کیا رسول اللہ ﷺ پر قربانی واجب تھی؟ روایات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربانی واجب تھی ؟

گزشتہ بحث میں ہم یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ قربانی سنت مؤکدہ ہے، واجب نہیں۔ یہ حکم بلا تخصیص عام ہے اور عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی قربانی مستحب ہی تھی، واجب نہیں تھی۔ البتہ کچھ روایات میں بیان ہے کہ قربانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے واجب اور عام اہل اسلام کے لیے مسنون ہے، لیکن ایسی تمام روایات ناقابلِ حجت اور غیر ثابت ہیں، ذیل میں ہم کچھ روایات پیش کریں گے :
① سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ثلاث هن على فرائض و هن لكم تطوع : النحر، والوتر، و ركعتا الضحى
”تین چیزیں، قربانی، وتر اور چاشت کی دو رکعتیں مجھ پر فرض اور تمھارے لیے غیر واجب ہیں۔“
ضعیف : مسند أحمد : 231/1- مستدرك حاكم : 441/1۔ سنن دار قطنی: 1650۔ ابو جندب یحیی بن ابی حیہ ضعیف اور مدلس ہے۔
② سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أمرت بركعتي الضحى و لم تؤمروا بها، وأمرت بالأضحى و لم تكتب
”میں چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہوں اور تمھیں اس نماز کا حکم نہیں اور مجھے قربانی کا حکم دیا گیا لیکن یہ تم پر واجب نہیں ہے۔“
ضعيف : مسند أحمد : 317/1، 232/1۔ جابر بن یزید جعفی ضعیف راوی ہے۔
③ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أمرت بالوتر والأضحى، ولم يعزم علي
”میں وتر اور قربانی کا حکم دیا گیا ہوں، لیکن ( یہ چیزیں ) مجھ پر فرض نہیں کی گئیں۔“
ضعيف جدا : مصنف عبد الرزاق : 4572- سنن دار قطنی : 21/2 – ضعیف الجامع : 1260۔ عبد اللہ بن محرر الجزری متروک راوی ہے۔