خطبوں میں لطیفے اور قرآن کا استہز قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

آج کل بعض خطباء اپنی تقاریر و دروس میں لطیفے سنا کر قرآنی آیات کے ساتھ مذاق کرتے ہیں، مثلاً ایک مشہور بات ہے کہ ایک مولوی صاحب نماز پڑھا رہے تھے، حلوہ سامنے تھا، تو اچانک بلی اسے کھانے آگئی، وہ ﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾ کی آیت پڑھ رہے تھے تو انھوں نے ”الشجرة“ کی شین کو کھینچ کر پڑھا اور بلی بھگا دی، اسی طرح کہتے ہیں کہ بھوک کی وجہ سے انتڑیاں جو ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ﴾ پڑھ رہی ہیں۔

جواب :

خطباء اور واعظین کو اپنے وعظ و نصیحت میں جھوٹی باتیں بیان کر کے عوام کو ہنسانے سے گریز کرنا چاہیے اور سنجیدگی و متانت سے تبلیغ کرنی چاہیے۔ جو لوگ جھوٹی باتیں بیان کر کے عوام کو ہنساتے ہیں ان کے لیے تباہی و بربادی ہے۔ بہتر بن حکیم عن ابیہ عن جدہ کی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
ويل للذي يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له
(سنن أبي داود، كتاب الأدب، باب التشديد في الكذب 4990، سنن الترمذي، کتاب الزهد، باب ما جاء من تكلم بالكلمة ليضحك الناس 2315)
”ویل و ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، تا کہ اس کے ساتھ لوگوں کو ہنسائے، ویل ہے اس کے لیے، پھر ویل ہے اس کے لیے۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی بات بیان کر کے ہنسانے والے کے لیے تین مرتبہ ویل و تباہی، بربادی اور ہلاکت بیان کی ہے۔ اسی طرح قرآن کی آیات کے ساتھ لطیفے بنا کر ہنسانا اور جھوٹی کہانیاں گھڑنا کفر ہے، ایسی مجالس جن میں اللہ اور اس کی آیات کا استہزا کیا جا رہا ہو، اس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ﴾
(التوبة: 65)
”کہہ دیجیے کیا اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ تم استہزا کرتے ہو۔“
پھر فرمایا:
﴿لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾
(التوبة: 66)
”تم عذر نہ کرو، تم تو ایمان لانے کے بعد کفر کر چکے ہو۔“
الہذا قرآنی آیات کے ساتھ استہزا اور ٹھٹھا حرام ہے، ایسا کرنے والے کفر کے مرتکب ہیں، انھیں اپنے عمل سے توبہ کرنی چاہیے۔