دو آدمیوں کا تیسرے شخص کی موجودگی میں سرگوشی کرنا منع ہے
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا كانوا ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون الثالث
”جب تین افراد ہوں تو دو تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں۔“
بخاری، کتاب الاستئذان 6288، مسلم، کتاب السلام 2183/36۔
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون الآخر حتى تختلطوا بالناس من أجل أن ذلك يحزنه، ولا تباشر المرأة المرأة فتصفها لزوجها كأنه ينظر إليها
”جب تم تین افراد ہو تو دو تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، حتیٰ کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جائیں، یہ چیز (دو کا تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی کرنا) اس کے لیے پریشانی کا باعث ہو گی۔ اور عورت عورت کے ساتھ مل کر اس کی باتیں اپنے خاوند سے بیان نہ کرے گویا کہ وہ (آدمی) اس (عورت) کو دیکھ رہا ہے۔“
بخاری، کتاب الاستئذان 6290، مسلم، کتاب السلام 38 / 2184۔
مسلمان کو خوف زدہ کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ہمیں حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کو سفر کر رہے تھے تو ان میں سے ایک آدمی سو گیا، پس ان میں سے بعض اس کی رسی لے کر چل دیے اس نے اسے پکڑ لیا اور وہ گھبرا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل لمسلم أن يروع مسلما
”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 5004، مسند احمد، باقی مسند الانصار 424/5 ، حدیث 23128۔
② عبد اللہ بن سائب بن یزید اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يأخذ أحدكم متاع أخيه لاعبا جادا
”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان نہ اٹھائے، نہ مذاق کے طور پر اور نہ سنجیدگی کے طور پر۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 5003، مسند احمد، مسند الشامیین 271/4، حدیث 17964۔
ہر سنی سنائی بات بیان کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كفى بالمرء إثما أن يحدث بكل ما يسمع
”آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4992، الفاظ اس کے ہیں.
اس کی اصل صحیح مسلم میں ان الفاظ کے ساتھ ہے: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔”
عریاں ہونے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والتعري فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط، وحين يفضي الرجل إلى أهله فاستحيوهم وأكرموهم
”عریاں ہونے سے بچو اس لیے کہ تمہارے ساتھ جو (فرشتے) ہیں وہ بیت الخلاء اور جب آدمی اپنی اہلیہ کے پاس جاتا ہے اس وقت تم سے جدا ہوتے ہیں ورنہ تمہارے ساتھ رہتے ہیں، پس تم ان کا حیا کرو اور ان کی تکریم کرو۔“
ترمذی، کتاب الادب 2800۔