سیدنا داؤد ؑ کے روزے احادیث کی روشنی میں فضیلت اور طریقہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

سیدنا داؤد علیہ السلام کے روزے

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أحب الصلاة إلى الله صلاة داود عليه السلام، وأحب الصيام إلى الله صيام داود، وكان ينام نصف الليل، ويصوم ثلثه، وينام سدسه، ويصوم يوما ويفطر يوما .
”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب سیدنا داؤد علیہ السلام کی نماز ہے، اور سب سے زیادہ محبوب روزہ اللہ تعالیٰ کو سیدنا داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے، آدھی رات سوتے تھے، اس کے تیسرے حصے میں عبادت کے لیے اٹھ جاتے، اور اس کے چھٹے حصے میں (پھر) سو جاتے اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے۔“
صحیح بخاری، کتاب التھجد، باب من نام عند السحر، رقم: 1131 ۔ صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب النہی عن صوم الدھر، رقم: 1159۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإن بحسبك أن تصوم من كل شهر ثلاثة أيام، قلت: يا نبي الله إني أطيق أفضل من ذلك قال…. فصم صوم داود نبي الله ﷺ فإنه كان أعبد الناس .
”ہر ماہ تین دن کے روزے رکھو، میں نے عرض کیا: مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو، (میرے بھائی) سیدنا داؤد علیہ السلام بہت عبادت گزار تھے۔“
صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب النہی عن صوم الدھر، رقم: 182/1159۔