دجال کی شعبدہ بازیاں صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

دجال کی شعبدہ بازیاں :

عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة فخفض فيه ورفع حتى ظنناه فى طائفة النخل فلما رحنا إليه عرف ذلك فينا فقال ما شأنكم ؟ قلنا : يا رسول الله ذكرت الدجال غداة فخفضت فيه ورفعت حتى ظنناه فى طائفة النخل فقال : غير الدجال أخوفني عليكم إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم ، إنه شاب قطط ، عينه طافئة كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف إنه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا ، يا عباد الله ! فاثبتوا ، قلنا : يا رسول الله ! وما لبثه فى الأرض ؟ قال : أربعون يوما ، يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر أيامه كأيامكم ، قلنا : يا رسول الله فذلك اليوم الذى كسنة أتكفينا فيه صلاة يوم ؟ قال : لا ، اقدروا له قدره ، قلنا : يا رسول الله ! وما إسراعه فى الأرض ؟ قال كالغيث استدبرته الريح فيأتي على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له فيأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم أطول ما كانت ذرى وأسبغه ضروعا وأمده حواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بأيديهم شيء من أموالهم ويمر بالخربة فيقول لها : أخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم عليه السلام فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهروذتين
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کیا تو اسے حقیر اور اس کے فتنے کو عظیم کہا (یا کبھی اونچی اور کبھی آہستہ بات کی) حتی کہ ہمیں گمان ہوا کہ شاید دجال ان درختوں کے جھنڈ میں آگیا ہو پھر ہم بوقت شام آپ کی طرف گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا ماجرا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دجال کے بارے میں اچھی طرح آگاہ کیا تھا اور ہم سمجھے کہ شاید وہ اسی نخلستان میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے دجال سے بڑھ کر فتنوں کا تم پر اندیشہ ہوسکتا ہے؟ اگر دجال میرے جیتے جی نکلا تو میں اس کے درمیان رکاوٹ بن کر تمہیں اس کے شر سے بچالوں گا اور اگر وہ میرے بعد ظاہر ہوا تو تم میں سے ہر ایک شخص بذات خود اس کے خلاف حجت ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ اور نگہبان ہوگا۔ دجال ایک گھنگھریالے بالوں والا نوجوان ہے جس کی ایک آنکھ ابھری ہوگی اور وہ عبد العزی (کافر) کے مشابہہ ہو گا لہذا جو شخص بھی تم میں سے دجال کو دیکھے وہ سورت کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے۔ دجال شام اور عراق کے درمیان ریگستانی راستے سے خارج ہوگا اور دائیں بائیں فتنہ و فساد برپا کرے گا۔ اللہ کے بندو ! ایمان پر ثابت قدم رہنا۔ صحابہ نے پوچھا کہ دجال کتنا عرصہ زمین پر قیام کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چالیس (40) دن جن میں سے ایک دن ایک سال برابر، ایک دن ماہ برابر، ایک دن ہفتے کے برابر ہوگا۔ پھر باقی دن عام دنوں جیسے ہوں گے۔ (یعنی ایک سال، دو ماہ اور دو ہفتے) صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! جو دن سال برابر ہو گا اس میں ہم نمازیں کیسے ادا کریں گے؟ کیا ایک ہی دن کی نمازیں ہمیں کافی ہوں گی؟ آپ نے فرمایا نہیں ! بلکہ تم اس (سال) کا (عام دنوں کے ساتھ) اندازہ کر لینا۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! اس کی چال ڈھال کیسی ہوگی ؟ فرمایا : اس بارش کی طرح جسے ہوا پیچھے سے دھکیلتی ہے۔ پھر وہ ایک قوم کے پاس جا کر انہیں کفر کی دعوت دے گا جسے وہ قبول کر لیں گے تو وہ آسمان کو حکم دے گا اور آسمان بارش برسائے گا پھر وہ زمین کو حکم دے گا تو زمین اناج اگائے گی جن پر ان کے جانور چریں گے جن کے کوہان پہلے سے اونچے تھن پہلے سے کشادہ اور کوکھیں خوب پھولی ہوں گی۔ پھر دجال ایک قوم کے پاس آکر اسے کفر کی دعوت دے گا مگر وہ انکار کر دیں گے تو دجال ان سے پلٹ جائے گا اور وہ لوگ قحط اور خشک سالی کا شکار ہو جائیں گے حتی کہ ان کے ہاتھ میں مال و دولت میں سے کچھ نہ رہے گا جبکہ دجال بنجر اور ویران زمین پر نکلے گا اور اسے حکم دے گا ، اے زمین! اپنے خزانے نکال دے تو زمین کے خزانے اس کے پاس اس طرح جمع ہو جائیں گے جس طرح شہد کی مکھیاں ملکہ مکھی کے پاس ہجوم کرتی ہیں پھر دجال ایک جوان کو بلا کر اس کے دو ٹکڑے کر ڈالے گا جس طرح نشانہ دو ٹوک ہو جاتا ہے پھر اسے (زندہ کر کے) پکارے گا تو وہ جوان چمکتے ، دمکتے اور ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ اس کی طرف چلا آئے گا۔ دریں اثنا اللہ تعالی مشرق کی طرف شہر دمشق میں سفید منارے کے پاس زرد کپڑوں میں ملبوس حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو نازل کر دیں گے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر الدجال (110 – 2937) احمد (248/4) ترمذی (2240) حاکم (537/4) طبری (95/9)
عن حذيفة رضى الله عنه قال : إني سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن مع الدجال إذا خرج ماء ونارا فأما الذى يرى الناس أنها النار فماء بارد وأما الذى يرى الناس أنه ماء بارد فنار تحرق فمن أدرك منكم فليقع فى الذى يرى أنها نار فإنه عذب بارد
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ جب دجال خروج کرے گا تو اس کے ساتھ پانی (جنت) اور آگ (جہنم) ہوگی جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا پانی ہے اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ درحقیقت جلانے والی آگ ہے اگر تم میں سے کسی کو اس (فتنے) کا سامنا ہو تو وہ اس میں داخل ہو جو آگ دکھائی دیتی ہے کیونکہ وہ دراصل ٹھنڈا پانی ہے۔
بخاری : کتاب احادیث الانبیاء : باب ماذکر عن بنی اسرائیل (3450) مسلم (2934) ابو داؤد (3415) ابن ماجة (4122) ابن حبان (6799) طبرانی کبیر (642/17) ابن ابی شیبة (648/8)
عن المغيرة بن شعبة رضى الله عنه قال : ما سأل أحد النبى صلى الله عليه وسلم عن الدجال ما سألته وإنه قال لي : ما يضرك منه ؟ قلت : لأنهم يقولون إن معه جبل خبز ونهر ماء قال : بل هو أهون على الله من ذلك
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دجال کے بارے میں جس قدر سوالات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے ہیں اور کسی سے نہیں پوچھے (تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا تمہیں اس (دجال) سے کیا خطرہ ہے؟ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی۔ فرمایا کہ وہ اللہ تعالی پر اس سے بھی (کئی درجہ) آسان ہے۔
بخاری : کتاب الفتن : باب ذکر الدجال (7122) مسلم (2152) احمد (338/4) ابن ماجة (4124) ابن ابی شیبة (647/8)
عن أبى سعيد رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما حديثا طويلا عن الدجال فكان فيما يحدثنا به أنه قال : يأتى الدجال وهو محرم عليه أن يدخل نقاب المدينة فينزل بعض السباخ التى تلي المدينة فيخرج إليه يومئذ رجل هو خير الناس ، فيقول الدجال : أرأيتم إن قتلت هذا ثم أحييته هل تشكون فى الأمر ؟ فيقولون : لا ، فيقتله ثم يحييه فيقول : والله ما كنت فيك أشد بصيرة مني اليوم فيريد الدجال أن يقتله فلا يسلط عليه
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دجال کے متعلق ایک طویل حدیث سنائی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں یہ بھی تھا کہ دجال آئے گا اور اس کے لئے ناممکن ہوگا کہ وہ مدینہ کی گھاٹیوں (راستوں) میں داخل ہو سکے چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی شور زدہ زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا جو افضل ترین لوگوں میں سے ہوگا اور وہ دجال سے کہے گا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث بیان فرمائی تھی۔ دجال (لوگوں) سے کہے گا کہ اگر میں اس شخص کو قتل کر دوں اور پھر زندہ کر دکھاؤں تو کیا پھر بھی تمہیں میرے (رب ہونے کے) معاملے میں شک ہو گا؟ لوگ کہیں گے نہیں ! چنانچہ وہ اس شخص کو قتل کر دے گا اور پھر زندہ کر دے گا۔ اب وہ شخص کہے گا کہ واللہ ! (خدا کی قسم) مجھے تیرے بارے میں پہلے اتنی بصیرت نہ تھی یعنی اب آچکی ہے (کہ تو واقعی دجال ہے) اس پر دجال پھر اسے قتل کرنا چاہے گا مگر اس مرتبہ وہ اسے مار نہیں سکے گا۔
بخاری: کتاب الفتن : باب لا یدحل الدجال المدینة (7132) مسلم (2938) احمد (46/3) مصنف عبد الرزاق (300/11) کتاب السنة لابن ابی عاصم (390) ابن مندة (1028)