محبتِ رسول ﷺ: صحیح مفہوم، تقاضے اور اعتدال کی راہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر سیّد شفیق الرحمن حفظہ اللہ کی کتاب "حب رسولﷺ کی آڑ میں مشرکانہ عقائد” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

محبتِ رسول ﷺ: صحیح مفہوم، تقاضے اور اعتدال کی راہ

[إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أعوذ بالله السميع العليم من الشيطن الرحيم].

[اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ]

بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے اور ہوائوں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ [البقرۃ:164]

آیہ کریمہ اس بات پر شاہد ہے، کہ کائنات کا سارا نظام اللہ اکیلے کے اختیار میں ہے۔ جو شخص عقل سے کام لے کر کائنات کے نظام پر غور کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اور جو رب کائنات پر سوچ سمجھ کر ایمان لایا یقینا اس نے سب سے زیادہ محبت اللہ تعالی سے کی، فرمایا:

[وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ]

اور ایمان والوں کو سب سے زیادہ محبت اللہ تعالی سے ہے۔ [البقرة:165]

کیونکہ محبت اس سے ہوتی ہے، جو مشکل میں کام آئے ، خطرات، نقصانات اور حادثات میں تحفظ مہیا کرئے ضروریات کو پورا کرے، اور اس کا خیال و محبت دل کو تسکین اور روح کو اطمینان بخشے اور جس میں یہ ساری خوبیاں مستقل بالذات ہوں جن کے زوال کا خیال تک بھی محال ہو، یقینا ان سب کے کامل ترین حصول کا سوائے اللہ کے کسی سے تصور کرنا بھی کفر ہے، اس لیے مومن اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے سے محبت نہیں کر سکتا۔

حب رسولﷺ :

ایک مومن ہر اس چیز سے محبت کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو اور ہر وہ چیز مومن کو محبوب ہوگی، جو اللہ تعالی کی قربت کا باعث بنے۔ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ امام الانبیاء اور خلیل اللہ ہیں، اس لئے ہمیں اللہ تعالی کی مخلوق میں سب سے زیادہ محبت نبی رحمتﷺ سے ہونی چاہیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

[قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ]

کہہ دے اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [التوبۃ :24]

اسی لئے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔ [صحیح بخاری:14]

انس رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺنے فرمایا:

کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا۔ جب تک میں اس کے نزدیک اس کے اہل مال اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔ [بخاری:15]،[مسلم:44]

اہل ایمان کے لئے یہ خوشخبری ہے کہ جو شخص دنیا میں ایمان کی حالت میں نبی کریمﷺ سے محبت کرے گا، قیامت کے دن وہ آپ ہی کے ساتھ ہوگا۔

سید نا انس بن مالک رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی۔ آپ نے فرمایا: تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت، آپ نے فرمایا: بے شک تم اس کے ساتھ ہو جس کے ساتھ تم نے محبت کی۔

سیدنا انس رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ ہمیں اسلام لانے کے بعد کسی بات سے اتنی زیادہ مسرت نہ ہوئی جتنی آپ کے اس فرمان سے ہوئی۔ میں اللہ تعالی، رسول اللہﷺ، ابو بکر اور عمر فاروق رضي اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں، اور مجھے امید ہے کہ میں آخرت میں انہی کے ساتھ ہوں گا،اگرچہ میں نے ان کے برابر اعمال نہیں کئے۔ [بخاری :3688]،[مسلم:2639]

حب رسول کریمﷺ کا تقاضا:

رسول اللہﷺ سے محبت کرنے کا تقاضا ہے، کہ آپ کے احکام کی تعمیل اور آپ کی منع کر دہ باتوں سے اجتناب کیا جائے، آپ کی یہ شان ہے:

[وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی]،[ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی]

اور یہ خواہش نفس کی بنا پر منہ سے کوئی بات نہیں نکالتے یہ تو اللہ کا حکم ہے جو ان کی طرف وحی کیاجاتا ہے۔ [النجم:4،3]

اسی لئے آپ کی محبت اور اتباع شرط ایمان ہے فرمایا:

[قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ]

کہہ دو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا۔ [ آل عمران:31]

غمی و خوشی میں، تنگی و آسانی میں جان و مال میں اولا دو گھر بار میں، غرضیکہ دنیاو مافیہا میں نبی رحمتﷺ کی پیروی کو مقدم رکھنا اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک ہر شے سے زیادہ محبت اللہ کے رسولﷺ سے نہ ہو۔

یہ درست ہے کہ اللہ تعالی نے بہت سی چیزوں کی محبت انسان کے دل میں ڈالی ہے۔ اگر مخلوق کے دل میں اللہ تعالی محبت نہ ڈالتا تو کوئی بچہ پروان نہ چڑھتا۔ ہاں میں جذبہ ایثار و قربانی اور اپنے بچے سے قریب سے قریب تر ہونے کی تڑپ اور اس کو خوش دیکھ کر آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سر در یہ سب محبت ہی کے کمالات تو ہیں۔

رسول اللہﷺ کی محبت کا حق تو یہ ہے کہ ہم ان پر اپنی محبوب ترین چیزوں کو قربان کر کے تسکین قلب اور دل کا سرور محسوس کریں۔ اور دوسری تمام چیزوں کی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کے تابع رکھیں۔ رسول اللہﷺ بھی مومنین پر مہربان ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

[لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ]

بلاشبہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ [التوبه:128]

حب رسول ﷺ کے اظہار میں راہ اعتدال:

بعض لوگ رسول اللہﷺ کی محبت کے اظہار میں اور آپ کے اوصاف بیان کرنے میں بے اعتدالی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور آپﷺ کے لئے ایسی صفات تک کا ذکر کر جاتے ہیں جو صرف اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہیں۔ اور قرآن کریم میں اس چیز کو غلو کہا گیا ہے۔

[قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ]

کہہ دیجئے اے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو۔ [المائدہ:77]

رسول اللہﷺ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر توحید کی طرف بلایا جائے۔ غیر اللہ کی بندگی سے لوگوں کو ہٹا کر اللہ کی بندگی پر لگایا جائے۔ مگر یہ لوگ کفر و شرک کو توحید جانتے ہیں ۔ اور اہل توحید کو گستاخ رسولﷺ کہتے ہیں۔ یہ سراسر ظلم ہے کہ اللہ کے نبیﷺ کے مقصد بعثت کو پہچان کر اس کے مطابق عمل کرنے والوں کو گستاخ رسول (ﷺ) کہا جائے اور محبت کے دعوے کو ڈھال بنا کر شرک کو عین اسلام ثابت کیا جائے۔

حالانکہ آپ ﷺنے فرمایا:

مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو (میرے متعلق) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ [بخاری:3445]

ربیع بنت معوز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: میری شادی کی صبح رسول اللہﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ دو ننھی بچیاں جنگ بدر میں شہید ہونے والے میرے رشتہ داروں کے بارے میں اشعار پڑھ رہی تھیں۔ بچیوں نے کہا:

[وفينا نبي يعلم ما في غد]

اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کو ہونے والی بات جانتا ہے۔

آپ نے فرمایا: [أما هذا فلا تقولوه ما يعلم ما في غد إلا الله]

ایسے مت کہو جو کچھ کل ہو گا اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

[بخاری:4001]،[سنن ابن ماجہ:1897]

لہذا آپ کی سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ توحید سے محبت کی جائے۔ اور اس طرح کی جائے جس طرح مثالی انسان سیدنا محمد رسول اللہﷺ نے کی جسے اللہ نے رسالت کے لئے چنا۔ آج بہت سے عشق رسول کے دعویداروں نے ایسی تحریریں سپرد قلم کر رکھی ہیں، جن میں بظاہر عشق رسول سے ان کے جذبات ابھار کر محمد کریمﷺ کی سب سے محبوب شے توحید کی شدید مخالفت اور رسول اللہﷺ کی انتہائی نا پسندیدہ شے شرک کی وکالت کرتے ہوئے اس کو اصل دین ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔