روزہ، قضا اور رمضان کی رسومات: صحیح و ضعیف روایات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

درج ذیل روایت کیسی ہے؟
❀ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إني رأيت البارحة عجبا رأيت رجلا من أمتي قد احتوشته ملائكة فجاءه وضوؤه فاستنقذه من ذلك ورأيت رجلا من أمتي قد احتوشته الشياطين فجاءه ذكر الله فخلصه منهم ورأيت رجلا من أمتي يلهث عطشا من العطش فجاءه صيام رمضان فسقاه ورأيت رجلا من أمتي بين يديه ظلمة ومن خلفه ظلمة وعن يمينه ظلمة وعن شماله ظلمة ومن فوقه ظلمة ومن تحته ظلمة فجاءه حجه وعمرته فاستخرجاه من الظلمة ورأيت رجلا من أمتي جاءه ملك الموت يقبض روحه فجاءه بره بوالديه فرد عنه ورأيت رجلا من أمتي يكلم المؤمنين ولا يكلمونه فجاءته صلة الرحم فقالت إن هذا واصل كان واصلا لرحمه فكلمهم وكلموه وصار معهم ورأيت رجلا من أمتي يأتي الناس وهم حلق فكلما أتى على حلقة طرد فجاءه اغتساله من الجنابة فأخذه بيده فأجلسه معهم ورأيت رجلا من أمتي يتقي وهج النار بيديه عن وجهه فجاءته صدقته وصارت ظلا على رأسه وسترا على وجهه ورأيت رجلا من أمتي جاءته زبانية العذاب فجاءه أمره بالمعروف ونهيه عن المنكر فاستنقذه من ذلك ورأيت رجلا من أمتي هوى في النار فجاءته دموعه التي بكى من خشية الله فأخرجته من النار ورأيت رجلا من أمتي قد هوت صحيفته إلى شماله فجاءه خوفه من الله فأخذ صحيفته فجعلها في يمينه ورأيت رجلا من أمتي يرعد كما ترعد السعفة فجاءه حسن ظنه بالله فسكن رعدته ورأيت رجلا من أمتي يزحف على الصراط مرة ويجثو مرة ويتعلق مرة فجاءته صلاته علي فأخذت بيده فأقامته على الصراط حتى جاوز ورأيت رجلا من أمتي انتهى إلى أبواب الجنة فعلقت الأبواب دونه فجاءته شهادة أن لا إله إلا الله فأخذته بيده فأدخلته الجنة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے (اور فرمایا:) میں نے ایک رات عجیب و غریب خواب دیکھا، میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا، اسے پکڑنے کے لیے فرشتوں نے چاروں طرف سے گھیرا ڈالا ہوا ہے، اس کا وضو والا عمل آیا اور اسے اس گھیرے سے باہر نکال لیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا جسے شیاطین نے پکڑنے کے لیے گھیرا ہوا ہے، تو اللہ کے ذکر والا عمل آیا اور اسے شیاطین سے بچا لیا۔ میں اپنا ایک امتی دیکھا جو پیاس سے ہانپ رہا تھا، تو اس کے پاس رمضان کے روزوں کا عمل آیا اور اسے پانی پلایا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جس کے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر اور نیچے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا، اتنے میں اس کا حج اور عمرہ کا عمل آیا اور انہوں نے اسے اندھیرے سے باہر نکالا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جس کے پاس ملک الموت آیا ہے اور اس کی روح قبض کر رہا ہے، تو اس کے پاس والدین سے حسن سلوک کا عمل آیا اور اس نے ملک الموت سے روح واپس لے لی۔ میں نے اپنا ایک آدمی دیکھا جو مؤمنوں سے کلام کر رہا ہے مگر مؤمن اس سے بات نہیں کر رہے، تو صلہ رحمی کا عمل آیا اور کہا: یہ صلہ رحمی کرنے والا شخص ہے، پھر اس شخص نے مؤمنوں سے بات کی تو مؤمن بھی اس سے گفتگو کرنے لگے اور وہ شخص مؤمنوں میں داخل ہو گیا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جو حلقوں میں بیٹھے لوگوں کے پاس آیا، جب بھی وہ کسی حلقے کے پاس آتا تو اسے واپس بھیج دیا جاتا، تو اس کا حالت جنابت میں غسل کرنے والا عمل آیا اور اسے ان لوگوں کے ساتھ (حلقے میں) بٹھا دیا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جو اپنے ہاتھ کے ساتھ خود کو آگ کے شعلوں سے بچا رہا ہے، تو اس کا صدقہ والا عمل آیا اور اس کے سر پر چھتری اور چہرے پر جہنم سے پردہ بن گیا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جس کے پاس عذاب کے سپاہی (فرشتے) آتے ہیں، اسی اثنا میں اس کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر والا عمل آیا اور اس نے اسے عذاب سے بچا لیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا جو آگ میں گر رہا ہے، تو اس کے وہ آنسو جو خشیت الہی میں رونے سے نکلے تھے، اس کے پاس آئے اور انہوں نے اسے جہنم سے باہر نکال لیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا کہ اس کا صحیفہ اس کے بائیں ہاتھ کی طرف بڑھ رہا ہے، تو اس کا خوف الہی کا عمل آیا، اس نے صحیفے کو پکڑ کر اس کے دائیں ہاتھ میں رکھ دیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا وہ (کانپتے ہوئے) اس لیے ہل رہا ہے جیسے (تیز آندھی میں) کھجور کی شاخ ہلتی ہے، تو اللہ کے بارے میں حسن ظن والا عمل آیا اور اس کی کپکپاہٹ کو پرسکون کر دیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا جو پل صراط پر لڑھک رہا تھا، کبھی ادھر گرتا تو کبھی اُدھر گرتا، تو اس کے پاس میرے اوپر بھیجا گیا درود کا عمل آیا اور اسے پل صراط پر ثابت قدم کر دیا اور وہ (بآسانی) پل کو عبور کر گیا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جو جنت کے دروازوں پر پہنچا تو دروازے بند ہو گئے، تو اس کے پاس لا الہ الا اللہ کی گواہی والا عمل آیا، اس کا ہاتھ تھاما اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔“
(الأحاديث الطوال للطبراني، ص 273)

جواب:

سند باطل ہے۔
➊ سلیمان بن احمد واسطی متروک و کذاب ہے۔
➋ علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے۔
➌ وزیر بن عبدالرحمن خولانی ضعیف ہے۔
➍ سعید بن مسیب کا سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں۔
❀ العلل المتناهية لابن الجوزی (2/209) میں سند کے بعض حصے کی متابعت ہے، مگر وہ سند سخت ضعیف ہے۔
➊ ابو جبلہ ہلال مجہول ہے۔
➋ فرج بن فضالہ سخت ضعیف ہے۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث لا يصح
”یہ حدیث ثابت نہیں۔“
(العلل المتناهية: 2/211)

سوال:

درج ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستاك آخر النهار وهو صائم
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں دن کے آخری وقت مسواک کرتے تھے۔“
(كتاب المجروحين لابن حبان: 1/144)

جواب:

سند باطل ہے۔ ابو میسرہ احمد بن عبداللہ بن میسرہ حرانی سخت ضعیف ہے۔
اس روایت کو مرفوع بیان کرنا خطا ہے، اس کا موقوف ہونا ہی درست ہے۔
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ”باطل“ کہا ہے۔
(كتاب المجروحين: 1/144)

فائدہ:

روزہ کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے۔

سوال:

درج ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صام نوح الدهر إلا يوم الفطر والأضحى وصام داود نصف الدهر وصام إبراهيم ثلاثة أيام من كل شهر صام الدهر وأفطر الدهر
”نوح علیہ السلام نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے علاوہ پورا سال روزے رکھے، داود علیہ السلام نے آدھا سال روزے رکھے اور ابراہیم علیہ السلام نے ہر مہینے تین دن کے روزے رکھے۔ ابراہیم علیہ السلام نے (ثواب کے اعتبار سے) پورا سال روزے رکھے اور (حقیقت میں تقریباً) پورا سال روزے چھوڑے۔“
(سنن ابن ماجه: 1714، المعجم الكبير للطبراني: 133، شعب الإيمان للبيهقي: 3563، واللفظ له)

جواب:

سند ضعیف ہے۔ عبداللہ بن لہیعہ ضعیف و مختلط ہے۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ابن لهيعة أكثر أهل العلم لا يقبلون شيئا من حديثه
”اکثر اہل علم ابن لہیعہ کی کوئی بھی حدیث قبول نہیں کرتے۔“
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 12/254)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هو ضعيف بالاتفاق لاختلال ضبطه
”ابن لہیعہ حافظے کی خرابی کی بنا پر بالاتفاق ضعیف ہے۔“
(خلاصة الأحكام: 2/625)

سوال:

سفر میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

سفر میں روزہ رکھنے سے دشواری محسوس نہ ہو تو روزہ رکھا جا سکتا ہے، البتہ اگر مشکل پیش آئے تو سفر میں روزہ ترک کرنا اولیٰ ہے۔
❀ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:
يا رسول الله أجد بي قوة على الصيام في السفر فهل علي جناح فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هي رخصة من الله فمن أخذ بها فحسن ومن أحب أن يصوم فلا جناح عليه
”اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھنے کی (جسمانی) استطاعت رکھتا ہوں، کیا مجھ پر گناہ ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں (فرض) روزہ چھوڑنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، لہذا جس نے اس رخصت کو اختیار کیا اس نے بہت اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا چاہا تو کوئی حرج نہیں۔“
(صحيح مسلم: 1121)
البتہ اگر سفر میں روزہ رکھنا بہت مشکل ہو تو رخصت کو چھوڑ کر روزہ رکھنا درست نہیں۔
❀ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فرأى زحاما ورجلا قد ظلل عليه فقال ما هذا فقالوا صائم فقال ليس من البر الصوم في السفر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر تھے، اسی اثنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کا ہجوم دیکھا، ایک شخص پر سایہ کیا گیا تھا، تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے روزہ رکھا ہوا ہے، فرمایا: سفر میں مشقت کے ساتھ روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔“
(صحيح البخاري: 1946، صحيح مسلم: 1115)

سوال:

روزہ کشائی کی کیا حقیقت ہے؟

جواب:

بعض علاقوں میں روزہ کشائی کی رسم کی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ جب کوئی بچہ اپنا پہلا روزہ رکھتا ہے تو افطاری کے وقت اس کے گلے میں ہار پہنائے جاتے ہیں، اس کی طرف سے دیگیں پکا کر لوگوں میں تقسیم کی جاتی ہیں، مساجد میں افطاری بھیجی جاتی ہے۔ اسے روزہ کشائی کا نام دیا جاتا ہے۔
ایسی رسومات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تکلف ہے جسے اسلام میں داخل کر دیا گیا، اس پر سخت نگیر ہونی چاہیے تا کہ یہ رسم لوگوں میں رواج نہ پائے۔

سوال:

کیا ماہ رمضان میں فوت ہونے والا عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے؟

جواب:

اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔

سوال:

روزہ رکھا ہے کہ حیض آ گیا، اب کیا حکم ہے؟

جواب:

روزہ توڑ دے، کیونکہ حیض میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ حیض کی وجہ سے رمضان کے جتنے روزے نہ رکھ سکے، ان کی قضا اگلے سال تک دینا ضروری ہے۔
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم
”کیا ایسا نہیں کہ حائضہ نماز پڑھتی ہے نہ روزہ رکھتی ہے۔“
(صحيح البخاري: 304، صحيح مسلم: 79)
❀ معاذہ رحمہا اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے سوال و جواب بیان کرتی ہیں:
ما بال الحائض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة فقالت أحرورية أنت قلت لست بحرورية ولكني أسأل قالت كان يصيبنا ذلك فنؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلاة
”عرض کیا: حائضہ روزے کی قضا تو دیتی ہے، نماز کی قضا کیوں نہیں دیتی؟ فرمایا: آپ حروریہ ہیں؟ عرض کیا نہیں، میں حروریہ نہیں ہوں، فقط سوال کیا ہے، فرمایا: ہم ماہواری میں ہوتیں تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا، نماز کی قضا کا نہیں۔“
(صحيح البخاري: 321، صحيح مسلم: 335)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إجماع أن الحائض لا تصوم في أيام حيضتها وتقضي الصوم ولا تقضي الصلاة لا خلاف في شيء من ذلك والحمد لله
”اجماع ہے کہ عورت ماہواری میں روزے نہیں رکھ سکتی، بلکہ بعد میں قضا دے گی، البتہ نماز کی قضا نہیں ہے۔ الحمد للہ! اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔“
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 22/107)
حائضہ روزہ نہیں رکھے گی، یہ مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے، البتہ روزے کی حالت میں حیض آ گیا تو اس روزے کی اور باقی روزے جو رہ گئے، ان کی قضا دے گی۔

سوال:

عورت کا حیض ختم ہو چکا ہے اگر اس نے ابھی غسل نہیں کیا تو کیا وہ غسل سے پہلے روزہ رکھ سکتی ہے؟

جواب:

رکھ سکتی ہے، کیونکہ اس کا حیض ختم ہو چکا ہے، اسے طہارت حاصل ہو چکی ہے، البتہ نماز وغیرہ کے لیے غسل ضروری ہے۔

سوال:

بچے یا بچی پر روزہ کب فرض ہوگا؟

جواب:

جب اس میں بلوغت کی کوئی نشانی ظاہر ہو جائے یا پندرہ سال کا ہو جائے۔
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
الاحتلام والإنبات واستكمال خمس عشرة سنة حد للبلوغ الذي يجب على الرجال والنساء بوجود أي واحدة من هذه الخصال كان موجودة الفرائض والحدود وفي المرأة خصلة رابعة تجب بوجودها فيها عليها الفرائض وهي الحيض وقد أجمع أهل العلم على أن بوجود الحيض في المرأة تجب الفرائض
”احتلام، زیر ناف بال اور پندرہ سال عمر مرد اور عورت کی بلوغت کی نشانی ہے، ان میں سے جو بھی علامت پائی جائے، فرائض و حدود کو واجب کر دے گی۔ البتہ عورت کی چوتھی علامت بلوغ ماہواری ہے۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ عورت کو ماہواری آئے تو اس پر فرائض کی ادائیگی واجب ہو جاتی ہے۔“
(الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف: 4/388)

سوال:

اگر حاملہ کو بچے کی ولادت سے ایک دو دن پہلے خون آئے تو کیا وہ اس دوران نماز روزہ کرے گی؟

جواب:

یہ دمِ فاسد ہے، عورت بدستور پاک ہے، نماز روزہ جاری رکھے گی۔

سوال:

کیا روزہ دار خوشبو کی دھونی لے سکتا ہے؟

جواب:

کوئی حرج نہیں۔

سوال:

قضائے عمری کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:

رمضان میں جمعۃ الوداع کے موقع پر ایک بدعت تراش لی گئی ہے، اسے قضائے عمری کہتے ہیں۔ نماز ایجاد کر کے اس کے ثبوت میں ایک حدیث بھی گھڑ لی گئی ہے۔
یہ ائمہ محدثین کے عقیدہ و عمل کے خلاف ہے۔
علمائے امت کے متفقہ فہم اور اجماع کے برخلاف کسی رائے کو دین کا درجہ دینا دراصل اسلام میں رخنہ اندازی کرنا ہے۔
❀ علامہ ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ (1014ھ) فرماتے ہیں:
حديث من قضى صلاة من الفرائض في آخر جمعة من شهر رمضان كان ذلك جابرا لكل صلاة فائتة في عمره إلى سبعين سنة باطل قطعا لأنه مناقض للإجماع على أن شيئا من العبادات لا يقوم مقام فائتة سنوات ثم لا عبرة بنقل النهاية ولا ببقية شراح الهداية فإنهم ليسوا من المحدثين ولا أسندوا الحديث إلى أحد من المخرجين
”حدیث ’جس نے رمضان کے آخری جمعہ کو قضا نماز پڑھی، یہ اس کی عمر کے ستر برس تک فوت ہونے والی تمام نمازوں کا کفارہ ہوگی‘ قطعی باطل ہے، کیونکہ اجماع سے ثابت ہے کہ فوت شدہ عبادات کی کمی پوری نہیں ہو سکتی اور یہ اس اجماع کے مخالف ہے، دوسرے یہ کہ صاحب ہدایہ اور شارحین ہدایہ کی نقل غیر معتبر ہے، یہ لوگ نہ تو خود محدث تھے، نہ انہوں نے روایت کی نسبت کسی محدث کی طرف کی ہے۔“
(الأسرار المرفوعة، ص 356، ح: 519)
❀ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
هذا موضوع لا إشكال فيه ولم أجده في شيء من الكتب التي جمع مصنفوها فيها الأحاديث الموضوعة ولكنه اشتهر عند جماعة من المتفقهة بمدينة صنعاء في عصرنا هذا وصار كثير منهم يفعلون ذلك ولا أدري من وضعه لهم فقبح الله الكذابين
”اس کے من گھڑت ہونے میں کوئی دوسری رائے نہیں۔ یہ تو موضوعات پر لکھی جانے والی کتابوں میں بھی نہیں پائی جاتی، اس دور میں فقیہان صنعاء کے ہاں مشہور ہو چکی ہے۔ وہ کثیر تعداد میں اس پر عامل ہیں، میں نہیں جانتا اسے کس نے گھڑا؟ بہر کیف اللہ جھوٹوں کو برباد کرے۔“
(الفوائد المجموعة، ص 54، ح: 115)

الحاصل:

فوت شدہ نمازوں پر توبہ ہے۔ قضائے عمری نامی کسی نماز کا اسلام میں وجود نہیں، لہذا اس بدعت سے خود بھی بچیں اور لوگوں کو بھی آگاہ کریں۔

سوال:

رمضان میں تکمیل قرآن پر مسجد میں لائٹنگ اور چراغاں کرنا کیسا ہے؟

جواب:

رمضان المبارک میں تکمیل قرآن کریم کے موقع پر مسجد میں لائٹنگ کرنا بدعت اور منکر کام ہے۔ خیر القرون میں اس کا وجود نہیں ملتا، بعد کی ایجاد ہے۔ وقت اور مال کا ضیاع ہے، مجوسیوں سے مشابہت ہے۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
صاروا يوقدون النيران الكثيرة للختمة فيجمعون بين تضييع المال والتشبه بالمجوس والتسبب إلى اجتماع النساء والرجال بالليل للفساد ويريهم إبليس أن في هذا إعزازا للإسلام وهذا تلبيس عظيم لأن إعزاز الشرع باستعمال المشروع
”تکمیل قرآن کے موقع پر چکا چوند روشنیوں کا اہتمام کرتے ہیں اور مال کا ضیاع، مجوس سے مشابہت اور رات میں مرد و زن کے اختلاط جیسے کئی فسادات کا موجب بنتے ہیں۔ شیطان یہ چکمہ دیتا ہے کہ یہ عمل اسلام کی سر بلندی کا باعث ہے۔ یہ شیطان کی ملمع سازی ہے، کیونکہ اسلام کی سربلندی مشروع ذرائع سے ہی ممکن ہے۔“
(تلبيس إبليس، ص 138)
❀ علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ (737ھ) فرماتے ہیں:
لا يزاد في ليلة الختم شيء زائد على ما فعل في أول الشهر لأنه لم يكن من فعل من مضى بخلاف ما أحدثه بعض الناس اليوم من زيادة وقود القناديل الكثيرة الخارجة عن الحد المشروع لما فيها من إضاعة المال والسرف والخيلاء سيما إذا انضاف إلى ذلك ما يفعله بعضهم من وقود الشمع وما يركز فيه فإن كان فيه شيء من الفضة أو الذهب فاستعماله محرم لعدم الضرورة إليه وإن كان بغيرهما فهو إضاعة مال وسرف وخيلاء
”جو کچھ آغاز رمضان میں کیا جاتا ہے، تکمیل قرآن کی رات اس سے زائد کچھ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اسلاف امت کی مخالفت ہے۔ آج کل بعض لوگوں نے اس فانوس اور روشنیوں کا انتظام شروع کر دیا ہے جس سے شرعی حدود پر زد آتی ہے، کیونکہ اس میں مال کا ضیاع، اسراف اور فخر و تکبر ہے۔ بعض لوگ خصوصی طور پر شمعیں وغیرہ روشن کرتے ہیں اور ان موم بتیوں میں طرح طرح کی چیزیں گاڑی جاتی ہیں، یہ اور بھی قبیح عمل ہے۔ اگر تو سونا چاندی گاڑیں تو یہ ممنوع اور حرام ہے اور اگر کوئی اور قیمتی چیز گاڑیں تو مال کے ضیاع، اسراف و تبذیر اور تفاخر کا باعث ہے۔“
(المدخل: 2/302)
اس عمل میں مذاہب باطلہ کی پیروی ہے، لہذا اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

سوال:

کیا روزہ دار دوران سفر روزہ توڑ سکتا ہے؟

جواب:

دوران سفر روزہ ختم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے، رمضان کے بعد قضا کر لے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم صام عام الفتح حتى إذا بلغ الكديد أفطر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال (سفر میں) روزہ رکھا، جب کدید نامی جگہ پر پہنچے تو روزہ توڑ دیا۔“
(صحيح البخاري: 1944، صحيح مسلم: 1113، المنتقى لابن الجارود: 398)

سوال:

درج ذیل روایت کیسی ہے؟
❀ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن شهر رمضان معلق بين السماء والأرض لا يرفع إلا بزكاة الفطر
”بلاشبہ ماہ رمضان آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتا ہے، جب تک صدقہ فطر ادا نہ کیا جائے، اوپر نہیں چڑھتا۔“
(العلل المتناهية لابن الجوزي: 2/8)

جواب:

سند ضعیف ہے۔
➊ محمد بن عبید بصری مجہول ہے۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے مجہول کہا ہے۔
➋ اسماعیل بن ابی خالد کا عنعنہ ہے۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث لا يصح
”یہ حدیث ثابت نہیں۔“
(العلل المتناهية: 2/8)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال صيام العبد معلقا بين السماء والأرض حتى تؤدى زكاة فطره
”بندے کے روزے آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں، تا آنکہ وہ اپنا صدقہ فطر ادا کر دے۔“
(تاريخ بغداد للخطيب: 10/175)
سند سخت ضعیف ہے۔
➊ بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کرتا تھا، آخر سند تک سماع کی تصریح چاہیے۔
➋ عبدالرحمن بن عثمان کون ہے؟ معلوم نہیں ہو سکا!
➌ عین ممکن ہے کہ عبدالرحمن بن عثمان اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے مابین ایک یا زیادہ واسطے گرے ہوں۔
➍ محمد بن ابی السری عسقلانی ”کثیر الغلط“ ہے۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث لا يصح
”یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔“
(العلل المتناهية: 2/8)

سوال:

روزے دار کے پاس کوئی شے کھانا کیسا ہے؟

جواب:

روزے دار کے سامنے کھانا کھایا جا سکتا ہے، ممانعت نہیں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة
”جب روزے دار کے سامنے کھایا جائے تو فرشتے اس (روزہ دار) کے لیے دعا کرتے ہیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9618، وسنده صحيح)

سوال:

کیا روزے دار کے لیے دن کے کسی حصہ میں مسواک کرنا مکروہ ہے؟

جواب:

روزے دار دن کے جس حصہ میں چاہے، مسواک کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی وقت مکروہ نہیں۔

سوال:

کیا روزے دار جسم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے نہا سکتا ہے؟

جواب:

نہا سکتا ہے۔

سوال:

حالت روزہ میں خوشبو سونگھنا کیسا ہے؟

جواب:

روزہ میں خوشبو سونگھنا جائز ہے، مکروہ یا ممنوع نہیں۔

سوال:

حالت روزہ میں بوس و کنار سے انزال ہو گیا تو کیا حکم ہے؟

جواب:

اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

سوال:

کیا کان میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

کیا نسوار سونگھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

حالت روزہ میں عمداً تمباکو نوشی کر لی تو کیا حکم ہے؟

جواب:

اس کا روزہ ٹوٹ گیا، اس پر قضا واجب ہے، نیز توبہ و استغفار بھی کرے۔

سوال:

حالت روزہ میں احتلام ہوا تو کھا پی لیا، کیا حکم ہے؟

جواب:

احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جس نے یہ سمجھا کہ احتلام سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کھا پی لیا، اب اس پر روزہ کی قضا واجب ہے۔

سوال:

ایک نوکر نے کام کی شدت کی وجہ سے روزہ افطار کر دیا تو کیا حکم ہے؟

جواب:

کام کی شدت کی وجہ سے افطار کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کام کرتے کرتے بھوک و پیاس اس قدر شدید ہو کہ ہلاکت کا اندیشہ ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے، اس پر قضا واجب ہوگی، کفارہ نہیں۔

سوال:

بیماری یا سفر کی وجہ سے روزہ توڑ دیا، کیا حکم ہے؟

جواب:

اس پر قضا واجب ہے، کفارہ نہیں۔

سوال:

ایک عورت نے شرعی عذر کی بنا پر ماہ رمضان کے روزے قضا کیے، کیا اس کا شوہر اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے؟

جواب:

کسی کی طرف سے روزے نہیں رکھے جا سکتے۔ عورت اپنے روزوں کی قضا خود دے گی، اگر نہیں دے سکتی تو روزوں کا فدیہ ادا کر دے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لا يصلي أحد عن أحد ولا يصوم أحد عن أحد ولكن يطعم عنه مكان كل يوم مدا من حنطة
”کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے نہ روزہ رکھے، بلکہ (روزے کی جگہ) اس کی طرف سے مستحقین کو ہر روز گندم کا ایک مد کھلائے۔“
(السنن الكبرى للنسائي: 2918، وسنده صحيح)

سوال:

نفل روزہ جان بوجھ کر توڑ دے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

نفل روزہ عمداً توڑ دے تو کوئی حرج نہیں۔ اس پر قضا واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ جمہور اہل علم کا مذہب ہے کہ کسی نفل کام کو شروع کیا جائے تو اختتام تک نفل ہی رہتا ہے، واجب نہیں ہوتا، سوائے نفلی حج اور عمرہ کے۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ نفل جب تک شروع نہ کر دیے جائیں، نفل رہتے ہیں، لیکن جب ادا کرنا شروع کر دیا تو مکمل کرنا واجب ہے، مکمل نہ کرنے پر قضا لازم ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقال هل عندكم شيء فقلنا لا قال فإني إذن صائم ثم أتانا يوما آخر فقلنا يا رسول الله أهدي لنا حيس فقال أرينيه فلقد أصبحت صائما فأكل
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے اور پوچھا: کیا گھر میں کھانا موجود ہے؟ عرض کیا: جی نہیں۔ فرمایا: تب میں روزے سے ہوں، پھر کسی اور دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تحفے میں حلوہ آیا ہے، فرمایا: لائیں، ویسے تو صبح میں نے روزہ رکھا تھا، پھر آپ نے حلوہ کھا لیا۔“
(صحيح مسلم: 1154)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
في الرواية الثانية التصريح بالدلالة لمذهب الشافعي وموافقيه في أن صوم النافلة يجوز قطعه والأكل في أثناء النهار ويبطل الصوم لأنه نفل فهو إلى خيرة الإنسان في الابتداء وكذا في الدوام وممن قال بهذا جماعة من الصحابة وأحمد وإسحاق وآخرون ولكنهم كلهم والشافعي معهم متفقون على استحباب إتمامه
”دوسری روایت امام شافعی اور آپ کے موافقین کی دلیل ہے کہ نفلی روزہ توڑ کر کچھ کھا لینا جائز ہے، اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا، کیونکہ یہ نفل ہے اور نفل جیسے ابتدا میں انسان کی مرضی پر ہوتا ہے، ایسے ہی اسے جاری رکھنا بھی مرضی پر موقوف ہے۔ یہ موقف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق رحمہم اللہ وغیرہم کا ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ سمیت تمام اسے مکمل کرنا مستحب سمجھتے ہیں۔“
(شرح النووي: 8/35)
❀ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
إن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها يوم الجمعة وهي صائمة فقال أصمت أمس قالت لا قال تريدين أن تصومي غدا قالت لا قال فأفطري
”جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے، میں روزہ سے تھی، پوچھا: کل آپ نے روزہ رکھا تھا؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: آئندہ کل کا ارادہ ہے؟ عرض کیا نہیں، فرمایا: تو پھر افطار کر دیں۔“
(صحيح البخاري: 1986)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
دل على أن الشروع في العبادة لا يستلزم الإتمام إذا كانت نافلة بهذا النص في الصوم وبالقياس في الباقي فإن قيل يرد الحج قلنا لا لأنه امتاز عن غيره بلزوم المضي في فاسده فكيف في صحيحه وكذلك امتاز بلزوم الكفارة في نفله كفرضه
”یہ حدیث دلیل ہے کہ نفلی عبادت کا آغاز کرنے پر اسے مکمل کرنا ضروری نہیں۔ روزوں میں تو یہ واضح نص ہے اور باقی عبادات میں اس پر قیاس کیا جائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ پھر تو حج میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے! ہم کہیں گے کہ نہیں، حج اس سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ حج فاسد ہو جائے تب بھی اسے جاری رکھنا ضروری ہے، چہ جائیکہ حج کو درمیان میں چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح فرض حج کی طرح نفل حج میں بھی کفارہ لازم ہوتا ہے، لہذا اسے دیگر عبادات پر قیاس کرنا درست نہیں۔“
(فتح الباري: 4/107)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے:
باب صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه
”نفلی روزہ اور اسے مکمل کرنے سے پہلے افطار کا بیان۔“
(السنن الكبرى: 4/455)
❀ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
آخى النبي صلى الله عليه وسلم بين سلمان وأبي الدرداء فزار سلمان أبا الدرداء فرأى أم الدرداء متبذلة فقال لها ما شأنك قالت أخوك أبو الدرداء ليس له حاجة في الدنيا فجاء أبو الدرداء فصنع له طعاما فقال كل قال فإني صائم قال ما أنا بآكل حتى تأكل قال فأكل فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال النبي صلى الله عليه وسلم صدق سلمان
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہما میں مواخات قائم کی۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملنے آئے تو دیکھا کہ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی حالت پراگندہ ہے۔ پوچھا: یہ کیا؟ کہا: آپ کے بھائی ابو درداء کو دنیا کی کوئی غرض نہیں۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ آئے اور سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا پیش کیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کھایئے، فرمایا: میں روزے سے ہوں۔ فرمایا: آپ کھائیں گے تو میں کھاؤں گا، تو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کھا لیا۔ اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمان نے درست کیا۔“
(صحيح البخاري: 1968)

❀ امام بخاری رحمہ اللہ کی تبویب:
باب من أقسم على أخيه ليفطر في التطوع ولم ير عليه قضاء إذا كان أوفق له
”کسی پر قسم اٹھا دی کہ وہ نفل روزہ افطار کر دے گا، اب اگر اس نے روزہ افطار کر دیا ہے تو اس پر قضا نہیں۔“
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
فيه جواز الفطر من صوم التطوع كما ترجم له المصنف وهو قول الجمهور ولم يجعلوا عليه قضاء إلا أنه يستحب له ذلك
”ترجمتہ الباب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حدیث میں نفلی روزہ افطار کرنے کا جواز ہے۔ جمہور کا یہی مذہب ہے، نیز روزہ توڑنے والے پر قضا ضروری نہیں، البتہ مستحب ہے۔“
(فتح الباري: 4/212)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہے:
إنه أخبر أصحابه أنه صائم ثم خرج عليهم ورأسه يقطر فقالوا أولم تك صائما قال بلى ولكني مرت جارية لي فأعجبتني فأصبتها وكانت حسنة هممت بها وأنا قاضيها يوما آخر
”آپ رضی اللہ عنہما نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ میں روزے سے ہوں، بعد میں ان کے پاس آئے تو سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے، شاگردوں نے پوچھا: آپ تو روزے میں تھے؟ فرمایا: جی ہاں، روزے میں ہی تھا، مگر میرے پاس سے میری لونڈی گزری، وہ مجھے اچھی لگی، وہ خوب صورت بھی تھی تو میں نے اس سے مقاربت اختیار کر لی، اب اس روزے کی قضا کسی دوسرے دن دوں گا۔“
(شرح معاني الآثار للطحاوي: 2/111، وسنده صحيح)
❀ انس بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إنه صام يوم عرفة فعطش عطشا شديدا فأفطر فسأل عدة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فأمروه أن يقضي يوما مكانه
”آپ رحمہ اللہ نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا، شدید پیاس لگی تو روزہ افطار کر دیا، پھر بہت سارے صحابہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اس روزے کی قضا کا حکم دیا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9093، وسنده صحيح)

سوال:

جان بوجھ کر فرض روزہ توڑنے پر قضا ہے؟

جواب:

بغیر عذر کے جان بوجھ کر فرض روزہ توڑنے پر قضا ہے، کفارہ نہیں ہے۔ مرض یا سفر کی وجہ سے روزہ افطار کر دے تو دوسرے دنوں میں قضا دے گا، جس نے جان بوجھ کر افطار کیا وہ بالا ولی قضا دے گا، نیز توبہ کرے گا۔
❀ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قاء فأفطر قال فلقيت ثوبان في مسجد دمشق فذكرت ذلك له فقال صدق أنا صببت له الوضوء
”(نفلی روزہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا، کہتے ہیں: دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے اُن سے یہ بات ذکر کی تو کہنے لگے: انہوں نے سچ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروانے کے لیے پانی میں نے ہی بہایا تھا۔“
(سنن أبي داود: 2381، سنن الترمذي: 87، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (8)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1956) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1097) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (1/426) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ امام ابن مندہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إسناده متصل صحيح
”اس کی سند متصل صحیح ہے۔“
(التلخيص الحبير لابن حجر: 2/190)
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ روزہ قے آنے سے نہیں ٹوٹا، بلکہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اختیار سے روزہ توڑ دیا۔ یقینا یہ نفلی روزہ ہوگا۔ اس مفہوم سے تمام دلائل میں تطبیق ہو جاتی ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے:
من قاء وهو صائم فليفطر
”جس نے روزے کی حالت میں (جان بوجھ کر) قے کی، وہ افطار کر دے۔“
(السنن الكبرى للنسائي: 3118، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
من استقاء وهو صائم فعليه القضاء ومن ذرعه القيء فليس عليه القضاء
”جس نے روزے کی حالت میں جان بوجھ کر قے کی، اس پر قضا ہے اور جسے خود بخود قے آئی، اس پر قضا نہیں ہے۔“
(موطأ الإمام مالك: 1/304، وسنده صحيح)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
في رجل تقيأ لم يتعمد ذلك في رمضان فقال أبي أرى أن لا يعيد صوم ذلك فقلت لأبي فإن هو تقيأ تعمد ذلك قال أرى أن يعيد الصوم ذلك اليوم وليس عليه كفارة
”جس شخص کو رمضان کے روزے میں قے آ جائے، اس نے ایسا جان بوجھ کر نہ کیا ہو تو میرے مطابق وہ روزے کی قضا نہیں دے گا۔ (یعنی اس کا روزہ برقرار رہے گا۔) میں (عبداللہ بن احمد) نے والد گرامی سے پوچھا: اگر کوئی جان بوجھ کر قے کرے؟ فرمایا: میرے مطابق وہ اس روزے کی قضا دے، لیکن اس پر کفارہ نہیں ہے۔“
(مسائل الإمام أحمد برواية ابنه عبد الله، ص 184)
جان بوجھ کر قے کرے تو فرض روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس پر قضا ہے، تو جب جان بوجھ کر کھا پی لے تو اس پر بھی قضا ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقضوا الله الذي له فإن الله أحق بالوفاء
”اللہ تعالیٰ کا حق ادا کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے۔“
(صحيح البخاري: 7315)
روزہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اگر جان بوجھ کر توڑ دے گا تو قضا کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حق پورا کرے گا۔
❀ جابر بن زید رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جو شخص جان بوجھ کر رمضان کا روزہ توڑ دے، وہ کیا کرے؟ فرمایا:
ليصم يوما مكانه ويصنع مع ذلك معروفا
”اس کی قضا میں ایک روزہ رکھے، نیز کوئی نیکی بھی کرے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9775، وسنده صحيح)
❀ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو جان بوجھ کر رمضان کا روزہ توڑ دے، فرمایا:
يستغفر الله من ذلك ويتوب إليه ويقضي يوما مكانه
”وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے اور ایک روزے کی قضا دے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9778، وسنده صحيح)

تنبیہ:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ذرعه القيء وهو صائم فليس عليه قضاء وإن استقاء فليقض
”جس کو روزے کی حالت میں خود بخود قے آ جائے، اس پر قضا نہیں ہے (یعنی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا) اور جو قصداً قے کرے، اس پر قضا لازم ہے۔“
(مسند أحمد: 2/498، سنن أبي داود: 2380، سنن الترمذي: 720)
یہ حدیث معلول ہے۔ اس حدیث پر امام احمد بن حنبل اور امام بخاری رحمہما اللہ جیسے ائمہ علل نے جرح کی ہے، اسے مرفوع بیان کرنا خطا ہے۔

سوال:

روزے کی حالت میں غشی آ جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

روزے کی حالت میں غشی آ جائے تو روزہ برقرار ہے۔
❀ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان ابن عمر يصوم تطوعا فيغشى عليه فلا يفطر
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نفل روزہ کے دوران بے ہوش ہو جاتے تو روزہ نہیں توڑتے تھے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 8110، وسنده صحيح)
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا يدل على أن الإغماء خلال الصوم لا يفسده
”یہ اثر دلیل ہے کہ دوران روزہ غشی آ جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا۔“
(السنن الكبرى، تحت الرقم: 8110)