اونٹ اور گائے کی قربانی میں ایک سے زیادہ افراد کی شرکت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مطہرہ سے حج اور عید الاضحی کے لیے ذبح کیے جانے والے اونٹ اور گائے میں ایک سے زیادہ اشخاص کا شریک ہونا ثابت ہے۔ اس بارے میں تین احادیث ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:
➊ امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”خرجنا مع النبى صلى الله عليه وسلم مهلين بالحج فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نشترك فى الإبل والبقر كل سبعة منا فى بدنة“
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے لبیک پکارتے ہوئے روانہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سات آدمی ایک اونٹ یا گائے میں شریک ہو جائیں۔“
صحیح مسلم، كتاب الحج، باب الاشتراك فى الهدي، إجزاء البقرة والبدنة كل منهما عن سبعة، رقم الحديث -351 – (1318)، 955/2
➋ امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة“
”ہم نے حدیبیہ کے سال [یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر] سات سات آدمیوں کی جانب سے اونٹ اور گائے کو ذبح کیا۔“
صحیح مسلم، رقم الحديث 350 – (1318)، 955/2
➌ امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى سفر فحضر الأضحى فاشتركنا فى البقرة سبعة وفي البعير عشرة“
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، عید الاضحی آئی تو ہم گائے [کی قربانی] میں سات اشخاص اور اونٹ [کی قربانی] میں دس اشخاص شریک ہوئے۔“
جامع الترمذي، أبواب الأضاحي، باب الاشتراك في الأضحية، رقم الحديث 1537، 72/5 وسنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، عن كم تجزى البدنة والبقرة؟ رقم الحديث 3169، 205/2. الفاظ حدیث جامع الترمذی کے ہیں۔ شیخ البانی نے اسے (صحیح) قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابن ماجه 200/2).
مذکورہ بالا احادیث شریفہ سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
⟐ حج اور عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے لیے ذبح کیے جانے والے اونٹ اور گائے میں ایک سے زیادہ اشخاص شریک ہو سکتے ہیں۔
⟐ حج اور عید الاضحیٰ کی قربانی کے لیے ذبح کی جانے والی گائے میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں۔
⟐ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی اور معیت میں حج کے لیے ذبح کیے جانے والے اونٹوں میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے سات سات افراد شریک ہوئے اور عید الاضحیٰ کی قربانی کے لیے ذبح کیے جانے والے اونٹوں میں دس دس افراد شریک ہوئے۔
◈ اونٹ میں کتنے افراد شریک ہو سکتے ہیں؟
اس بارے میں علمائے امت کا اختلاف ہے۔ ذیل میں دو آراء پیش کی جا رہی ہیں:
⟐ پہلی رائے یہ ہے کہ حج اور عید الاضحیٰ کے موقع پر ذبح کیے جانے والے اونٹ میں صرف سات افراد شریک ہو سکتے ہیں، البتہ اگر کسی موقع پر اونٹوں کی قیمت میں اضافہ ہو جائے اور ایک اونٹ کی قیمت دس بکریوں کی قیمت کے برابر ہو جائے تو ایک اونٹ میں دس افراد کی شرکت درست ہوگی۔ ان علمائے امت نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ بالا حدیث میں اونٹ کی قربانی میں دس اشخاص کی شرکت کا یہی سبب بیان فرمایا ہے۔ اس رائے کو امام نووی، حافظ ابن حجر اور علامہ عینی نے پسند کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: شرح النووي: 27/13؛ وفتح الباري 627/9 وعمدة القاري 113/21. حافظ ابن حجر نے اس بارے میں تحریر فرمایا ہے:
والذي يتحرر فى هذا أن الأصل أن البعير بسبعة ما لم يعرض عارض من نفاسة ونحوها ، فيتغير الحكم بحسب ذلك
اس بارے میں خلاصہ کلام یہ ہے، کہ اونٹوں کی عمدگی وغیرہ کی بنا پر ان کے مہنگے ہونے کا کوئی سبب نہ ہو، تو سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ کی قربانی دی جائے گی۔ مہنگائی کی صورت میں حالات کے مطابق حکم بدل جائے گا۔“
فتح الباري 627/9 .
⟐ دوسری رائے یہ ہے کہ حج کے لیے ذبح کیے جانے والے اونٹ میں سات اشخاص اور عید الاضحیٰ کی قربانی کے لیے ذبح کیے جانے والے اونٹ میں دس اشخاص شریک ہو سکتے ہیں۔ اس رائے کے قائل علمائے امت کا استدلال یہ ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے لیے ذبح کیے جانے والے اونٹوں میں سات سات اشخاص کی شرکت کا حکم دیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ حدیث کے مطابق عید الاضحی کے موقع پر ذبح کیے جانے والے اونٹوں کی قربانی میں دس دس اشخاص شریک ہوئے۔ دونوں حدیثوں پر عمل ان میں بیان کردہ موقعوں پر کیا جائے گا۔ اس رائے کو امام شوکانی نے پسند فرمایا ہے۔ علامہ محمد شمس الحق عظیم آبادی اور شیخ محمد عبد الرحمن مبارکپوری کا رجحان بھی اسی رائے کی طرف ہے۔ والله تعالىٰ اعلم بالصواب
ملاحظہ ہو: نيل الأوطار 211/5؛ وعون المعبود 361/7؛ وتحفة الأحوذي 73/5.