نبی ﷺ کا خواب میں آنا
نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے اس دنیا سے منقطع ہو جانے والے رابطے کو جوڑنے کے لیے ہمارے علمائے کرام نے ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا یعنی قرآن و حدیث کی غلط تاویلات کے ذریعہ خواب کو نبی ﷺ کی دنیا میں آمد اور ان ،،عشاق،، سے ملاقات کا مستقل ذریعہ بنا دیا۔ چنانچہ آپ خوابوں میں آتے ہیں، بشارتیں دیتے ہیں، ہدایات سے نوازتے ہیں، پیشگوئیاں فرماتے ہیں اور اب تو صرف نبی ﷺ ہی نہیں بلکہ اولیاء اللہ بھی خوابوں میں تشریف لاتے ہیں۔ (تبلیغی جماعت)
کبھی امام بخاری خوابوں میں آ کر بخاری پڑھا جاتے ہیں، کبھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ عرش پر بیٹھ کر نکاح پڑھانے لگ جاتے ہیں۔ (علامہ یوسف بنوری)
کوئی صاحبِ دل خواب میں اپنے بختی اونٹ کا سودا کر لیتے ہیں۔ (فضائلِ صدقات، حصہ دوئم)
کبھی خود نبی کریم ﷺ آ کر خواب میں چالیس حدیثیں پڑھا دیتے ہیں۔ (شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ)
یہاں تک کہ کبھی خاص مواقع پر رب العالمین بھی خود ہی خواب میں آ کر اپنے ولیوں کو ضروری ہدایات سے نواز دیتا ہے۔
خوابوں کا یہ سلسلہ خیرالقرون کے بعد اس وقت شروع ہوا جب آپ ﷺ کے ،،سچے عاشقوں،، نے دینِ اسلام پر غلبہ حاصل کر لیا اور تبھی سے دنیا میں آپ ﷺ کی آمد و رفت شروع ہو گئی جو اب تک جاری ہے اور اب تو ماشاء اللہ آپ ﷺ کی زیارت کے لیے وظیفہ بھی موجود ہے۔
زیارتِ نبوی ﷺ کا نسخہ:
شاہ عبد الحق محدث دہلوی کہتے ہیں: کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب میں دو رکعت نفل پڑھے، ہر رکعت میں گیارہ مرتبہ آیت الکرسی، گیارہ مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے، سلام پھیرنے کے بعد سو مرتبہ درود شریف پڑھے، تین جمعہ نہیں گزریں گے کہ (ان شاء اللہ) رسول اللہ ﷺ کی زیارت نصیب ہو جائے گی۔ درود یہ ہے: (اللٰهم صل علٰی محمد النبي الامي وآله واصحابه وسلم)
افسوس کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و محدثین کے پاس یہ نسخہ موجود نہ تھا، ورنہ ان کو اپنے دورِ حیات میں رونما ہونے والے فتنوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ مثلاً خلیفہ ثالث کی نامزدگی کے مسئلہ پر عبدالرحمن بن عوف کئی دن پریشان رہے، نبی ﷺ نے خواب میں آ کر ان کی رہنمائی نہ فرمائی۔ اسی طرح جنگِ جمل اور جنگِ صفین جیسے افسوس ناک واقعات پیش آئے جس میں محض غلط فہمیوں کی وجہ سے ہزاروں صحابہ شہید ہو گئے مگر اس وقت بھی نبی ﷺ نے آکر اپنے عزیز ساتھیوں کی رہنمائی نہ فرمائی۔ محدثین کرام نے احادیث کو جمع کر کے ان کی جانچ پڑتال اور راویوں کو پرکھنے میں پوری زندگیاں لگا دیں لیکن نسخۂ زیارت استعمال کر کے نبیﷺ سے ملاقات نہ کی، تاکہ مشقت سے بچ جاتے اور بے شمار پیچیدہ مسائل چٹکی بجاتے حل ہو جاتے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ سچے محبانِ رسول نہ تھے ورنہ نبی ﷺ ان سے یہ بے اعتنائی نہ برتتے، یا ان ،،عاشقینِ صادقین،، کا درجہ نبی کے نزدیک صحابہ، تابعین اور محدثین سے زیادہ ہے۔ (نعوذ باللہ!)
یہ محبانِ رسول:
ان محبانِ رسول کو جن کے پاس آپ کی باقاعدہ آمد و رفت ہے، چاہیے کہ آپ ﷺ سے ان مسائل کے بارے میں رہنمائی حاصل کریں جن کی وجہ سے یہ امت فرقوں میں بٹی ہوئی ہے اور یہ فرقے باہم دست و گریبان ہیں۔ مثلاً نبی ﷺ کا حاضر ہونا، آپ پر درود پیش ہونا، آمین بالجہر، فاتحہ خلف الامام اور رفع الیدین وغیرہ اور اپنے اپنے فرقوں کے برحق ہونے کی بھی نبی ﷺ سے تصدیق کرا لیں، آیا کہ بریلوی مسلک درست ہے یا دیوبندی، غیر مقلدین، یا پھر سب غلط ہیں؟ ویسے یہ اور بات ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے تو چار مصلوں۔ کہ درست ہونے کے بارے میں نبی ﷺ سے سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہے۔ اس خواب کے عقیدہ کا اگر قرآن کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس عقیدہ کی عمارت بغیر بنیاد کے قائم ہے، یہ عقیدہ تو آیاتِ قرآنی کا صریح کفر کرتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد دو باتوں پر ہے۔
اول یہ کہ مرنے کے بعد بھی نبی یا ولی دنیا میں آ سکتے ہیں۔
دوم یہ کہ نبی یا ولی عالم الغیب بھی ہوتے ہیں کہ ان کو اگر یاد کیا جائے تو انھیں خبر ہو جاتی ہے اور وہ حاجت روائی کے لیے فوراً چلے آتے ہیں، حالانکہ قرآن کے مطابق وہ تو ان باتوں سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں، جیسا کہ سورۂ احقاف میں فرمایا: [وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ] وہ ان کی پکاروں سے بے خبر ہیں۔ (الأحقاف: 5)
دوسری جگہ فرمایا: [وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ]،[اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡا دُعَآءَکُمۡ ۚ وَ لَوۡ سَمِعُوۡا مَا اسۡتَجَابُوۡا لَکُمۡ ؕ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُوۡنَ بِشِرۡکِکُمۡ]
[اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں]،[ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے] (فاطر:13، 14)
اس کے علاوہ خواب کے معاملہ میں جو سوالِ تشنۂ تاویل ہے وہ یہ ہے کہ جب نبی یا ولی کسی کے خواب میں داخل ہونے کے لیے قبر سے باہر جاتے ہیں تو اپنی قبر سے کس طرح اور کہاں سے نکلتے ہیں؟ یہ قبر سے باہر جانے کا فعل عام مادی قوانین کے تحت ہے یا خارق الفطرت معجزہ؟ اگر مادی ہے تو مادی قوانین کے دائرہ میں اس کی توجیہ و توضیح درکار ہے اور اگر یہ فعل معجزانہ ہے تو اس کا ثبوت قرآن و صحیح حدیث سے پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ نبی ﷺ کے قبر کے باہر ہونے کے دوران اگر کوئی شخص قبرِ نبوی پر درود و سلام پیش کرے تو کیا وہ ضائع ہو جائیں گے، کیونکہ درود و سلام (ان کے عقیدہ کے مطابق) صرف نبی ﷺ ہی پر پیش ہوتے ہیں، اس لیے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ نبی ﷺ کس وقت قبر میں موجود ہیں اور کس وقت قبر سے باہر ہیں۔ اس کے علاوہ نبی یا ولی قبر سے نکل کر چند لمحات میں ہزاروں میل کی مسافت کیسے طے کر لیتے ہیں؟ کیا وہ کسی کو قبر سے نکلتے ہوئے یا دورانِ سفر نظر آتے ہیں؟ کیا یہ سب کچھ تصرف فی الامور نہیں جو صرف اللہ ہی کا اختیار ہے؟