32- اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات میں فرق
اسماء سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس طرح دلالت کرے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے صفات کمال بھی ثابت ہوں، جیسے: قادر، علیم، حکیم، سمیع اور بصیر ہے۔ یہ نام اللہ کی ذات پر دلالت کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات: علم، حکمت، سمع اور بصر پر بھی دلالت کرتے ہیں۔ صفات سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ کامل خوبیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہیں، جیسے صفت علم، حکمت، سمع و بصر ہے، لہٰذا اسم دو چیزوں پر جبکہ صفت ایک چیز پر دلالت کرتی ہے۔ اسم صفت کو شامل ہوتا ہے اور صفت اسم کو لازم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت اسماء وصفات پر ایمان لانا ضروری ہے جس طرح اس کے شایانِ شان ہے اور اس بات پر ایمان لانا بھی ضروری ہے کہ کوئی مخلوق صفات میں بھی اللہ تعالیٰ کے مشابہ نہیں، جیسا کہ وہ اپنی ذات کے لحاظ سے ان کے مشابہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ [الإخلاص: 1 تا 4]
”کہہ دے وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ ہی بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور نہ کبھی کوئی ایک اس کے برابر کا ہے۔“
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ [الشورىٰ: 11]
”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ (اللجنة الدائمة: 11109)