مضمون کے اہم نکات
تعوذ، ضرورت و اہمیت
تعوذ، عوذ (ع و ذ) سے ماخوذ ہے۔ اس سے ماخوذ ایک لفظ استعاذہ بھی ہے جو عربی میں مستعمل ہے۔ اردو میں اسے تعوذ ہی کہتے ہیں۔ لغوی اعتبار سے عوذ کے معنی ہیں کسی سے بچتے ہوئے کسی کی پناہ میں آنا۔ اور تعوذ کے معنی ہیں کسی کی پناہ حاصل کرنی۔ شریعت میں یہ لفظ بُری باتوں، بُرے حالات اور بُرے لوگوں کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
عرب معاشرے کا دستور تھا کہ جب کوئی کسی کی پناہ میں آتا تھا تو وہ گویا اپنے جان و مال اور اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کا ذمہ اس پر ڈال دیتا تھا۔ پناہ دینے والا بھی بخوشی یہ ذمہ داری اٹھاتا اور اس کے تمام تر تقاضے پورے کرتا تھا۔
یوں عوذ کا مادہ اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے عام طرح سے حفاظت دینے اور بچاؤ کرنے سے زیادہ اہم اور زیادہ معنی خیز ہے۔ جب آدمی بُری باتوں، بُرے حالات اور بُرے لوگوں کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہے تو وہ اپنا جان و مال اور اپنی عزت و آبرو، اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ بُری باتوں، بُرے حالات اور بُرے لوگوں کے شر سے پوری طرح محفوظ ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اسے اپنی پناہ میں لے کر مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ درحقیقت آدمی اپنے بَل پر ان چیزوں کے شر سے نہیں بچ سکتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں نہ آئے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی امان نہ دے۔ یوں ان چیزوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ لینی ضروری ہے۔
◈ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ شیطانوں سے بچنے کے لیے میری پناہ لو، فرمایا:
[وَ قُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ]،[وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡنِ]
[اور تو کہہ اے میرے رب! میں شیطانوں کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں]،[اور اے میرے رب! میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں] [المؤمنون: 97-98]
◈ اسلام نے ہمیں نہ صرف دوسروں کے اعمال و افعال کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی تعلیم دی ہے بلکہ اس نے ہمیں اپنے نفس کے شر اور اپنے ہاتھوں پانے والے اعمال و افعال کے شر سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا درس دیا ہے۔ چنانچہ خطبہ مسنونہ میں یہ الفاظ آتے ہیں:
[ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا]
اور ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اپنے نفسوں کے شر سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے۔
[جامع الترمذی، حدیث: 1105 و سنن ابن ماجہ، حدیث: 1893]
◈ سید الاستغفار میں یہ الفاظ آتے ہیں:
[أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ]
میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے جو میں نے کیا۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6306]
یہ دعائے نبوی بھی حدیث میں آئی ہے:
[اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کام کے شر سے جو میں نے کیا اور اس کے شر سے جو میں نے نہیں کیا۔
[صحیح مسلم، حدیث: 2716]
تعوذ، قرآن مجید کی روشنی میں
استغفار کی طرح تعوذ کے حوالے سے بھی ہم پہلے قرآنی تعوذ کا ذکر کریں گے، پھر نبوی تعوذ کا ذکر کریں گے۔
قرآنی تعوذ
بے جا سوال پر سیدنا نوح علیہ السلام کا تعوذ:
[رَبِّ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِکَ اَنۡ اَسۡـَٔلَکَ مَا لَـیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ اِلَّا تَغۡفِرۡ لِیۡ وَ تَرۡحَمۡنِیۡۤ اَکُنۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]
اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ میں تجھ سے اس چیز کا سوال کروں جس کا مجھے کوئی علم نہیں، اور اگر تو نے میری بخشش نہ کی اور مجھ پر رحم (نہ) کیا تو میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔ [ھود:47]
دعوتِ گناہ ملنے پر سیدنا یوسف علیہ السلام کا تعوذ:
[مَعَاذَ اللّٰہِ]
(اس کام سے) اللہ کی پناہ
[یوسف: 23]
جاہلوں کی رفاقت سے بچاؤ کے لیے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا تعوذ:
[اَعُوۡذُ بِاللّٰہِ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ]
میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں شامل ہو جاؤں۔ [البقرہ: 67]
ظالموں کے سنگین ظلم سے بچاؤ کے لیے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا تعوذ:
[وَ اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ]
اور بلاشبہ میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لی ہے اس سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو۔ [الدخان: 20]
آلِ فرعون کے مومن کا، فرعونی مکر و فریب اور ظلم و ستم سے بچاؤ کے لیے تعوذ:
[اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤۡمِنُ بِیَوۡمِ الۡحِسَابِ]
بے شک میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آچکا ہوں، ہر اس متکبر سے جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔ [المومن:27]
حفاظتِ عصمت کے لیے سیدہ مریم علیہا السلام کا تعوذ:
[اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡکَ اِنۡ کُنۡتَ تَقِیًّا]
میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تو ڈرنے والا ہے۔ [مریم:18]
بیٹی اور اس کی اولاد کو شیطان سے محفوظ رکھنے کے لیے سیدہ مریم علیہا السلام کی والدہ کا تعوذ:
[اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ]
بے شک میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ [آلِ عمران:36]
شیطانی وسواس سے بچاؤ کے لیے نبی کریم ﷺ کو تعوذ کا حکم:
[وَ قُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ]،[وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡنِ]
[اور تو کہہ اے میرے رب! میں شیطانوں کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں]،[ اور اے میرے رب! میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں] [المؤمنون: 97-98]
سورۃ اخلاص اور معوذتین
بسم الله الرحمن الرحيم
[قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ]،[اَللّٰہُ الصَّمَدُ]،[لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ]،[وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ]
بسم الله الرحمن الرحيم
[قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ]،[مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ]،[وَ مِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ]،[ وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الۡعُقَدِ]،[وَ مِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ]
بسم الله الرحمن الرحيم
[قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ]،[مَلِکِ النَّاسِ]،[ اِلٰہِ النَّاسِ]،[مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ]،[الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ]،[مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ]
حدیثِ نبوی کے مطابق قرآن مجید کی یہ تین سورتیں تعوذ کے سب سے مؤثر اور سب سے افضل کلمے ہیں۔ یہ آدمی کو ہر شے کے شر سے محفوظ رکھتے ہیں۔
[سنن ابی داؤد، حدیث: 5082، سنن النسائی، حدیث: 5432، 5440،4533]
تعوذ، احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
مختلف چیزوں سے تعوذ کے حوالے سے نبی کریم ﷺ سے متعدد دعائیں منقول ہیں۔ ان سب کا یہاں احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ کئی ایک محدثین نے کتاب الاستعاذہ کے نام سے انہیں جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے چند اہم اور ضروری تعوذات ذکر کرتے ہیں۔
[1] [أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ]
میں اللہ کے کلماتِ کاملہ کی پناہ لیتا ہوں اس شے کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔ [صحیح مسلم، حدیث:2708]
نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: جو شخص کسی منزل پر پڑاؤ کرے، پھر یہ کلمات پڑھ لے تو وہاں سے کوچ کرنے تک کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کی:یا رسول اللہ ﷺ! گزشتہ رات بچھو کے کاٹنے سے مجھے شدید تکلیف پہنچی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم یہ (مذکورہ بالا) دعا پڑھ لیتے تو تمہیں وہ نقصان نہ پہنچا سکتا۔
[صحیح مسلم، حدیث: 2709]
[2] [أعوذبكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر، من شر ما خلق وذرأ وبرأ ، ومن شر ما ينزل من السماء، ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرأ في الأرض، ومن شر ما يخرج منها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن!]
میں اللہ کے ان کلماتِ کاملہ کی پناہ میں آتا ہوں جن سے کوئی نیک اور کوئی بد تجاوز نہیں کر سکتا، اس شے کے شر سے جسے اس نے پیدا فرمایا اور پھیلایا اور وجود عطا کیا اور اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور اس چیز کے شر سے جسے اس نے زمین میں پھیلایا اور اس چیز کے شر سے جو اس سے نکلتی ہے اور رات دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو ہر آنے والے کے شر سے، سوائے ایسے رات کو آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمان (نہایت رحم کرنے والے) [السلسلة الصحیحة، حدیث:2995]
◈ جنگلوں اور پہاڑوں میں رہنے والے کچھ شیاطین رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے۔ ان میں سے ایک شیطان کے پاس آگ کا ایک شعلہ تھا جس سے وہ رسول اللہ ﷺ کو جلانا چاہتا تھا۔ جب وہ شعلہ لے کر آپ کے قریب ہوا تو آپ پیچھے کو ہٹے ۔ اسی اثنا میں حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے اور کہا: ’’آپ پڑھیں‘‘۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا: ’’کیا پڑھوں؟‘‘ تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے یہی (مذکورہ بالا) دعا پڑھنے کا کہا۔ آپ ﷺ نے یہ دعا پڑھی تو ان شیاطین کی آگ بجھ گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مکروہ چال ناکام بنا دی۔ [مسند احمد:15461]
[3] [اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، پریشانی، مشکل، لاچاری، کاہلی، بزدلی، کنجوسی اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غالب آنے سے۔
[صحیح البخاری، الدعوات، باب الاستعاذة من الجبن والکسل، حدیث: 6369]
◈ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جہاں بھی تشریف فرما ہوتے، میں آپ کی خدمت کیا کرتا تھا، میں اکثر آپ کو یہ (مذکورہ) دعا کرتے ہوئے سنا کرتا تھا۔ [صحیح البخاری، حدیث: 6363]
[4] [اَعُوْذُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْكَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ]
میں عظمت والے اللہ کی، اس کے کریم چہرے اور اس کی قدیم سلطنت کی پناہ میں آتا ہوں، شیطان مردود سے۔ [سنن ابی داؤد، حدیث: 466]
◈ نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:جب کوئی آدمی یہ دعا پڑھ لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے: آج سارے دن کے لیے یہ مجھ سے محفوظ ہو گیا۔ [سنن ابی داؤد، حدیث: 466]
[5] [اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ جَھْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوْءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْاَعْدَاءِ]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں سخت تنگدستی اور بدحالی کے آنے اور بُری قسمت اور دشمنوں کی خوشی سے۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6616، و صحیح مسلم، حدیث: 2707]
[6] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُبِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُبِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں کنجوسی سے، اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں بزدلی سے، اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس امر سے کہ میں لوٹایا جاؤں عمر کے سب سے گھٹیا حصے کی طرف۔ اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں فتنہِ دنیا اور عذابِ قبر سے۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6374]
◈ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ ان (مذکورہ بالا) کلمات کے ذریعے سے پناہ مانگا کرو کیونکہ نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ (اللہ تعالیٰ کی) پناہ مانگا کرتے تھے۔
[7] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ]
اے اللہ! میں پناہ میں آتا ہوں تیری اس امر سے کہ تیرے ساتھ شریک ٹھہراؤں اس حال میں کہ میں جانتا ہوں۔ اور میں تجھ سے ان غلطیوں کی معافی چاہتا ہوں جنہیں میں نہیں جانتا۔ [الأدب المفرد للبخاري، حدیث: 716]
◈ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:ابوبکر! شرک تم لوگوں میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہو کر آتا ہے۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے سوا بھی کوئی شرک ہوتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے پڑھ لو گے تو کم اور زیادہ سب (شرک) ختم ہو جائے گا۔پھر آپ نے انہیں یہی مذکورہ بالا دعا سکھائی۔
[8] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ. أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو انکسار نہ کرے اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسے علم سے جو نافع نہ ہو، میں ان چاروں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[جامع الترمذی، حدیث: 3482]
[9] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ]
اے اللہ! یقیناً میں تیری پناہ میں آتا ہوں عاجز ہو جانے، کاہلی، بزدلی، بڑھاپے اور بخیلی سے اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6367، و صحیح مسلم، حدیث: 2706]
[10] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَهْوَاءِ وَالْأَدْوَاءِ]
اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بُرے اخلاق و اعمال اور (بری) خواہشات سے اور خطرناک بیماریوں سے۔
[جامع الترمذی، حدیث: 3591]
[11] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ]
اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے جو میں نے کیا اور اس کے شر سے جو میں نے نہیں کیا۔
[صحیح مسلم، حدیث: 2716]
◈ سیدنا فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی دعا کے متعلق دریافت کیا جسے رسول اللہ ﷺ مانگا کرتے تھے۔ تو انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ یہ (مذکورہ) دعا کیا کرتے تھے۔
[12] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي وَالْهَدْمِ وَالْغَرَقِ وَالْحَرَقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا]
اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں، بلندی سے گر کر، منہدم ہونے والی عمارت تلے دب کر، غرق آب ہو کر اور آگ میں جل کر مرنے سے۔ اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس امر سے کہ موت کے وقت شیطان مجھے خبطی بنا دے۔ اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس امر سے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے دوران میں پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے مروں۔ اور میں تیری پناہ لیتا ہوں اس امر سے کہ (کسی موذی جانور کے) ڈسنے سے مروں۔
[سنن ابی داود، حدیث: 1554، وسنن النسائی، حدیث: 5533]
[13] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ]
اے اللہ! بلاشبہ میں بخل، بزدلی، بُری عمر، سینے کے فتنے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[سنن النسائی، حدیث: 5483؛ یہ دعا جس حدیث سے ماخوذ ہے، اس کا مضمون یہ ہے: نبی کریم ﷺ پانچ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے: بخل سے، بزدلی سے، بُری عمر سے، سینے کے فتنے اور عذابِ قبر سے]
[14] [اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ]
اے اللہ! جبرائیل اور میکائیل کے رب اور اسرافیل کے رب! میں (جہنم کی) آگ کی حرارت اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
[سنن النسائی، حدیث: 5521]
[15] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ]
یا الہی! میں تجھ سے نفع بخش علم کا سوال کرتا ہوں اور نفع سے عاری علم سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[سنن ابن ماجہ، حدیث: 3843؛ حدیث کے الفاظ یوں ہیں:اللہ سے نفع بخش علم مانگو اور فائدہ نہ دینے والے علم سے اللہ کی پناہ مانگو]
[16] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ]
یا الہی! بلاشبہ میں قرض کے بوجھ، دشمن کے تسلط اور دشمنوں کی ناروا خوشی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
[سنن النسائی، حدیث: 5477]
[17] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ صَلَاةٍ لَا تَنْفَعُ]
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے۔
[سنن ابی داود، حدیث: 1549]
[18] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ جَارِ السَّوْءِ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشَيِّبُنِي قَبْلَ الْمَشِيْبِ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ رَبًّا، وَمِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ عَذَابًا، وَمِنْ خَلِيلٍ مَاكِرٍ عَيْنُهُ تَرَانِي، وَقَلْبُهُ يَرْعَانِي، إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا، وَإِذَا رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں بُرے ہمسایہ سے، ایسی بیوی سے جو بڑھاپے سے پہلے مجھے بوڑھا کر دے، ایسی اولاد سے جو میری آقا بن جائے، ایسے مال سے جو میرے لیے باعثِ عذاب بن جائے، ایسے قریبی دوست سے جس کی آنکھ مجھے دیکھ رہی ہو اور اس کا دل میری نگرانی کر رہا ہو، جب وہ (میری) کوئی اچھائی دیکھے تو اسے ختم کر دے اور جب کوئی برائی دیکھے تو اسے پھیلانے لگے۔
[سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 3137]
[19] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے عذاب سے، میں تیری پناہ میں آتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ میں آتا ہوں فتنوں سے جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور میں دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[صحیح مسلم، حدیث: 2867]
[20] [اللَّهُمَّ أَحْيِنِي عَلَى سُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ وَتَوَفَّنِي عَلَى مِلَّتِهِ، وَأَعِذْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ]
اے اللہ! مجھے اپنے نبی ﷺ کی سنت پر زندہ رکھنا اور انہی کی ملت پر فوت کرنا اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچا کر رکھنا۔
[السنن الکبریٰ للبیہقی: 95/5؛ یہ دعا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔ ابن الملقن نے البدر المنیر: 309/6 میں الضیاء سے نقل کیا ہے کہ اس کی سند جید ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: اے اللہ! میں فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں کیونکہ تم میں سے ہر کوئی فتنے میں مبتلا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنے ہیں۔ لہٰذا تم میں سے جو پناہ مانگنا چاہے تو وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے]
[21] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ قَلْبِي بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں فتنہ نارِ جہنم اور عذابِ نارِ جہنم اور فتنہِ قبر اور عذابِ قبر سے اور فتنہِ دولتمندی کے شر اور فتنہِ غربت کے شر سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں فتنہِ مسیح دجال کے شر سے۔ اے اللہ! میرے قلب کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے۔ اور صاف کر دے میرے قلب کو جس طرح سفید کپڑا صاف کیا جاتا ہے میل کچیل سے۔ اور میرے اور میری خطاؤں کے بیچ دوری ڈال دے جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے بیچ دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں کاہلی، گناہ اور قرض سے۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6377، و صحیح مسلم، حدیث: 589]
[22] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا]
اے اللہ! میں عاجز ہو جانے، کاہلی، بزدلی، بخیل، بڑھاپے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ یا الہی! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اس کا تزکیہ فرما تو اس کا سب سے بہتر تزکیہ فرمانے والا ہے کیونکہ تو ہی اس کا مددگار اور مولا ہے۔ یا اللہ! بلاشبہ میں نفع سے عاری علم، خشوع سے خالی دل، دنیا کے لا لچی نفس اور قبول نہ ہونے والی دعا سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[صحیح مسلم، حدیث: 2722]
[23] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ]
اے اللہ! بلاشبہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری (عطا کردہ) عافیت کے پھر جانے سے، تیری اچانک گرفت سے اور تیری ہر قسم کی ناراضی سے۔
[صحیح مسلم، حدیث: 2739، وسنن ابی داود، حدیث: 1545]
[24] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي]
یا الہی! بلاشبہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے کان کی برائی سے، اپنی آنکھ کی برائی سے، اپنی زبان کی برائی سے، اپنے دل کی برائی سے اور اپنی منی کی برائی سے۔ [سنن ابی داود، حدیث: 1551، وجامع الترمذی، حدیث: 3492، وسنن النسائی، حدیث: 5446]
◈ اس دعا میں تمام قسم کے گناہوں اور ان کے اسباب سے تحفظ کی دعا ہے۔ کان سے انسان بری باتیں (ساز و آواز وغیرہ) غیبت اور جھوٹ وغیرہ سنتا ہے۔ آنکھ سے غیر محرم اور حرام چیزوں کو دیکھنا اور پڑھنا مراد ہے۔ زبان سے کفر، شرک، بدعت، جھوٹ، بہتان، غیبت اور گالی گلوچ وغیرہ ہوتی ہے۔ دل کی برائی نفاق، حسد، بخل، طمع اور کبر وغیرہ ہیں۔ مادہِ منویہ کی برائی یہ ہے کہ انسان اپنے جنسی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ اور اس وجہ سے خباثت پر آمادہ ہو یا بے محل نطفہ بہائے یا اس سے ایسی اولاد پیدا ہو جو فتنہ و فساد کا باعث بنے۔
[25] [اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ ﷺ وَنَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ ﷺ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ]
اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو تجھ سے تیرے نبی محمد ﷺ نے مانگی۔ اور ہر اس چیز سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں جس سے تیرے نبی محمد ﷺ نے تیری پناہ حاصل کی اور تو ہی ہے جس سے مدد طلب کی جا سکتی ہے۔ ہمیں مقاصد تک پہنچانا تیرا ہی کام ہے اور برائی سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے مگر اللہ ہی کی توفیق و مدد سے۔
[جامع الترمذی، حدیث: 3521]
[26] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُذَامِ وَالْجُنُونِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ]
بار الہا! میں پھل بہری، دیوانگی، کوڑھ اور موذی بیماریوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[سنن ابی داود، حدیث: 1554، وسنن النسائی، حدیث: 5495]
[27] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُبِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ بِكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا]
اے اللہ! میں تجھ سے ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، جلدی ملنے والی اور دیر سے ملنے والی، وہ بھی جس کا مجھے علم ہے اور وہ بھی جس کا مجھے علم نہیں۔ اے اللہ! میں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جلدی آنے والے سے بھی اور دیر سے آنے والے سے بھی، جس کا مجھے علم ہے، اس سے بھی اور جس کا مجھے علم نہیں، اس سے بھی۔ یا الہی! میں تجھ سے وہ بھلائی مانگتا ہوں جو تجھ سے تیرے بندے اور نبی (محمد ﷺ) نے مانگی ہے اور میں اس شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس شر سے تیرے بندے اور نبی (محمد ﷺ) نے پناہ مانگی ہے۔ یا الہی! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور ہر اس قول و عمل (کی توفیق) کا سوال کرتا ہوں جو اس کے قریب کر دے اور میں (جہنم کی) آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور ہر اس قول و عمل سے پناہ مانگتا ہوں جو اس (جہنم) کے قریب کر دے۔ اور میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لیے جو بھی فیصلہ فرمائے، اسے بہتر بنا دے۔
[سنن ابن ماجہ، حدیث: 3846، ومسند أحمد: 25019، والمستدرک للحاکم: 1935]
[28] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ]
یا الہی! بلاشبہ میں بھوک سے تیری پناہ میں آتا ہوں، وہ بستر کی بُری ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ میں آتا ہوں، وہ بُری ہمراز ہے۔
[سنن ابن ماجہ، حدیث: 3354، وسنن ابی داود، حدیث: 1547]
[29] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَالْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ، وَأَعُوذُبِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ وَالْفُسُوقِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ، وَأَعُوذُبِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَالْبَرَصِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ]
اے اللہ! بلاشبہ میں عاجز ہو جانے، سستی و کاہلی، بزدلی، کنجوسی، بڑھاپے، دل کی سختی، غفلت، تنگدستی، ذلت اور مسکینی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں فقر، کفر، گناہ، بدبختی، نفاق، سُناوے (شہرت پسندی) اور ریا کاری سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں، نیز میں گونگے پن، بہرے پن، دیوانگی، کوڑھ، پھلبہری اور بدترین بیماریوں سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔
[صحیح الجامع، حدیث: 1285، والمستدرک للحاکم: 1965]
[30] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، (وَالْفَاقَةِ) وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أَظْلَمَ]
یا الہی! بلاشبہ میں فقر و فاقے، قلت اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔
[سنن النسائی، حدیث: 5464، وصحیح الجامع، حدیث: 1287]
[31] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السَّوْءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ]
بار الہا! بلاشبہ میں مستقل طور پر مقیم بُرے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں کیونکہ عارضی پڑوسی تو جلد یا بدیر دور ہو جاتا ہے۔
[سنن النسائی، حدیث: 5504، والأدب المفرد، حدیث: 117]
[32] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ يَوْمِ السَّوْءِ، وَمِنْ لَيْلَةِ السَّوْءِ، وَمِنْ سَاعَةِ السَّوْءِ، وَمِنْ صَاحِبِ السَّوْءِ، وَمِنْ جَارِ السَّوْءِ، فِي دَارِ الْمُقَامَةِ]
اے اللہ! بلاشبہ میں اپنے گھر میں بُرے دن، بُری رات، بُری گھڑی، بُرے ساتھی اور بُرے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
[مجمع الزوائد: 144/10، وصحیح الجامع، حدیث: 1299]
[33] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَسْتَجِيرُ بِكَ مِنَ النَّارِ]
یا الہی! بلاشبہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم کی آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (تین بار)
[جامع الترمذی، حدیث: 2572، وسنن ابن ماجہ، حدیث: 4340، وسنن النسائی، حدیث: 5523؛ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: جس نے تین بار اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کیا تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے۔ اور جس نے تین بار جہنم کی آگ سے پناہ مانگی تو جہنم کہتا ہے: اے اللہ! اسے جہنم کی آگ سے پناہ دے دے]
تعوذ کے مستحب اوقات
گزشتہ باب میں عمومی تعوذ کا ذکر تھا۔ اس باب میں ان تعوذات کا ذکر کیا جاتا ہے جو کسی سبب کے ساتھ خاص ہیں۔
[1] قرآن مجید کی تلاوت کے آغاز کے وقت اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ]
تو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگیں۔
[النحل:98]
[2] نماز میں دعائے استفتاح پڑھنے کے بعد:
نبی کریم ﷺ نماز میں دعائے استفتاح پڑھنے کے بعد ان الفاظ میں تعوذ پڑھا کرتے تھے:
[أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ]
میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی (جو) سننے والا، جاننے والا ہے، شیطان مردود سے اس کی دیوانگی سے، اس کے کبر سے اور اس کے شعروں سے۔
[سنن ابی داود، حدیث: 776]
[3] بیت الخلا میں جاتے وقت:
نبی رحمت ﷺ بیت الخلا میں داخل ہونے سے قبل یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
[بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ]
اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں خبیثوں اور خبیثیوں سے۔ [صحیح البخاری، حدیث: 142]
[4] برا یا ڈراؤنا خواب آنے پر:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص برا خواب دیکھے تو اسے چاہیے کہ برے خواب (اور شیطان کے شر) سے اللہ کی پناہ مانگے اور بائیں طرف ہلکا سا تھوک لے تو برے خواب سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6986]
لہٰذا برا خواب آنے پر تین مرتبہ: [أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ] پڑھیں اور بائیں کندھے پر ہلکا سا تھوکیں۔
[5] نیند میں گھبراہٹ یا وحشت کے وقت:
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: کہ رسول اللہ ﷺ نیند میں گھبراہٹ طاری ہونے پر انہیں یہ دعا سکھایا کرتے تھے:
[أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ]
میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے سے پناہ مانگتا ہوں، اس کی ناراضی اور اس کی سزا اور اس کے بندوں کے شر اور شیطانوں کے وسوسہ ڈالنے (گناہوں پر ابھارنے اور اکسانے) سے اور اس بات سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں (اور مجھے بہکائیں)۔
[سنن ابی داود، حدیث: 3893]
[6] نماز میں شیطانی وسواس آنے پر:
سیدنا عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے شکوہ کیا کہ شیطان میری نماز اور قراءت کے درمیان حائل ہو کر میری نماز کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا:یہ ،،خنزب،، نامی شیطان ہے۔ جب تم اسے محسوس کرو تو شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو
[أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ] پڑھو۔ اور بائیں جانب تین بار ہلکا سا تھوک دو۔
[صحیح مسلم، حدیث: 2203]
[7]عقائد میں شیطانی وسواس آنے پر:
شیطان انسان کے دل میں ایسے وسوسے ڈالتا ہے کہ تمام مخلوق تو اللہ نے پیدا کی ہے، تو پھر اللہ کو بھی تو کسی نے پیدا کیا ہوگا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب دل میں ایسے وسوسے پیدا ہوں تو یہ دعا پڑھو: [اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ]
اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ اس نے (کسی کو) نہیں جنا اور نہ وہ (خود) جنا گیا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔پھر تین مرتبہ بائیں جانب ہلکا سا تھوکو اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، (یعنی) [أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ] پڑھو۔
[سنن ابی داود، حدیث: 4722]
[8] گدھے کے رینگنے کے وقت:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم مرغ کی اذان سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا کرو کیونکہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے۔ اور جب تم گدھے کا رینگنا سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔
[سنن ابی داود، حدیث: 5102]
[9] رات کو کتوں کے بھونکنے کے وقت:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب تم رات کے وقت کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے رینگنے کی آواز سنو تو ان سے اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا کرو کیونکہ یہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھ پاتے۔ [سنن أبي داود:5103]
[10] آندھی چلنے کے وقت:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہوا کو برا مت کہو۔ وہ اللہ کی رحمت کا باعث ہوتی ہے۔ اور کبھی عذاب کا باعث بھی ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ سے اس کی بھلائی مانگو اور اس کی برائی سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ لہٰذا آندھی کے موقع پر یہ دعائیں پڑھیں:
[اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَأَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِّهَا]
اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
[سنن ابی داود، حدیث: 5097-5099]
[اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ]
اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس چیز کی بھلائی کا جو اس میں ہے اور اس چیز کی بھلائی کا جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے اور میں اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس چیز کے شر سے جو اس میں ہے اور اس چیز کے شر سے جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے۔
[صحیح مسلم، حدیث: 899]
[11] بچوں کو اللہ کی پناہ میں دینے کی دعا:
رسول اللہ ﷺ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دیتے تھے:
[أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ]
میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر لگ جانے والی نظر سے۔
[صحیح البخاری، حدیث: 3371]
[12] بیوی کے پاس آنے سے پہلے:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے:
[بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا]
اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! ہمیں شیطان (مردود) سے بچا اور (اس اولاد کو بھی) شیطان سے بچا جو ہمیں عطا فرمائے۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6388]
[13] دشمن اور صاحبِ سلطنت سے ملتے وقت:
نبی کریم ﷺ کو جب کسی قوم سے اندیشہِ خوف ہوتا تو آپ یہ دعا پڑھتے:
[اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ]
اے اللہ! ہم تجھے ہی ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
[سنن ابی داود، حدیث: 1537]
[14] غصہ آجانے کے وقت:
نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، جن میں سے ایک کا غصہ کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ آدمی اسے پڑھے تو اس کا غصہ دفع ہو جائے۔ وہ کلمہ یہ ہے: [أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ]
( یعنی)میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔ [صحیح البخاری، حدیث: 6115]
[15] سواری اور لونڈی خریدتے وقت اور شادی کے بعد بیوی سے ملاقات کے موقع پر:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص شادی کرے یا خادمہ (لونڈی) خریدے تو یہ دعا پڑھے:
[اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ]
اے اللہ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور اس چیز کی بھلائی کا جس پر تو نے اسے پیدا کیا اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جس پر تو نے اسے پیدا کیا۔ [سنن ابی داود، حدیث: 2160]
[16] نیا لباس پہننے کے وقت:
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نیا لباس پہنتے تو یہ دعا پڑھتے:
[اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ]
اے اللہ! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، تُجھی نے مجھے یہ پہنایا، میں تُجھی سے سوال کرتا ہوں اس کی بھلائی کا اور اس کام کی بھلائی کا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کام کے شر سے جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔
[سنن ابی داود، حدیث: 4020]
[17] گھر سے نکلتے وقت:
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی میرے گھر سے باہر نکلتے، آسمان کی طرف منہ کرتے اور یہ دعا کرتے:
[اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ، أَوْ أَضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ، أَوْ أَزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں (اس بات سے) کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کر دیا جائے، میں پھسل جاؤں یا مجھے پھسلا دیا جائے، میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، میں کسی سے جہالت سے پیش آؤں یا میرے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے۔
[سنن ابی داود، حدیث: 5094]
[18] نماز میں آخری تشہد میں سلام پھیرنے سے پہلے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرے:
[اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ]
اے اللہ! بے شک میں عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! یقیناً میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔[صحیح البخاری، حدیث: 832]
بعض روایات میں پانچ چیزوں کا ذکر ہے۔ اس لیے ہم نے زیادہ فائدے کے پیشِ نظر پانچ چیزوں سے پناہ مانگنے والی دعا کا ذکر کیا ہے۔