دم کر کے پانی پر پھونک مارنا

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال : کیا دم کر کے پانی پر پھونک ماری جا سکتی ہے ؟ قرآن و سنت کی رو سے مسئلہ کی وضاحت فرما دیں۔
جواب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے والی اشیاء میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن النفخ في الشرب فقال رجل : القذاة اراها في الإناء قال : اهرقها
’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے والی چیز میں پھونک مارنے سے منع کیا، ایک آدمی نے کہا: ’’ اگر برتن میں تنکا دیکھوں تو ؟ ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ پھر اس پانی کو بہا دو۔“ [صحيح] – [رواه الترمذي وأحمد ومالك والدارمي]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے