کتاب التوحید صحیح البخاری کی روشنی میں اسماء و صفات کا اثبات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ عبداللہ ناصر رحمانی کی شرح کتاب التوحید من صحیح بخاری سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بسم الله الرحمن الرحيم

کتاب التوحید صحیح البخاری

کتاب: مصدر سماعی ہے۔ كَتَبَ، يَكْتُبُ، كَتْبًا، وَكِتَابًا، وَكِتَابَةً

كَتْبًا: یہ مصدر قیاسی ہے۔ جو قاعدہ کے مطابق ،،فَعْلٌ،، کے وزن پر ہے۔

وَكِتَابًا، وَكِتَابَةً: یہ قیاسی نہیں ہے ۔ بلکہ عرب سے سماع پہ موقوف ہیں۔

کتب: اس میں جمع کرنا کا معنی ہے۔ (یعنی)کسی چیز کو جمع کرنا۔

کتاب: کو کتاب اس لیئے کہتے ہیں کہ اس میں بہت سے حروف کلمات اور مضامین جمع ہوتے ہیں۔

التوحید: یہ مصدرہے باب تفعیل سے۔ وَحَّدَ، يُوَحِّدُ، تَوْحِيدًا: تو اللہ تعالی کو یکتا، اکیلا ماننا۔

یہ فہم دین کی بنیاد ہے۔

اگر توحید کامل کا ادراک چاہتے ہیں تو اللہ تعالی کو ان تین چیزوں میں ایک مان لو:

[1] ربوبیت:

اسکا رب ہونا۔ ربوبیت میں وہ اکیلاہے اور اسکا کوئی شریک نہیں۔

ربوبیت کے تین معنی ہیں:

[1] تخلیق:

پیدا کرنا

یہ معنی اثبات اور نفی کے ساتھ دل میں بٹھانا ہے۔ کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا خالق ہے اور اس کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے۔

[2]ملکیت:

اللہ رب العزت ہر چیز کا مالک ہےاور جو کچھ اس نے دیاہے تم (انسان) اس پہ امین ہو۔

تو اللہ رب العزت اس کائنات کا خالق ہے اس کے سوا کوئی مالک نہیں۔

[3] تدبیر:

(یعنی)اللہ تعالی ہی اس کائنات کا مدبّر اور متصرف  اپنے خلقی امور کی تدبیر کرنے والا۔

(اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ) سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے۔ (الاعراف:54)

[2] الوہیت:

اللہ رب العزت کو ایک ماننا۔

کلمہ توحید میں (لا اله الا الله) توحید الوہیت کا اقرار اور اثبات ہے۔

[3] اسماء و صفات:

صحیح البخاری کی کتاب التوحید کا مرکزی موضوع توحید اسماء و صفات ہے۔

ابن بطال: جو کہ شارح ہیں صحیح البخاری کے، انہوں نے یہ باب اس طرح قائم کیا ہے۔ (كتاب رد الجهمية وغيرهم:) [فتح الباری:344/13]

جہمیہ: (بانی:جہم بن صفوان) یہ اللہ رب العزت کے اسماء وصفات کا منکر تھا۔

وغيرهم: میں تین فرقہ اور بھی ہیں۔

(1) الْقَدَرِيَّةُ (2) الْخَوَارِجُ (3) الرَّوَافِضُ

یہ چاروں فرقے بدعات و خرافات کی اصل ہیں۔

(وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا) [الاعراف:180]

الۡاَسۡمَآءُ: اسم کی جمع ہے۔

الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی: موصوف صفت ہے۔

الۡحُسۡنٰی: یہ (اَلْأَحْسَنُ) کی مؤنث ہے

احسنک: اسم تفضیل کا صیغہ ہے (یعنی)جو حسن میں انتہائی کامل و اکمل ہو۔کسی قسم کی کوئی کمی نہ ہو۔

(وَ ذَرُوا الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اَسۡمَآئِہٖ) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں سیدھے راستے سے ہٹتے ہیں۔ [الاعراف:180]

خدا کو اللہ کا مترادف مانا جائے تو گمراہی بڑھ جائیگی۔

جہمیہ نے اللہ کی توحید کا رد کیا ہے۔ یہ اللہ کی ذات پر ایمان رکھتے ھیں۔ لیکن اسکے اسماء و صفات کا انکار کرتے ہیں: اور جہمیہ قرآن کی آیت سے غلط استدلال لے کر گمراہ ہوئے۔

(لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ) [الشوری:11]

اس آیت میں دو جملے ہیں۔ اور دونوں جملے لازم و ملزوم ہیں:

لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ: یہ تنزیہ ہے کہ اللہ تعالی تشبیہ سے پاک ہے۔ تنزیہ کا یہ معنی نہیں کہ تنزیہ کرتے کرتے تعطیل کے باب میں چلے جائیں۔

آگےدو صفات ہیں: جو کہ اثبات ہیں کہ اللہ تعالی السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ہے۔

اگر تشبیہ کے ڈر سے جہمیہ کے بقول کہ اس کے ناموں کا انکار کر دیں، تو نام تو اس آیت میں ثابت ہیں۔ کہ اللہ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ہے۔ اس لیے اس آیت کے دونوں جملوں کو لازم و ملزوم ہونے کی حیثیت سے مانا جائے۔

لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ: ای تنزیہ بلاتعطیل، وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ: اثبات بلاتشبیہ۔

تنزیہ بلاتعطیل: وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ سے ثابت ہو رہا ہے۔ اور اثبات وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ سے ثابت ہو رہا ہے۔ اور بلاتشبیہ کی نفی جو ہمارے سامنے آرہی ہے وہ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ سے ہے۔ یہ دونوں جملے باہم مربوط ہیں اور لازم وملزوم ہیں۔

اللہ کی معرفت ہماری قوت ہے۔

صفات کا انکار ذات کا انکار ہے۔

اللہ کے اسماء وصفات اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے ھیں۔

ہمارا ایمان یہ ھونا چاہئے کے اللہ تعالٰی کے نام برحق ہیں۔ اور سارے نام صفات کے ساتھ ھیں۔

اللہ کی ہر صفت معنی کے ساتھ ہے، معنی سے خالی نہیں۔

مشبّه: أسماء وصفات کو مانتے ہیں۔ لیکن تشبیہ کے ساتھ مخلوقات کی۔

تو صحیح عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسماء وصفات ثابت ہیں۔ لیکن بغیر مخلوق کی تشبیہ کے۔