیت میں اہل بیت سے مراد حقیقی طور پر بیویاں ہیں اور مجازی، الحاقی اور تشریفی طور پر سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم بھی اہل بیت میں داخل ہیں۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
ثم الذى لا يشك فيه من تدبر القرآن أن نساء النبى صلى الله عليه وسلم داخلات فى قوله تعالى : إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ، فإن سياق الكلام معهن؛ ولهذا قال تعالى بعد هذا كله : وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِ ، أى اعملن بما ينزل الله على رسوله فى بيوتكن من الكتاب والسنة، قاله قتادة وغير واحد، واذكرن هذه النعمة التى خصصتن بها من بين الناس؛ أن الوحي ينزل فى بيوتكن دون سائر الناس، وعائشة الصديقة بنت الصديق أولاهن بهذه النعمة، وأحظاهن بهذه الغنيمة، وأخصهن من هذه الرحمة العميمة، فإنه لم ينزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم الوحي فى فراش امرأة سواها، كما نص على ذلك صلوات الله وسلامه عليه، قال بعض العلماء رحمه الله: لأنه لم يتزوج بكرا سواها، ولم ينم معها رجل فى فراشها سواه، فناسب أن تخصص بهذه المزية، وأن تفرد بهذه الرتبة العلية، ولكن إذا كان أزواجه من أهل بيته؛ فقرابته أحق بهذه التسمية، كما تقدم فى الحديث: وأهل بيتي أحق، وهذا يشبه ما ثبت فى صحيح مسلم: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما سئل عن المسجد الذى أسس على التقوى من أول يوم (التوبة: 108)، فقال: هو مسجدي هذا، فهذا من هذا القبيل؛ فإن الآية إنما نزلت فى مسجد قباء، كما ورد فى الأحاديث الأخر، ولكن إذا كان ذاك أسس على التقوى من أول يوم، فمسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم أولى بتسميته بذلك.
”قرآنِ کریم میں تدبر کرنے والا، جس چیز میں شبہ نہیں کر سکتا، وہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں داخل ہیں :
إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ”اہل بیت! اللہ چاہتا ہے کہ آپ سے گناہ دور کر دے اور آپ کو خوب پاک صاف کر دے۔“ سیاق کلام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن والے مفہوم کے ساتھ ہے۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا : وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِ ”اے نبی کی ازواج! اللہ کی آیات و حکمت جو آپ کے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہیں، اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔“ کتاب و سنت کی جو نصوص اللہ تعالیٰ تمہارے گھروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کرتا ہے، ان پر عمل کریں۔ امام قتادہ رحمہ اللہ سمیت کئی اہل علم نے یہ تفسیر کی ہے۔ مراد یہ ہے کہ اے نبی کی ازواج! اس نعمت کو یاد کرو، جو خاص آپ کو نصیب ہوئی کہ وحی صرف آپ کے گھروں میں نازل ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس نعمت میں سب سے آگے تھیں، سب سے بڑھ کر اس غنیمت سے فائدہ اٹھانے والی تھیں اور اس بے بہا رحمت کا سب سے زیادہ حصہ پانے والی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وحی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ کے بستر پر نہیں اتری، سوائے عائشہ رضی اللہ عنہا کے، جیسا کہ انہوں نے خود بیان فرمایا۔ وجہ اس خصوصیت کی یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی باکرہ سے شادی نہیں کی، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی مرد نے خلوت اختیار نہیں کی، چنانچہ اس امتیاز کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتخاب ہی مناسب تھا۔ اس آیت کے مطابق ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت میں سے ہیں، تو لازم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار بھی اہل بیت میں ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”میرے اہل بیت (عزت و تکریم کے) زیادہ حق دار ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 16988 ، المستدرك للحاكم : 4706 ، وسنده صحيح)
اس کی ایک مثال صحیح مسلم (1398) میں موجود ہے :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ قرآن میں جس کے بارے میں ہے کہ وہ پہلے دن سے تقویٰ پر استوار کی گئی تھی، وہ کون سی مسجد ہے؟ فرمایا : میری یہ مسجد، مسجد نبوی ہے۔ حالانکہ یہ آیت مسجد قباء کے بارے میں نازل ہوئی تھی لیکن جب مسجد قباء پہلے دن سے ہی تقویٰ پر استوار کی گئی تھی، تو مسجد نبوی اس نام کی زیادہ حق دار تھی۔ اہل بیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔“
(تفسير ابن كثير : 415–416/6)
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
خرج النبى صلى الله عليه وسلم غداة وعليه مرط مرحل، من شعر أسود، فجاء الحسن بن على فأدخله، ثم جاء الحسين فدخل معه، ثم جاءت فاطمة فأدخلها، ثم جاء على فأدخله، ثم قال : إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح گھر سے نکلے، آپ نے سیاہ اونی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آئے، تو آپ نے انہیں اس چادر میں داخل کر لیا، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے، ان کو بھی چادر میں داخل کر لیا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں، تو انہیں بھی چادر میں لے لیا، آخر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہیں چادر میں داخل کر کے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی : إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ”اہل بیت! اللہ نے آپ سے گندگی دور کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور آپ کی تطہیر کر دی ہے۔“
(صحیح مسلم : 2424)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لما نزلت هذه الآية : فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ ، دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا وفاطمة وحسنا وحسينا فقال: اللهم هؤلاء أهلي.
”جب آیت : فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا : اللہ! یہ میرے اہل بیت (میں سے) ہیں۔“
(صحیح مسلم : 2404)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تطہیر کے نزول کے موقع پر سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چادر میں لے کر فرمایا :
أللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي.
”اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے خاص لوگ ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد: 292/6، وسنده حسن)
سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو ایک اضافی وصف سے متصف کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل بیت میں شامل کرنے کے لیے دعا فرمائی ہے، لہٰذا یہ ہستیاں بھی اہل بیت میں شامل ہیں، البتہ قرآن کریم نے جن اہل بیت کو مخاطب کیا ہے، وہ صرف بیویاں ہیں، جیسا کہ سیاق قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔
اسی طرح فرمان باری تعالیٰ : إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى کی تفسیر میں امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہاں قربیٰ کی مودت سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر یوں کرتے تھے کہ قریش کا کوئی بطن ایسا نہیں تھا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت نہ ہو، البتہ ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک قرابت تھی، تو اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے اور آپ کے درمیان جو قرابت ہے، اس کو تو ملائیے۔
(صحیح البخاری : 4818)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
الحق تفسير الآية بما فسرها به الإمام حبر الأمة، وترجمان القرآن، عبد الله بن عباس، كما رواه عنه البخاري رحمه الله، ولا تنكر الوصاة بأهل البيت، والأمر بالإحسان إليهم، واحترامهم وإكرامهم، فإنهم من ذرية طاهرة، من أشرف بيت وجد على وجه الأرض، فخرا وحسبا ونسبا، ولا سيما إذا كانوا متبعين للسنة النبوية الصحيحة الواضحة الجلية، كما كان عليه سلفهم، كالعباس وبنيه، وعلي وأهل بيته وذريته، رضي الله عنهم أجمعين.
”آیت کی وہی تفسیر حق ہے، جو حبر الامت، ترجمان القرآن، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان سے روایت ذکر کی ہے۔ یقیناً اہل بیت سے خیرخواہی، حسن سلوک اور احترام و اکرام کا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ طاہر ذریت اور حسب و نسب کے اعتبار سے معزز ترین لوگ ہیں، یہ ان کا تفاخر ہے، جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح اور واضح سنت پر اپنے اسلاف کے موافق عمل کریں، جیسے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت عمل کیا کرتے تھے، رضی اللہ عنہم اجمعین۔“
(تفسیر ابن کثیر : 201/7)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے :
أذكركم الله فى أهل بيتي.
”میرے اہل بیت کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔“
(صحیح مسلم : 2408)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وصیت تین بار فرمائی اور اسی حدیث میں اہل بیت عظام اور قرآن کو ثقلین (بلند مرتبے والے) بھی قرار دیا ہے۔
رازدان رسول، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے :
ارقبوا محمدا صلى الله عليه وسلم فى أهل بيته.
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے حقوق کا خیال رکھیے گا۔“
(صحیح البخاری: 3713)
کبھی ان کی عظمت کے بیان میں یوں گویا ہوتے :
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي.
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت مجھے اپنی قرابت سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔“
(صحیح البخاری : 3712)
سو اہل بیت کی عقیدت، محبت اور احترام رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا، بغیر اس کے چارہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اہل بیت میں امہات المؤمنین، بنات الرسول، آل علی، آل جعفر، آل عباس وغیرہ شامل ہیں۔ آج کی نشست مگر تین بزرگ ہستیوں کے نام کی جاتی ہے، فاتح خیبر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما۔