جانوروں اور مویشیوں کے پالنے میں شراکت کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

جانوروں کے پالنے میں شرکت

ہمارے ملک میں اور خاص طور سے دیہاتوں کی فضا میں ایک اور معاملہ کیا جاتا ہے اور وہ ہے جانوروں اور مویشیوں کو پالنے میں اشتراک۔ اس میں ایک فریق پوری قیمت یا اس کا ایک جزء ادا کرتا ہے اور دوسرا فریق چرانے اور نگرانی کا کام انجام دیتا ہے۔ اس کے بعد دونوں فریق اس سے حاصل ہونے والی نسل اور منافع کو آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔
شرکت کے اس معاملہ پر ہم اپنی رائے کے اظہار کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کی صورتوں کو بیان کریں۔
پہلی صورت: خالص تجارتی مقصد سے فریقین کا اشتراک مثلاً : بچھڑوں کو فربہ کرنے کے لیے پالنا یا گائے بھینس کو دودھ حاصل کرنے کی غرض سے پالنا وغیرہ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک فریق روپیہ لگائے دوسرا فریق محنت یعنی نگرانی کا کام کرے۔ ان کے چارہ وغیرہ پر جو خرچ ہو وہ دونوں برداشت کرلیں اور فروخت کرنے کی صورت میں جو قیمت وصول ہو اس میں سے اخراجات وضع کر لیے جائیں اور جو منافع بچ جائے اس کو دونوں آپس میں حسب معاہدہ تقسیم کر لیں۔
یہ بات قرین عدل و انصاف نہیں ہے کہ اخراجات صرف ایک فریق کے ذمہ ہوں اور منافع کی تقسیم کے وقت اس کی کوئی رعایت نہ کی جائے۔
دوسری صورت : ایک فریق مویشیوں کی قیمت ادا کرے اور دوسرا فریق نگرانی کے ساتھ اخراجات بھی کرے۔ ان اخراجات کے عوض وہ مویشیوں کا دودھ حاصل کرے اور ان سے کھیتی اور آب پاشی وغیرہ کی خدمت لے۔ اس میں استحساناً کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ جانور اتنا بڑا ہو کہ اس کا دودھ حاصل کیا جاسکتا ہو اور اس سے کام لیا جا سکتا ہو۔ یہ بات صحیح ہے کہ دوسرا فریق جو اخراجات برداشت کرتا ہے، اس کا اُن اخراجات کے مقابلہ میں دودھ وغیرہ سے فائدہ اٹھانا، مساوی حیثیت میں نہیں ہوتا اور اس میں نقصان کا اندیشہ بھی ہوتا ہے لیکن ہم نے استحساناً اس کو جائز کہا ہے اور نقصان کے اس معمولی اندیشہ کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ کیوں کہ اس قسم کی باتوں کو شریعت گوارا کرتی ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں رہن کے سلسلہ میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا ولبن الدر يشرب بنفقته إذا كان مرهونا وعلى الذى يركب ويشرب النفقة
”رہن رکھے ہوئے جانور پر اس کے اخراجات کے عوض سواری کی جاسکتی ہے اور اس کا دودھ پیا جاسکتا ہے۔ اور اخراجات سواری کرنے اور دودھ پینے والے کے ذمہ ہوں گے۔“
بخاری کتاب الرهن باب الرهن مركوب و محلوب ح : 2512
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے (چارہ وغیرہ) کے اخراجات کا معاوضہ اس کی سواری اور دودھ کو قرار دیا۔
جانور کے اخراجات اس کی سواری اور دودھ کے مقابلہ میں زیادہ بھی ہو سکتے اور کم بھی، لیکن تعامل کے پیش نظر جب رہن (گروی) کے معاملہ میں اس صورت کو جائز قرار دیا گیا، تو جانوروں سے متعلق شرکت کی مذکورہ صورت کو بھی لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر جائز قرار دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔
مذکورہ حدیث سے ہم نے جو استنباط کیا ہے وہ خاص ہماری رائے ہے۔ اللہ کرے کہ یہ رائے صائب ہو۔
رہا چھوٹے بچھڑوں سے متعلق اشتراک کہ جن سے نہ خدمت لی جاسکتی ہو اور نہ ان کا دودھ حاصل کیا جا سکتا ہو، اور اس کی یہ صورت کہ ایک فریق قیمت ادا کرے گا اور دوسرا فریق اخراجات برداشت کرے گا تو اسلام کے قواعد اس کو مباح تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ جس فریق کے ذمہ اخراجات ہوں گے وہ گھاٹے میں رہے گا اور دوسرے فریق کا فائدہ ہی فائدہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ کسی طرح بھی مبنی بر انصاف نہیں ہے۔ جبکہ اسلام تمام معاملات میں انصاف کو جاری و ساری دیکھنا چاہتا ہے۔ ہاں اگر اخراجات برداشت کرنے والے فریق کے لیے انتفاع (نفع) کی صورت پیدا ہونے تک دونوں فریق اخراجات باہم تقسیم کر لیں تو ہماری رائے (خیال کے مطابق) میں جائز ہوگا۔