حسنین کریمین رضی اللہ عنہما
حسنین کریمین، سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری دختر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جگر پارے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بازو ہیں۔ ان شہزادوں نے آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبتوں سے براہ راست حظ اٹھایا ہے، پھر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بھی معتبر ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے :
هما ريحانتاي من الدنيا.
”حسن و حسین رضی اللہ عنہما دنیا میں میرے پھول ہیں۔“
(صحيح البخاري : 5994)
کبھی فرماتے :
”اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما!“
(صحيح البخاري : 3747)
کبھی ان الفاظ میں محبت کے پھول بکھیرتے :
”اللہ! ان پر رحمت فرما، میں بھی ان پر رحم کرتا ہوں۔“
(صحيح البخاري : 6003)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں ہوتے، تو حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپ کے کاندھوں پر سوار ہو جاتے ہیں، کیا خوب سواری ہے اور کیا خوب سوار ہیں! نوابی اسی کا نام ہے، سردار ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔
سیدنا شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فى إحدى صلاتي العشاء وهو حامل حسنا أو حسينا، فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعه، ثم كبر للصلاة فصلى فسجد بين ظهراني صلاته سجدة أطالها، قال أبي: فرفعت رأسي وإذا الصبي على ظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو ساجد فرجعت إلى سجودي، فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال الناس: يا رسول الله، إنك سجدت بين ظهراني صلاتك سجدة أطلتها حتى ظننا أنه قد حدث أمر أو أنه يوحى إليك، قال: كل ذلك لم يكن ولكن ابني ارتحلني فكرهت أن أعجله حتى يقضي حاجته.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مغرب یا عشاء کی نماز پڑھانے کے لیے ہمارے پاس آئے، تو آپ نے سیدنا حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو اٹھا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور انہیں نیچے بٹھا دیا، پھر نماز کے لیے تکبیر کہی، آپ نے سجدہ کیا، تو لمبا سجدہ کر دیا، میرے والد نے سر اٹھا کر دیکھا، تو کیا دیکھتے ہیں کہ بچہ آپ کے کاندھوں پر سوار ہے، میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، نماز کے بعد صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اتنا لمبا سجدہ کر دیا کہ ہمیں آپ کی وفات کا خدشہ لاحق ہو گیا تھا یا ہم سمجھے کہ شاید وحی آگئی ہو، فرمایا: ایسا کچھ نہیں ہوا، میرا بیٹا میرے کاندھے پر سوار ہو گیا تھا، تو میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا شوق پورا ہونے سے پہلے میں اسے اتار دوں۔“
(سنن النسائي : 1141 ، مسند الإمام أحمد : 493/3 ، وسنده حسن)
امام حاکم رحمہ اللہ (165/3) نے اسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید قرار دیا ہے۔
(تلخیص المستدرك : 627/3)
اسی طرح کا ایک منظر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی بیان کیا ہے، فرماتے ہیں :
كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء، فإذا سجد وثب الحسن والحسين على ظهره، فإذا رفع رأسه، أخذهما بيده من خلفه أخذا رفيقا، فيضعهما على الأرض، فإذا عاد عادا، حتى قضى صلاته، أقعدهما على فخذيه، قال: فقمت إليه، فقلت: يا رسول الله، أردهما، فبرقت برقة، فقال لهما: الحقا بأمكما، قال: فمكث ضوؤها حتى دخلا.
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء ادا کر رہے ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے، تو حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپ کے کاندھوں پر بیٹھ جاتے، جب آپ نے سر اٹھانا ہوتا، تو ان کو پیار کے ساتھ پکڑ کر اٹھاتے اور زمین پر بٹھا دیتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر سے سجدہ کرتے، تو وہ پھر آ کر بیٹھ جاتے، اسی طرح نماز پوری ہو جاتی، پھر آپ انہیں اپنی گود میں بٹھا لیتے ہیں، میں انہیں آپ سے لے کر گھر چھوڑنے آتا، ایک روشنی بھی ہمارے ساتھ ہوتی، آپ فرماتے کہ ماں کے پاس چلے جائیے اور یہ روشنی تب تک باقی رہتی، جب تک یہ اندر گھر میں داخل نہیں ہو جاتے تھے۔“
(مسند الإمام أحمد : 513/2 ، دلائل النبوة للبيهقي : 76/6 ، وسنده حسن)
ایک صحابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إنه رأى النبى صلى الله عليه وسلم يضم إليه حسنا، وحسينا ويقول: اللهم إني أحبهما فأحبهما.
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو گلے لگایا اور فرمایا: اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔“
(أحاديث إسماعيل بن جعفر : 314 ، مسند الإمام أحمد : 23133 ، وسنده صحيح)
متواتر حدیث ہے :
الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة.
”حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
(سنن الترمذي : 3781 ، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1194) امام ابن حبان رحمہ اللہ (7126 ، 6960) اور امام حاکم رحمہ اللہ (381/3 ، 151) نے ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
اس حدیث کو حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے متواتر قرار دیا ہے۔
(الأزهار المتناثرة ص 39 ، رقم : 103 ، نظم المتناثر للكتاني ص 196 ، رقم : 235 ، فيض القدير للمناوي : 415/3 ، السراج المنير للعزيزي : 106/3)
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا حديث قد صح من أوجه كثيرة.
”یہ حدیث کئی طرق سے صحیح ہے۔“
(المستدرك على الصحيحين : 167/3)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
كان النبى صلى الله عليه وسلم يعوذ الحسن والحسين، ويقول: إن أباكما كان يعوذ بها إسماعيل وإسحاق: أعوذ بكلمات الله التامة، من كل شيطان وهامة، ومن كل عين لامة.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو اللہ کی پناہ میں دیا کرتے اور کہتے: تمہارا جد امجد (ابراہیم علیہ السلام) بھی ان کلمات سے اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام کو پناہ دیا کرتا تھا : أعوذ بكلمات الله التامة، من كل شيطان وهامة، ومن كل عين لامة. میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، ہر سرکش شیطان اور ہر لگنے والی نظر سے۔“
(صحيح البخاري : 3371)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حد سے زیادہ مشابہ تھے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لم يكن أحد أشبه بالنبي صلى الله عليه وسلم من الحسن بن علي.
”سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کوئی نہ تھا۔“
(صحيح البخاري : 3752)
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ کے بہت زیادہ مشابہ تھے۔
كان أبيض، قد شمط.
”آپ گندمی مائل سفید رنگ کے مالک تھے۔“
(صحيح البخاري : 3544 ، صحيح مسلم : 2342)
اسی طرح سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صلى أبو بكر رضى الله عنه العصر، ثم خرج يمشي، فرأى الحسن يلعب مع الصبيان، فحمله على عاتقه، وقال: بأبي، شبيه بالنبي لا شبيه بعلي وعلي يضحك.
”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز ادا کی، نماز کے بعد جب جا رہے تھے، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا، تو ان کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا، فرمایا: میرا باپ آپ پر قربان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہیں، علی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہنس رہے تھے۔“
(صحيح البخاري : 3542)
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیا، تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ پاس بیٹھے تھے، کہنے لگے: میرے دس بیٹے ہیں اور میں نے ان کو کبھی نہیں چوما۔
نظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: من لا يرحم لا يرحم.
”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر دوڑائی، پھر فرمایا : جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“
(صحيح البخاري : 5997 ، صحيح مسلم : 2318)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں اور راوی حدیث نے پیغمبر کے اخلاق کا تتبع کس طرح کیا ہے، یہ واقعہ عمر بن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے، کہتے ہیں کہ میں تب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، کیا دیکھتا ہوں کہ جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں :
أرني أقبل منك حيث رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل، قال: فكشف عن بطنه، قال: فقبل سرته.
”حسن! مجھے وہ جگہ دکھائیے، جہاں سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوما تھا، میں نے بھی وہیں سے چومنا ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس جگہ سے کپڑا ہٹایا اور آپ نے ان کی ناف کو چوم لیا۔“
(مسند الإمام أحمد : 255/2، 427 ، وسنده حسن)
اسی بڑے نواسے کے متعلق آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے :
اللهم إني أحبه فأحبه وأحبب من يحبه.
”اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے بھی محبت فرما، جو اس سے محبت کرتا ہے۔“
(صحيح البخاري : 5884 ، صحيح مسلم : 2421)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هو متواتر.
”یہ متواتر حدیث ہے۔“
(سير أعلام النبلاء : 251/3)
اس حدیث کے راوی بھی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور اس کے مطابق اپنے عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ما كان أحد أحب إلى من الحسن بن علي، بعد ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال.
”جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے، مجھے حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں ہے۔“
(صحيح البخاري : 5884)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمص لسانه، أو قال: شفته، يعني الحسن بن على صلوات الله عليه، وإنه لن يعذب لسان أو شفتان مصهما رسول الله صلى الله عليه وسلم.
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زبان چوستے ہوئے دیکھا ہے یا کہا کہ ان کے ہونٹ چوستے ہوئے دیکھا ہے اور یقیناً وہ زبان یا ہونٹ جہنم میں نہ جائیں گے، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوسا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 93/4 ، وسنده صحيح)
آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس لاڈلے کو سردار بھی فرمایا ہے :
ابني هذا سيد، ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين.
”میرا یہ بیٹا سردار ہے، شاید کہ اللہ اس کے ہاتھوں امت کے دو مسلمان گروہوں کی صلح کروائے گا۔“
(صحيح البخاري : 3746)
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
تواترت الآثار الصحاح عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال لحسن بن علي: إن ابني هذا سيد، وعسى الله أن يبقيه حتى يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين، رواه جماعة من الصحابة.
”اس سلسلہ میں احادیث متواترہ موجود ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ جلد ہی اس کے ہاتھوں دو عظیم مسلمان گروہوں میں صلح کروائے گا، اس روایت کو صحابہ کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے۔“
(الاستيعاب في معرفة الأصحاب : 384/1)
یہی بات علامہ ابو العباس قرطبی رحمہ اللہ نے بھی کی ہے۔
(المفهم : 296/6)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
في هذه القصة من الفوائد، علم من أعلام النبوة ومنقبة للحسن بن على فإنه ترك الملك لا لقلة ولا لذلة ولا لعلة بل لرغبته فيما عند الله لما رآه من حقن دماء المسلمين فراعى أمر الدين ومصلحة الأمة وفيها رد على الخوارج الذين كانوا يكفرون عليا ومن معه ومعاوية ومن معه بشهادة النبى صلى الله عليه وسلم للطائفتين بأنهم من المسلمين.
”اس حدیث میں کئی علمی فوائد ہیں، مثلاً یہ قصہ اعلام نبوت میں سے ہے، اس میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی منقبت موجود ہے، انہوں نے بادشاہت کو چھوڑ دیا، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کے پاس فوج کم تھی یا وہ کمزور تھے، اس کی کوئی علت سوا اس کے نہ تھی کہ آپ مسلمانوں کا خون بہتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے، انہوں نے امت کی مصلحت اور دین کے امر کا لحاظ کیا، نیز اس روایت میں خوارج کا بھی رد ہے، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ و سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی تکفیر کرتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروہوں کے متعلق مسلمان ہونے کی گواہی دی ہے۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 67/13)
امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
قوله : فئتين من المسلمين، يعجبنا جدا.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں گروہوں کو مسلمان کہنا، ہمارے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے۔“
(الاعتقاد للبيهقي ص : 376 ، وسنده صحيح)
حافظ بیہقی رحمہ اللہ اس قول کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
إنما أعجبهم لأن النبى صلى الله عليه وسلم سماهما جميعا مسلمين، وهذا خبر من رسول الله صلى الله عليه وسلم بما كان من الحسن بن على بعد وفاة على فى تسليمه الأمر إلى معاوية بن أبى سفيان.
”یہ چیز صرف اس لیے خوشی کا باعث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروہوں کو مسلمان قرار دیا ہے، یہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جو خلافت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سونپ دی تھی، اس کی بات ہے۔“
(الاعتقاد ص : 376)
بخدا! ایسا ظرف بھی کسی نے کم دیکھا ہوگا کہ فوج موجود ہے، سلطنت موجود ہے، مگر سب کچھ بیک جنبش لب ٹھکرا دیا کہ مجھے مسلمان کا خون اپنی خلافت سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔
سیدنا جبیر بن نفیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
قلت للحسن بن علي: إن الناس يقولون إنك تريد الخلافة فقال: قد كان جماجم العرب فى يدي يحاربون من حاربت، ويسالمون من سالمت تركتها ابتغاء وجه الله تعالى، وحقن دماء أمة محمد صلى الله عليه وسلم، ثم ابتزها باتناس أهل الحجاز.
”میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ خلافت کی طمع رکھتے ہیں، تو فرمایا: عرب کے بڑے بڑے سورما میری اطاعت میں لڑتے تھے اور جس سے میں صلح کرتا، اس سے صلح کر لیتے تھے، میں نے یہ چیز اللہ تعالیٰ کی رضا اور مسلمانوں کے بہتے خون کو روکنے کے لیے چھوڑ دی ہے، پھر اس پر اہل حجاز سے ناامیدی غالب آ گئی۔“
(المستدرك للحاكم : 4795 ، حلية الأولياء لأبي نعيم : 36/2 ، وسنده صحيح)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی سند کو بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
رجاء بن ربیعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كنت جالسا بالمدينة فى مسجد الرسول صلى الله عليه وسلم، فى حلقة فيها أبو سعيد وعبد الله بن عمرو، فمر الحسن بن علي، فسلم، فرد عليه القوم، وسكت عبد الله بن عمرو ثم اتبعه، فقال: وعليك السلام ورحمة الله، ثم قال: هذا أحب أهل الأرض إلى أهل السماء.
”مدینہ مسجد نبوی میں ایک حلقہ لگا تھا، جس میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما موجود تھے، میں بھی وہیں موجود تھا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور انہیں سلام کہا، لوگوں نے وعلیکم السلام کہا، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نہیں بولے، پھر ان کے پیچھے گئے اور کہا: وعلیک السلام ورحمۃ اللہ، پھر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے: یہ آسمان والوں کے ہاں زمین والوں میں سب سے زیادہ محبوب ہستی ہیں۔“
(مسند البزار كشف الأستار: 2632 ، وسنده حسن)
زہیر بن قمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
بينما الحسن بن على يخطب بعدما قتل على رضى الله عنه إذ قام رجل من الأزد آدم طوال فقال: لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم واضعه فى حبوته يقول: من أحبني فليحبه، فليبلغ الشاهد الغائب، ولولا عزمة رسول الله صلى الله عليه وسلم ما حدثتكم.
”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خطبہ دے رہے تھے کہ ازد قبیلے کا ایک لمبا سا آدمی کھڑا ہوا، کہنے لگا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، حسن رضی اللہ عنہ آپ کی چادر میں تھے اور آپ فرما رہے تھے، جو مجھ سے محبت کرتا ہے، اس سے بھی محبت کرے اور جو یہاں موجود ہیں، وہ آنے والوں کو بتا دیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تاکید کے ساتھ نہ کہی ہوتی، تو میں آپ کو یہ بیان نہ کرتا۔“
(مسند الإمام أحمد : 366/5 ، وسنده صحيح)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے بے شمار احادیث میں ثابت ہے کہ آپ فرماتے ہیں :
حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم…
علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم…
اہل سنت والجماعت کا آپ کے صحابی ہونے پر اتفاق ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أخذ الحسن بن على تمرة من تمر الصدقة، فجعلها فى فيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كخ كخ، ارم بها، أما علمت أنا لا نأكل الصدقة؟
”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے (ایک بار) صدقہ کی کھجور پکڑی اور منہ میں ڈال لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو، اسے نکال پھینک دو، آپ جانتے نہیں کہ ہم (اہل بیت) صدقہ نہیں کھاتے۔“
(صحيح البخاري : 1491 ، صحيح مسلم : 1069)
شہادت حسن بن علی رضی اللہ عنہ
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا، جس کی پاداش میں آپ نے جام شہادت نوش کیا۔ عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں :
دخلت أنا ورجل على الحسن بن على نعوده، فجعل يقول لذلك الرجل: سلني قبل أن لا تسألني، قال: ما أريد أن أسألك شيئا، يعافيك الله، قال: فقام فدخل الكنيف، ثم خرج إلينا، ثم قال: ما خرجت إليكم حتى لفظت طائفة من كبدي أقلبها بهذا العود، ولقد سقيت السم مرارا ما أشد من هذه المرة، قال: فغدونا عليه من الغد فإذا هو فى السوق، قال: وجاء الحسين فجلس عند رأسه، فقال: يا أخي، من صاحبك؟ قال: تريد قتله؟ قال: نعم، قال: لئن كان الذى أظن، الله أشد نقمة، وإن كان بريئا فما أحب أن يقتل بريء.
”میں ایک شخص کے ساتھ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کو آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ اس آدمی سے فرمانے لگے: سوال کیجئے، یوں نہ ہو کہ موقع نہ ملے، اس نے کہا: میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت دے، آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بیت الخلا گئے۔ پھر نکل کر ہمارے پاس آئے، فرمایا: میں نے آپ کے پاس آنے سے پہلے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا (پاخانے کے ذریعے) پھینک دیا ہے۔ میں اسے اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ کر رہا تھا۔ مجھے کئی بار زہر پلایا گیا، لیکن اس دفعہ سے سخت کبھی نہیں پلایا گیا، راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس اگلے دن آئے تو آپ رضی اللہ عنہ حالت نزع میں تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، سرہانے بیٹھ گئے اور کہا: بھائی جان! آپ کو زہر کس نے دیا؟ فرمایا: اس کے قتل کا ارادہ ہے؟ جی ہاں! فرمایا: اگر وہ شخص وہی ہے، جو میں سمجھتا ہوں، تو اللہ تعالیٰ سخت انتقام لینے والے ہیں اور اگر وہ بری ہے، تو میں ایک بری آدمی کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : 93/15-94 ، كتاب المحتضرين لابن أبي الدنيا : 132، المستدرك للحاكم : 174/3، الاستيعاب لابن عبد البر : 115/3، تاريخ ابن عساكر : 282/13، وسنده حسن)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قاتل نامعلوم ہے۔ یہ اتہام کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زہر دیا، بے حقیقت اور بے ثبوت ہے۔
ان کے بعد دوسرے شہزادے کا نمبر آتا ہے، سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، تو ان کی دیگر تمام برکتیں تو گزر چکیں، اک باقی رہ گئی، وہ بھی سن لیجئے، آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
حسين مني وأنا من حسين، أحب الله من أحب حسينا، حسين سبط من الأسباط.
”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے، جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین تو پیارا نواسہ ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 172/4، الأدب المفرد للبخاري : 364، سنن الترمذي : 3775، وقال : حسن، سنن ابن ماجه : 144، المعجم الكبير للطبراني : 274/22، المستدرك للحاكم : 194/3، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6971) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”صحیح“ قرار دیا ہے، ایک روایت میں :
حسين مني، وأنا من حسين.
کے الفاظ بھی ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من أحبني، فليحب هذين.
”جو مجھ سے محبت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ ان دونوں سے بھی محبت کرے۔“
(الطبقات لابن سعد : 382/1، السنن الكبرى للنسائي : 8114، وسنده حسن)
اسے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (887) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (6970) نے صحیح کہا ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا.
”جو کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہے، وہ حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔“
(مسند أبي يعلى : 1874 ، مشيخة الفسوي : 134 ، وسنده صحيح)