تقلیدِ شخصی کی حقیقت اور اتباعِ رسول ﷺ کی دعوت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

رد تقلید

تقلید کی تعریف: غیر نبی کی بات بلا دلیل تسلیم کر لینے کا نام تقلید ہے۔

تقلید کی ابتدا: ہم نے بدعات کی جو فہرست پیش کی ہے ان میں سر فہرست تقلید ائمہ اربعہ ہے۔ یاد رہے کہ امت مسلمہ کے اتحاد کو جن چیزوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ان میں سر فہرست دوچیزیں ہیں:

[1] شیعہ صاحبان کا امت مسلمہ سے علیحدہ فرقہ بہ بنانا

[2]تقلید ائمہ اربعہ

تقلید ائمہ اربعہ چوتھی صدی ہجری میں شروع ہوئی ۔ حوالہ کے لیے دیکھیے:

[حجة الله بالغه شاہ ولی اللہ: مطبوعه صدیقی بریلی ص:157]،[اعلام الموقعين: مطبوعہ اشرف المطالعہ دہلی:1/122 از حافظ ابن قیم]،[اختلاف امت اور صراط مستقیم، محمد یوسف لدھیانوی حنفی دیوبندی: از مکتبه مدنیه 17اردو بازار لاہور، حصہ اول: ص20تا25]

تقلیدِ شخصی کی حقیقت اور اتباعِ رسول ﷺ کی دعوت – Haq-Ki-Talash_page-0461

تقلیدِ شخصی کی حقیقت اور اتباعِ رسول ﷺ کی دعوت – Haq-Ki-Talash_page-0462

تقلیدِ شخصی کی حقیقت اور اتباعِ رسول ﷺ کی دعوت – Haq-Ki-Talash_page-0463

کیا تقلید واجب ہے؟

یہ بات بہت زیادہ مشہور ہے کہ چار امام برحق ہیں اور عوام پر ان کی تقلید کرنا واجب ہے۔ چار اماموں سے مراد مالک بن انس، ابو حنیفہ نعمان بن ثابت، محمد بن ادریس شافعی، احمد ابن حنبل رحمہم اللہ ہیں ۔ چاروں صاحبان کا بہت بلند علمی مرتبہ ہے اور دین اسلام میں ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، لیکن ان کے درجہ امامت پر فائز ہونے اور عوام پر ان کی تقلید کے واجب ہونے کی کوئی دلیل قرآن و حدیث سے نہیں ملتی ۔ قرآن و حدیث ہی اصل دین ہے، جب یہاں سے ہم کسی بات کا ثبوت پالیں تو پھر تاویل کی گنجائش نہیں رہتی اور جب قرآن وحدیث میں ہمیں کسی بات کا ثبوت نہیں ملتا تو پھر اسے تسلیم کرنے کی کوئی گنجائش ہمارے پاس نہیں۔ اس لیے کہ ہم شریعت کے تابع ہیں، شریعت ساز نہیں۔ چند نادان قسم کے مقلد آیت قرآنی: [فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ] [النحل:43] سے یہ جواز نکالتے ہیں کہ اس آیت میں عوام کو ان کی تقلید کا حکم دیا گیا ہے، حالانکہ ان کا یہ قول اللہ تعالی پر افترا ہے اور اللہ تعالی پر جھوٹ بولتے ہوئے ذرہ برابر بھی نہیں شرماتے۔ سورۃ النحل کی اس آیت کا ماقبل اور ما بعد اس بات کی صاف صاف وضاحت کر رہا ہے کہ یہاں اہل الذکر سے مراد اہل انجیل ہیں نہ کہ امت محمدیہ کے علماء پھر یہ نادان مقلد جو از تقلید اپنے زعم باطل میں ثابت تو کر دیتے ہیں۔ لیکن ہمارا سوال ابھی بھی خم ٹھونک کر کھڑا ہے کہ اس آیت سے اب اپنے چار مزعومہ ائمہ کی تقلید کا بھی ثبوت دو کہ اہل ذکر سے صرف یہی چار مراد ہیں اور یہاں یہ حوالہ بھی بے جا نہ ہوگا کہ مذکورہ بالا آیت سے مراد قرآن و حدیث کا حکم دریافت کرنا ہے، لوگوں کی باتیں مان لینے کا حکم نہیں ہے۔

یہود و نصاری اپنے مولویوں اور درویشوں کا کہنا مانتے تھے، اس لیے اللہ تعالی نے مشرک فرمایا: مومنوں کو حکم دیا کہ لوگوں کے قول مت پوچھو بلکہ یہ پوچھو کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کا کیا حکم ہے۔ (مقدمہ عالمگیری:1/14)

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیم سے لوگوں کو سب سے زیادہ برگشتہ کرنے والی بدعت یہی تقلید ائمہ اربعہ ہے کہ اس کے سبب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے اقوال، احادیث وسنن مبارکہ ترک کر دیں اور ان لوگوں کے اقوال وافعال کی پیروی کرنے لگے ہیں جن کی تقلید کرنے کا حکم نہ اللہ تعالیٰ نے دیا اور نہ رسول اللہ ﷺنے ، کیونکہ وہ نبی نہیں تھے بلکہ امتی تھے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ تقلید چوتھی صدی ہجری میں شروع ہوئی تو وہ مسلمان جو اس تقلید کے شروع ہونے سے پہلے ہی تقلید پر عمل کیے بغیر اس دنیا سے رخصت ہو گئے ان کا کیا بنے گا اور ان میں صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین، تابعین اور تبع تابعین سب لوگ شامل ہیں جو قرون ثلاثہ کے لوگ ہیں کہ جن زمانوں کے متعلق رسول اللہ ﷺنے خیر کی خبر دی اور یہ حدیث [بخاری2651] میں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تقلید سراسر بدعت ہے۔ یہاں ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ شریعت مطہرہ کا بیشتر حصہ وہ ہے جس پر یہ چاروں امام متفق ہیں اور بقول شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ان چاروں بزرگوں کا کسی مسئلہ پر اتفاق کرنا اجماع امت کی علامت ہے یعنی جس مسئلہ پر ائمہ اربعہ متفق ہوں ، سمجھ لینا چاہیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے لے کر آج تک پوری امت اس پر متفق چلی آئی ہے۔ اس لیے ائمہ اربعہ کے اتفاقی مسئلہ سے باہر نکلنا جائز نہیں۔

جواباً عرض ہے کہ ائمہ اربعہ کسی مسئلہ پر متفق ہوں وہ اگر اجماع امت ہے تو سب سے پہلے ائمہ کے مقلدین خصوصا حنفی اس کے مخالف ہیں۔ مثال کے طور پر دو مسئلے جس پر ائمہ اربعہ متفق ہیں لیکن مقلدین اس کے منکر ہیں۔ الا ماشاء اللہ!

تقلید سے ائمہ اربعہ کی ممانعت:

[1] امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

[حرام على من لم يعرف دليلي أن يفتي بكلامي]

میری بات کی دلیل (قرآن وحدیث سے) جس کو معلوم نہ ہو، اس کے لیےمیرے کلام پر فتوی دینا حرام ہے۔ [میزان شعرانی:38]

در مختار میں ہے:

[إذا صح الحديث فهو مذهبي أن توجه لكم دليل فقولوا به]

صحیح حدیث سے جو مسئلہ ثابت ہو جائے وہی میرا مذہب ہے۔ اگر تم کو کوئی دلیل قرآن وحدیث میں مل جائے تو اس پر عمل کرو اور اسی پر فتوی دیا کرو۔ [درمختار:1/50]

[2] امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[إنما أنا بشر أخطئ وأصيب فانظروا في رأیي فكل ما وافق الكتاب والسنة فخذوه وكل ما لم يوافق فاتركوه]

اے لوگو! میں ایک انسان ہوں کبھی میری بات ٹھیک ہوتی ہے اور کبھی غلط تم میری  اس بات کو تو لے لو جو کتاب وسنت کے مطابق ہو اور جو اس کے خلاف ہو اس کو چھوڑدو۔ [ایقاظ طبع هند:102]

شاہ ولی اللہ صاحب امام مالک کا قول نقل فرماتے ہیں:

[ما من أحد إلا وهو مأخوذ من كلامه ومردود عليه إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم]

دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں کہ اس کی تمام باتیں قبول کی جائیں سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔ [الانصاف:13]،[عقد الجيد:80]

(یعنی) دوسروں کی باتوں میں غلطی کا ہونا ممکن ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کی باتیں سو فیصد سچی اور حق ہیں، لہذا ماننے کے قابل صرف آپ ﷺ ہی کی بات ہے۔

[3] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[إذا صح الحديث فهو مذهبي وإذا رأيتم كلامي يخالف الحديث فاعملوا بالحديث واضربوا كلامي الحائط]، 

صحیح حدیث میں جو کچھ ہے وہی میرا مذہب ہے، جب تم میرے کلام کو حدیث کے خلاف پاؤ تو حدیث پر عمل کرو اور میرے قول کو دیوار پر دے مارو۔ [عقد الجيد:81]

نیز آپ فرماتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جب بھی کسی پر سنت رسول ﷺ ظاہر ہو جائے ، اس شخص کے لیے اس سنت کو چھوڑ کر اوروں کے قول پر عمل کرنا حرام ہے۔ [اعلام:2/161]،[ايقاظ:85]

[4] امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ليس لا حد مع الله ورسوله كلام] اللہ و رسول کے مقابلہ میں کسی کا کلام کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ [عقد الجيد:81]

شاہ ولی اللہ صاحب ہی مزید نقل فرماتے ہیں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا:

[لا تقلدوني ولا تقلدن مالكا ولا الأوزاعي ولا الثوري وخذوا الأحكام من حيث أخذوا من الكتاب والسنة]

خبردار! ہرگز ہرگز نہ میری تقلید کرنا، نہ امام مالک کی، نہ اوزاعی کی، نہ ثوری کی، بلکہ جہاں سے یہ بزرگ احکام لیا کرتے تھے وہیں سے تم بھی لیا کرو یعنی قرآن وحدیث ہے۔ [عقد الجيد:81]

یہ ائمہ اربعہ کے اقوال ہیں:

جو تقلید شخصی کی تردید کرتے ہیں ۔ گویا ائمہ اربعہ اس بات پر متفق ہیں کہ تقلید حرام ہے اور بقول شاہ ولی رحمہ اللہ یہ اجماع امت کی علامت ہے۔ اب مقلدین ہی اپنے گریبان میں منہ ڈال کر فرمائیں کہ اس اجماع کی وہ مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ خصوصاً حنفیہ جب کہ ان کی مذہبی کتابوں میں بھی تقلید سے روکا گیا ہے۔ مثلاً شیخ ابن الہمام حنفی [فتح القدیر:3/247] میں فرماتے ہیں:

[فلا دليل على وجوب اتباع المجتهد المعين بالزام نفسه ذلك قولا أو نية] کسی ایک ہی مجتہد اور امام کی ہر ایک بات اپنے اوپر لازم اور واجب کر لینے کی قطعا کوئی دلیل نہیں ہے۔

ائمہ اربعہ کا عقیدہ:

دوسرا مسئلہ جس پر ائمہ اربعہ متفق ہیں عقائد ہے، تمام عقائد کی کتابیں اس پر متفق ہیں کہ ائمہ اربعہ عقائد کے معاملہ میں تفویضی تھے۔ لیکن امام احمد رحمہ اللہ کے مقلدین کے علاوہ ائمہ ثلاثہ کے مقلدین نے اپنے امام کا یہ عقیدہ چھوڑ کر تاویلی عقیدہ جو بعد میں آنے والے متکلمین (جیسے) اشعری و ماتریدی وغیرہ نے بیان کیا ہے، اختیار کیا ہے۔ اب ان ائمہ ثلاثہ کے مقلدین سے عموماً اور امام ابو حنیفہ کے مقلدین سے خصوصاً یہ سوال ہے کہ اس اجماعی عقیدہ کو کیوں چھوڑا گیا ہے ؟ اور اس کو چھوڑنے کی وجہ سے آپ حضرات اجماع کے منکر ہوئے یا نہیں؟ آخر کچھ اختلاف صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین کے مابین بھی تھے۔ لیکن ان میں یہ فرقہ بندی اور فقہی اختلافات کی شدت نہ تھی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ حدیث رسول ﷺکی تلاش میں رہتے تھے۔ اور حدیث رسول ﷺ مل جانے کے بعد وہ اس کی دور از کار تاویلیں اور رکیک تو جیہیں نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیتے تھے ۔ آج بھی اگر مقلدین صدق دل سے احادیث کی وہ حیثیت و اہمیت تسلیم کر لیں جو عہد صحابہ و تابعین میں تھی اور جس کو شریعت نے فی الواقع جو اہمیت و حیثیت دی ہے۔ تو آج بھی اختلافات کی شدت میں معتد بہ کی آسکتی ہے:

[1] قرآن کریم نے یہ بتایا کہ رسول اس لیے آئے کہ جاہلوں اور گمراہوں کو ہدایت پر لائیں۔

[2] قرآن کریم کو اللہ نے آسان اور عام فہم بنایا تا کہ اس سے ہر شخص فائدہ اٹھائے۔

[3] رسول اللہﷺنے فرمایا: کہ میں آسان دین لے کر آیا ہوں۔

تقلید کے متعلق اہل سنت کا عقیدہ:

اصلی سنی کہتے ہیں: کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺنے جو کچھ فرمایا وہ حق ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن وحدیث کا سمجھنا مشکل ہے، تو گویا وہ اللہ و رسول ﷺکو چیلنج کر رہا ہے۔ جس کا وہ بروز قیامت جواب دہ ہوگا اور جو کچھ اصلی سنی کہتے ہیں اس کا عملی ثبوت صحابہ رضي اللہ عنہم اجمعین کی زندگی میں موجود ہے۔ کہ انھوں نے قرآن و حدیث کو رسول ﷺکی زبان مبارک سے سنا اور سمجھ کر عمل کیا اور یہ تمام احکام عبادات و معاملات پر رسول اللہﷺ کے شروع زمانے میں عمل ہوا۔ اور وہ بتواتر نسلاً بعد نسل ہم تک پہنچا اور یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ گویا بشکل کتابت و شکل عمل دونوں طریقوں سے ہمارے پاس وہ احکام من وعن موجود ہیں۔ اگر کبھی عمل میں بر بنائے ذہول و نسیان نقصان واقع ہو جائے تو مکتوبات سے اس کی تشریح کر لی جائے۔

اصلی سنی یہ بھی کہتے ہیں: کہ پڑھے لکھے براہ راست قرآن و حدیث سے اس نقص کی تصحیح کر سکتے ہیں۔ اور ان پڑھ کسی عالم سے جا کر سوال کرے گا کہ اس باب میں قرآن و حدیث میں کیا وارد ہے اور وہ عالم قرآن وحدیث کا حکم بتا دے گا، جس سے اس نقص و خامی کی تصحیح ہو جائے گی۔ اور اس سوال کے لیے کسی ایک ہی کو معین نہیں کیا جاے گا بلکہ جو بھی وقت پر مل جائے گا اس سے پوچھا جائے گا کیونکہ صحابہ کی روش یہی تھی۔ قرآن نے [فسۡـٔلوۡۤا اہۡل الذکۡر انۡ کنۡتمۡ لا تعۡلموۡن] [النحل:43] فرمایا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ زندہ و موجود عالم سے روبرو پوچھ لو، اور کیا پوچھ لو قرآن و حدیث کا یہ حکم نہیں کہ فلاں نے کیا کہا اور فلاں نے کیا کہا۔ گویا اصلی سنی ان پڑھ کسی پڑھے لکھے عالم سے مسئلہ قرآن وحدیث کا معلوم کرے گا اور یہ تحقیق ہے تقلید نہیں ۔ آپ فقہ حنفی میں دیکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کے شاگردوں نے اپنے استاد کے ہزاروں استنباطات کو رد کر دیا  اور یہی حال دوسرے ائمہ کا ہے۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا حقیقی دشمن کون؟

حنفی کہتے ہیں: کہ نعوذ باللہ اصلی سنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تو ہین کو سرمایہ سعادت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصلی سنی پر یہ ایسے ہی بہتان عظیم ہے جس طرح بریلوی اہل حدیث پر تو ہین اولیاء بلکہ گستاخی پیغمبر (ﷺ) تک کے الزام عائد کرتے ہیں۔ حالانکہ اہل حدیث کے نزدیک پیغمبر ﷺکی شان میں گستاخی کفر ہے۔ پھر اس الزام کی نوعیت کیا ہے ؟ وہ یہ کہ اہل حدیث اولیاء اور انبیاء کو اس طرح نہیں مانتے جس طرح بریلوی مانتے ہیں۔ بریلوی اولیاء اور انبیاء علیہم السلام کو خدائی صفات میں شریک گردانتے ہیں۔ مثلاً وہ عالم الغیب، حاضر و ناظر، نافع و ضار، متصرف في الامور وغیرہ وغیرہ ہیں، جو شخص بھی اولیاء اور انبیاء کی بابت یہ غالیانہ عقائد نہ رکھے وہ ان کے نزدیک گستاخ اولیاء اور گستاخ رسول ہے۔

ہم پوچھتے ہیں کہ کیا بریلویوں کا یہ الزام صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو اعلان کر دیجیے ہم بھی اعتراف کر لیں گے کہ اصلی سنی واقعی گستاخ ابو حنیفہ ہیں۔ لیکن غلو عقیدت سے اجتناب گستاخی نہیں بلکہ عین مطلوب ہے۔ تو پھر بریلویوں کی طرح دیو بندیوں کی یہ رٹ کہ اصلی سنی ائمہ کرام بالخصوص امام ابو حنیفہ کے گستاخ ہیں، ایک ہذیان گوئی کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

اگر ان کے فقہی اقوال سے اختلاف گستاخی ہے تو یہ گستاخی سب سے پہلے ان کے ارشد تلامذہ قاضی ابو یوسف اور امام محمد وغیرہ نے کی ہے، پہلے ان پر فرد جرم عائد کیجیے، اصلی سنی کا نمبر بعد میں آتا ہے۔ پھر ائمہ کے اقوال اور ان کے اجتہادات سے اختلاف اگر گستاخی ہے تو سارے حنفی گستاخ ہیں۔ جنھوں نے امام مالک رحمہ اللہ ، امام احمدرحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ کے اقوال و اجتہادات سے اختلاف کیا ہے اور مسلسل کر رہے ہیں۔

در اصل امام ابو حنیفہ کے دشمن خود مقلدین حنفیہ ہی ہیں کہ انھوں نے اس امام عالی مقام کے نورانی چہرے پر اس قدر کیچڑ فرضی مسائل کے  نام سے اچھالا ہے۔ کہ کسی کے لیے ان کا صحیح چہرہ دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود مجھے معلوم نہیں کہ کسی اصلی سنی نے انھیں برا بھلا کہا ہو یا ان سے عداوت کا اظہار کیا ہو لیکن اگر حنفی صاحبان کے علم میں یہ بات ہو تو اس کے ذمہ دار بھی انھی کے اکابر ہیں یعنی مصنفین فقہ حنفیہ ۔باقی الزامات کے بارے میں مختصراً عرض ہے:

[1] اگر نقل صحیح سے ثابت ہو جائے تو ان کی تابعیت کے انکار کی ضرورت کیا ہے بلکہ بعض علمائے جماعت محمدی نے تو احناف ہی پر اعتبار کرتے ہوئے امام صاحب کو تابعی بھی لکھا ہے۔

[2] امام صاحب کی مرتب کردہ کتاب کہاں غائب ہو گئی، امام مالک کی مؤطا تو موجود ہے۔

[3] اگر یہ حضرت امام ہمام کے شاگرد ہیں تو یہ ان کے لیے ذخیرہ عاقبت ہو گا، لیکن اس سے آپ حضرات کو کیا ملا، حالانکہ تاریخ اور سیر سے اس کا ثبوت پیش کرنا بھی مشکل ہے۔ جن لوگوں کو امام ہمام کا شاگرد بتلایا گیا ہے۔ ان سب کی روایتیں کتب صحاح و مسانید میں موجود ہیں، ان میں سے ان کی وہ روایات جمع کر دی جائیں جو امام صاحب سے مروی ہیں تا کہ عوام کو معلوم ہو جائے کہ امام صاحب کے شاگردوں نے ان سے کتنا استفادہ کیا ہے۔

[4] وہ اگر غلطی نہیں کر سکتے تھے تو کیا وجہ ہے کہ انھوں نے غلطیاں کیں۔ اگر ان سے غلطیاں نہ ہوتیں تو ان کے تلامذہ ان سے اختلاف نہ کرتے۔ حالانکہ یہ واقعہ ہے کہ امام ابو یوسف اور امام محمد نے ایک دو مسائل میں نہیں بیسیوں مسائل میں اپنے استاد (امام ابو حنیفہ ) سے اختلاف کیا ہے۔

امام ابو یوسف امام ابو حنیفہ کے سب سے اہم شاگرد ہیں بلکہ ان کے بارے میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو امام ابو حنیفہ کا نام تک کوئی نہ جانتا:

[ما كان في أصحاب أبي حنيفة مثل أبي يوسف لولا أبو يوسف ما ذكر أبو حنيفة]

ابو حنیفہ کے شاگردوں میں ابو یوسف جیسا کوئی نہیں، اگر ابو یوسف نہ ہوتے تو ابو حنیفہ کا ذکر تک نہ ہوتا۔ [وفيات الأعيان:5/424 الطبعة الأولى]

یہاں تک کہ ان دونوں نے اپنے استاد کی اصول میں بھی مخالفت کی ہے اور انھوں نے متعدد مسائل میں اپنے استاد امام ابو حنیفہ سے اختلاف کیا ہے۔ [وخالفه في مواضع كثيرة] کہ انھوں نے بہت سے مسائل میں اختلاف کیا ہے۔ [وفيات الأعيان:5/421 الطبعة الأولى]

اسی طرح امام محمد ہیں، یہ بھی امام ابو یوسف کے بعد سب سے اہم شاگرد ہیں۔ بلکہ انھی کی تصنیفات فقہ حنفی کی بنیاد ہیں لیکن انھوں نے کیا بے شمار مسائل میں اپنے استاد سے اختلاف کیا ہے حتی کہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ یہ دونوں شاگرد (امام ابو یوسف اور امام محمد) اپنے استاد کی اصول تک میں مخالفت کرتے ہیں:[فإنهما يخالفان أصول صاحبهما] [طبقات الشافعية:2/102طبع جديد]

نیز کہا گیا ہے:

[استنكف محمد بن الحسن وأبويوسف عن متابعته في ثلثى مذهبه ووافقا الشافعي في أكثر المسائل]

ان دونوں شاگردوں محمد بن حسن اور ابو یوسف نے اپنے امام سے دو تہائی مذہب میں اختلاف کیا ہے اور اکثر مسائل میں امام شافعی کی موافقت کی ہے۔ [مغيث الخلق في ترجيح القول الحق، لامام الجويني:44]

اور مولانا عبدالحیی لکھنوی حنفی بھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

[فإن مخالفتهما لأبي حنيفة في الأصول غير قليلة حتى قال الإمام الغزالي في كتاب المنخول إنهما خالفا أبا حنيفة في ثلثى مذهبه]

محمد اور ابو یوسف نے ابو حنیفہ کی اصول میں بھی جو مخالفت کی ہے وہ قلیل نہیں ہے، حتی کہ امام غزالی نے ،،مخول،، میں صراحت کی ہے کہ محمد اور ابو یوسف نے ابو حنیفہ کی دو تہائی مسائل میں مخالفت کی ہے۔ [مقدمة عمدة الرعاية في حل شرح الوقاية:8 طبع مجتبائی دهلی]

تقلید اور تحقیق میں فرق:

ہم رسول کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق ہر عالم کی عزت کرتے ہیں، لیکن مطاع کسی کو تسلیم نہیں کرتے۔ لہذا اس سے ہم پر حجت قائم کرنا لاعلمیت کی دلیل ہے۔ ہم پر حجت تو صرف قرآن وحدیث سے قائم کی جاسکتی ہے۔

یادر ہے کہ نصوص قرآن وحدیث کے مقابلے میں کسی کا قول اور قیاس کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور ایسی صورت میں تقلید قطعاً حرام ہے۔

کیا رسول اللہ ﷺ نے ان صحابہ کو جو بدوی تھے یہ حکم دیا کہ تم قرآن یا میری سنت پر عمل کرنے کے اہل نہیں ، لہذا کسی مجتہد صحابی کے توسط سے عمل کرنا ؟ عدم علم کی بنا پر کسی صاحب علم سے معلومات حاصل کرنے کو تقلید نہیں کہا جاتا بلکہ یہ عین تحقیق ہے، اس کو تقلید سے تعبیر کرنا خلط مبحث کی بدترین مثال ہے۔

ائمہ کی شان بہت بڑھا دینا:

اماموں کو ان کی شان سے بڑھانا بھی ان کی بے ادبی ہے۔ انسان کو گرانے کی دو صورتیں ہیں،

[1]ایک تو یہ کہ جس مرتبے کا وہ ہو اس سے کم مرتبہ اس کے لیے ہم ثابت کریں۔ مثلاً ایک بادشاہ کو وزیر کہہ دیں یا اس سے بھی کم۔

[2]دوسری صورت اسے گرانے کی یہ بھی ہے کہ اس کے مرتبے سے اسے بڑھا دیں۔ مثلاً کسی پولیس والے کو ہم بادشاہ کہہ دیں۔

بزرگوں کی دشمنی کے بھی یہی دو درجے ہیں، کسی بزرگ کو ان کی حیثیت سے گرانا بھی ان کی بے ادبی اور خلاف شرع ہے۔ مثلاً ائمہ دین و مجتہدین شرع متین کو گستاخانہ لفظوں سے برائی سے یاد کرنا۔ اسی طرح ان کی بے ادبی کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ انھیں ان کے مرتبے سے بڑھا دیں، مثلاً کسی ولی اللہ کو اللہ کہہ دیں، کسی امام کو رسول اللہ ﷺ بتا دیں۔ جس طرح ان دونوں طریقوں سے بے ادبی ہوتی ہے اسی طرح خیالات بھی انھی دو طریق پر ہیں اور وہ بھی دونوں بے دینی کے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ان کے ساتھ معاملہ جو برتا جائے وہ بھی انھی دو طریق کا ہوتا ہے۔ پس کسی امام دین کی جس طرح یہ توہین ہے کہ اسے سرے سے امام یا بزرگ ہی نہ مانا جائے اسی طرح ان کی یہ بھی توہین ہے کہ انھیں خدائی درجے یا نبوت کی کرسی پر بٹھا دیا جائے ۔ تقلید شخصی میں امام کو گویا نبی ماننا ہے۔

چاروں مذہب برحق نہیں:

چاروں مذہب برحق نہیں، ارشاد باری ہے:

[وَ قُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ] یہی وہ حق ہے جو اللہ کی طرف سے ہے، اب جو چاہے مانے جو چاہے انکار کر دے۔ (الكهف:29)

ہے کوئی جو اس امر کا انکاری ہو کہ حق ایک ہے، اس حق کے سوا جو ہے وہ باطل ہے۔ اس حقیقت کو مانتے ہوئے جو حضرات چاروں مذہبوں کو حق کہتے ہیں، وہ سوچیں کہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ اگر سارا حق ایک مذہب میں ہے تو ظاہر ہے کہ باقی تینوں مذہب حق نہ رہے، اگر چاروں میں سے ہر ایک میں حق ہے تو زیادہ سے زیادہ ہر مذہب میں حق کا چوتھائی حصہ ہے نہ کہ پورا۔ جب ایک چوتھائی حق ہو تو یہ بھی مسلم ہے کہ ہر مذہب میں تین چوتھائی باطل ہے۔ آپ ایک روپے کے چار حصے کریں، چار ڈھیریاں ریت کی کریں اور اس ایک روپے کو ان چار میں رکھیں ۔ تو ظاہر ہے کہ ہر ایک میں آپ ایک چوانی رکھ سکتے ہیں۔ جس جس ڈھیر پر جو جماعت قبضہ کر کے بیٹھے گی وہ بہت کچھ محنت کرنے کے بعد رول رول کر اس ڈھیر میں سے چوانی نکال سکتی ہے ۔نہ کہ پورا روپیہ، پس اگر حق ان چاروں میں ہے تو زیادہ سے زیادہ ہر مذہب میں ایک چوتھائی حق ہے اور تین چوتھائیاں باطل کی ہیں۔ ہے کوئی جو اس کھلی حقیقت سے انکار کرے؟

جماعت محمدی کا حق پر ہونا:

ہاں وہ جماعت جو اس ایک حق کے ٹکڑے نہ کرے، اسے چار حصوں میں اور چار ڈھیروں میں اور چار مذہبوں میں تقسیم نہ کرے وہ بے شک پورے حق کی مالک رہ سکتی ہے، اس کے قبضہ میں پورا روپیہ رہ سکتا ہے، مندرجہ بالا چار جماعتیں چاروں مذہب والوں کی تھیں اور یہ ایک جماعت اصلی اہل سنت کی ہے، اسے آپ اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ہر ایک مذہب والا اسی آیت و حدیث پر بیث پر عمل کر سکتا ہے، جو اس کے مذہب میں ہو، جس پر اس کے امام کی مہر گئی ہو، جو اس کے مذہب کی فقہ کی کتابوں میں قابل عمل قرار دی گئی ہو، جسے اس کے مذہب گئی ہو، جسے اس کے بانی نے مانا ہو اور قابل عمل قرار دیا ہو۔ پس ہر ایک کے لیے ایک روک ہے لیکن جماعت محمدی اس روک سے بالکل الگ ہے۔ اس لیے وہ ہر آیت و حدیث پر عملی عقیدہ رکھ سکتی ہے ۔

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنج فغاں کیوں ہو

نہ ہو جب دل ہی پہلو میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

حنفی اور جماعت محمدی کی مثال:

اس کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک وسیع مکان ہے، جس کے چار حصے کر دیے گئے اور ہر حصے کو دیواریں بنا کر دوسرے سے بالکل الگ کر دیا گیا اور چاروں حصوں میں مختلف لوگوں نے رہائش شروع کر دی۔ ظاہر ہے کہ ہر قبیلے والوں کے لیے وہی وسعت رہی جو اس اصلی مکان کی وسعت کی چوتھائی ہے۔ پورے مکان کی وسعت ان چاروں قبیلوں میں سے کسی کو حاصل نہیں لیکن جو قبیلہ اس وسیع مکان کے چار حصے نہ کرے، اسے اس کی اصلی وسعت و کشادگی پر رہنے دے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے بہت وسیع میدان ہے۔ یہ قدرت کی وسیع فضا میں کھلی ہوا میں اور صاف روشنی میں اپنا گزر کر سکتا ہے اور کر رہا ہے۔ جن لوگوں نے دین ربانی کے چار حصے کیے ہیں دراصل انھوں نے زیادہ سے زیادہ چوتھائی دین کو لیا ہے نہ کہ کامل دین کو کامل دین ان کے ہاتھ میں ہے جو اس حصے سے الگ ہیں، جو اس بٹوارے سے ناراض ہیں۔

مقلد آزادی سے حدیث پر عمل نہیں کر سکتا:

آپ آزما لیں ایک صحیح حدیث ایک حنفی کے پاس رکھیں ۔ اس کا صاف جواب ہو گا کہ میرا مذہب اس کے مطابق نہیں۔ میرے مذہب میں تو یوں ہے۔ اور اس کی دلیل فلاں دوسری حدیث ہے۔ اب وہ دلیل ہو یا نہ ہو، مضبوط ہو یا ضعیف ہو، بہر صورت اس صحیح حدیث پر اس کا عمل و عقیدہ نہیں۔ یہی حالت آپ شافعیہ کی پائیں گے اور اسی حالت پر آپ حنبلیوں کو دیکھیں گے اور یہی نقشہ آپ مالکیوں کے ہاں پائیں گے۔ لیکن بمحمدللہ جماعت محمد یہ کے سامنے جہاں آپ نے کوئی صحیح حدیث پیش کی ، اس نے سر جھکا دیا اور کہہ دیا کہ ہر فرمان رسول ﷺ سر آنکھوں پر ۔ صرف اس امر کے ثبوت کے لیے کہ بہت سی صاف ، صریح اور صحیح حدیثیں ایسی ہیں جنھیں مذہب و تقلید کی آڑر عمل دعقیدے میں نہیں آنے دیتی۔ چونکہ ہم برصغیر کے اصلی سنیوں کا ساتھ حنفی بھائیوں ہی سے ہے، اس لیے ہم نے اپنے انھی پڑوسیوں سے خطاب رکھا ہے اور اس کتاب میں شمع محمدی (تصنیف محمد جونا گڑھی ) کی ڈیڑھ سو حدیثیں وہ نقل کر دی ہیں جو صحیح ہیں ، صریح ہیں لیکن حنفی حضرات کے نزدیک وہ متروک ہیں۔ لاکھوں حنفیوں میں سے ایک بھی نہیں جو ان پر عمل کرے۔

آؤ! اپنے نبی کی طرف:

دوستو! یا تو کہہ دو کہ ہم حدیث رسول پر عمل نہیں کرتے یا آؤ ان پر بھی عمل شروع کر دو، پروردگار تو خوب دانا و بینا ہے، میری یہی عرض ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث پر مسلمان عامل ہو جائیں۔

سنو! اے لوگو، جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) پر ایمان لائے ہو! میری بات ذرا غور سے

وہ رسول محترم (ﷺ) جن پر اللہ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کے لیے فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کی عمر کی قسم اللہ تعالی نے اپنی کتاب مقدس میں اٹھائی ہے۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن پر ایمان لانے کا وعدہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے عالم ارواح میں لیا گیا۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جنھیں اللہ تعالی نے معراج جسمانی کے شرف سے نوازا۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کے بعد قیامت تک اب کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کے خوش ہونے سے اللہ خوش ہوتا ہے۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کے ناراض ہونے سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کے کسی بھی فیصلے یا حکم سے روگردانی سارے نیک اعمال بر باد کر دیتی ہے۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن سے آگے بڑھنے کی کسی کو اجازت نہیں۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کے حضور اونچی آواز میں بات کرنا اپنی دنیا و آخرت برباد کرنا ہے۔

وہ رسول محترم (ﷺ) جن کی اطاعت میں جنت اور نافرمانی میں جہنم ہے۔

ہم سب اسی رسول محترم (ﷺ) کی امت سے ہیں۔ ہم سب نے اسی رسول محترم (ﷺ) کا کلمہ پڑھا ہے۔ ہماری نسبت اسی رسول محترم (ﷺ) کے ساتھ ہے۔ تو پھر یہ کیا کہ ہم نے علیحدہ علیحدہ نسبتیں قائم کر رکھی ہیں۔ علیحدہ علیحدہ فرقے اور مسلک بنا لیے ہیں۔ علیحدہ علیحدہ نام رکھ لیے ہیں، اور پھر اپنی اپنی نسبت، اپنے اپنے فرقے، اپنے اپنے مسلک اور اپنے اپنے نام پر فخر جتانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

اے لوگو جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) پر ایمان لانے کا دعوئی رکھتے ہو! کیا ہمارے دل اپنے اپنے پسندیدہ ملکوں اور طور طریقوں پر پتھروں سے بھی زیادہ سختی سے جمے ہوئے ہیں کہ سنت رسول ﷺ جان لینے کے باوجود ہم انھیں چھوڑنے کو تیار نہیں۔

اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان لانے والو! ذرا کان لگا کر میری بات تو سنو، صحابی رسول سیدنا انس رضي اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: [فمن رغب عن سنتي فليس مني] جس نے میرے طریقے سے منہ موڑا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

[بخاری، کتاب النکاح، باب الترغيب في النكاح:5073]،[مسلم، کتاب النکاح، باب استحباب النكاح… الخ:1401]

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہم سب نے اپنے رسول محترم ﷺکا ارشاد مبارک سن لیا، آئیے! ذرا غور کریں کہ ہمارے پاس اس کا کیا جواب ہے؟

جماعت محمد ی اور اہل سنت رسول اللهﷺکے پیروکاروں کا نام ہے۔ قرآن مجید سچی کتاب ہے، سب مسلمان اس کو مانتے ہیں۔ اگر کوئی آیت آپ کو ناگوار گزرے تو سمجھ لو کہ ایمان مفقود ہے اور اگر غصے سے کوئی شخص قرآن مجید کی کوئی آیت پھاڑ دے تو سمجھ لو کہ وہ مسلمان نہیں۔ قرآن کریم کو مان کر اس کی آیات کا احترام کرو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ]

جن لوگوں نے دین کو فرقوں میں تقسیم کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، (اے رسول) تمھارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ (الأنعام:159)

تقلید چوتھی صدی میں شروع ہوئی، اس سے پہلے کوئی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی نہ تھا۔ مدرسه دیو بند 1867ء میں بنا؟ اس سے پہلے کوئی دیو بندی نہ تھا۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی 1911ء میں فوت ہوئے اس سے پہلے کوئی بریلوی نہ تھا۔ یہ سب فرقے جدید ہیں۔ اہل سنت ہی

صرف جماعت ہے، باقی سب فرقے ہیں۔ ہم کو صرف رسول اللہﷺ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ آپﷺکے فرامین کو حدیث کہتے ہیں۔ حدیث رسول ﷺکو مان کر محمدی بنو۔ پھر ان کے بتائے ہوئے طریقے پر چل کر اہل سنت بنو ، یہی نبیﷺ کی سنت پر چلنے والی

جماعت ہے۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: [من خرج من الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه]

جو جماعت سے بالشت بھر پیچھے ہٹا، اس نے ایمان کا حلقہ اپنی گردن سے اتار دیا۔ [مسند أحمد:17170]،[ابن حبان:6233]

اہل سنت نبی ﷺکے فرماں برداروں کا نام ہے اور سب فرقے امتیوں کے نام پر نئے بنے ہیں۔ نبی ﷺکے مقابلے میں کسی امتی کی کوئی حیثیت نہیں، اپنی نسبت ﷺ کی طرف کرو، امتی کی طرف نہ کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺکی ذات جیسی کسی کی ذات نہیں اور ان کی بات جیسی کسی کی بات نہیں ۔

چھوڑ کر راہ سنت کی مگن بیٹھے ہو

اپنے فرقوں کی لگائے لگن بیٹھے ہو

جب محمد (ﷺ) کا کسی فرقے سے تعلق ہی نہیں

کیوں مانتے اور چھوڑتے فرقوں کو نہیں