اونٹ کو ذبح کرنے کا طریقہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

اونٹ کو ذبح کرنے کا طریقہ

توفیق الہی سے اس بارے میں ذیل میں تین باتیں پیش کی جا رہی ہیں:
➊ اونٹ کو ذبح کرنے کا قرآن و سنت سے ثابت شدہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو کھڑا کر کے ذبح کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ﴾
”اور قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لیے اللہ تعالیٰ [کی عبادت] کے نشانات قرار دے دیے ہیں، ان میں تمہارے لیے بہتری کی بات ہے، پس انہیں کھڑے کھڑے ذبح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو۔“
(22-الحج:36)
[صواف] کی تفسیر میں امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”قياما“ یعنی کھڑے ہونے کی حالت میں۔
ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، كتاب الحج، باب نحر البدنة قائمة، 5543
➋ علاوہ ازیں اونٹ کی بائیں ٹانگ کو باندھ لیا جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے اونٹوں کو قربانی کے وقت اس طرح ذبح کرتے تھے۔
امام ابوداؤد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”أن النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه كانوا ينحرون البدن معقولة اليسرى قائمة على ما بقي من قوائمها“
”بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹ کو اس حالت میں ذبح کرتے تھے کہ اس کا بایاں پاؤں بندھا ہوتا اور وہ باقی ماندہ تین پاؤں پر کھڑا ہوتا۔“
سنن أبي داود كتاب المناسك، باب كيف تنحر البدن؟ رقم الحديث 1764، 128/5 – 129. امام نووی اور شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: شرح النووي 69/9 وصحيح سنن أبي داود (331/1).
➌ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اونٹ کو ذبح کرنے کے لیے بٹھا دیا تھا تو آپ نے اسے ایسا کرنے سے منع فرمایا اور سنت کے مطابق ذبح کرنے کا حکم دیا۔ امام بخاری اور امام مسلم نے زیاد بن جبیر سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ: ”میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ایک شخص کے پاس تشریف لائے جس نے اپنی اونٹنی کو ذبح کرنے کے لیے بٹھا دیا تھا، آپ نے فرمایا:
ابعثها قياما مقيدة سنة محمد صلى الله عليه وسلم
”اِسے کھڑا کر کے باندھ لو۔ یہی [حضرت] محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔“
متفق عليه : صحيح البخاري، كتاب الحج، باب نحر الإبل مقيدة، رقم الحديث 1713 ،553/3 وصحيح مسلم، كتاب الحج، باب نحر البدن قياما مقيدة، رقم الحديث 358 (1320) 956/2. الفاظ حدیث صحیح بخاری کے ہیں۔
حافظ ابن حجر حدیث کی شرح میں تحریر کرتے ہیں : وفي هذا الحديث استحباب نحر الإبل على الصفة المذكورة
یہ حدیث اونٹ کو مذکورہ بالا طریقے کے مطابق ذبح کرنے کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔
فتح الباري 553/3؛ نیز ملاحظہ ہو : شرح النووي 69/9.

تنبیہ:

بعض لوگوں کی رائے میں کہ اونٹ کو کھڑا کر کے یا بٹھا کر ذبح کرنے میں فضیلت کے اعتبار سے کچھ فرق نہیں، لیکن یہ رائے قرآن و سنت کے مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں درست نہیں۔