تفاخر، باچھیں ہلا کر گفتگو، برائیوں کی ٹوہ اور مسلمان کو عار دلانے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

باہم تفاخر و تعاظم کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ فرمایا:
يا أيها الناس إن الله قد أذهب عنكم عبية الجاهلية وتعاظمها بآبائها، إنما الناس رجلان: بر تقي كريم على الله تعالى، وفاجر شقي هين على الله عز وجل، الناس كلهم بنو آدم، وخلق الله تعالى آدم من تراب. قال الله تعالى:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ – إِلَى قَوْلِهِ – عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾
”لوگو! اللہ نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور آباؤ اجداد کی عظمت و بڑائی کو ختم کر دیا ہے، لوگ بس دو طرح کے ہیں: نیکوکار متقی شخص جو اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہے، دوسرا فاجر بدبخت جو اللہ عزوجل کے ہاں نہایت حقیر ہے۔ تمام لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لوگو! بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے.(سورة الحجرات: 13)
ترمذی، کتاب التفسیر 3270۔

باچھیں ہلا کر گفتگو کرنے کی ممانعت

① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أبغضكم إلى وأبعدكم مني مجلسا يوم القيامة الثرثارون والمتشدقون
”تم میں سے مجھے سب سے ناپسندیدہ اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو بہت باتیں کرنے والے اور زبان دراز ہیں۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 2018۔

لوگوں کی برائیوں کی ٹوہ لگانے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو بلند آواز سے فرمایا:
يا معشر من قد أسلم بلسانه ولم يفض الإيمان إلى قلبه لا تؤذوا المسلمين ولا تعيروهم ولا تتبعوا عوراتهم فإن من تتبع عورة أخيه المسلم تتبع الله عورته، ومن تتبع الله عورته يفضحه ولو فى جوف رحله
”لوگو! جس نے اپنی زبان سے اسلام کا اقرار کیا ہے اور ایمان اس کے دل تک نہیں پہنچا، مسلمانوں کو اذیت نہ پہنچاؤ، نہ انہیں عار دلاؤ اور نہ ہی ان کی خامیوں اور عیبوں کے پیچھے پڑو، اس لیے کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کا پیچھا کیا تو اللہ اس کے عیوب کے درپے ہو جائے گا، اور جس کے عیوب کے اللہ درپے ہو جائے تو وہ اسے رسوا کر کے چھوڑے گا خواہ وہ اپنی سواری پر ہو۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 2032۔
② سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا من آمن بلسانه ولم يدخل الإيمان فى قلبه لا تغتابوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتهم فإنه من اتبع عوراتهم تتبع الله عورته ومن يتبع الله عورته يفضحه فى بيته
”اے وہ شخص جو اپنی زبان سے ایمان لایا ہے جبکہ ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور نہ ان کے عیوب کے درپے ہوا کرو، اس لیے کہ جو شخص ان کے عیوب کے درپے ہو گا تو اللہ اس کے عیوب کے درپے ہو گا، اور اللہ جس کے عیوب کے درپے ہو جائے تو وہ اسے اس کے گھر میں رسوا کر کے چھوڑے گا۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4880۔
③ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی رات کے وقت اپنے اہل و عیال کے پاس آئے تاکہ وہ ان کی کسی خیانت یا کمزوری پر مطلع ہو جائے۔
بخاری، کتاب الحج 1801، مسلم، کتاب الرضاع 715/184۔

مسلمان کو عار دلانے کی ممانعت

① سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عير أخاه بذنب لم يمت حتى يعمله
”جس نے اپنے کسی (مسلمان) بھائی کو کسی گناہ کی عار دلائی تو وہ شخص مرنے سے پہلے وہ عمل ضرور کرے گا۔“
امام احمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”جس نے گناہ کیا تھا، اس نے اس سے توبہ کر لی تھی۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع 2505، اس کی سند متصل نہیں، خالد بن معدان کی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہوئی۔
② سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے وصیت فرمائیں۔ پھر انہوں نے طویل حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں فرمایا:
وإن امرؤ شتمك أو عيرك بما يعلم فيك فلا تعيره بما تعلم فيه فإنما وبال ذلك عليه
”اگر کوئی آدمی تجھے گالی دے یا تمہاری کسی کمزوری کے بارے میں، جس کا اسے علم ہے، تجھے عار دلائے تو تم اس کے بارے میں جو جانتے ہو اس کے بارے میں تم اسے عار نہ دلاؤ کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا۔“
ابوداؤد، کتاب اللباس 4084، مسند احمد، مسند المکیین 78/5، حدیث 20659۔