كيا نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے دجال كو ديكها تها ؟
عن ابن عباس رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : رأيت ليلة أسري بى موسى رجلا آدم طوالا جعدا كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى رجلا مربوعا ، مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض سبط الرأس ورأيت مالكا خازن النار والدجال فى آيات أراهن الله إياه فلا تكن فى مرية من لقائه
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شب معراج میں میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا وہ گندمی رنگت، دراز قد، اور گھنگھریالے بالوں والے تھے ایسے لگتا تھا جیسے قبیلہ شنوہ کا کوئی شخص ہو اور میں نے عیسی علیہ السلام کو بھی دیکھا جو درمیانے قد، میانے جسم، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے۔ میں نے جہنم کے داروغے کو بھی دیکھا اور دجال کو بھی دیکھا۔ منجملہ ان آیات کو (دیکھا) جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھائی تھیں (سورہ السجدہ آیت 23 میں اس کا ذکر ہے کہ) لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملاقات کے بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ کریں۔
(بخاری : کتاب بدء الخلق : باب اذا قال احدكم آمين… 3639، مسلم 266، احمد 426/1، دلائل النبوة 495/5)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں سویا ہوا (خواب میں) کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ ایک صاحب جو گندم گوں تھے اور ان کے سر کے بال سیدھے تھے گویا ان سے پانی ٹپک رہا ہے (ان پر میری نظر پڑی) میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسی بن مریم ہیں، پھر میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک موٹے شخص پر نظر پڑی جو سرخ (رنگت) تھا، اس کے بال گھنگھریالے تھے، ایک آنکھ سے کانا تھا گویا اس کی آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبد العزی بن قطن خزاعی سے بہت مشابہت رکھتی تھی۔
بخاری : کتاب الفتن : باب ذکر الدجال (7128) مسلم (169) ابو داؤد (920/2)