رمضان اور روزوں کے اہم مسائل کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

رمضان اور روزوں کے متفرق مسائل

سوال:

ماہ رمضان شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں تو انسان گناہ کیسے کرتا ہے؟

جواب:

❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
إن المعاصي تقع بميل الطبع إلى الشهوات المحرمة وليس للشيطان إلا التزيين والتحريض
”گناہ اس لیے سرزد ہوتے ہیں کیونکہ طبیعت حرام شہوتوں کی طرف مائل ہو چکی ہوتی ہے، شیطان تو صرف گناہ کو مزین کرتا ہے اور اس پر ابھارتا ہے۔“
(كشف المشكل: 3/409)

سوال:

کیا گرمی کے روزوں کی فضیلت زیادہ ہے؟

جواب:

یقیناً جس روزے میں مشقت زیادہ ہو، اس میں اجر بھی بڑھ جاتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ثلاث من الإيمان أن يحتلم الرجل في الليلة الباردة فيقوم فيغتسل لا يراه إلا الله والصوم في اليوم الحار وصلاة الرجل في الأرض الفلاة لا يراه إلا الله
”تین کام (کمال) ایمان میں سے ہیں؛ ➊ آدمی ٹھنڈی رات میں محتلم ہو جائے، وہ اٹھتا ہے اور غسل کرتا ہے، اسے صرف اللہ ہی دیکھ رہا ہے۔ ➋ سخت گرم دن میں روزہ رکھنا، ➌ بیابان میں نماز ادا کرنا جہاں اسے صرف اللہ ہی دیکھ رہا ہو۔“
(شعب الإيمان للبيهقي: 51، وسنده صحيح)

سوال:

کیا ماہ رمضان میں زکوۃ دینا مستحب ہے؟

جواب:

اسلام نے زکوۃ کے لیے کوئی مہینہ خاص نہیں کیا۔ زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب مال پر سال گزر جائے، خواہ کسی بھی مہینہ میں ہو۔ البتہ اگر کوئی ماہ رمضان میں زکوۃ نکالنے کی ترتیب بنا لے تو ایسا کرنا مستحب ہے، یقیناً رمضان میں اعمال کا اجر بڑھ جاتا ہے تو زکوۃ کی ادائیگی پر بھی دیگر مہینوں کی بہ نسبت رمضان میں زیادہ ثواب ملتا ہے، اس لیے اگر کوئی رمضان کی رمضان زکوۃ نکالے تو ایسا کرنا درست بلکہ بہتر ہے۔
❀ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطبہ دیا اور فرمایا:
هذا شهر زكاتكم
”یہ (رمضان) آپ کی زکوۃ کا مہینہ ہے۔“
(موطأ الإمام مالك: 1/253، مسند الشافعي، ص 97، السنن الكبرى للبيهقي: 7607، وسنده صحيح)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إسناده صحيح وهو موقوف
”اس کی سند صحیح ہے اور یہ موقوف روایت ہے۔“
(المطالب العالية: 5/504)
❀ علامہ ابن الاثیر رحمہ اللہ (606ھ) فرماتے ہیں:
يستحب أن يختار لها شهر من الأشهر الحرم أو شهر رمضان
”مستحب ہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے حرمت والے مہینوں میں سے کسی مہینے کو یا ماہ رمضان کو خاص کر لیا جائے۔“
(الشافي: 3/112)

سوال:

ایک شخص کہتا ہے کہ ”رمضان میں روزے رکھنے سے کچھ حاصل نہیں، بھلا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کیونکر بھوکا رکھے گا؟ میں روزے رکھنے کو بھوک پیاس کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔“ یہ کلمات کہنے والے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

یقیناً کلمہ کفر ہے، اسلام کے بنیادی رکن کا انکار ہے، جو کہ بالاتفاق کفر و ارتداد ہے۔ مگر ایسے شخص کو اتمام حجت کے لیے سمجھایا جائے گا اور توبہ کا کہا جائے گا، اگر مان جائے تو درست، ورنہ وہ مرتد ہو جائے گا اور اس کی سزا قتل ہے، جس کا نفاذ اسلامی حکومت کا مذہبی و قانونی فریضہ ہے۔

سوال:

کیا غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

غیبت حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اس سے روزے کی اجر و ثواب میں کمی واقع ہوتی ہے، مگر روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اس بارے میں تمام روایات ضعیف و غیر ثابت ہیں، بعض اہل علم کی شاذ رائے بھی ہے۔
❀ علامہ ابن مودود موصلی حنفی رحمہ اللہ (683ھ) فرماتے ہیں:
إن العلماء أجمعوا على أن الغيبة لا تفطر ولا اعتبار بالحديث في مقابلة الإجماع
”اہل علم کا اجماع ہے کہ غیبت سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اجماع کے مقابلہ میں (ضعیف) حدیث کا کوئی اعتبار نہیں۔“
(الاختيار لتعليل المختار: 1/133)

سوال:

کیا روزہ جھوٹ اور چغلی سے فاسد ہو جاتا ہے؟

جواب:

یہ دونوں گناہ کبیرہ ہیں، ان سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ اجر و ثواب میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

سوال:

روزے کی حالت میں خون دینا کیسا ہے؟

جواب:

مجبوری ہو تو جائز ہے۔

سوال:

روزے کی حالت میں وکس لگانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

بچے کی ولادت کے کتنے دن بعد روزہ رکھا جائے؟

جواب:

نفاس کا خون آنا بند ہو جائے یا زیادہ سے زیادہ چالیس دن گزر جائیں تو عورت پاک ہے، اس پر نماز اور روزہ فرض ہے۔

سوال:

جمعہ کے دن نفلی روزہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

مستحب یہ ہے کہ جمعہ کے دن کو روزہ کے ساتھ خاص نہ کیا جائے، البتہ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ ساتھ ملا لیا جائے۔ اگر کوئی صرف جمعہ کا روزہ رکھ لیتا ہے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ مطلب کہ بچنا بہتر ہے، رکھ لے تو گناہ گار نہیں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن يوم الجمعة يوم عيد فلا تجعلوا يوم عيدكم يوم صيامكم إلا أن تصوموا قبله أو بعده
”جمعہ کا دن عید کا دن ہے، لہذا اپنے عید کے دن میں روزہ نہ رکھیں، الا یہ کہ اس سے پچھلے یا اگلے دن کا بھی رکھیں۔“
(مسند الإمام أحمد: 2/303، 2/532، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2161) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3610) نے صحیح قرار دیا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔

سوال:

کیا روزے کی حالت میں سر پر مہندی یا خوشبو لگائی جا سکتی ہے؟

جواب:

لگائی جا سکتی ہے، کوئی حرج نہیں۔

سوال:

جہاں روزہ دار بیٹھے ہوں، وہاں اگر بتی سلگانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، کوئی حرج نہیں۔ اس کی خوشبو اور دھوئیں سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

سوال:

روزے میں ان ہیلر کا استعمال کیسا ہے؟

جواب:

روزے کی حالت میں ان ہیلر کا استعمال جائز ہے۔ ان ہیلر میں آکسیجن اور معمولی مقدار میں دوائی وغیرہ شامل ہوتی ہے۔ مجبوری کی حالت میں اس کے استعمال سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ اسے غذا کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا اور نہ اس کی نمی معدہ تک پہنچتی ہے، بلکہ حلق اور پھیپھڑوں میں جاتی ہے۔ یہ ٹیکے کے حکم میں ہے۔ مفتی اعظم سعودی عرب علامہ ابن باز رحمہ اللہ (فتاوی ابن باز: 15/264) اور شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ (مجموع فتاوی ورسائل ابن عثیمین: 19/209) اس کے جواز کے قائل ہیں۔ نیز کثیر علمائے عرب کا یہی فتویٰ ہے۔
(مجلہ بحوث اسلامیہ: 43/155)

سوال:

روزے کی حالت میں لپ اسٹک لگانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

روزے کی حالت میں خون دینا کیسا ہے؟

جواب:

مجبوری ہو تو دیا جا سکتا ہے، بچنا بہتر ہے، کیونکہ خون دینے کے بعد کمزوری اس قدر آ جاتی ہے کہ روزہ توڑنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

سوال:

روزہ کی حالت میں سینگی لگوانا کیسا ہے؟

جواب:

روزہ کی حالت میں سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ دلائل اس پر شاہد ہیں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إن النبي صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی اور روزے کی حالت میں بھی سینگی لگوائی۔“
(صحيح البخاري: 1938)
ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سئل أنس بن مالك رضي الله عنه أكنتم تكرهون الحجامة للصائم قال لا إلا من أجل الضعف
”سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ (عہد نبوی میں) روزہ دار کے لیے سینگی لگوانا مکروہ خیال کرتے تھے؟ فرمایا نہیں، البتہ کمزوری کی وجہ سے مکروہ سمجھتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1940)
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قد ذهب بعض أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم إلى هذا الحديث ولم يروا بالحجامة للصائم بأسا وهو قول سفيان الثوري ومالك بن أنس والشافعي
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور دیگر اہل علم میں سے بعض اس حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے۔ امام سفیان ثوری، امام مالک بن انس اور امام شافعی رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔“
(سنن الترمذي، تحت الرقم: 777)

تنبیہ:

❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفطر الحاجم والمحجوم
”سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے نے روزہ افطار کر لیا۔“
اس صحیح حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، جیسا کہ اوپری احادیث سے ثابت ہوتا ہے، لہذا اس حدیث کا صحیح اور حقیقی مفہوم یہ ہے کہ سینگی لگانے والا اور سینگی لگوانے والا قریب ہے کہ روزہ توڑ بیٹھے۔ سینگی لگانے والے کے حلق سے نیچے خون اتر جائے، یوں اس کا روزہ ٹوٹ سکتا ہے۔ سینگی لگوانے والا خون نکلنے سے اس قدر کمزوری میں چلا جائے کہ روزہ مکمل نہ کر سکے۔ لہذا احتیاط اس میں ہے کہ روزے کی حالت میں سینگی لگوانے سے اجتناب کیا جائے، اگر کوئی لگوا لے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر رات کو لگوا لے تو زیادہ بہتر ہے۔ اس بنا پر بعض اہل علم نے روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
❀ حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:
تأول بعضهم الحديث فقال معنى أفطر الحاجم والمحجوم أي تعرضا للإفطار أما المحجوم فللضعف الذي يلحقه من ذلك فيؤديه إلى أن يعجز عن الصوم وأما الحاجم فلأنه لا يؤمن أن يصل إلى جوفه من طعم الدم أو من بعض أجراحه إذا ضم شفتيه على قصب الملازم وهذا كما يقال للرجل يتعرض للمهالك قد هلك فلان وإن كان باقيا سالما وإنما يراد به أنه قد أشرف على الهلاك
”بعض اہل علم نے اس حدیث کی تاویل کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ حدیث ’سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے نے روزہ افطار کر لیا‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں روزہ توڑنے کے درپے ہو چکے ہیں۔ سینگی لگوانے والا اس کمزوری کی وجہ سے جو (خون نکلنے سے) اسے لاحق ہوتی ہے، ہو سکتا ہے کہ اس کمزوری کی وجہ سے وہ روزہ پورا کرنے سے عاجز آ جائے (اور اسے کچھ نہ کچھ کھانا پینا پڑے)۔ سینگی لگانے والا روزہ توڑنے کا درپے اس لحاظ سے ہے کہ جب وہ سینگی والے آلے پر اپنے ہونٹ رکھے گا تو خون کا ذائقہ یا زخم کا کچھ حصہ اس کے پیٹ میں چلا جانے کا اندیشہ ہے، جیسے جب کوئی شخص کسی ہلاکت والی جگہوں کا قصد کرے تو اسے کہا جاتا ہے کہ فلاں تو ہلاک ہو گیا، حالانکہ وہ بالکل صحیح سلامت باقی ہوتا ہے، دراصل مراد یہ ہے کہ وہ ہلاکت کی طرف مائل ہو چکا ہے۔“
(معالم السنن: 2/110)
کئی شارحین نے حدیث کا یہی معنی بیان کیا ہے۔
❀ اسحاق بن منصور کوسج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
قال عبد الرحمن بن مهدي من احتجم وهو صائم فعليه القضاء وهكذا قال أحمد وإسحاق
”امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے روزے کی حالت میں سینگی لگوائی، اس پر قضا ہے۔ یہی بات امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ نے فرمائی ہے۔“
(سنن الترمذي، تحت الرقم: 774)
احادیث صحیح اور جمہور اہل علم کا موقف ہے کہ سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، یہی راجح ہے، لہذا امام عبدالرحمن بن مہدی، امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا فتویٰ مرجوح ہے۔

سوال:

الٹی آ جائے تو کیا روزہ باقی رہے گا؟

جواب:

الٹی سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

رمضان میں نماز عشاء اکیلے ادا کرنے والا کیا وتر باجماعت ادا کر سکتا ہے؟

جواب:

جی ہاں، ادا کر سکتا ہے۔

سوال:

روزے کی حالت میں سرمہ لگانا کیسا ہے؟

جواب:

درست ہے، سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ روزے میں سرمہ لگانے کی کراہت یا ممانعت ثابت نہیں۔
❀ سلیمان بن مہران اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ما رأيت أحدا من أصحابنا يكره الكحل للصائم
”میں نے نہیں دیکھا کہ ہمارے اصحاب میں سے کسی نے روزے دار کے لیے سرمہ لگانا مکروہ سمجھا ہو۔“
(سنن أبي داود: 2379، وسنده حسن)

تنبیہ:

معبد بن ہوذہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليتقه الصائم
”روزہ دار سرمہ لگانے سے اجتناب کرے۔“
(سنن أبي داود: 2377)
روایت ضعیف و منکر ہے۔
➊ عبدالرحمن بن نعمان بن معبد ”ضعیف“ ہے۔
➋ نعمان بن معبد ”مجہول الحال“ ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے( الثقات: 7/530) میں ذکر کیا ہے۔
❀ اس روایت کو امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے منکر کہا ہے۔
(سنن أبي داود، تحت الحديث: 2377)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی ”منکر“ کہا ہے۔
(مسائل أبي داود: 1891)

سوال:

کیا نابالغ بچوں کو روزہ رکھوایا جا سکتا ہے؟

جواب:

بچوں پر روزہ اگرچہ بلوغت کے بعد فرض ہوتا ہے، مگر انہیں عادت ڈالنے کے لیے شروع سے ہی روزہ رکھوانا چاہیے۔
(بخاری: 1960، مسلم: 1136)
البتہ بچہ کمزور یا بیمار ہو تو نہیں رکھوانا چاہیے۔

سوال:

روزے کی حالت میں بچے کو دودھ پلانے کا حکم کیا ہے؟

جواب:

روزے کی حالت میں ماں بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔ یہ نواقص صوم میں سے نہیں ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”جسم میں داخل ہونے والی ہر چیز (جس پر دلیل قائم ہو) سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جسم سے نکلنے والی (ہر چیز) سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔“
(الأوسط لابن المنذر: 81، وسنده حسن)

سوال:

روزے کی حالت میں احتلام ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ وہ انسان کے اختیار میں نہیں، نیز سویا ہوا انسان مرفوع القلم ہوتا ہے۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
إن العلماء أجمعوا أن الاحتلام بالنهار لا يفسد الصيام
”اہل علم کا اجماع ہے کہ دن میں احتلام ہو جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا۔“
(الاستذكار: 3/291)

سوال:

جان بوجھ کر فرض روزہ توڑنے پر قضا ہے؟

جواب:

بغیر عذر کے جان بوجھ کر فرض روزہ توڑنے پر قضا ہے، کفارہ نہیں ہے۔ مرض یا سفر کی وجہ سے روزہ افطار کر دے تو دوسرے دنوں میں قضا دے گا، جس نے جان بوجھ کر افطار کیا وہ بالا ولی قضا دے گا، نیز توبہ کرے گا۔

سوال:

رمضان میں عمرہ کرنے کی کیا فضیلت ہے؟

جواب:

رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔
(صحيح مسلم: 3037)
یاد رہے کہ یہ برابری ثواب میں ہے۔ رمضان میں عمرہ کرنے سے صاحب نصاب سے فرضیت ساقط نہیں ہوتی، بلکہ اگر وہ صاحب حیثیت ہے تو اس پر حج بدستور فرض ہی رہے گا، تا آنکہ وہ حج ادا کر لے۔

سوال:

کیا ہر روزے کے لیے نیت ضروری ہے؟

جواب:

نیت ہر عمل کے لیے ہے، نیت دل کا عمل ہے۔

سوال:

کیا رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں زکوۃ نکال سکتے ہیں؟

جواب:

جی ہاں۔

سوال:

رمضان میں مریض یا مسافر سفر میں نفل روزے کی نیت کرے تو وہ روزہ نفل ہو گا یا فرض؟

جواب:

ماہ رمضان میں نفل روزے کی نیت کرنا جائز نہیں۔ مریض یا مسافر کو چاہیے کہ اگر روزہ رکھنا چاہتا ہے تو فرض روزے کی نیت کرے اور بعد میں اگر روزہ مکمل کرنا دشوار ہو تو توڑ سکتا ہے، اس پر کفارہ یا گناہ نہیں، صرف قضا واجب ہے۔

سوال:

جو روزے کی حالت میں بھول کر کھا پی لے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، یاد آنے کے بعد اسے چاہیے کہ کھانے پینے سے رک جائے اور روزہ مکمل کرے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أكل ناسيا أو شرب ناسيا فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه
”جس نے بھول کر کھا لیا یا پی لیا، وہ اپنا روزہ مکمل کرے، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے۔“
(صحيح البخاري: 6669)

سوال:

نفل روزے کی نیت کب کی جائے؟

جواب:

نفل روزہ کی نیت طلوع فجر کے بعد بھی کی جا سکتی ہے، بلکہ طلوع آفتاب کے بعد بھی کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ طلوع فجر کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو اور نہ ہم بستری کی ہو۔

سوال:

نذر کے روزے کی نیت کب کی جائے؟

جواب:

نذر کا روزہ واجب ہے، اس کی نیت طلوع فجر سے پہلے کرنا ضروری ہے۔

سوال:

ہندو کے پانی سے روزہ کھولنا کیسا ہے؟

جواب:

پانی پاک ہے تو کھولا جا سکتا ہے۔

سوال:

ثقہ لوگوں نے چاند دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہیں، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

ثقہ کی گواہی ماننا ضروری ہے۔ جنہوں نے روزہ نہیں رکھا، انہوں نے شرعی حکم کی خلاف ورزی کی۔

سوال:

چاند دیکھنے کے لیے مائیکروسکوپ یا جدید آلات کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہونا چاہیے، مگر رؤیت وہی معتبر ہوگی جو بصری ہو، یعنی آنکھ سے دیکھنے کے لیے جدید وسائل کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

سوال:

کیا بیوی نفلی روزہ شوہر کی اجازت کے بغیر رکھ سکتی ہے؟

جواب:

بیوی نفلی روزہ شوہر کی اجازت کے بغیر نہیں رکھ سکتی۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل للمرأة أن تصوم وزوجها شاهد إلا بإذنه
”کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے۔“
(صحيح البخاري: 5195، صحيح مسلم: 1026)
❀ علامہ ابن عطار رحمہ اللہ (724ھ) فرماتے ہیں:
قد اتفق العلماء على أن المرأة لا يحل لها صوم التطوع وزوجها حاضر إلا بإذنه
”اہل علم کا اتفاق ہے کہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھے۔“
(العدة في شرح العمدة: 2/874، التوضيح لابن الملقن: 13/367)

سوال:

شک کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

شک کا روزہ رکھنا درست نہیں۔ اس بارے میں روایت ضعیف ہے۔

سوال:

درج ذیل روایت کا کیا حکم ہے؟
لا يصام يوم الشك إلا تطوعا
”شک والے دن کا (فرض) روزہ نہیں، البتہ نفلی روزہ رکھ سکتے ہیں۔“

جواب:

بے اصل روایت ہے۔
❀ حنفی علما نے بھی اسے بے اصل قرار دیا ہے۔
(درر الحكام لملا خسرو: 1/198، تبيين الحقائق للزيلعي: 1/318، فتح القدير لابن الهمام: 2/496، الدر المختار للحصكفي، ص 143، مجمع الأنهر لشيخي زاده: 1/234، حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 738)

سوال:

روزے کی حالت میں منجن کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

روزہ کی حالت میں سر میں تیل جذب کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

روزہ میں رومال بھگو کر سر پر ڈالنا کیسا ہے؟

جواب:

کوئی حرج نہیں۔

سوال:

کیا روزہ دار پانی میں غوطہ لگا سکتا ہے؟

جواب:

غوطہ لگا سکتا ہے، البتہ یہ احتیاط کرے کہ پانی منہ یا ناک کے ذریعہ پیٹ میں داخل نہ ہو۔

سوال:

روزہ کی حالت میں نسوار منہ میں رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز نہیں۔ اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

سوال:

تمباکو کا پتہ جلا کر اس کی راکھ سے روزے دار کے دانت صاف کرنا کیسا ہے؟

جواب:

اگر راکھ کا اثر پیٹ میں نہ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

روزے دار کی نکسیر پھوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

روزہ میں بار بار غسل کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

روزے میں انجکشن کا کیا حکم ہے؟

جواب:

حالت روزہ میں اگر انجکشن لگانا ضروری ہو تو لگایا جا سکتا ہے۔

سوال:

روزہ دار کا آنکھ میں دوا ڈالنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

دودھ پلانے سے عورت کا روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب:

نہیں۔

سوال:

ریت منہ میں گئی، پھر تھوک دیا، کیا روزہ باقی ہے؟

جواب:

روزے پر کچھ اثر نہیں ہوا۔

سوال:

دانت سے خون آ گیا، روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

دانت سے خون آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اسے چاہیے کہ کلی کرے اور خون کو تھوک دے۔

سوال:

روزہ دار عورت اپنی شرمگاہ میں دوا رکھے تو روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اس سے روزہ نہ ٹوٹے گا۔

سوال:

تھوک کو نگلنے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟

جواب:

نہیں۔

سوال:

تالاب میں نہا رہا ہے، ہوا خارج ہوئی تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

جواب:

اس سے روزہ نہ ٹوٹے گا۔

سوال:

روزہ کی حالت میں بواسیر کے زخموں پر مرہم لگانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، اس سے روزہ نہ ٹوٹے گا۔

سوال:

تمباکو سونگھنے سے روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

حالت روزہ میں سرمہ اور تیل لگانا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

روزہ کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کا) بوسہ بھی لے لیتے تھے اور جسم کے ساتھ جسم بھی ملا لیتے تھے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی بہ نسبت خواہش پر زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1106)

سوال:

حالت روزہ میں سو گیا، جاگا تو منہ میں خون دیکھا، کیا حکم ہے؟

جواب:

روزے میں کچھ خلل واقع نہیں ہوا۔

سوال:

رمضان میں جنابت کا غسل طلوع فجر کے بعد کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، اس سے روزے میں کچھ حرج واقع نہیں ہوتا۔ حالت جنابت میں روزہ رکھنا جائز ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدركه الصبح وهو جنب فيغتسل ويصوم
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت جنابت میں صبح ہو جاتی تو غسل کرتے اور روزہ رکھ لیتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1925، صحيح مسلم: 1109، المنتقى لابن الجارود: 392)
❀ حافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (702ھ) فرماتے ہیں:
اتفق الفقهاء على العمل بهذا الحديث وصار ذلك إجماعا أو كالإجماع
”فقہا کا اتفاق ہے کہ اس حدیث پر عمل کرنا جائز ہے، اس مسئلہ کے جواز پر اجماع ہے یا قریب قریب اجماع ہے۔“
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: 2/11)

سوال:

مسوڑوں کا خون حلق میں چلے جانے سے روزہ باقی رہا یا نہیں؟

جواب:

مسوڑوں کا خون باہر تھوکنا چاہیے، اگر غیر ارادی طور پر حلق میں چلا گیا تو روزہ برقرار ہے۔

سوال:

پان کی سرخی تھوک میں ملی ہے، اسے نگلنے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب:

نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

کیا حقہ پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

جی ہاں۔

سوال:

شرمگاہ میں دخول سے روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

حالت روزہ میں دخول جائز نہیں۔ اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس پر کفارہ لازم ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں رمضان (روزہ کی حالت) میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا آپ غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؟ عرض کیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہیں؟ عرض کیا: نہیں! پوچھا: کیا آپ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں؟ عرض کیا: نہیں، فرمایا: بیٹھ جائیے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لیں اور صدقہ کر دیں۔ اس نے کہا: کیا ایسے گھرانے پر صدقہ کروں جو ہم سے زیادہ ضرورت مند ہے؟ ان دو سیاہ پہاڑوں کے درمیان (یعنی مدینہ میں) ہمارے گھر سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں اور فرمایا: اسے لے جائیں اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دیں۔“
(صحيح البخاري: 1936، صحيح مسلم: 1111)

سوال:

کیا مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

بلاشبہ جلق (مشت زنی) ناجائز، حرام اور لغو حرکت ہے۔ یہ انتہائی قبیح اور رسوا کن گناہ ہے۔ دین و دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سے قوائے جسمانی کمزور ہو جاتے ہیں، قبل از وقت بڑھاپا چھا جاتا ہے۔ چہرے کی رعنائی ختم ہو جاتی ہے۔ نامردی اور بانجھ پن کا سبب ہے۔ نسیان کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ اعصابی، دماغی اور جسمانی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
عامة العلماء على تحريمه وقال بعض العلماء إنه كالفاعل بنفسه وهي معصية أحدثها الشيطان وأجراها بين الناس حتى صارت قيلة ويا ليتها لم تقل ولو قام الدليل على جوازها لكان ذو المروءة يعرض عنها لدناءتها
”اکثر اہل علم مشت زنی کو حرام سمجھتے ہیں، بعض اہل علم نے تو کہا ہے کہ یہ اپنے ہی ساتھ زنا کرنے کے مترادف ہے۔ یہ معصیت ہے، اسے شیطان نے ایجاد کیا اور لوگوں میں جاری کر دیا، یہاں تک کہ یہ ایک بحث و مباحثہ بن چکا ہے، کاش کہ اس پر گفتگو ہی نہ کی جاتی۔ اگر اس کے جواز پر دلیل بھی قائم ہو جائے تب بھی معزز لوگ اس کے گھٹیا پن کی وجہ سے اس سے اعراض کریں گے۔“
(تفسير القرطبي: 12/106)
روزہ میں کوئی مشت زنی کر لے تو حرام اور کبیرہ گناہ تو ہے ہی، مگر اس کا روزہ باقی رہے گا یا نہیں؟ یہ ایک فقہی مسئلہ ہے۔
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ روزے میں مشت زنی کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
ان کے مد نظر یہ دلیل ہے:
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يترك طعامه وشرابه وشهوته من أجلي
”میرا بندہ میرے لیے کھانا پینا اور شہوت ترک کر دیتا ہے۔“
(صحيح البخاري: 1894، صحيح مسلم: 1151)
❀ علامہ سمرقندی حنفی رحمہ اللہ (540ھ) فرماتے ہیں:
استمنى بالكف فأنزل فإنه يفسد لأنه اقتضى شهوته بفعله
”اگر کسی نے ہاتھ کے ساتھ مشت زنی کی اور انزال ہو گیا تو اس کا روزہ فاسد ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے مشت زنی کے ساتھ اپنی شہوت پوری کر لی ہے۔“
(تحفة الفقهاء، ص 358)
بے شک مشت زنی کے ساتھ شہوت پوری کرنا جائز نہیں، مگر اس سے روزہ ٹوٹنے کا استدلال بھی درست نہیں، کیونکہ مشت زنی صورتاً اور معنیً جماع نہیں ہے۔
❀ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن أمنى الصائم أفطر
”اگر روزہ دار (مشت زنی کے ذریعے) منی خارج کر دے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9482، وسنده صحيح)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
أما من استمنى فأنزل فإنه يفطر
”جس نے مشت زنی کی اور انزال ہو گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔“
(مجموع الفتاوى: 25/224)
❀ علامہ رافعی رحمہ اللہ (623ھ) فرماتے ہیں:
المني إن خرج بالاستمناء أفطر وإن خرج بمجرد الفكر والنظر فلا
”منی اگر مشت زنی سے خارج ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر محض سوچنے اور دیکھنے سے خارج ہو تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔“
(الشرح الكبير: 6/388)
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:
كالمستمني بالكف على ما قالوا يعني لا يفطر وفيه نظر قال في الذخيرة هذا قول أبي بكر وأبي القاسم وعامة المشايخ على خلافه وهو قول الأئمة الثلاثة قال في الينابيع وهو المختار
”اسی طرح ہتھیلی سے مشت زنی کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جبکہ یہ موقف محل نظر ہے۔ ’ذخیرہ‘ میں لکھا ہے: یہ ابو بکر اور ابو القاسم کا مؤقف ہے۔ مگر اکثر مشائخ اس کے خلاف ہیں، ائمہ ثلاثہ کا بھی یہی موقف ہے۔ ’ینابیع‘ میں مندرج ہے کہ یہی مختار قول ہے۔“
(التنبيه على مشكلات الهداية: 9/207، البناية للعيني: 2/330)
❀ علامہ طحطاوی حنفی رحمہ اللہ (1231ھ) فرماتے ہیں:
لو استمنى بكفه فعامة المشايخ أفتوا بفساد الصوم وهو المختار
”اگر کوئی ہاتھ سے مشت زنی کرے تو اکثر مشائخ فتویٰ دیتے ہیں کہ اس کا روزہ فاسد ہو جاتا ہے، یہی مختار قول ہے۔“
(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 658)

راجح موقف :

راجح موقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ مشت زنی سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں۔ اسے جماع پر قیاس کرنا کئی وجوہ سے درست نہیں۔ جماع سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، اس پر کفارہ ہے، جن اہل علم کے نزدیک مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، وہ اس پر کفارہ واجب نہیں سمجھتے۔
❀ علامہ البانی رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں:
لو كان هذا صحيحا لكان إيجاب الكفارة في الاستمناء أولى من إيجابها على الإيلاج بدون إنزال وهم لا يقولون أيضا بذلك فتأمل تناقض القياسيين
”اگر یہ موقف صحیح ہوتا تو بغیر انزال کے دخول پر کفارہ کے واجب ہونے کی بہ نسبت مشت زنی پر کفارہ واجب قرار دینا زیادہ اولیٰ ہوتا، جبکہ یہ لوگ اس کے قائل نہیں ہیں، تو قیاس والوں کے تناقض پر ذرا غور کیجئے۔“
(تمام المنة، ص 419)
❀ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
ممن ينقض الصوم بالإنزال للمني إذا تعمد اللذة ولم يأت بذلك نص ولا إجماع ولا قول صاحب ولا قياس
”بعض اہل علم کے نزدیک اس شخص کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے جو جان بوجھ کر منی خارج کرتا ہے۔ جبکہ اس پر کوئی نص، اجماع، قول صحابی یا قیاس نہیں ہے۔“
(المحلى بالآثار: 4/338)
❀ محدث البانی رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں:
لا دليل على الإبطال بذلك وإلحاقه بالجماع غير ظاهر ولذلك قال الصنعاني الأظهر أنه لا قضاء ولا كفارة إلا على من جامع وإلحاق غير المجامع به بعيد وإليه مال الشوكاني وهو مذهب ابن حزم
”مشت زنی سے روزہ باطل ہونے پر کوئی دلیل نہیں اور اسے جماع پر قیاس کرنا درست نہیں، اسی لیے امیر صنعانی رحمہ اللہ نے فرمایا: درست بات یہی ہے کہ قضا اور کفارہ صرف جماع کرنے والے پر ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور کو جماع کرنے والے پر قیاس کرنا بعید ہے۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ کا میلان بھی اسی طرف ہے اور علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔“
(تمام المنة، ص 418)

فائدہ :

ثقہ فقیہ جابر بن زید رحمہ اللہ (93ھ) کے بارے میں ہے:
عن رجل نظر إلى امرأته في رمضان فأمنى من شهوتها هل يفطر قال لا ويتم صومه
”آپ رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو رمضان میں اپنی بیوی کی طرف دیکھتا ہے، شہوت کی وجہ سے اس کی منی خارج ہو جاتی ہے، تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ فرمایا نہیں۔ وہ روزہ پورا کرے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9480، وسنده حسن)