مرزا انجینئر صاحب کے دلائل کا جائزہ:
زیر بحث ویڈیو میں انجینئر صاحب نے تقریباً آخری بیس منٹ اس روایت کو صحیح ثابت کرنے پر لگائے ہیں، لیکن یقین کیجیے مرزا صاحب نے کوئی ایک دلیل بھی ایسی نہیں دی کہ جس سے ہمارے پیش کردہ دلائل غلط اور یہ روایت صحیح ثابت ہو سکے۔ مرزا صاحب نے اس روایت پر کیے جانے والے اعتراضات کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ بقیہ بن ولید کی توثیق پر ہے، اور دوسرے حصے میں بقیہ کی تدلیس کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔
بقیہ بن ولید کو ثقہ ثابت کرنے کی مرزا صاحب نے خوب کوشش کی ہے، آپ نے اس حوالے سے پانچ دلائل پیش کیے ہیں، اور زیادہ تر وقت اسی پر خرچ کیا گیا ہے حالانکہ ہمارا اعتراض بقیہ کی توثیق پر تھا ہی نہیں، نہ ہی بقیہ کے ثقہ صدوق ہونے کا (ہماری طرف سے) انکار کیا گیا ہے۔
پہلی دلیل مقدمہ صحیح مسلم کے حوالے سے امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا قول ہے: کہ بقیہ صدوق ہے، لیکن وہ ہر آنے جانے والے سے روایت لے لیتا ہے (یعنی ثقات سے بھی اور ضعیف، مجہولین اور کذاب راویوں سے بھی)۔
عرض ہے کہ جب بقیہ ہر قسم کے راویوں سے روایات لیتا ہے لیکن وہ تدلیس بھی کرتا ہے تو ضروری ہے نہ کہ وہ سند میں سماع کی تصریح کیا کرے تاکہ پتہ چلے کہ اس نے کوئی ضعیف راوی حذف نہیں کیا، لیکن کیا سنن ابوداؤد کی روایت میں اس نے سماع کی صراحت کی ہے جسے آپ نے اس ویڈیو میں لفظ بلفظ پڑھ کر سنایا ہے؟ پھر آپ نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ یہ اصول ”مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے“ کو سب سے زیادہ ہم ہی نے متعارف کرایا ہے۔ لہٰذا ہم اس روایت کو بقیہ کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف نہیں کہہ رہے بلکہ اس کے مدلس ہونے کی وجہ سے ضعیف قرار دے رہے ہیں۔
دوسری دلیل، امام ترمذی رحمہ اللہ کے حوالے سے بیان کی، انہوں نے امام ابو اسحاق الفزاری رحمہ اللہ کا قول نقل کیا کہ: ”بقیہ سے وہ روایات لے لو جو وہ ثقات سے روایت کرے۔“ (سنن ترمذی:2859)
اگر کوئی کہے کہ سنن ترمذی کی اس-2859-نمبر روایت جو بقیہ نے صیغہ عن سے بیان کی ہے کے تحت امام ترمذی رحمہ اللہ نے لکھا ہے ”هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ“ کہ یہ حدیث حسن غریب ہے! تو یاد رہے کہ امام ترمذی نے سند کو حسن نہیں کہا بلکہ اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے اور وہ حدیث مسند احمد میں دوسری سند سے بھی مروی ہے جس میں بقیہ بن ولید نہیں – (مسند احمد: 17634)، اور علامہ شعیب الارنووط نے اس کے متعلق کہا: ”اسناد حسن“۔
دلیل نمبر تین یہ پیش فرمائی کہ صحیح مسلم میں بقیہ بن ولید سے ایک حدیث مروی ہے: ”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو ولیمہ وغیرہ کی دعوت دی جائے تو وہ دعوت قبول کرے۔“ (صحیح مسلم:1429)۔
اگر کوئی کہے کہ صحیح مسلم کی اس روایت میں بقیۃ حدثنا زبیدی ”عن“ نافع ہے، تو تدلیس تسویہ کہاں گئی؟ تو عرض ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ حسب معمول ایسی سند کو متابعت میں لے کر آئے ہیں، اس باب کے تحت یہی حدیث امام مسلم رحمہ اللہ تقریباً درجن کے قریب مختلف سندوں سے لائے ہیں جن میں بقیہ بن ولید نہیں ہے، لہٰذا اس سے بقیہ کی تدلیس تسویہ کی نفی کرنا غلط ہے، کیوں کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس سند سے حجت پکڑی ہی نہیں۔ ”حسب معمول“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ صحیح مسلم کے مقدمے میں اس بات کی وضاحت فرما چکے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں کوئی بھی حدیث ذکر کرتے وقت پہلے ثقہ اور اعلیٰ درجے کے راویوں سے حدیث لاؤں گا، پھر (وہی حدیث) کچھ کمزور راویوں سے بھی ذکر کروں گا، اور آپ نے مثال دیتے ہوئے عطاء بن سائب، لیث بن ابی سلیم اور یزید بن ابی زیاد کا نام لیا ہے۔ جبکہ لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہے، امام ابن معین، احمد بن حنبل، ابوزرعہ الرازی، ابوحاتم الرازی، نسائی، ابن حبان اور کئی محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور یہ سخت مختلط بھی تھا، اور یزید بن ابی زیاد کا حال اس سے بھی برا ہے تو امام مسلم کا اسلوب یہ ہے کہ ایک حدیث وہ صحیح سند سے لے کر آتے ہیں لیکن وہی حدیث بطور متابعت کسی ایسی سند سے ذکر کر دیتے ہیں کہ جس میں (بعض اوقات) کچھ کمزوری ہوتی ہے۔ دیکھیں مرزا صاحب کی ویڈیو ”مسئلہ:36“ (دورانیہ:11:00) عامی حضرات اس کی مثال یوں سمجھیں کہ آپ کو ایک خبر کئی سچے اور معتبر لوگوں سے پہنچتی ہے، لیکن بالکل وہی بات ایک ایسے شخص سے سننے کو ملے جس میں کسی قسم کی کمزوری ہو، خود جھوٹا ہو یا جھوٹوں سے سن کر بات بیان کرنے والا ہو، تو کیا وہ بات صحیح تسلیم کی جائے گی یا غلط؟ ظاہری بات ہے کہ جب دوسرے لوگوں سے اسے تائید حاصل ہو گئی تو اس کے متعلق جو شبہ تھا وہ اب رفع ہو گیا۔ اب نہ تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے صرف اسی کی بات پر اعتماد کیا ہے، اور نہ اس سے یہ ثابت ہو گا کہ وہ بالکل صدوق اور معتبر انسان ہو گیا۔
ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات متابعات میں مدلس کی عن والی روایت صحیح بخاری و مسلم میں لی گئی ہوتی ہے، علامہ ابن حجر فرماتے ہیں:
وليست الأحاديث التي في الصحيحين بالعنعنة عن المدلسين كلها في الاحتجاج۔
”اور صحیحین (بخاری و مسلم) میں مدلسین کی ساری عن والی روایات احتجاج میں نہیں ہیں۔“ (النکت:636/2)
یعنی بعض اوقات متابعات اور شواہد میں ہوتی ہیں، اور انہیں بطور حجت نہیں پیش کیا جاتا۔ یہاں بھی صحیح مسلم میں بقیہ کی روایت متابعت میں ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ہی نے صراحت فرمائی ہے کہ صحیح مسلم میں بقیہ کی حدیث متابعت میں ہے۔ (اتحاف المہرۃ:233/13)
علامہ عبدالعظیم المنذری رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ بقیہ کی صحیح مسلم میں ایک ہی روایت ہے اور وہ بھی بطور شاہد۔ (الترغیب والترہیب:568/4)
امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ صحیح مسلم میں بقیہ کی حدیث شواہد میں ہے۔ (من تکلم فیہ وہو موثق:ص 133)
تو متابعات اور شواہد میں تو امام مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ میں لیث بن ابی سلیم اور یزید بن ابی زیاد جیسوں کی روایت بھی لاؤں گا (جو کہ ضعیف ہیں) تو کیا اس سے وہ ثقہ ثابت ہو جائیں گے؟ لہٰذا اس سے بقیہ کو تدلیس تسویہ سے بری قرار دینا یا اس کی روایت کو صحیح مسلم کی شرط پر صحیح کہنا درست نہیں ہے۔
اور ویسے انجینئر صاحب! کم از کم آپ کو تو یہ اصول نہیں بھولنا چاہیے کیوں کہ آپ خود یہ بات بہت دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ بخاری و مسلم میں مدلسین کی عن والی روایات سماع پر محمول ہوتی ہیں۔ لہٰذا بخاری و مسلم میں اگر کسی مدلس کی عن والی روایت ہے تو اس سے اس مدلس کو تدلیس سے بری قرار دینا سرے سے ہی غلط ہے۔ بخاری و مسلم کا معاملہ اور ہے، اب اس سے یہ نہیں ہو گا کہ اس مدلس کی عن والی روایت کسی اور کتاب میں بھی آ گئی تو وہ صحیح ہے۔
چوتھی دلیل سنن ترمذی سے پیش کی کہ امام ترمذی بقیہ عن بحیر عن خالد کی سند سے مروی حدیث کہ ”میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو“ کے متعلق فرماتے ہیں: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی:2676)
لیکن عرض ہے کہ امام ترمذی نے اس کے فوراً بعد فرمایا: وَقَدْ رَوَى ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا۔
”اور ثور بن یزید نے عن خالد عن عبدالرحمٰن بن عمرو عن عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے اسی جیسی حدیث بیان کر رکھی ہے۔“
اور اس سند میں بقیہ نہیں ہے بلکہ ابو عاصم بواسطہ ثور بن یزید اور وہ بواسطہ خالد یہی حدیث بیان کر رہا ہے۔ (سنن ترمذی:342/4)، امام ترمذی یہ بتا رہے ہیں کہ یہ حدیث صرف بقیہ ہی کے طریق سے نہیں بلکہ اور سندوں سے بھی مروی ہے۔ اور انہوں نے حدیث کو صحیح کہا ہے اس سند کو نہیں، لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بقیہ کی بحیر سے روایت کو مطلقاً صحیح قرار دیا ہے۔ مرزا صاحب نے سکرین پر اپنے مطلب کی بات تو دکھائی ہے لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی جو دوسری سند پیش کی ہے اس کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ کیا اس لیے تو نہیں کہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ اتنی اہم اور مشہور حدیث کا راوی بقیہ ہے؟ اور یہ بات انجینئر صاحب نے فرمائی بھی ہے کہ یہ حدیث اہل سنت کے بچے بچے کو یاد ہے، اور اس کا راوی بھی بقیہ ہے! سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزا صاحب اتنے گھپلے مار کیسے لیتے ہیں؟
یہی حدیث اور بھی کئی اسانید سے مروی ہے جن کا ذکر آگے کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔
پانچویں دلیل مستدرک حاکم کے حوالے سے دی ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے بقیہ حدثنی بحیر عن خالد کے طریق سے مروی دو روایات (4230)(2435) کو صحیح مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔
حالانکہ اس سند کو صحیح مسلم کی شرط پر کہنا درست نہیں ہے، ہم کہیں گے تو شاید برا منا لیا جائے تو عرض ہے کہ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ہم سے قبل اس کا رد کر چکے ہیں، بقیہ کی مستدرک حاکم میں ایک روایت جسے امام حاکم رحمہ اللہ نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، اس کی تردید کرتے ہوئے حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بقیہ کی روایت تو صحیح مسلم میں بطور متابعت ہے، اور یہ اس کی تمام روایات کو مسلم کی شرط پر صحیح ہونے کے لیے کافی نہیں ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بقیہ سے صحیح مسلم کی شرط پر حجت پکڑی جائے؟ (مختصراً)، اور اسی جگہ آپ نے بحیر ”عن“ خالد پر بھی جرح کی اور فرمایا کہ بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا۔ (اتحاف المہرۃ:233/13)
اور پھر امام حاکم و ذہبی خود بھی اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ صحیح مسلم میں بقیہ کی روایت شواہد میں ہے۔ (المستدرک للحاکم:1008،626، من تکلم فیہ وہو موثق:ص 133، المغنی:109/1)۔ تو پھر بقیہ کی روایت کو صحیح مسلم کی شرط پر کیسے صحیح کہا جا سکتا ہے؟
اور جس طرح بقیہ سے صحیح مسلم کی شرط پر احتجاج غلط ہے بالکل اسی طرح اس کی عن والی روایت کو صحیح مسلم میں ہونے کی بنیاد پر صحیح کہنا بھی غلط ہے۔
لہٰذا حاکم و ذہبی کی تصحیح کو کوئی بقیہ کی تدلیس تسویہ کے انکار میں ہرگز پیش نہ کرے، انہیں اس معاملے میں خطا ہوئی ہے۔ اور پھر صرف بقیہ ہی کیوں مستدرک حاکم میں تو بہت سے مدلسین کی معنعن روایات ایسی ہیں جنہیں جناب حاکم اور ذہبی نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے تو کیا اس سے ان سب کو تدلیس سے بری قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور ہر جگہ ان کی عن والی روایات کو صحیح کہا جا سکتا ہے؟ جواب کبھی اثبات میں نہیں ہو گا!
بہر حال یہ تھے مرزا صاحب کے بقیہ بن ولید کی توثیق پر دلائل جن کا حال آپ کے سامنے ہے، حالانکہ بقیہ کو ثقہ ثابت کرنے کے لیے اس سے کافی اچھے دلائل بھی دیے جا سکتے ہیں۔ خیر بقیہ کو تو ہم بھی صدوق مانتے ہیں لیکن عرض صرف اتنی سی ہے کہ وہ مدلس بھی ہے اور عام مدلس نہیں بلکہ تدلیس تسویہ کا مرتکب ہے جو کہ بدترین تدلیس ہے۔ اور ان میں سے کوئی بات بھی ہماری اپنی نہیں بلکہ محدثین کی تصریحات موجود ہیں۔