وضاحتِ شبہ
مضمون کے اہم نکات
ايك روايت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھ سے کوئی حدیث روایت کی جائے تو اسے کتاب الله پر پیش کرو، اگر وہ حديث كتاب الله سے متفق ہوتو اسے قبول کرنا اور اگر كتاب الله كے مخالف ہو تو اسے رد كردينا۔
يہ حديث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا گیا ہو، اسے کتاب الله کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے، چنانچہ اگر حديث خود حجت ہوتى تو اپنے ثبوت كے ليے كسى دوسرى چيز كى محتاج نہ ہوتى۔
جوابِ شبہ
پہلى بات
مذکورہ حدیث یا وہ تمام احادیث جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ حدیث کی حجیت کے لیے اس کا قرآن پر پیش کیا جانا ضروری ہے وہ من گھڑت اور جھوٹی روایات ہیں لہذا ان سے استدلال کسی صورت بھی صحیح نہیں کیونکہ فی الواقع وہ احادیث ہیں ہی نہیں بلکہ وہ لوگوں کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
امام خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زنادقہ نے مذکورہ حدیث گھڑی ہے۔ (ديکھيں: الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة، ص: 291)
قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: ” الزَّنَادِقَةُ وَالْخَوَارِجُ وَضَعُوا ذَلِكَ الْحَدِيثَ
ترجمہ: امام عبدالرحمن بن مہدی کہتے ہیں کہ زنادقہ اور خوارج نے مذکورہ حدیث گھڑی ہے۔
(جامع بيان العلم و فضله: 2/ 1189)
دوسرى بات
اگر ہم مذکورہ حدیث کو کتاب اللہ پر پر رکھتے ہیں- جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہے- تو ہم اسے ہی قرآن کے مخالف پاتے ہیں کیونکہ ہمیں کتاب اللہ میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ ہم حدیث میں سے وہ قبول کریں جو کتاب اللہ کے موافق ہو بلکہ کتاب اللہ تو ہمیں اللہ کے ﷺ کی ہر حال ميں پیروی اور اتباع کا حکم دیتی ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا (سورة النساء: 80)
ترجمہ: جو رسول کی فرماںبرداری کرے تو بے شک اس نے اللہ کی فرماںبرداری کی اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (سورة الحشر: 7)
ترجمہ: اور رسول تمھیں جو کچھ دے وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ۔
کتاب اللہ ہمیں آپ ﷺ کی مخالفت سے ڈراتی ہے:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (سورة النور: 63)
ترجمہ: وه لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آ پہنچے۔
تو اس طرح سب سے پہلے یہ حدیث ہی قرآن کی رو سے باطل قرار پاتی ہے۔
تيسرى بات
مذکورہ حدیث کو اگر صحیح مان لیں تو کیا کوئی ذی شعور مسلمان یہ ماننے کو تیار ہے کہ آپ ﷺ سے دو قسم کی باتیں صادر ہوئی ہیں ایک جو کہ کتاب اللہ کے موافق اور دوسری جو کتاب اللہ کے مخالف؟! حالانكہ اللہ کے نبی ﷺ اللہ کا پیغام پہنچانے میں معصوم ہیں الله تعالى فرماتا ہے:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (سورة النجم: 3)
ترجمہ: اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔
چوتھى بات
ایک بات یہ بھی ہے کہ جہاں تک حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کی بات ہے تو یہ تو کسی کی بھی بات کے ساتھ کیا جا سکتا ہے چاہے وہ کوئی صحابی، امام، عالم یا حتى كہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو تو پھر اللہ کے نبی ﷺ کی بات کا کیا مقام و مرتبہ رہ گیا۔!
پانچوىں بات
ایسا ممکن ہی نہیں کہ صحیح حدیث قرآن کے مخالف ہو کیونکہ حدیث بھی وحی ہے: (جيسا كہ ايک سابقہ جواب ميں اس كا ذكر گزر چکا ہے) تو اگر دونوں میں تضاد ہو تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ وحی میں تضاد ہے، اور یہ بات ممكن نہیں كيونكہ وحی ميں اختلاف وتضاداس كی سچائی كے منافی ہے۔
چھٹی بات
اس بات کا تعین کون کرے گا کہ حدیث قرآن کے موافق ہے یا مخالف اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث تو قرآن کے موافق ہے اور دوسرا اس کو مخالفت کی نظر سے دیکھے تو اس طرح حدیث کی قبولیت یا عدم قبولیت کا دارومدارانسانی عقل ٹھہرتی ہے نہ کہ قرآن مجید!
ساتويں بات
اگر کسی چیز کا ثبوت کسی اور چیز کے ساتھ مشروط کر دیا جائے تو درحقیقت ہم اسی چیز کو مان رہے ہوتے ہیں جس کے ساتھ مشروط کرتے ہیں نہ کہ ثابت شدہ چیز کو جیسے کہ کوئی بچہ اپنے والدین سے کہے کہ میں آپ کی بات تب مانوں گا جب آپ میری مرضی کی بات کریں گے تو کیا کوئی شخص ایسے بچے کو والدین کا فرماں بردار کہے گا؟ يقينا نہیں۔