امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
آپ کے والد کا نام عبد مناف اور دادا کا نام عبدالمطلب تھا، آپ ہاشمی قرشی ہیں، ابوالحسن اور ابوتراب کنیت پائی ہے اور ثانی الذکر کنیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رکھی تھی، اس لیے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو زیادہ محبوب بھی تھی، تاریخ اسلام میں آپ کو شجاعت و بہادری کا استعارہ قرار دیا جاتا ہے، جب مرحب کے مقابلے میں نکلے، تو فرمایا :
أنا الذى سمتني أمي حيدره، كليث غابات كريه المنظره.
”میں وہ ہوں، جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے، خوفناک جنگلوں کے شیر جیسا۔“
(صحیح مسلم : 1807)
بنو ہاشم میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور اول تا آخر آپ کے ساتھی رہے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقد ہوئے، آپ کو اسلام کا چوتھا خلیفہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مولود کعبہ ہونا ثابت نہیں، نیز یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ آپ کی تاریخ ولادت تیرہ رجب کو ہوئی۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ما جاء لأحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من الفضائل ما جاء لعلي بن أبى طالب رضي الله عنه.
”اتنے فضائل کسی صحابی رسول کے بیان نہیں ہوئے، جتنے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیان ہوئے ہیں۔“
(المستدرك على الصحيحين للحاكم : 107/3 ، وسنده صحيح)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من كنت مولاه فعلي مولاه.
”جس کا میں دوست ہوں، علی بھی اس کے دوست ہیں۔“
اس حدیث کو حافظ ذہبی رحمہ اللہ (سیر أعلام النبلاء : 335/8 ، تاریخ الإسلام : 146/5) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (البدایۃ والنہایۃ : 681/7) علامہ عجلونی رحمہ اللہ (کشف الخفاء : 261/2) حافظ سیوطی رحمہ اللہ (قطف الأزهار المتناثرة في الأحاديث المتواترة ص : 277) اور علامہ البانی رحمہ اللہ (الصحیحہ : 343/4) نے متواتر قرار دیا ہے۔
آپ کی ذات ستودہ صفات محبتوں کا محور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر امتی، جس نے کملی والے کے فرمان کو اپنے لیے حجت سمجھا ہے، وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
علي فى الجنة.
”علی جنتی ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 187/1 ، سنن أبي داود : 4650 ، سنن ابن ماجه : 133 ، فضائل الصحابة للنسائي : 90 ، وسنده صحيح)
فارس کے مہاجر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نرالے صحابی سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے شدید درجے کی محبت رکھتے تھے اور اس محبت کی کڑی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ملاتے تھے، آپ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من أحب عليا فقد أحبني، ومن أبغض عليا فقد أبغضني.
”جس نے علی سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، جس نے علی سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔“
(المستدرك على الصحيحين للحاكم : 130/3 ، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے امام بخاری و امام مسلم رحمہما اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں رکھتے، بلکہ اللہ تعالیٰ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ و رسول کی محبت میں گندھے ہوئے ہیں، غزوہ خیبر کے موقع پر جب جنگ جیتی نہیں جاتی تھی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لأعطين الراية، أو ليأخذن الراية، غدا رجلا يحبه الله ورسوله، أو قال: يحب الله ورسوله، يفتح الله عليه.
”کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا یا کہا کہ کل ایک ایسا شخص جھنڈا لے گا، جس سے اللہ اور رسول محبت کرتے ہیں یا فرمایا کہ وہ اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے، اللہ اس کے ہاتھوں اس قلعہ کو فتح کروا دے گا۔“
(صحیح البخاری : 3702 ، صحیح مسلم : 2407)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کرتے تھے :
أنت مني وأنا منك.
”آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں۔“
(صحیح البخاری : 2698 ، صحیح مسلم : 1783)
کبھی فرماتے :
”علی! آپ کا اور میرا رشتہ وہی ہے، جو موسیٰ و ہارون علیہما السلام کا رشتہ تھا۔“
(صحیح البخاری : 3706 ، صحیح مسلم : 2404)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کو بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا حکم دے رکھا تھا، خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:
إنه لعهد النبى الأمي صلى الله عليه وسلم إلى أن لا يحبني إلا مؤمن، ولا يبغضني إلا منافق.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق مجھ سے نفرت کرے گا۔“
(صحیح مسلم : 78)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من آذى عليا فقد آذاني.
”جو علی کو اذیت دیتا ہے، وہ مجھے اذیت دیتا ہے۔“
(مسند أبي يعلى : 770 ، مسند البزار : 1166 ، زوائد فضائل الصحابة للقطيعي : 1078 ، وسنده حسن)
اسی لیے ائمہ اہل سنت نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت کو ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
أما مناقب الصحابة وفضائلهم فأكثر من أن تذكر وأجمعت علماء السنة أن أفضل الصحابة العشرة المشهود لهم وأفضل العشرة أبو بكر ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان ثم على بن أبى طالب رضي الله عنهم أجمعين ولا يشك فى ذلك إلا مبتدع منافق خبيث.
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب تو اتنے ہیں کہ ذکر کے محتاج نہیں، اہل سنت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ میں افضل ترین دس لوگ ہیں، جن کے لیے (ایک مجلس میں جنت کی) گواہی دی گئی ہے اور ان میں سے افضل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس میں شک کرنے والا صرف بدعتی، منافق اور خبیث ہی ہو سکتا ہے۔“
(الکبائر : 239)
اسی طرح علامہ غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أن يعتقد فضل الصحابة رضي الله عنهم وترتيبهم وأن أفضل الناس بعد النبى صلى الله عليه وسلم أبو بكر ثم عمر ثم عثمان ثم على رضي الله عنهم وأن يحسن الظن بجميع الصحابة ويثنى عليهم كما أثنى الله عز وجل ورسوله صلى الله عليه وسلم وعليهم أجمعين، فكل ذلك مما وردت به الأخبار وشهدت به الآثار فمن اعتقد جميع ذلك موقنا به كان من أهل الحق وعصابة السنة وفارق رهط الضلال وحزب البدعة.
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ان کی فضیلت اور ان کی فضیلت کی ترتیب کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، ان کے بعد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔ تمام صحابہ کے ساتھ حسن ظن رکھنا ضروری ہے اور ان کی ویسی ہی ثنا کی جانی چاہئے، جیسی اللہ نے ثنا کی ہے۔ اس پر احادیث وارد ہوئیں اور آثار بھی اسی کے شاہد ہیں، جو شخص اس سب کے مطابق عقیدہ رکھتا ہے، وہ اہل حق، اہل سنت میں سے ہو گا، اہل بدعت و ضلال سے ممتاز ہو گا۔“
(قواعد العقائد : 70، 71، طبقات الشافعية للسبكي : 239/6)
لہٰذا ہم یعنی اہل سنت تاریخ کے ہر اس بے سند اور جھوٹے قصے کی تائید سے انکار کرتے ہیں، جو کسی بھی طرح اہل بیت کی جناب میں سوء ادبی کا باعث بنتا ہے اور ہر اس شخص سے برأت کا اعلان کرتے ہیں، جو آپ کی طرف نت نئی جھوٹی جھوٹی روایات اختراع کرتا رہتا ہے یا تاریخ کے کوڑا دان سے ان کی ذات کے متعلق پھیلائے گئے جھوٹوں کو نکال کر لے آتا ہے۔
امام شعبی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے :
اس امت میں جتنے جھوٹ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر بولے گئے، اتنے کسی پر نہیں بولے گئے۔
(الشريعة للآجري: 2031، وسنده حسن)
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أراهم يكذبون على علي.
”روافض سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔“
(العِلَل ومعرفة الرّجال لأحمد : 36/27 ، وسنده صحيح)
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت میں اختلاف ہے۔ درست اور صحیح یہ ہے کہ آپ کی شہادت 21 رمضان کی صبح کو ہوئی۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
حریث (حرب) بن مخشی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
إن عليا قتل صبيحة إحدى وعشرين من رمضان.
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ 21 رمضان کی صبح کو شہید ہوئے۔“
(التاريخ الأوسط للبخاري : 74/1 ، المستدرك للحاكم : 4688 ، وسنده حسن)
عبد الرحمن بن ملجم خارجی کے ہاتھوں شہادت کی موت پائی اور کوفہ میں مدفون ہوئے، لیکن آپ کی قبر کا تعین نہیں ہو سکا۔
اللہ کریم ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت پر زندہ رکھے اور اسی محبت پر موت دے۔ آمین!