مضمون کے اہم نکات
اثباتِ سنّت کے طریقے:
بقلم: مولانا محمد اسماعیل گوجرانوالہ
سنت کی تعریف کے بعد مولانا (اصلاحی) نے فرمایا کہ سنت چار طریق سے ثابت ہو سکتی ہے۔
[1] عملی تواتر
[2] اہل مدینہ کا تعامل
[3] خلفاء راشدین کا عمل
[4] آحاد
❀ خبرِ متواتر اور تواترِ عملی میں بھی فرق ہے مگر اس وقت اس بحث کی ضرورت نہیں، تواتر کی حجیت مسلم ہے، جو سنت تواتر سے ثابت ہو وہ بہرحال ثابت شدہ ہے لیکن تواتر سے کس قدر سنن ثابت ہوسکیں گی اس کا مختصر تذکرہ پہلے ہو چکا اور آئندہ بھی۔
احادیث پر گفتگو سے قبل تعاملِ اہل مدینہ اور سنتِ خلفاء راشدین کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہم تک اسناد اور درایت کے ذریعہ سے ہی پہنچیں گی جن میں زیادہ تر آحاد ہیں اس لیے اس کا مقام تو اخبارِ آحاد سے بھی فروتر ہونا چاہیے۔ آحاد کی ظنیت اگر شبہات کا سبب بن سکتی ہے تو یہاں بھی ظن ہی ظن ہے۔ مرفوع اور صحیح آحاد سے گھبرانا اور اہل مدینہ کے تعامل سے استدلال معقول معلوم نہیں ہوتا۔ [فر من المطر وقام تحت الميزاب] کا معاملہ ہو جائے گا۔
❀ مولانا نے اہل مدینہ کے کیس کو اپنے الفاظ میں بیان فرمایا کہ مدینہ منورہ تمام بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہم کا مرکز تھا۔ زندگی کے مختلف معاملات میں صحابہ جو کچھ کرتے تھے ممالک اسے سنت کا ہم مرتبہ سمجھتے ہیں، کیونکہ ایسے وقت میں صحابہ سنت سے کیونکر الگ ہو سکتے ہیں، الخ مختصراً۔ اور نتیجہ کے طور پر فرماتے ہیں: میں مالکیہ کے اس نقطۂ نظر کو قابلِ لحاظ سمجھتا ہوں۔
[1] امام مالک کی جس قدرت کتابیں میری نظر سے گزری ہیں وہ لوگ اہل مدینہ کے عمل کو سنت کہنے کی جرأت نہیں کرتے، وہ جانتے ہیں کہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اثبات کے لیے صحیح راہ سند ہے، شہریت کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ آج کل سند کے متعلق جن خطرات کا اظہار کیا جاتا ہے اس وقت یہ خطرات موجود نہ تھے۔
[2] امام مالک 93ھ کے قریب قریب پیدا ہوئے اور 179ھ کے قریب انتقال فرمایا، عام طور پر کبار صحابہ رضی اللہ عنہم 30ھ سے پہلے ہی دینی خدمات کے سلسلہ میں عراق، شام، فارس وغیرہ مفتوحہ ممالک کی طرف تشریف لے جا چکے تھے۔ دارالخلافہ ہونے کی وجہ سے مدینہ میں علوج کی کثرت ہو گئی تھی جو دنیوی مقاصد کے لیے مدینہ کو قریباً اپنا مسکن بنا چکے تھے، شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ اور بعد کے واقعات اور حوادث کا ایک سبب اہل الرائے اور کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کی عدم موجودگی بھی تھی۔ ان حالات میں اہل مدینہ کے عمل کو کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی، بلکہ قرینِ قیاس تو یہ ہے کہ اس وقت کے عمل کو کوئی اہمیت نہ دی جائے۔
[3] تمام دنیا کے لیے مدینہ ہو یا کوفہ، سنت ہی صحتِ عمل کی کسوٹی ہے۔ اب سنت کے لیے کسی شہر کو معیار قرار دینا معقول بات معلوم نہیں ہوتی۔ سنت اگر دریافتِ حجت ہے تو کسی شہر یا کسی فرد کا عمل اس کے لیے بنیاد نہیں ہو سکتا، گھوڑا تانگے کے پیچھے نہیں جوتا جا سکتا۔
[4] کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی طریقہ تھا کہ سنت صحیحہ مل جانے کے بعد اپنے عمل کو بدل دیتے اور اپنی روش پر اصرار نہیں فرماتے تھے اس لیے اگر بالفرض صحابہ اس وقت مدینہ میں موجود بھی ہوتے تو بھی سنت ان پر حجت ہوتی۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے:
[کيف أترك الخبر لا قوال اقوام لو عامرتهم لحاججتهم بالحديث]
میں ان لوگوں کی اطاعت کیونکر کر سکتا ہوں اگر میں اس وقت موجود ہوتا تو سنت کے اعتماد پر ان سے بحث کرتا۔ [احکام للآمدی: ج2 ص165]
حافظ ابن قیم فرماتے ہیں:
[والسنة هى العيار على العمل وليس العمل عياراً على السنة]
سنت معیار ہے کسی کا عمل معیار نہیں۔ [اعلام: ج2 ص295]
[5] اصل مستند جب سنت ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم جہاں گئے ان کے پاس علم تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کی تلقین فرمائی، عجیب بات ہے کہ جب یہ حضرات مدینہ میں ہوں تو یہ علم مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حجت ہو، لیکن جب یہ علم کوفہ یا شام میں چلا جائے تو اس کی حجیت محلِ نظر ہو جائے۔
[والجدران والمساکن والبقاع لا تاثير لها في ترجيح الاقوال وانما التأثير لاهلها وسكانها]
اینٹوں اور مکانات کو کسی بات کی ترجیح میں کیا دخل ہو سکتا ہے، اس کا تعلق تو وہاں کے رہنے والوں سے ہی ہونا چاہیے۔ [اعلام الموقعین: ج1 ص295]
علومِ صحابہ اور سننِ نبویہ جہاں ہوں حجت ہوں گی۔
[6] مدینہ میں بھی اہل علم باہم اختلاف فرماتے تھے۔ موطا میں مالک رحمۃ اللہ علیہ نے خود ان اختلافات کا ذکر فرمایا۔ اس صورت میں بعض اہل مدینہ کے ارشادات دوسروں پر کیونکر حجت ہوں گے اور مولانا سنت ثابت کرنے کے لیے کن اقوال کو معیار قرار دیں گے۔ موالک کے اس اصول کا لحاظ کیسے کیا جائے گا جب دونوں طرف اہل مدینہ موجود ہوں۔
اہل مدینہ اور ترکِ سنت:
[7] اہل مدینہ بعض اہم سنتوں کو ترک کر چکے تھے مثلاً:
[1] ہاتھ باندھنا موالک میں رائج نہیں وہ کھلے ہاتھوں نماز ادا کرتے ہیں۔
[2] موالک سلام صرف ایک طرف پھیرتے ہیں، جمہور آئمہ کا مذہب ہے سلام دونوں طرف ہونا چاہیے۔
[3] مالکی نماز میں بسم اللہ پڑھنا ہی پسند نہیں کرتے۔
[4] رفع الیدین ایسی معروف سنت موالک میں معمول بہا نہیں۔
[5] تکبیرات میں جہر کا رواج مدینہ میں نہیں رہا تھا۔
[6] دعاء استفتاح بالکل ترک کی جا رہی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تعلیم کے لیے عرصہ تک اسے جہر فرمایا۔ (مسلم:399)
[7] موالک میں رواج ہے کہ وہ صبح کی اذان وقت سے پہلے کہنا پسند کرتے ہیں، حالانکہ سنتِ صحیحہ اس کے خلاف ہے، اذان وقت ہی کے اظہار کا ذریعہ ہے۔
[8] مسجد میں جنازہ درست ہے لیکن موالک اسے جائز نہیں سمجھتے۔ ابن حزم نے احکام ج 2 میں اس قسم کے بیسیوں مسائل ذکر کیے ہیں جس میں اہل مدینہ کا عمل سنت کے خلاف ہے یا موالک ان سنن کے پابند نہیں جن کا مدینہ منورہ میں عرصہ تک رواج رہا۔ اب دو ہی رائیں ہو سکتی ہیں، یا مالک خود اہل مدینہ کے عمل کو حجت نہیں سمجھتے تھے یا اہل مدینہ کا عمل سنت کے مطابق نہ تھا۔
[8] ممالک اور شہروں کے اعمال اور عادات میں حکومت کو جہاں تک دخل ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مدینہ میں جہاں خلفاء راشدین اور ائمہ ہدیٰ کا اثر رہا وہاں فاسق و فاجر حکام کا بھی اثر رہا۔
حافظ ابن حزم لکھتے ہیں کہ:
"زمانۂ خیر کے بعد مدینہ میں عمرو بن سعید، حجاج بن یوسف، طارق، خالد بن عبداللہ قسری، عبدالرحمن بن ضحاک، عثمان بن حیان مری ایسے فاسق اور فاجر بادشاہوں کا دور رہا اور ان کے اخلاقی اثرات اور وحشت خیز بدعات سے بھی مدینۃ الرسول متاثر ہوا۔” (الإحكام في أصول الأحكام، لابن حزم: 115/2-116)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں مدینہ اس ملی جلی تہذیب کا مظہر تھا۔ معلوم نہیں مولانا موالک کے نقطۂ نظر کو کہاں تک قابلِ لحاظ سمجھتے ہیں۔
[9] ایک صدی کے مختلف اثرات کے بعد مولانا اہل مدینہ کے عمل کو اس وہم یا ظن کی بنا پر سنت کی اساس قرار دیتے ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے ماخوذ ہوگا اور سنتِ صحیحہ سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ خبرِ واحد ظنی ہے۔ اوہام و ظنون کو علوم پر ترجیح ہماری سمجھ میں نہیں آئی اور نہ ہی مولانا جیسے فہیم آدمی سے اس کی امید ہونی چاہیے۔ [صلت على الاسد و بلت عن النقد] کی مثال اس سے زیادہ کیا ہوگی۔ مولانا نے کس سادگی سے فرما دیا:
"اس طریقہ سے معلوم شدہ سنت کو اس علم سنت پر ترجیح دی گئی جو اخبارِ آحاد سے حاصل ہو۔”
مدینہ کے نام سے جذباتی اپیل تو کی جا سکتی ہے، علم و درایت کی دنیا میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔
[10] حقیقت یہ ہے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ خود بھی اہل مدینہ کو یہ اہمیت نہیں دیتے جو اسے مولانا دے رہے ہیں۔ وہ سنتِ صحیحہ کو اہل مدینہ کے عمل سے رد کرنے کے حق میں نہیں ہیں اگر ان کی نظر میں یہ عمل اس قدر اہم ہوتا تو وہ ہارون الرشید کی موطا مالک رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق پیش کش فوراً منظور فرما لیتے۔
[انه شاور مالكاً في ان يعلق الموطأ في الكعبة ويحمل الناس على ما فيه فقال لا تفعل فان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم اختلفوا فى الفروع وتفرقوا فى البلدان وكل سنة مضت تأمل وفقك الله يا ابا عبد الله]
"خلیفہ ہارون نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے مشورہ کیا کہ موطا کو ملک کا قانون قرار دے کر کعبہ میں ٹکا دیا جائے تا کہ لوگ اس کے اتباع پر مجبور ہوں، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، صحابہ رضی اللہ عنہم کا فروع میں اختلاف تھا اور وہ مختلف ممالک پھیل گئے، جو کچھ ان سے منقول ہے سب سنت ہے۔ ہارون نے معاملہ سمجھ کر فرمایا، اللہ تمہیں خیر کی توفیق دے۔”
[حجۃ اللہ: ج1 ص116]،[اعلام الموقعین: ج2 ص296]،[مفتاح السعادۃ تاشکبری زادہ 962ھ ج2 ص87]
❀ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے علوم کو سنت سمجھتے ہیں۔ علم مدینہ میں ہو یا کسی دوسرے شہر میں وہ اہل مدینہ کے علم کو سنت کی بنیاد نہیں سمجھتے، موطا میں عملِ اہل مدینہ کا ذکر ترجیح اور تائید کے لیے ہے، اصل دلیل وہاں بھی سنت ہی ہے جس کا ثبوت اسی طریق سے ہوگا جو محدثین میں متعارف ہے۔ مولانا نے جس انداز سے اہل مدینہ کے عمل کا ذکر فرمایا ہے متاخرینِ موالک یا مولانا ایسے وکلاء جو مقام چاہیں اسے عنایت فرمائیں، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ پر اس کی ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی، امام قطعاً اس کے حق میں نہیں کہ اہل مدینہ کے عمل سے سنتِ صحیحہ کو رد کیا جائے۔ یہ ایسی وکالت ہے جسے موکل پسند نہیں کرتا۔
[11] بقولِ امام ابن حزم تین سو کے قریب اہل علم مدینہ سے کوفہ اور ان اطراف میں آباد ہو گئے اور اسی کے پس و پیش شام میں اور ان کی یہ ہجرت محض دینی اور تبلیغی ضرورتوں کے پیشِ نظر تھی، اس ایثار کی یہ کتنی سخت سزا ہوگی کہ ان کا عمل نہ حجت ہے نہ سنت کے لیے اساس، اور بعض دوسرے حضرات جو دینی یا دنیوی ضرورتوں کے ماتحت مدینہ میں آباد ہو گئے ان کے اعمال سنتِ نبوی کے لیے کسوٹی قرار پائے، اگر وطنی عصبیت کا دین میں یہ مقام ہو تو علم و دانش کی کیا قدر و قیمت رہ گئی۔
فما حب الديار شققن قلبی
ولكن حب من سکن الديارا
[12] اگر انسانی اعمال کو محض شرفِ وطنیت کی بنا پر احادیثِ صحیحہ اور اخبارِ آحاد پر بے اعتمادی کا ذریعہ بنایا جائے تو انکارِ حدیث کے لیے ایک خطرناک باب کھل جائیگا۔ [فانها لا تعمى الابصار ولكن تعمى القلوب التى فى الصدور]
[13] اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ غیر مدنی صحابہ کے پاس بھی علومِ نبویہ کے ذخائر موجود تھے اور ان میں بعض ایسے بھی تھے جو اہل مدینہ کے پاس نہیں تھے۔ اس صورت میں اگر حدیث پر عمل کیا جائے تو اہل مدینہ کے عمل کی حیثیت کیا رہی؟ اور اگر اہل مدینہ کے عمل کو ترجیح دی جائے تو منکرینِ سنت نے آخر کیا جرم کیا؟ اس اصول سے حجیتِ حدیث کے مسلک کو مدد ملی یا انکارِ حدیث کی تائید ہوئی؟ اس کا فیصلہ مولانا ہی فرما سکتے ہیں۔
[14] امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے موطا میں چند مقامات پر اہل مدینہ کے عمل کا ذکر فرمایا ہے ان کا اپنا اندازِ ترجیح کی حد تک ہے، الزام و حجت نہیں، بلکہ بعض مقامات پر تو یہ تذکرہ صرف اظہارِ واقعہ کے طور پر آیا ہے۔ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ ہارون الرشید کی تجویز موطا کی سرکاری حیثیت کے متعلق اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے انکار کے بعد فرماتے ہیں:
[وهذا يدل على ان عمل اهل المدينة ليس عنده حجة لازمة لجميع الامة وانما هو اختيار منه لما راى عليه العمل ولم يقل قط في مؤطأه ولا غيره لا يجوز العمل بغيره بل يخبر اخباراً مجرداً أن هذا على اهل بلده فأنه وجزاه عن الاسلام خيراً ادعى اجماع اهل المدينة في نيف واربعين مسألة]
"اسی سے ظاہر ہے کہ اہل مدینہ کا عمل حجت نہیں، نہ ہی امت پر اسے قبول کرنا ضروری ہے، بلکہ مطلب صرف ایک واقعہ کا اظہار ہے۔ اہل مدینہ کے اجماع کا ذکر امام نے قریباً چالیس موقعہ پر فرمایا ہے۔” [اعلام منيريه: ج2 ص297]
سنت سازی کی توجیہ غالباً مولانا نے کسی مالکی کے بیان سے فرمائی یا اپنی ہی درایت سے جنم دے دیا، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔
مولانا اصلاحی گو اہل حدیث نہیں لیکن وہ کھلے ذہن سے سوچنے کے عادی ہیں۔ اگر وہ [اعلام الموقعین ج2] اور [احکام ابن حزم ج2] ملاحظہ فرمائیں تو وہ راقم سے اتفاق فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ
اہل مدینہ کے عمل کے اجزائے ترکیبی:
حافظ ابن قیم اہل مدینہ کے عمل کا پس منظر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
[كان بحسب من فيها من المفتين والأمراء والمحتسبين على الاسواق ولم تكن الرعية تخالف هؤلاء فإذا افتى المفتون نفذة الوالى وعمل به المحتسب وصار عملاً فهذا هو الذى لا يلتفت اليه لا عمل رسول الله ﷺ وخلفائه والصحابة فذاك هو السنة فلا يخلط احدهما بالآخر نحن هذا العمل اشد تحكيماً وللعمل بالآخر اذا خالف السنة اشد تركاً وبالله التوفيق]
"خلفاء راشدین اور صحابہ کا دور گزرنے کے بعد اہل مدینہ کا عمل کیا تھا مفتی کا فتویٰ، امیر کا حکم اور کوتوال کا احتساب، رعیت اس کی مخالفت نہیں کرتی تھی، لیکن یہ قطعاً قابلِ توجہ نہیں، آنحضرت خلفاء اور صحابہ کا عمل تو سنت ہے ہم ان کا فیصلہ قبول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ دوسری کوئی چیز غلط نہیں کرنا چاہتے اور اس کے سوا جو عمل سنت کے خلاف ہوا اس کا حتماً انکار کرتے ہیں۔”
[اعلام: ج2 ص306]
❀ اس کے بعد حافظ ابن قیم نے ایسی سنتوں کا ذکر فرمایا جو خلفاء اور صحابہ کے وقت موجود تھیں لیکن موالک نے ان پر عمل ترک کر دیا۔ یہی تذکرہ حافظ ابن حزم اس طرح فرماتے ہیں:
"بد زمانہ خیر تو گزر گیا۔ اس کے بعد مدینہ کے والی عمرو بن سعید، حجاج بن یوسف ایسے فاسق اور ظالم بھی بنے اور عمرو بن حزم اور عمر بن عبدالعزیز ایسے صالح اور نیک بھی اور اہل مدینہ کا عمل ان کے اثرات کا دوسرا نام تھا۔” مختصراً [الاحکام: ج2 ص115]
مصر بھی آج کل علم "درایت” کا گہوارہ ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اہل مدینہ کے عمل کے متعلق ایک مصری عالم کی رائے بھی سن لیجئے شیخ حسن احمد الخطیب فرماتے ہیں:
[قالوا ان عمل اهل المدينة كعمل غيرهم من اهل الامصار فلا فرق بين عملهم وعمل اهل العراق والشام والحجاز وانما العبرة بالسنة فمن كانت معهم فهم اهل العمل المتبع وكيف يكون عمل بعضهم حجة على بعض اذا اختلف علماء المسلمين وقد انتقل اكثر اصحاب رسول الله ﷺ عن المدينة وتفرقوا فى الامصار واكثر علماءهم صاروا الى الكوفة والبصرة والشام وانما الحجة فهى الاصل الذى يجب ان يرجع اليه وعمل مصر اوبلد اصلاً ولا معياراً فى التشريع ملخصاً]
"جمہور ائمہ کا خیال ہے کہ مدینہ کا عمل بھی باقی شہروں پر کوئی مرتبہ نہیں، اختلاف کے وقت سنت کا اتباع اصل چیز ہے، کسی عالم کا قول دوسرے پر حجت نہیں۔ صحابہ مختلف ممالک میں پھیل گئے، سب کے پاس علم تھا اصل چیز سنت ہے کسی شہر کا عمل تشریح کی بنیاد نہیں قرار پا سکتا۔ [فقه الاسلام: ص172]
جمہور ائمہ اسلام کی عملِ اہل مدینہ کے متعلق یہی رائے ہے۔
خبرِ آحاد:
خبرِ آحاد کے متعلق بہت سے فنی مباحث ہیں جن کی تفصیل اصولِ فقہ اور اصولِ حدیث کی ملبوطات میں پائی جاتی ہے۔ آحاد میں راویوں کی کوئی تعداد معین نہیں، متواتر کے علاوہ سب احادیث ہیں۔ اگر خبرِ واحد میں یقین کے قرائن موجود نہ ہوں یا ضعف کے قرائن پائے جائیں، ایسی خبر سے قطعاً علم حاصل نہیں ہوگا۔
خبر کی دو قسمیں ہیں:
[1] متواتر [2] آحاد
متواتر کی حجیت پر سب عقلمند متفق ہیں البتہ سمنیہ اور براہمہ متواتر کو بھی حجت نہیں سمجھتے، ان کا خیال ہے کہ کسی خبر سے بھی یقینی علم حاصل نہیں ہوسکتا، جب افراد اور احاد سے یقین حاصل نہیں ہوتا تو متواتر انہی کے مجموعہ کا نام ہے، اس میں یقین کہاں سے آ گیا۔
متواتر کے سوا باقی سب آحاد میں خبر دینے والا ایک ہو یا دس ہوں، اصطلاح میں یہ خبرِ واحد ہی ہوگی۔ متواتر کا وجود چونکہ نسبتاً کم ہے، دنیا اور دین کے تمام کاروبار کا انحصار خبرِ واحد پر ہے، دینی مسائل بھی اکثر خبرِ واحد ہی سے ہم تک پہنچے ہیں اور دنیا کی عام اطلاعات میں بھی خبرِ واحد ہی کار فرما ہے، حکومت سے لے کر عوام الناس تک اگر خبرِ واحد پر اعتماد کرنا ترک کر دیں تو کاروبار کا پورا کارخانہ برباد اور تباہ ہو کر رہ جائے، تواتر کے عدد کا کسی کام کے لیے اجتماع ناممکنات سے ہے۔ اسی طرح انبیاء وفود بھیجتے، ان وفود کی اطلاعات پر لڑائیاں لڑی جاتیں، ہزاروں جانیں ضائع ہو جاتیں مگر خبرِ واحد کی افادی حیثیت کبھی زیرِ بحث نہیں آئی۔
❀ قرآنِ مجید میں فرمایا:
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ]
جب کوئی فاسق تاجر آدمی بھی تمہیں اطلاع دے تو اس کی تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ بعد میں ندامت اٹھانی پڑے۔ (الحجرات:6)
فاسق کی خبر کو مسترد کرنے کا حکم نہیں دیا گیا البتہ تحقیق و تثبیت کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ آیت میں وصفِ فسق کی تخصیص سے ظاہر ہے کہ ثقہ اور متدین آدمی کی اطلاع کے لیے یہ بھی چنداں ضروری نہیں، اس سے ظاہر ہے کہ خبرِ واحد کو دین اور دنیا کے معاملات میں کس قدر اہمیت حاصل ہے۔
❀ منافقین کے ارجاف سے بچنے کے لیے یہ تجویز نہیں کہ ان کی باتوں پر اعتبار کرنا چھوڑ دو بلکہ یہ فرمایا ایسی خبریں اہل علم اور اہل استنباط کی طرف لوٹائی جائیں تا کہ وہ ان سے صحیح نتائج اخذ کر سکیں۔
تبلیغ و موعظت کی ضرورت کے پیشِ نظر فرمایا:
[فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ]
یعنی ہر گروہ سے کچھ لوگ علمِ تفقہ کے لیے سفر کریں اور واپس آ کر اپنی قوم کو ڈرائیں۔ (التوبه:122)
طائفہ کا لفظ ایک اور اس سے زائد کے لیے مستعمل ہوتا ہے اور یہ خبرِ واحد ہی ہوگی، ان کے علم و انذار پر کوئی عددی پابندی نہیں لگائی گئی کہ جب تک وہ سو پچاس نہ ہو جائیں کوئی بات زبان سے نہ کہیں۔ معلوم ہے جب وہ کہیں گے تو قرآنِ عزیز کی ہدایت کے مطابق ان کے ارشادات پر الزاماً اتّباع ہوگا، خبرِ واحد کی حجیت اور اعتماد کے متعلق قرآنِ عزیز کی یہ صراحت ہے۔ آنحضرت ﷺ پر بھی پابندی نہیں لگائی کہ جب تک مخاطبین کی تعداد حدِ تواتر تک نہ پہنچ جائے آپ کوئی لفظ زبان سے نہ فرمائیں، اگر خبرِ واحد شرعاً مستند نہ ہوتی تو آنحضرت کے ارشادات پر ضرور کوئی نہ کوئی پابندی لگائی جاتی۔ ظاہر ہے کہ خبرِ واحد شرعی حجت ہے۔
اس لیے ائمہ سنت نے تثبیت اور تحقیق کے بعد اسے حجت مانا ہے، قرائن کے بعد اسے پوری اہمیت دی ہے اور جو اس سے ثابت ہوا اسے علم کی حیثیت سے قبول فرمایا ہے۔ سلسلۂ احادیث میں اکثر اخبارِ آحاد ہیں، ائمہ حدیث نے جہاں ضرورت محسوس کی، تحقیق اور تبیین فرمایا، قرائن کی چھان پھٹک فرمائی ہے، اس کے لیے اصول وضع فرمائے اور اسے قبول فرمایا۔ یہی ممکن تھا، امکان کی حدود سے آگے انسان کے اختیار کی چیز نہیں اس کا عمل اور علم سعی اور کوشش، ممکنات تک محدود ہے، اس سے زیادہ کی تکلیف نہ ہے قدرت نے دی ہے نہ وہ اس کا مکلف ہے۔
خبرِ واحد اور اس پر بحث و نظر:
پہلی صدی ہجری اسلامی روایات کا مقدس دور ہے۔ شریعت کی علمی اور عملی روایات اس وقت اپنے جوبن پر تھیں۔ جو کچھ اس وقت ہوا اور اسلامی نقطۂ نظر سے بہت حد تک احترام و قبول کا مستحق ہے۔ ابن حزم فرماتے ہیں کہ پہلی صدی ہجری میں خبرِ واحد بلا انکار قبول کی جاتی تھی۔ اہل سنت، خوارج، شیعہ، تقدریہ سب اسے قبول کرتے تھے۔ پہلی صدی کے بعد متکلمین معتزلہ نے اس میں اجماعِ امت کی مخالفت کی۔ (احکام الاحکام: ج1 ص114)
شیخ محمد ابراہیم انوار الیمنی (م 800ھ) فرماتے ہیں:
[وقد انعقد اجماع المسلمين على وجوب قبول الثقات فيما لا يدخله النظر وليس ذالك بتقليد بل عمل بمقتضى الادلة القاطعة الموجبة قبول خبر الاحاد وهي محررة فى الفن الاصولى ولم يخالف فى هذا الاشرذمة يسيرة وهم متكلموا بغداد من المعتزلة والاجماع منطبق قبلهم وبعدهم على بطلان قولهم]
"ثقات کی ایسی خبریں جن پر کوئی اعتراض نہ ہو ان کے قبول پر اہل اسلام کا اجماع ہے اور یہ تقلید نہیں بلکہ قطعی دلائل کا تقاضا ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ اخبارِ آحاد کا قبول اور ان سے احتجاج ضروری ہے۔ یہ مسئلہ فنِ اصول میں اپنی جگہ پر مرقوم ہے اور بغداد کے معتزلہ متکلمین کے سوا کسی نے مخالفت نہیں کی بلکہ اس پر اجماع پہلے بھی تھا، اب بھی ہے۔ [الروض الباسم: ص32]
اخبارِ آحاد پر اعتراض عموماً ان لوگوں نے کیا جو انسانی نفسیات سے ناواقف اور ان کی حدود و امکان سے نا آشنا تھے۔ آج بھی اس میں وہی نیچر پرست شبہات کی راہیں پیدا کر رہے ہیں جو زمین پر بیٹھ کر آسمان کی باتیں کرنے کے عادی ہیں۔ چنانچہ مختلف ادوار میں اخبارِ آحاد کے خلاف انہی حلقوں سے آواز اٹھی جو یا تو خود بدعت کے داعی تھے
یا اہل بدعت سے ایک گونہ متاثر تھے۔
| منکرین | کون سی احادیث کا؟ | کب؟ |
|---|---|---|
| خوارج | جو اہلِ بیت کے فضائل میں تھیں۔ | 200ھ |
| شیعہ | جو احادیث صحابہؓ کے فضائل میں تھیں۔ | 200ھ |
| معتزلہ اور جہمیہ | احادیثِ صفات | — |
| قاضی عیسیٰ بن ابان اور ان کے اتباع | جو احادیث غیر فقیہ صحابہ سے مروی ہیں۔ | 221ھ |
| متاخرین فقہاء سے قاضی ابو زید دبوسی وغیرہ | جو احادیث غیر فقیہ صحابہ سے مروی ہیں۔ | 221ھ |
| اس کے بعد معتزلہ اور متکلمین کے ساتھ متاخرین فقہاء کی ایک مختصر جماعت | اصول اور فروع دونوں میں ان حضرات نے خبرِ واحد سے اختلاف کیا۔ | 400ھ کے بعد |
| یورپین تہذیب سے مرعوب گروہ، مولوی چراغ علی، سر سید احمد خان وغیرہ | یہ حضرات فن سے قطعاً ناواقف تھے۔ ان کی تحقیق میں احادیث تاریخ کا ذخیرہ ہیں۔ جو ان کی نیچر کے موافق ہوا قبول کر لیا اور جو مخالف ہوا ترک کر دیا۔ | 1300ھ کے قریب قریب |
| مولوی عبداللہ چکڑالوی، مستری محمد رمضان گوجرانوالہ، مولوی حشمت علی لاہوری، مولوی رفیع الدین ملتانی | احادیث کا بالکلیہ انکار | 1300ھ کے بعد |
| مولوی احمد دین صاحب امرتسری، مسٹر غلام احمد پرویز۔ یہ حضرات سرسید سے متاثر ہیں لیکن جاہل اور غیر محتاط۔ مولوی احمد دین بعض متواتر اعمال کو سنّت سمجھتے تھے۔ | ان کے نزدیک قرآن واحد رہنما اور حدیث اور پورا دین ایک کھیل ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک سیاسی نظریہ جسے ہر وقت ہمیں بدلنے کا حق حاصل ہے۔ | 1400ھ |
| مولانا شبلی مرحوم، مولانا حمید الدین فراہی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی اور عام فرزندانِ ندوہ باستثنائے حضرت سید سلیمان ندوی | یہ حضرات حدیث کے منکر نہیں لیکن ان کے اندازِ فکر سے حدیث کا استخفاف اور استقاط معلوم ہوتا ہے اور طریقۂ گفتگو سے انکار کے لیے چور دروازے کھل سکتے ہیں۔ | 1300ھ، 1400ھ |
یہ جدول میرے ذاتی مطالعہ کا نتیجہ ہے، مجھے اس کے کسی حصہ پر اصرار نہیں۔ میں ممنون ہوں گا اگر مجھے میری لغزش پر آگاہ کیا جائے۔ میرے خیال میں تحریکِ انکارِ حدیث تدریجی ارتقا سے اس مقام تک پہنچی ہے۔
تحقیق و تثبیت کے بعد حدیث کا ٹھیک وہی مقام ہے جو قرآنِ عزیز کا ہے اور فی الحقیقت اس کے انکار کا ایمان ودیانت پر بالکل وہی اثر ہے جو قرآنِ عزیز کے انکار کا۔ قرآنِ عزیز کے الفاظ کی تاویل میں جب اختلاف ہو تو اس کے الفاظ کی قطعیت میں شبہ نہیں ہوگا لیکن مفہوم کی تاویل اور اس کے تعین میں بحث رہے گی، جو تاویل قواعدِ صحیحہ اور علومِ سنّت کے خلاف ہوگی اس کے منکر کو قرآن کا منکر کہا جائے گا۔ اختلاف کسی تاویل کو اس فتویٰ سے بچا نہیں سکتا۔ ٹھیک اسی طرح جو احادیث قواعدِ صحیحہ اور ائمۂ سنّت کی تصریحات کے مطابق صحیح ثابت ہوں ان کا انکار کفر ہوگا اور ملّت سے خروج کے مرادف، صرف اختلافِ تاویل بھی ایسے حضرات کا جو حقیقت سے آگاہ نہیں کسی حقیقت کو اپنے موقف اور مقام سے نہیں ہٹا سکتا۔
قرآنِ اعجازِ تاویل کے باوجود اللہ کا کلام ہے اور شرعاً حجت، اسی طرح حدیث تحقیق و تثبیت کے باوجود اللہ کی طرف سے وحی ہے اور دین میں قرآن کے بعد حجت۔
امام عثمان بن سعید دارمی (م 282ھ) فرماتے ہیں:
[ان هذا الحديث انما هو دين بعد القرآن نقض الدارمي على بشر المريسي] بے شک یہ حدیث قرآن کے بعد دین ہی ہے۔ [نقض الدارمي على المريسي: ص137]
ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
[لا ريب ان مجرد خبر الواحد الذى لا دليل على صدقه لا يفيد العلم]
خبرِ واحد میں اگر صدق کے قرائن موجود نہ ہوں تو اس سے علم حاصل نہیں ہوگا۔ [الرد علی المنطقيين: ص38]
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے کتبِ حدیث کے پانچ طبقات متعین فرمائے ہیں، آخر میں فرمایا:
[اما الطبقة الاولى والثانيه فعليها اعتماد المحدثين وحوم حماها مرتعهم ومسرحهم الخ]
ائمہ حدیث کا اعتماد پہلے اور دوسرے طبقے پر ہے یہی ان کے اعتماد کا محوری نقطہ ہے۔ تیسرا طبقہ جس میں بیہقی، طحاوی، مصنف ابن ابی شیبہ اور طبرانی وغیرہ کو شمار کیا ہے، اس سے صرف ماہرینِ فن فائدہ کر سکتے ہیں، یہ عوام کے استعمال اور استفادہ کی چیز نہیں۔ باقی طبقات سے اہلِ بدعت استدلال کرتے ہیں، اہل حدیث ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ [حجة الله: ج1 ص108]
کیونکہ ان طبقات میں صدق کے قرائن ناپید ہیں، ان کی اسانید میں خبط ہے، ان کے رجال کتابوں میں عموماً ناپید ہیں۔
صدق کے قرائن:
اگر آحاد کے متعلق صدق کے قرائن موجود ہوں، مثلاً اس کی تصحیح ہو، امت نے اسے قبول کیا ہو، مصنف نے صحت کا التزام کیا ہو، امت نے الزام کو درست تسلیم کیا ہو، اہل علم نے ان کتب کی خدمت کی ہو، شرحیں لکھی ہوں، لغات کو حل کیا ہو، رجال کو منضبط کیا ہو، مقدمات و حواشی لکھے ہوں، غرض اعتماد کی نظر سے دیکھا ہو یا واحد عن واحد منقول ہو اور اس میں شرائطِ صحت پائی جائیں یا امت نے عملاً اسے قبول کر لیا ہو، رواۃ کی ثقاہت معلوم ہو، ان حالات میں اس سے بھی یقین حاصل ہو گا اور اس پر عمل بھی واجب ہو گا۔
علامہ آمدی نے خبرِ واحد کے متعلق بہت بسط سے لکھا ہے لیکن اہل ظاہر اور اہل حدیث کے مسلک کا ذکر بہت اجمال سے فرمایا ہے۔ الاحکام فی اصول الاحکام ابن حزم، صواعقِ مرسلہ علی الجہمیۃ والمعطلۃ میں دونوں مسلک تفصیل سے مرقوم ہیں۔ اسی سے اہل حدیث کا مسلک پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔
[القسم الثاني من الاخبار ما نقله الواحد من الواحد فهذا اذا تصل برواية العدول الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وجب العمل به ووجب العلم بصحته]
جب ایک راوی دوسرے سے اتصال کے ساتھ نقل کرے اور یہ عادل ہوں تو اس پر عمل بھی واجب ہے اور اس کی صحت پر یقین بھی ضروری ہو گا۔ [الاحکام: ج1 ص108]
دوسرے مقام پر مرقوم ہے:
[فصح بهذا اجماع الامة كلها على قبول خبر الواحد الثقة عن النبى صلى الله عليه وسلم]
خبرِ واحد صحیح کے قبول پر پوری امت کا اجماع ہے۔ [احکام: ج1 ص114]
پھر ج1 ص118 میں:
[وقد ثبت عن ابى حنيفة ومالك والشافعى واحمد وداؤد وجوب القول بخبر الواحد وهذا حجة على من قلد احدهم فى وجوب القول بخبر الواحد]
ائمہ اربعہ اور داؤد ظاہری سب خبرِ واحد کے قبول پر متفق ہیں اور یہ ان کے اتباع پر حجت ہے۔
متاخرین فقہاء:
ابن حزم متقدمین ائمہ کے اجماع کا ذکر فرمانے کے بعد متاخرین فقہاء کا ذکر فرماتے ہیں جو معتزلہ اور متکلمین سے متاثر ہو کر خبرِ واحد کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگے اور ظن [ائمہ اصول نے خبرِ واحد کو ظنی لکھا ہے، اس ظن کا محدثین کی اصطلاح میں یہ مطلب ہے کہ اس علم کا مرتبہ اس علم سے کم ہے جو متواتر سے حاصل ہوتا ہے، یہ ظن بمعنی وہم نہیں، جیسے منکرینِ حدیث نے سمجھا] مصطلح کو حدودِ علم سے باہر سمجھنے لگے۔ امام نے دو اصول پر زور دیا ہے۔
[1] وہ فرماتے ہیں کہ دین کامل ہے جیسے آیت [الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ] الخ سے ظاہر ہے، پھر اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا جو [إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ] سے واضح ہے۔ اگر متاخرین فقہاء کے خیال کے مطابق کامل دین پر ظنون و اوہام غالب ہو جائیں اور حق اور باطل اس طرح آمیز ہو جائیں کہ امتیاز ناممکن ہو تو حفاظت کا وعدہ کس طرح پورا ہوا؟ کیونکہ ذکر کا لفظ کتاب اللہ اور سنت دونوں پر حاوی ہے۔ اگر متاخرین کا خیال مان لیا جائے تو:
[وهٰذا انسلاخ من الإسلام، وهدم للدين، وتشكيك في الشرائع]
اس عقیدے کے بعد انسان دین سے بالکل خارج ہو جائے گا اور دین کی پوری عمارت پیوندِ خاک ہو کر رہ جائے گی۔
[الإحكام في أصول الأحكام لابن حزم: 1/123]
[2] معلوم ہے کہ خبرِ واحد میں تمام شبہات سند کی وجہ سے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اس وقت نہ تو سند تھی نہ کوئی شبہ گویا اللہ کی حفاظت یہیں ختم ہو گئی۔ مستقبل کے لیے اللہ تعالیٰ کوئی انتظام نہ فرما سکے بلکہ وضاع اور دجال دین پر غالب آ گئے۔ جب ایسا نہیں تو لازماً دین قیامت تک محفوظ ہوگا اور یہ احاد کی حفاظت سے ہی ہوگا۔
[فقد ثبت يقيناً ان خبر الواحد العدل عن مثله مبلغاً عن مثله الى رسول الله صلى الله عليه وسلم مقطوع به موجب للعمل والعلم معاً]
پس یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوگئی کہ ایک عادل راوی کی اپنے جیسے عادل راوی سے نقل کردہ خبر، جو رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہو، قطعی طور پر حق ہے، اور وہ بیک وقت عمل اور علم دونوں کو واجب کرتی ہے۔ [الإحكام في أصول الأحكام لابن حزم: 1/124]
یقیناً ثابت ہوا کہ حدیثِ صحیح متصل پر عمل واجب ہے اور اس کی صحت بھی یقینی ہے.
اہل حدیث کا مسلک
اہل حدیث کے نزدیک خبرِ واحد میں جب صدق کے قرائن پائے جائیں یعنی حدیث کی ثقاہت اور اتصال وغیرہ قرائن موجود ہوں تو وہ مفیدِ علم ہوگی۔
[1] [وعند بعض اهل الحديث يوجب العلم لانه يوجب العمل ولا عمل الاعن علم]
عمل علم کی فرع ہے، جب علم ہی نہ ہو تو عمل کیسے ہوگا۔ اس لیے اہلحدیث کا مذہب ہے کہ خبرِ واحد سے علم اور یقین حاصل ہو گا۔ [تنویح: ص304]
[2] آمدی فرماتے ہیں: [والمختار حصول العلم بخبرہ اذا احتفت به القرائن وتمينع ذلك عادة دون القرائن]
مختار مذہب یہی ہے کہ اگر قرائن موجود ہوں تو علم حاصل ہوگا ورنہ عادۃً منع ہے۔ [الاحکام للآمدی: ج2 ص50]
[3] [قال بعض اهل الحديث يوجب علم اليقين لما ذكرنا أنه أوجب العمل ولا عمل من غير علم وقد ورد الاحاد فى احكام الآخرة مثل عذاب القبر وروية الله تعالى بالابصار ولا حظ لذلك الا العلم]
بعض اہل حدیث نے کہا خبرِ واحد سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے، کیونکہ جب عمل واجب ہے تو عمل علم کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے اور آحاد میں عذابِ آخرت اور عذابِ قبر اور رؤیتِ باری تعالیٰ کے متعلق جو کچھ وارد ہوا ہے، اس کا مقصد علم اور اعتقاد ہی تو ہے۔ [اصول بزدوی: ص691 ج2]
❀ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اعمال میں تو خبرِ واحد سے استدلال درست ہے، مگر اصول و عقائد میں استدلال درست نہیں۔ اہل حدیث اعمال اور عقائد دونوں میں خبرِ واحد کو حجت سمجھتے ہیں۔
[4] [ذهب أكثر أهل الحديث إلى أن الأخبار التى حكم أهل الصنعة بصحتها توجب علم اليقين بطريق الضرورة، وهو مذهب أحمد بن حنبل]
اہل حدیث اور امام احمد کا مذہب ہے کہ صحیح احادیث سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ [کشف الاسرار:2/691]
[5] ابن قیم فرماتے ہیں: "جو لوگ خبرِ واحد سے علم کی نفی کرتے ہیں وہ معتزلہ اور بدعتی فرقوں سے متاثر ہیں۔ بعض فقہاء اور ائمہ اصول بھی ان سے متاثر ہیں، لیکن سلفِ امت میں ان کا کوئی پیشرو نہیں۔ ائمہ سنت: امام شافعی، امام مالک، امام احمد، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہم اور ان کے تلامذہ، امام داؤد، امام ابن حزم، حسین بن علی کرابیسی وغیرہ نے فرمایا کہ خبرِ واحد سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کسی آدمی کا ذکر ہوا جو کہتا تھا کہ خبرِ واحد سے عمل واجب ہوتا ہے لیکن علم حاصل نہیں ہوتا۔ امام نے اسے ناپسند کیا اور فرمایا: میں نہیں جانتا یہ کیا بلا ہے؟ [صواعق:2/362]
اس سے ظاہر ہے ائمہ اربعہ اور قدماء اس مسئلہ میں اہلِ حدیث کے ساتھ ہیں۔ خبرِ واحد پر بدگمانی اس وقت پیدا ہوئی جب متکلمین اور فلاسفہ نے اسلامی عقائد پر یورش کی متاخرینِ فقہاء اس سے متاثر ہو گئے۔
وجدان اور شعور:
علم اور یقین کا مسئلہ بہت حد تک وجدانی ہے۔ اس معاملہ میں صرف تعداد ہی نہیں، رجال کے اوصاف بھی مؤثر ہوتے ہیں، زہد و تقویٰ کی کمی کے باوجود جب ہم بااخلاق اور متدین آدمی سے کوئی خبر سن لیں تو ہم اپنے دل میں بہت زیادہ اطمینان محسوس کرتے ہیں، عامی یا غیر متدین آدمی متعدد بھی ہوں تو دل میں وہ یقین پیدا نہیں ہوتا، تعداد رواۃ کے اوصاف اور دوسرے قرائن سے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ تعجب ہے کہ جماعتِ اسلامی کی قیادت نے عام فرقوں کی طرح خبرِ واحد کی ظنیت کا وظیفہ شروع فرما دیا، حالانکہ دینی جماعتوں کا طریقِ فکر، بدعی فرقوں سے مختلف ہونا چاہیے۔ تعجب ہے جس جماعت کی دعوت اقامتِ دین ہو وہ رواۃِ حدیث کا عام خبروں کے رواۃ سے موازنہ کرے۔
اعتزال و تجہم کے مغالطہ سے متاثر ہو جائے اور پھر اس کا اظہار ایسے وقت میں کرے جبکہ ملک میں اہل بدعت احادیث اور سنن کے خلاف ایک شور برپا کر رہے ہوں۔ حالانکہ اہل دیانت کی وجدانی کیفیت کو اہل دیانت ہی سمجھتے ہیں، اہل بدعت کے لیے اس کا سمجھنا مشکل ہے۔ ائمہ حدیث اس وجدان اور شعور کو اچھی طرح جانتے تھے، انہوں نے اوصافِ رواۃ اور قرائنِ موافق اور مخالف اثرات کو ذہن میں رکھ کر فرمایا:
❀ [والآحاد في هذا الباب قد تكون ظنونا بشروطها فاذا قويت صارت علوماً فإذا ضعفت صارت اوهاماً وخیالات فاسدة]
اخبارِ آحاد کبھی ظنی ہوتی ہیں کبھی علم و یقین کے مرادف اور کبھی اوہام اور فاسد خیالات۔
[ابن تیمیہ بحوالہ صواعق: ج2 ص3-4]
تلقی بالقبول:
❀ امت کے قبول اور عمل سے بھی حدیث یقین کے مقام پر پہنچ جاتی ہے۔ حدیث انما الاعمال بالنیات، حدیث ذوق عیلہ، صدقۂ فطر، حرمتِ نکاح مع العمة والخالة، حدیثِ حرمتِ رضاع مثل نسب، تعیین عشرہ مبشرہ، وغیرہ احادیث کو امت نے عملاً قبول کر لیا ہے۔ ابن تیمیہ فرماتے ہیں ان سے متواتر ہی کی طرح یقین حاصل ہوتا ہے۔
[اما السلف فلم يكن بينهم في ذالك نزاع]
سلف میں اس کے متعلق کوئی نزاع نہ تھی۔ [مختصر الصواعق المرسلة لابن القيم: 2/373]
بخاری اور مسلم کی احادیث کی صحت پر امت متفق ہے اور انہیں تلقی بالقبول کا مقام حاصل ہوا ہے۔
ابن الصلاح فرماتے ہیں:
[لاتفاق الامة على تلقي ما اتفقا عليه بالقبول وهذا القسم جميعه مقطوع بصحته والعلم اليقينى النظرى واقع به]
امت نے صحیحین کی متفقہ روایات کو اجماعاً قبول فرمایا، ان احادیث کی صحت قطعی ہے، اس سے علمِ نظری اور یقینی حاصل ہوتا ہے۔ [ابن الصلاح: ص12]
ہم مولانا اصلاحی کو قطعاً تکلیف نہیں دیتے کہ وہ ائمہ حدیث کو معصوم سمجھیں، لیکن امت کی عصمت پر تو غور فرمانا چاہیے۔ امت کی تلقی ائمہ حدیث اور اہل حدیث کے نزدیک ایک بحدِ مضبوط قرینہ ہے، تلقی بالقبول اور احادیثِ صحیحین کے افادۂ یقین کے متعلق دراساتِ اہلحدیث میں نہایت نفیس اور مبسوط بحث موجود ہے جسے طول کی وجہ سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اہل تحقیق کے لیے وہ بحث بہت مفید ہوگی۔
❀ متاخرین میں مولانا سید انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ وقتِ نظر اور وسعتِ معلومات میں یگانۂ روزگار تھے، بخاری کے حاشیہ میں فرماتے ہیں:
[حاصله انه يفيد القطع اذا حتف بالقرائن كخبر الصحيحين على الصحيح بيداتہ يكون نظرياً ونسب الى احمد ان اخبار الاحاد تفيد القطع مطلقاً]
حاصل یہ ہے کہ خبرِ واحد میں اگر قرائن موجود ہوں تو اس سے علمِ یقینی و نظری حاصل ہوگا، امام احمد سے منقول ہے کہ اس سے قطعیت کا فائدہ حاصل ہوگا۔ [فيض انباہی: ج4 ص506]
دراصل یہ اختلاف قرائن کے قوت اور ضعف پر موقوف ہے۔
اس اختلاف کا پس منظر:
انسان ماحول کا غلام ہے، معتزلہ اور ائمہ کلام اور دوسرے بدعتی گروہوں کا تعلق عموماً شاہی درباروں سے رہا۔ عباسی دربار تو ان مناظر بازوں میں مشہور تھے۔ وہاں یہ سب کچھ فتح و شکست اور دفتری اقتدار کے لیے ہوتا تھا۔ ان حالات میں سخن سازی، غلط گوئی ہر چیز جائز سمجھی جاتی تھی تاکہ دربار میں اعزاز حاصل ہو۔ ایسے وقت میں پارٹی بازی لازمی ہے اور جھوٹ سے پرہیز ناممکن۔ فرد تو فرد ہے، جماعتیں غلط بیانی کرتی ہیں، اس ماحول میں خبرِ واحد پر اعتماد کون کرے اور کیوں کرے۔ اس معاملہ میں معتزلہ اور متکلمین معذور ہیں۔
ائمہ حدیث کی بے نیازی:
ائمه حدیث کا ماحول اس سے بالکل مختلف تھا، درباروں سے بے نیاز، بادشاہوں سے نفرت، ہر چیز اللہ کی رضا اور خدمتِ دین کے لیے۔
ابن قیم نے فرمایا:
[كل احد يعلمان اهل الحديث اصدق اهل الطوايف كما قال ابن المبارك وجدت الدين لاهل الحديث والكلام للمعتزلة والكذب للرافضة والحيل لاهل الراى]
سب جانتے ہیں کہ اہل حدیث بہت سچے ہیں۔ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، دین اہل حدیث کے پاس ہے، باتیں بنانا معتزلہ کے پاس، جھوٹ روافض کی عادت اور اہل الرائے حیلوں کے عادی ہیں۔
[مختصر الصواعق المرسلة على الجهمية والمعطلة لابن القيم: 2/550]
اس ماحول میں جہاں کوئی لالچ نہ ہو جھوٹ کیوں بولا جائے اور کون بولے، جو لوگ ان دونوں گروہوں کو برابر سمجھیں انہیں اس اختلاف میں تطبیق دینا مشکل ہوگا اور جو لوگ اس پس منظر کو سمجھتے ہیں، انہیں اس کے سمجھنے اور تطبیق دینے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔ انسان جیسے ماحول میں رہے اس کی نفسیات اسی سانچے میں ڈھل جاتی ہیں۔ [ولنعم ما قيل ع عن المرء لا تسئل وسل عن قرينه]
احادیث سے استفادہ:
اس عنوان کے ماتحت [ترجمان القرآن: ص140 سے ص145] تک مولانا اصلاحی ایسے متین اور صاحبِ فکر کا قلم طنزیہ تعریفات کی طرف پھر گیا ہے، اگر مولانا یہ اندازِ اختیار نہ فرماتے تو ہم بھی مولانا کے ارشادات پر اور زیادہ غور کرتے، اپنے نقائص اور نارسائیوں کے متعلق ضرور سوچتے۔ اخبارات کے لب ولہجہ سے جو خلش مولانا کے ذہن میں تھی اس کا انتقام جماعت اور مسلک سے لینے کی کوشش فرمائی گئی۔ [عفا اللہ عنا وعنہ]
مآخذ میں غلو اور تخریب:
جہاں تک ہمیں اپنے حالات کا علم ہے اپنی کمزوریوں کے اعتراف کے باوجود ذهن بحمداللہ بالکل صاف ہے، نہ کسی مآخذ کے لیے غلو ہے نہ تعصب، البتہ اپنے اسلاف کے کارناموں کا احترام ضرور ذہن میں ہے اسے تعصب سے تعبیر فرمائیے یا غلو سے، آپ اور آپ کے رفقاء و مختار ہیں، یہاں نہ ”تخریب“ ہے نہ ”تشنیع“ نہ ”یک چشمی“۔ تمام مآخذ کو ان کی ترتیب ہی کے لحاظ سے مانتے ہیں، البتہ مقاصد کو ضرور پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے ہمارے ہاں تفقہ، درایت اور قیاس کا اپنی جگہ پر پورا پورا احترام ہے، لیکن سننِ صحیحہ کو گو وہ آحاد ہی کیوں نہ ہوں، ہم ان حیلوں اور الفاظ کی ہیرا پھیری سے رد کرنا پسند نہیں کرتے، اعمالِ رجال خواہ وہ مدینہ میں ہوں یا خراسان میں، کوفہ میں ہوں یا شام میں، سنتِ صحیحہ کے ہم پایہ نہیں ہو سکتے۔ ہمارے ہاں اس وہم کی کوئی قیمت نہیں کہ فلاں شخص چونکہ مدینہ میں مقیم ہے اس لیے اس کے اعمال سنت ہیں، بلکہ ان سے سنتِ صحیحہ کو رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہم بحمداللہ مراتب کا احترام کرتے ہیں اور جناب کی نصیحت سے بہت پہلے یہ احترام موجود ہے۔ شاہ صاحب اور خطابی نے جمعِ حدیث کے متعلق جو شکوہ فرمایا ہے وہ اپنی جگہ پر درست ہے، سیوطی، ہیثمی، ابن ابی الدنیا، طبرانی، دیلمی وغیرہ نے جس طرح احادیث جمع فرمائی ہیں اس سے واقعی اہل حدیث کے مسلک اور سلف کی روش کو نقصان پہنچا ہے، اہل بدعت بلا تحقیق ان ذخائر سے استدلال کرتے ہیں، لیکن اس میں بھی فن کے لیے کوئی عصبیت نہیں، سیوطی، ہیثمی وغیرہ پر عصبیت کی بدگمانی نہیں کی جا سکتی۔ طریقۂ تصنیف کی ایک لغزش ہے، یہ حضرات خود بھی اس کے قائل نہیں کہ ان تصانیف میں جو کچھ جمع کیا گیا وہ سب مستند اور قابلِ عمل ہے۔ مولانا اطمینان فرمائیں کہ ہمارے ہاں یہ عیب نہیں۔
جناب کے ہاں دو تین ایسے بزرگ موجود ہیں جنہوں نے اہل حدیث کے ہاں تعلیم پائی ہے، ان سے دریافت فرمائیے کہ جماعت اسلامی میں شمولیت سے پہلے کبھی انہوں نے اندھا دھند احادیث کو بلا تحقیق قبول فرمایا؟ یا موضوع اور مقلوب روایات کو قابلِ عمل سمجھا؟ اب اگر جماعتی عصبیت ان کے اذہان پر غالب نہیں آ گئی تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ اہل حدیث میں بحمداللہ یہ دھاندلی نہیں ہے، بلکہ ائمہ جرح وتعدیل اور نقد و نظر کے افکار سے استفادہ یہاں کا شعار ہے۔
اول تو ہم قرآن اور حدیث، قرآن اور عقلِ سلیم، حدیث اور عقلِ سلیم میں تعارض کے قائل ہی نہیں، لیکن اگر بظاہر کہیں تعارض محسوس ہو تو اصول کی حد تک یقیناً یہی بات ہے کہ حدیث کا درجہ قرآنِ عزیز کے بعد ہی ہونا چاہیے۔ اصولِ حدیث میں تطبیق، ترجیح، توقف کی ساری صورتیں موجود ہیں۔ [کما فصل في موضعه]
ہاں استدلال اور اخذِ مسائل کے وقت ہمارے نزدیک حدیث وحی ہے اور اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم دیا گیا جیسے قرآن کا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے الفاظ ہم تک پہنچائے اور احادیث کا مفہوم، اور ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں پوری امانت اور صحیح دیانت سے کام لیا۔ یہی حال صحابہ کا تھا، ہمیں ان کے علم و دیانت پر پورا یقین ہے۔
[عن حسان ابن عطية كان جبريل ينزل بالقرآن والسنة ويعلمه اياها كما يعلمه القرآن]
جبرئیل قرآن اور سنت دونوں کو لے کر نازل ہوتے، آنحضرت کو سنت بھی قرآن کی طرح سکھاتے۔
[صواعق: ص340 ج2، شاطبی ج4، جامع بیان العلم ابن عبدالبر]
اس لحاظ سے ہم وحی میں تفریق کے قائل نہیں۔ قرآن اور حدیث دونوں ماخذ ہیں اور بیک وقت ماخذ ہیں۔ اسی لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اوتیت القرآن ومثله معه]
صلت وحرمت اور بعض دوسرے مسائل میں سنت کو جو مستقل حیثیت حاصل ہے اس پر ہمیں پورا یقین ہے۔ اس مقام پر جناب کا یہ ارشاد بالکل مجمل ہے:
"دین میں ان (احادیث) کی اصلی جگہ قرآن کے بعد ہے نہ کہ اس سے پہلے یا اس کے برابر، اگر کوئی شخص یہ ترتیب الٹ کر ان کو قرآن سے پہلے کر دے یا قرآن کے برابر کر دے تو وہ اسی غلو میں مبتلا ہو جائے گا جس میں اہلِ ظاہر مبتلا ہوئے جنہوں نے ہر حدیث کو حدیثِ متواتر بنا کے رکھ دیا۔”
اس چیستان کی تشریح فرمائیے، ہماری نظر میں تو کوئی ایسا آدمی نہیں "جو حدیث ہی کو سب کچھ سمجھے، قرآن اور اجتہاد کو نظر انداز کر دے۔” [ترجمان: ص141]
نہ ہم نے کوئی ایسا آدمی دیکھا جو تعارض کے وقت یا طریقۂ ثبوت کے لحاظ سے حدیث کو قرآن سے مقدم سمجھے، نہ کوئی ایسا آدمی ملا جو ہر حدیث کو متواتر سمجھے، اہل ظاہر سے ابن حزم کی کتابیں اہل علم کی نظر میں ہیں۔ محلیٰ چھپ چکی ہے، الاحکام بازار میں موجود، جمہرۃ الانساب ملتی ہے۔ ہمیں تو ان دعاؤں کی صداقت مشتبہ معلوم ہوتی ہے۔ بیچارے اہل ظاہر پر کھلی تہمت ہے۔ مولانا جیسے متین آدمی کے قلم سے ایسے الفاظ نہ نکلتے تو بہتر ہوتا۔ وہ قیاس کے سوا باقی تمام مآخذ کو مانتے ہیں۔
غایت یہی ہے کہ بعض ناموں سے خاص طریقِ فکر کے ساتھ تعلق ظاہر ہونا اور ایک مسلک کے ساتھ ربط مثلاً ایک شخص جماعتِ اسلامی میں داخل ہوتا ہے اس کا یہ مطلب تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ شخص مولانا مودودی کی قیادت کو موجودہ قیادتوں سے بہتر سمجھتا ہے، ان پر اسے زیادہ اعتماد ہے، اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوگا کہ وہ مولانا مودودی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضي اللہ عنہم یا ائمہ پر ترجیح دیتا ہے۔ ایک اہل حدیث کے متعلق یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ حنفی یا شافعی طریقِ فکر کی بجائے ائمہ حدیث کے طریقِ فکر کو ترجیح دیتا ہے۔ عملی زندگی میں ائمہ حدیث پر اعتماد کرتا ہے، مگر یہ بدگمانی کیوں کی جائے کہ وہ حدیث ہی کو حجت سمجھتا اور قرآن اور اجتہاد کو نظر انداز کرتا ہے۔ ان صفحات میں مولانا کا طریقِ بحث بہت دلخراش اور ثقاہت سے گرا ہوا ہمیں متانت اور سنجیدگی سے شکوہ ہے کہ اس نے مولانا کا ساتھ کیوں چھوڑ دیا۔
دوسری شرط:
استفادہ کی دوسری شرط میں مولانا نے فرمایا کہ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو معصوم نہ سمجھے” یا اللہ! یہ کس نے کہا؟ کب کہا؟ کیسے کہا؟ واقعہ صرف اس قدر ہے کہ ائمہ حدیث نے تنقیدِ حدیث کے متعلق صدیوں محنت فرمائی، احادیث کی صحت، ضعف، حسن، ارسال، انقطاع، شاذ، ومقبول کے متعلق کچھ عقلی، کچھ لغوی اور عرفی فیصلے فرمائے، ان فیصلوں کو صدیوں سے اہل علم قبول فرما رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی بلاوجہ مخالفت نہ کی جائے، اگر اختلاف ہو تو دلیل سے کیا جائے، اہل فن کے فیصلوں کی روشنی میں کیا جائے۔ اس کا نام عصمت نہیں، اس بدگمانی کے لیے ائمہ حدیث اور مسلکِ اہل حدیث میں کوئی گنجائش نہیں۔ پورے وثوق اور پوری ذمہ داری سے گزارش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے متعلق عصمت کا خیال تک نہیں محدثین بھی انسان ہیں اور جماعتِ اسلامی کی قیادت بھی انسان۔ البتہ اسی تعصب سے اختلاف ہے کہ ایک جماعت اپنی عقیدت مندی سے کسی اپنے بزرگ یا قائد کو خدا کا مزاج شناس سمجھے لے یا ”رسول“ کا مزاج شناس تصور کرے، پھر اسے اختیار دے دے کہ اصولِ محدثین کے خلاف جس حدیث کو چاہے قبول کرے، جسے چاہے رد کرے، یا کوئی عالم قائد بلاوجہ کسی موضوع یا معلق، مرسل یا منقطع حدیث کے متعلق یہ دعویٰ کر دے کہ میں نے اس میں "ہیرے کی جوت دیکھ لی ہے۔” یہ مضحکہ خیز پوزیشن ہمیں یقیناً ناگوار ہے۔ ہم ان شاء اللہ آخری حد تک اس سے مزاحمت کریں گے اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ہوائی حملوں سے بچانے کی کوشش کریں گے۔
ہمیں معلوم ہے، ہیرا ملے یا اس کی جوت، یہ صرف وہی جوہری جان سکتے ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا سنت ہے ان کا شب و روز کا مشغلہ سنت ہے، مزاج شناسی انہی کا حصہ ہے، اور اصولاً ان کو یہ حق بھی پہنچتا ہے۔ مولانا فرمائیں متعصب وہ لوگ ہیں جو قواعد اور اصول کا احترام کرتے ہیں یا وہ حضرات جو مفت میں جوہری بن جائیں یا ان کے دوست انہیں مزاج شناسِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا دیں۔
[ان هى الا اسماء سميتموها أنتم اباءكم ما انزل الله بها من سلطان]
یہ فن کی قدر اور ہنر کے احترام کا مسئلہ ہے، اس میں عصمت کی کوئی بات نہیں۔ یہ ترجمانی غلط ہے اور بالکل غلط اور انتقامی جذبے کی پیداوار۔ مولانا نے اس مقام پر اہل فن پر جو شبہات پیدا فرمائے ہیں، اخبارِ آحاد کے خلاف جو احتمالات پیدا کیے اور انسانی فہم میں جن غلط فہمیوں کی نشاندہی فرمائی ہے اسے ممکن سمجھنے کے بعد عرض ہے کہ جو لوگ آج صدیوں کے بعد ان اغلاط پر مؤاخذہ کریں گے، ان اغلاط اور غلط فہمیوں کی ٹوہ لگائیں گے آیا مولانا اور ان کے رفقاء ان کے متعلق عصمت کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ وہ یقین فرما سکتے ہیں کہ ان مؤاخذات میں کوئی لغزش نہیں؟ یقیناً آپ ایسا نہیں فرمائیں گے تو خدا را فرمایا جائے کہ آپ ظن کو صدیوں کے ظن سے ٹکرا کر ایک ظنی نتیجہ پر پہنچتے ہیں، اسے ”ہیرے کی جوت“ یا ”رسول کی مزاج شناسی“ سے تعبیر فرماتے ہیں اور اگر اصحابِ فن کے بروقت فیصلے اور صدیوں کی محنت کے نتائج پر اعتماد کیا جائے۔ اس کا نام آپ کی اصطلاح میں عصمت کا دعویٰ ہے۔ [مالكم كيف تحكمون]
متقدمین ائمہ کی تنقید اور دلائل پر یقین کرنے کو عصمت کی بپھتی اور آج اپنی معلومات کی روشنی میں صدیوں بعد کوئی ظنی فیصلہ ان قانونی فیصلوں کے خلاف کرے اس کا نام ہیرے کی جوت۔ یہ جراتیں آپ پر تنقید کرنے والوں کے لیے بدگمانی کی راہ کھولتی ہے۔
فاحفظ و قيت فتحت قدمك هوة
كم قد هوى فيها من الانسان
وقت کی ضرورت:
ایسے وقت میں جب کہ حدیث اور سنت کے خلاف لا دینی حلقوں میں ایک طوفان بپا ہے، اس قسم کی کمزور اور بے اصل باتیں کرنا مناسب نہیں۔ یہ وقت باہم خطابات کی تقسیم کا نہیں اور نہ ہی بحث سے اس طرح پہلو تہی کرنا اس وقت قرینِ مصلحت ہے۔ یہ معذرت کا انداز اور چور دروازوں کی طرف رہنمائی نہ حدیث کی خدمت ہے نہ سنت کی حمایت پچھلے دنوں مولانا مودودی کی ایک دو بے محل تقریروں سے اخبارات میں کچھ ہنگامہ ہوا تو ہمارے بعض ”اہل حدیث“ دوست جو اب جماعتِ اسلامی کے ہو چکے ہیں، مولانا کے نظریہ کی دیانۃً کھلی حمایت تو نہ کر سکے مگر اس طرح پردہ پوشی فرمائی کہ ”پہلے علماء بھی بعض ایسا کہتے تھے۔“
بعض حضرات ”مزاج شناسی“ کے حوالوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، حالانکہ مناسب یہ تھا کہ مسلکِ اعتدال ایسی تحریروں سے مولانا کو بھی روکا جاتا۔ جماعتی تعلقات کا احترام بے شک کیا جائے لیکن حق کا احترام اور سنت کی حمایت وقت کی شدید ترین ضرورت ہے جسے کسی صورت بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا میں اسلامی نظام برپا ہونے کی بھی صرف یہی صورت ہے کہ سنت پر جس محاذ سے حملہ ہو، دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مدافعت کی جائے اپنی انصاف پسندی اور وسعتِ ظرف کے ثبوت میں معذرت کا انداز ضرورتِ وقت کے بالکل خلاف ہے، خود مولانا کو بھی ایسے خوشامد پسند حضرات سے بچنا چاہیے جن کو صرف یہی فکر ہو کہ ان کی وفاداری مشتبہ ہو جائے۔
رُواۃ کی عصمت:
راوی نہ معصوم ہیں نہ آج تک کسی نے ان کی عصمت کا دعویٰ کیا، نہ ایسا ممکن ہے، البتہ مجموعی لحاظ سے فنِ حدیث پر عصمت کا ظن غالب ہے۔ جس طرح حفاظتِ کو اللہ تعالیٰ نے توفیقِ عنایت فرمائی کہ وہ قرآن کو محفوظ رکھ سکیں، یعنی ہر حافظ معصوم نہیں۔ لیکن قرآن کے حفظ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق دی، اسی طرح حفاظِ حدیث کو اللہ تعالیٰ نے توفیق مرحمت فرمائی کہ وہ اس کی حفاظت فرما سکیں۔ اجماعِ امت میں ہر فرد معصوم نہیں لیکن بحیثیتِ مجموعی اجماع میں مجتہدین کو عصمت کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔
تلقی بالقبول میں بھی یہی صورت ہے۔ اگر حدیث دین ہے تو اس کی حفاظت کا ذمہ دار حق تعالیٰ کو ہونا چاہیے۔ یہ حفاظت، حفاظِ حدیث ہی کی معرفت سے ہوئی ہے، اس لیے مجموعی حفاظت اور اجتماعی عصمت سے ان کو یقیناً حصہ ملا ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر اس سے کوئی چیز ضائع ہو چکی ہے تو اس کی ضرورت نہ تھی اور جس چیز کی ضرورت تھی اسے محفوظ رکھنے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے ائمہ حدیث کو عطا فرمائی۔ [ذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم]
حدیث کو تنقیدی نگاہ سے پڑھنے کا مطلب:
اس عنوان میں مولانا نے فرمایا کہ ہر حدیث پر تنقید ضروری نہیں "تنقید کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں کوئی ایسی حدیث آجاتی ہے جو سنتے ہی طبیعت کو کھٹکتی ہے جو دین کے مسلمات اور شریعت کے معروفات کے خلاف معلوم ہوتی ہے جس کو عقلِ عام قبول کرنے سے اول وہان میں ابا کرتی ہے”، الخ۔ اس ضمن میں مثال کے طور پر مولانا نے تین احادیث کا ذکر فرمایا ہے (حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تین مرتبہ جھوٹ بولنے کی روایت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرآن کی آیات کے ساتھ تلك الغرانيق العلی کے الفاظ پڑھ دینے کی روایت، یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ملک الموت کو تھپڑ مارنے کی روایت)۔
مولانا نے جو فرمایا ایک حد تک مناسب ہے، لیکن مولانا ہر ناپسندیدہ مقام پر بیچارے اہل ظاہر کا ذکر فرما دیتے ہیں، شاید اس لیے کہ اس طریقِ فکر کا ہمارا مسلک میں کوئی مؤید نہیں۔ جہاں تک اہل ظاہر کی کتابوں کا تعلق ہے ان میں یہ چیز موجود نہیں جسے مولانا اہل ظاہر کی طرف نسبت فرما رہے ہیں۔ اہل ظاہر سے بعض مقامات پر لغزش ہوئی ہے لیکن وہ اتنے گئے گزرے نہیں جس طرح جناب کے ارشاد سے ظاہر ہوتا ہے۔ ظاہری سکول فکر کے دو بزرگ عام طور پر مشہور ہیں، ابن حزم اندلسی اور امام داؤد ظاہری۔ یہ لوگ قیاس کو حجتِ شرعی تو بے شک نہیں جانتے لیکن حدیث میں ان کا مقام ہم ایسے مدعیانِ علم و عقل، سے کہیں بلند ہے۔ اس اندازِ تنقید سے احتیاط مناسب ہے جو مولانا اصلاحی نے اختیار فرمایا ہے۔
تین احادیث:
جن تین احادیث کے متعلق مولانا نے فرمایا ہے کہ عقلِ عام ان کے قبول سے اباء کرتی ہے۔ مناسب تو یہ تھا کہ ایسی مثالیں ذکر کرنے کی بجائے مولانا اپنے رفقاء سے مشورہ فرما کر ایک ایسا مجموعہ شائع فرما دیتے جس میں وہ تمام احادیث جمع کر دی جاتیں جو مولانا کی طبیعت کو کھٹکتی ہیں یا عقلِ عام ان کے قبول سے اباء کرتی ہے، تاکہ کم عقل لوگ اندازہ کر سکتے کہ ایسی احادیث کی مقدار کہاں تک ہے اور کس کس عقلِ مند کی عقل کو یہ احادیث کھٹکتی ہیں۔ ممکن ہے کسی کی سمجھ میں کچھ آتا تو وہ آپ سے کچھ عرض کر سکتا۔ عقل اور احادیث میں جب بھی جنگ برپا کرنے کی کوشش کی گئی، اہل علم نے تطبیق کی صورت پیدا کر دی اور باہم صلح ہو گئی۔ اعلام الموقعین، تاویل مختلف الحدیث یا مشكل الآثار، ایسی کتابیں ہیں ان شبہات کے پیشِ نظر لکھی گئیں اور اپنے وقت میں بہت حد تک کامیاب ثابت ہوئیں۔
مولانا نے جن احادیث کا مثال کے طور پر ذکر فرمایا ہے ان کے متعلق مختصراً گذارش مناسب معلوم ہوتی ہے۔ حدیث غرانیق بالاتفاق محدثین اصولِ محدثین کے مطابق ساقط الاعتبار ہے اور جن الفاظ سے ائمہ حدیث نے اسے قابلِ استناد سمجھا ہے وہ نہ طبیعت کو کھٹکتی ہے نہ عقلِ عام اس سے اباء کرتی ہے۔ معاریض ابراہیم علیہ السلام کی روایت اکثر حدیث میں مروی ہے، اس کی سند اصولِ محدثین کے مطابق صحیح ہے۔ ائمہ حدیث سے فنی طور پر کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔
(الف) تعجب ہے ائمہ حدیث سے یہ حدیث نہ کسی کی طبیعت میں کھٹکی نہ ان کی "عقلِ عام” نے اس سے اباء کیا۔
(ب) متقدمین فقہاء و سنت سے بھی کسی نے اس پر اشتباہ کا اظہار نہیں کیا۔ غالباً امام رازی پہلے آدمی ہیں جن کے مزاج پر یہ حدیث گراں گزری اور انہوں نے دبے لفظوں میں اس کے انکار کی کوشش کی، لیکن امام نے اس چیز پر غور نہیں فرمایا کہ ان رواۃ سے اور بھی بہت سی روایات مروی ہیں۔ جس عیب کی بنا پر اسے رد کیا جائے گا اس کا اثر باقی احادیث پر بھی پڑے گا یہ رد نتائج کے لحاظ سے آسان نہیں۔
(ج) ابن قتیبہ م 276ھ نے ابراہیم بن سیار نظام جیسے معتزلی کے شبہات کا ذکر کیا ہے۔ نظام کہتے ہیں کہ اکابر صحابہ نے (حذیفہ بن یمان) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جھوٹ بولا۔ ابن قتیبہ فرماتے ہیں کہ تعریض تو یہ درست ہے اور بعض اوقات جھوٹ کی بھی اجازت ہے۔ اس ضمن میں الزام کے طور پر انہوں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ان معاریض کا بھی ذکر فرمایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظام جیسے غالی معتزلی کو بھی اس وقت اس حدیث پر اعتراض نہ تھا نہ ہی یہ اس کی عقل میں کھٹکتی تھی۔ [تاویل مختلف الحدیث: ص42-53]
(د) معتزلہ اور متکلمین عقل کی پرستش اصول اور عقائد کے مسائل میں تو کرتے تھے، صفاتِ باری کے مباحث میں سنت ان کی عقول پر گراں گزرتی تھی۔ فروع میں ان کی عقول سے اس احساس کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسائل بھی ظنی ہیں۔ ان پر ظنی دلائل سے استدلال صحیح ہے۔ آج کے عقل پرست حضرات نہ اصول میں حدیث کو معاف فرماتے ہیں نہ فروع میں۔ عقول پر یہ اباء یا کھٹکا دراصل موسم کی بات ہے۔
(ھ) فقہاء و حدیث اور ائمہ و شراحِ حدیث اس امر پر قریباً متفق ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ نہیں بولا، قرآن وسنت صراحۃً اس پر شاہد ہیں کہ یہ جو کچھ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تعریض اور توریہ کے طور پر فرمایا اور یہ طریقہ گفتگو ادبیات کی جان ہے۔ دینی، سیاسی، کاروباری طبقے سب اس کا کھلے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
حافظ ابن قیم نے جس اختصار اور سنجیدگی سے اس کا تذکرہ فرمایا ہے اہل تحقیق کے لیے اس میں تسکین کا سامان موجود ہے۔
"فان قيل كيف سماها ابراهيم كذبات وهي تورية و تعريض صحيح۔۔۔ وقد فتح الله الكريم بالجواب عنه۔ فنقول الكلام له نسبتان، نسبة الى المتكلم وقصده وارادته ونسبة الى السامع وافهام المتكلم اياه مضمونه۔ فاذا اخبر المتكلم بخبر مطابق للواقع وقصد افهام المخاطب اياه صدق بالنسبتين فان المتكلم ان قصد الواقع وقصد افهام المخاطب فهو من الجهتين وإن قصد خلاف الواقع وقصد مع ذالك افهام المخاطب خلاف ما قصد بل معنى ثالثا لا هو الواقع ولا هو المراد فهو كذب من الجهتين بالنسبتين معاً۔ وان قصد و معنى مطابقاً صحيحاً وقصد مع ذالك النعمية على المخاطب وافهامه خلاف ما قصده فهو صدق بالنسبة الى قصده كذب بالنسبة الى افهامه ومن هذا الباب التورية والمعاريض۔ وبهذا اطلق عليها ابراهيم الخليل عليه السلام اسم الكذب مع انه الصادق في خبره ولم يخبر الا صدقا فتأمل الخ]
امام کا مطلب یہ ہے کہ سچ اور جھوٹ کی تشخیص میں نفسِ الامر اور متکلم کے قصد اور ارادہ کا بھی دخل ہے اس لحاظ سے اس کی تین صورتیں ہوں گی۔ متکلم صحیح اور واقع کے مطابق کہے اور مخاطب کو بھی سمجھانا چاہے یہ جو فی الحقیقت ہے۔ یہ دونوں لحاظ (واقعہ اور ارادہ) سے سچ ہے اور اگر متکلم خلافِ واقعہ کہے اور مخاطب کو اپنے مقصد سے آگاہ نہ کرنا چاہے بلکہ ایک تیسری صورت پیدا کر دے نہ وہ صحیح ہو نہ ہی متکلم کا مطلب اور مراد ہو، یہ دونوں لحاظ سے جھوٹ ہو گا۔ اگر متکلم صحیح اور نفس الامر کے مطابق گفتگو کرے لیکن مخاطب کو اندھیرے میں رکھنا چاہے اور اپنے مقصد کو اس پر ظاہر نہ ہونے دے، اسے تعریض اور توریہ کہا جاتا ہے۔ یہ متکلم کے لحاظ سے صدق ہے اور تفہیم کے لحاظ سے کذب ہے۔ اسی لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے کذب فرمایا۔ درآں حالیکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا وہ حقیقت میں سچ تھا۔ شناعتِ عامہ سے بچنے کے لیے یہی مناسب طریقہ تھا۔
[مفتاح دار السعادة: ص39 ج2]
نامناسب نہ ہو گا، یہاں اگر حافظ ابن قیم کے استاذ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی بھی "صدق و کذبِ خبر” سے متعلق نفیس تحقیق پیش کر دی جائے۔
[والجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح: ص288 ج4] میں فرماتے ہیں:
[والخبر تارة يكون مطابقاً لمخبره كالصدق المعلوم انه صدق وتارة لا يكون مطابقاً لمخبره كالكذب المعلوم انه كذب وقد تكون المطابقة في عناية المتكلم وقد يكون في افهام المخاطب واذا كان اللفظ مطابقاً لما عناه المتكلم ولم يطابق افهام المخاطب فهذا ايضا قد يسمى كذباً وقد لا يسمى ومنه المعاريض لكن يباح للحاجة۔ ملخصاً]
(و) بعض اہل علم نے دوسری راہ بھی اختیار فرمائی ہے، ان کا خیال ہے کہ کذب بہر حال میں حرام نہیں۔ بسا اوقات ضرورتِ شارع نے اس کی اجازت دی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[ليس الكاذب الذي يصلح بين الناس] [صحیح البخاری: 2692]
احادیث میں بعض مصالح کا صراحتہً بھی ذکر آیا ہے۔ ابن حزم کا رجحانِ الفضل میں اسی طرف ہے۔ نئے لوگوں سے حسن احمد الخطیب نے [فقہ الاسلام: ص230] میں اس مسلک کا ذکر فرمایا ہے:
[ومن ذالك اباحتهم الكذاب اذا ترتب على الصدق مفسدة عظيمة وقد فصل الحمو في الاشياء الكلام فى ذالك فقال ما خلاصته ان الكذاب يجوز فى ثلثه مواضع فى الاصلاح بين الناس وفي الحرب وعلى الزوجة لاصلاحها الخ ويراد بذالك استعمال المعاريض لا الكذاب الصريح ونقل ان الكذاب يباح لاحياء حق الخ]
کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے مگر زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب انسان پوری صداقت کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اس کے اظہار پر اصرار کرے تو اس کی راہ میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جس میں دین و دیانت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کا قائم رکھنا ضروری ہے۔ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے تو واقعی اس رخصت سے استفادہ معصیت ہے لیکن دینی اور ملی ضرورتوں کے لیے یہ گنجائش ناگزیر ہے۔
[اذا بتلى احد كم ببليتين فليختر اهونها] میں بھی یہی اصل کار فرما ہے۔
❀ ”طلوعِ اسلام“ کے پہلے صفحہ پر جو کچھ مرقوم ہے اس کے لیے زیادہ سے زیادہ نرم لفظ ”معاریض“ ہی ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ ان کا مقصد حمایتِ دین کے بجائے دین کی تخریب ہے جسے کھلے طور پر کہنے کی جرات نہیں ہوئی اس لیے تعریفات کی زبان اختیار کی گئی ہے۔ کوثر نیازی گجرانوالہ آئے، جلسہ میں شورش ہوئی، جلسہ بمشکل ہو سکا تسنیم نے جو رواداد شائع کی، اہل گجرانوالہ اس کی حقیقت سے واقف ہیں، مناسب ہے کہ ایسے مواقع پر تعریض کی اجازت دے دی جائے ورنہ تسنیم کو کاذب کہنا ہم پر گراں ہو گا۔
(ز) تعریضات کی راہ زندگی کا ایسا لازمہ ہے کہ اس سے بچنا سخت مشکل ہے۔ آپ اپنا ہی مضمون ملاحظہ فرمائیے، آپ نے سوال 2 کا جواب دیتے ہوئے معذرت فرمائی ہے کہ "جماعتِ اسلامی سنت کی کیوں اب تک کوئی نمایاں خدمت نہیں کر سکی۔” جماعت کا کا م بہت آگے بڑھ جاتا لیکن جو حضرات اپنے آپ کو حدیث کی خدمت کا ٹھیکیدار سمجھے ہوئے ہیں، ان کو یہ غم کھانے لگا کہ اگر جماعت نے یہ کام سنبھال لیا تو پھر وہ کس چیز کا نام لے لے کر کچھ لوگوں کو اپنے ارد گرد جمع رکھ سکیں گے۔
مولانا کی تعریض:
مولانا! اس سے قطع نظر کہ آپ ایسے متین اور عالم آدمی کے لیے یہ طنز و تشنیع کا انداز مناسب ہے یا نہیں، یہ تو جناب کو بھی معلوم ہے اور ہم بھی جانتے ہیں کہ اس ملک میں حدیث کی خدمت کا کوئی ٹھیکیدار نہیں، جس چیز کو آپ مخاطب سے چھپانا چاہتے ہیں وہ اہم اور نمایاں خدمات ہیں جو کتاب وسنت کی اشاعت میں جماعتِ اہل حدیث سے ظاہر ہوئیں، دروس، مکاتب اور مطابع کے ذریعہ لاکھوں آدمی قرآن اور حدیث کے فیضان سے مستفیض ہوئے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جماعتِ اسلامی اس راہ میں لفاظی کے سوا کچھ نہیں کر سکی لیکن آپ سائل کے سامنے یہ ظاہر کرنا پسند نہیں فرماتے بلکہ اسے اندھیرے میں رکھنے کے لیے "ٹھیکیدار” کی تعریض اختیار فرمائی ہے میں تو اسے تعریض ہی کہوں گا۔ لیکن اگر آپ میں جرأت ہے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرح اعتراف فرمائیے کہ میں نے جھوٹ بولا ہے۔ تفنن برطرف تعریضات سے اعراض فرما کر انکارِ حدیث کے لیے چور دروازے بنانے کی جرأت نہ پیدا کیجیے۔ آپ ایسے اہل علم بزرگوں کو جب آپ کے اتباع یہ حیلے بناتے دیکھیں گے تو ان کی جرأتیں اور بڑھ جائیں گی۔
زند لشکر یانش ہزار مرغ بہ سیخ
ختمِ نبوت کی تحریک میں آپ حضرات کا موقف "عقلِ عام” کی رسائی سے بالا تھا، آپ کے بیانات سب اسی نوعیت کے تھے۔ لوگ انہیں جھوٹ دھوکہ کہتے ہیں۔ معلوم ہے کہ عوام کے سامنے اپنی جماعت کو بچانے اور لغزشوں کو چھپانے کے لیے یہ تعریضی بیانات دینے کے لیے آپ مجبور تھے۔
"عقلِ عام” کے تقاضے جب عقلِ عوام سے ٹکرانے لگیں تو مشکلات سے مخالصی کے لیے تعریضات کی راہ کھلی رہنی چاہیے۔ اگر اسے خیالی تصوف اور تصوری زہد و ورع سے روکا گیا تو زندگی میں ایک ایسا خلا نمودار ہو گا جیسے پاٹنا ناممکن ہو گا۔
ہجرت کے سفر میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ تعریض فرما کر "رجل يهديني السبيل” دانشمندی کی انتہا فرما دی اور زبان اور ادب میں ایک مفید اضافہ فرمایا۔ آپ حضرات بھی عجیب ہیں، ایک طرف تو چاہتے ہیں کہ لوگ کھلے ذہن سے سوچیں۔ جب سوچنے کا وقت آتا ہے تو آپ پر مصنوعی تصوف کا حملہ ہو جاتا ہے اور آپ عقلِ عام کی گود میں پناہ لیتے ہیں اور دوسروں پر طعن فرمانا شروع کر دیتے ہیں۔
(ح) میرا ذاتی تجربہ معاریضِ ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ ہے کہ جب تک بچپن غالب تھا اور عقل ناتمام تھی، کذب کا نام سن کر تشویش ہوتی۔ اساتذہ اور رفقاء سے بحث ہوتی رہی۔ جب سے تجربہ کی زندگی میں قدم رکھا، عمل نے تمام شبہات دور کر دیے، تعریض اور توریہ کو عملی دنیا کے ماحول پر محیط پایا۔ انبیاء نے بوقتِ ضرورت اسے استعمال فرمایا، صلحاء کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پس ہماری "عقلِ عام” کو تو اس حدیث سے کوئی کھٹکا محسوس نہیں ہوتا، بلکہ دین کی تکمیل پر مزید یقین ہوتا ہے کہ اس میں اس زاویہ کے لیے بھی رہنمائی کا سامان موجود ہے۔
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا تھپڑ:
اس عنوان پر کچھ عرض کرنے سے قبل مولانا اور ان جیسے "محققین” کی خدمت میں گزارش ہے کہ یہ مسئلہ بھی کچھ آج نہیں چھڑا، تیسری صدی ہجری من "درایت” کے ہیرو حضرات معتزلہ اس حدیث کو بھی مشکوک بنانے کی کوشش میں مصروف تھے اور حدیث پاک کے محافظ اللہ تعالیٰ نے محدثین کو توفیق دی کہ وہ اس حدیث کا صحیح مطلب بتا کر ان لوگوں کے دانت کھٹے کر دیں۔ چنانچہ اس زمانے کے جن محدثین نے اس حدیث کا جواب دیا، ان میں مشہور محدث حافظ ابو حاتم محمد بن حبان (المتوفی 354ھ) بھی ہیں۔ آپ نے اپنی صحیح میں یہ عنوان قائم کیا ہے:
[ذكر خبر شنع به على منتحلى سنن المصطفى ﷺ من حرم التوفيق لادراك معناه]
(یعنی) اس حدیث کا ذکر جس کو ان لوگوں نے جو اس کے معنی کی حقیقت تک پہنچنے سے محروم ہیں، محدثین پر طعن کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے اسی لطمہ والی حدیث کو ذکر کر کے لکھتے ہیں:
[إن الله جل وعلا بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم معلما لخلقه، فأنزله موضع الإبانة عن مراده. فبلغ صلى الله عليه وسلم رسالاته، وبين عن آياته بألفاظ مجملة ومفسرة، عقلها عنه أصحابه أو بعضهم. وهذا الخبر من الأخبار التي يدرك معناه من لم يحرم التوفيق لإصابة الحق.
وذلك أن الله جل وعلا أرسل ملك الموت إلى موسى رسالة ابتلاء واختبار، وأمره أن يقول له: أجب ربك، أمر ابتلاء واختبار، لا أمرا يريد الله جل وعلا إمضاءه، كما أمر خليله صلى الله على نبينا وعليه بذبح ابنه أمر اختبار وابتلاء دون الأمر الذي أراد الله جل وعلا إمضاءه، فلما عزم على ذبح ابنه وتله للجبين فداه بالذبح العظيم. وقد بعث الله جل وعلا الملائكة إلى رسله في صور لا يعرفونها، كدخول الملائكة على رسوله إبراهيم ولم يعرفهم، حتى أوجس منهم خيفة، وكمجيء جبريل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسؤاله إياه عن الإيمان والإسلام، فلم يعرفه المصطفى صلى الله عليه وسلم حتى ولى. فكان مجيء ملك الموت إلى موسى على غير الصورة التي كان يعرفه موسى عليه السلام عليها. وكان موسى غيورا، فرأى في داره رجلا لم يعرفه، فشال يده فلطمه، فأتت لطمته على فقء عينه في الصورة التي يتصور بها، لا الصورة التي خلقه الله عليها، ولما كان المصرح عن نبينا صلى الله عليه وسلم في خبر ابن عباس حيث قال: "أمني جبريل عند البيت مرتين”، فذكر الخبر، وقال في آخره: "هذا وقتك ووقت الأنبياء قبلك”، كان في هذا الخبر البيان الواضح أن بعض شرائعنا قد تتفق ببعض شرائع من قبلنا من الأمم. ولما كان من شريعتنا أن من فقأ عين الداخل داره بغير إذنه، أو الناظر في بيته بغير أمره من غير جناح على فاعله، ولا حرج على مرتكبه، للأخبار الجمة الواردة فيه التي أمليناها في غير موضع في كتبنا: كان جائزا اتفاق هذه الشريعة بشريعة موسى بإسقاط الحرج عمن فقأ عين الداخل داره بغير إذنه، فكان استعمال موسى هذا الفعل مباحا له، ولا حرج عليه في فعله. فلما رجع ملك الموت إلى ربه، وأخبره بما كان من موسى عليه السلام فيه، أمره ثانيا بأمر آخر، أمر اختبار وابتلاء كما ذكرنا قبل، إذ قال الله له: قل له: إن شئت فضع يدك على متن ثور فلك بكل ما غطت يدك بكل شعرة سنة. فلما علم موسى كليم الله صلى الله على نبينا وعليه أنه ملك الموت وأنه جاءه بالرسالة من عند الله، طابت نفسه بالموت، ولم يستمهل، وقال: "فالآن”. فلو كانت المرة الأولى عرفه موسى أنه ملك الموت لاستعمل ما استعمل في المرة الأخرى عند تيقنه وعلمه به، ضد قول من زعم أن أصحاب الحديث حمالة الحطب، ورعاة الليل يجمعون ما لا ينتفعون به، ويروون ما لا يؤجرون عليه، ويقولون بما يبطله الإسلام جهلا منه بمعاني الأخبار، وترك التفقه في الآثار معتمدا منه على رأيه المنكوس وقياسه المعكوس]
(یعنی) اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی مخلوق کی تعلیم اور اسے اپنے ارادہ سے آگاہ کرنے کے لیے مبعوث فرمایا چنانچہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور اس کی آیات کی کبھی بالاختصار اور کبھی بالتفصیل ایسی وضاحت فرمائی جسے تمام یا بعض صاحب فہم و ذکاء صحابہ نے سمجھ لیا۔ یہ حدیث بھی من جملہ ان احادیث کے ہے جن کا معنی ہر وہ شخص سمجھ سکتا ہے جو معرفتِ حق کی توفیق سے محروم نہیں ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بطورِ آزمائش ملک الموت کو یہ کہہ کر بھیجا کہ موسیٰ علیہ السلام سے کہو "موت کے لیے تیار ہو جائے”، مگر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نافذ کرنے کے لیے نہیں بلکہ محض آزمائش اور امتحان کے لیے تھا۔ ایسا ہی ایک آزمائشی حکم اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو بھی دیا کہ وہ اپنے جان سے زیادہ عزیز بیٹے کو ذبح کر دیں۔ وہ حکم بھی نافذ کرنے کے لیے نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے منہ کے بل زمین پر گرایا تو اللہ تعالی نے ان کی بجائے ذبح کرنے کے لیے ایک دنبہ بھیج دیا۔ علاوہ ازیں بعض اوقات اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو انبیاء علیہ السلام کے پاس ایسی صورت میں بھیجا جسے وہ نہیں پہچانتے تھے۔ چنانچہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتے مہمان انسانوں کی شکل میں آئے اور ان کے کھانا نہ کھانے سے سیدنا خلیل الرحمن خوف زدہ بھی ہوئے۔ اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جبرئیل علیہ السلام مسافر آدمی کی صورت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان، اسلام اور احسان کے متعلق سوالات کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلے جانے کے بعد انہیں پہچانا۔ اسی طرح ملک الموت موسیٰ علیہ السلام کے پاس غیر معروف شکل میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام ایک اجنبی آدمی کو یوں بلا اجازت اندر آتے دیکھ کر برداشت نہ کر سکے اور غیرتِ طبعی سے متاثر ہو کر اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا جس سے اس کی آنکھ پھوٹ گئی جو اس کی حقیقی آنکھ نہ تھی بلکہ ظاہری صورت کی عارضی آنکھ تھی۔ امامت جبرئیل علیہ السلام کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد جبرئیل علیہ السلام نے کہا: [هذا وقتك ووقت الانبياء قبلك] آپ کے علاوہ آپ سے پیشرو انبیاء کی نماز کے اوقات بھی یہی تھے۔ اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ اس شریعت کے بعض احکام پہلی شریعتوں کے بعض احکام سے موافق ہیں جیسے ہماری شریعت میں بلا اجازت گھر میں داخل ہونے یا بلا اذن مکان میں جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑنے پر کوئی گناہ اور مواخذہ نہیں۔ بہت ممکن ہے موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں بھی بلا اجازت گھر میں داخل ہونے والے کی آنکھ پھوڑنا جائز ہو اور اس بارے میں صاحبِ مکان پر کوئی گناہ اور ملامت نہ ہو اور موسیٰ علیہ السلام نے اس شرعی حکم کی تعمیل میں یہ فعل کیا ہو۔ پھر جب فرشتے نے ان کے اس سلوک کی اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر شکایت کی تو دربارِ الٰہی سے اسے ایک دوسرا آزمائشی حکم دے کر بھیجا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام سے کہو ’اگر آپ مرنا نہیں چاہتے تو بیل کی پیٹھ پر ہاتھ رکھیے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آئیں، ہر بال کے عوض میں آپ کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہو جائے گا۔ اب کلیم اللہ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہ ملک الموت ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغامِ موت لے کر حاضر ہوا ہے۔ چنانچہ اب آپ برضا و رغبت مرنے کے لیے تیار ہو گئے اور فرمانے لگے ”میں ابھی واصلِ بحق ہونا چاہتا ہوں۔“
مذکورہ بالا بیان سے معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام پہلی دفعہ ملک الموت کو نہیں پہچان سکے۔ اگر انہیں معلوم ہو جاتا کہ یہ ملک الموت ہے تو یقیناً ان کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو دوسری مرتبہ کیا۔
[صحيح ابن حبان:75/4-76]
یہ ہے اس حدیثِ پاک کا مطلب جسے اپنی الٹی سمجھ اور معکوس قیاس پر اعتماد کرنے کی وجہ سے احادیث اور آثارِ نبویہ (علیٰ صاحبہا الف الف تحتیہ) کو سمجھنے کی توفیق سے محروم شخص نہ سمجھ سکا اور الٹا محدثین کرام پر رطب و یابس جمع کرنے اور رات کی تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کا الزام لگا دیا۔
سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے متعلق یہ حدیث معتزلہ کی طرح ہمارے مولانا کو بھی ”عقلِ عام“ کے خلاف معلوم ہوئی۔ حالانکہ بقولِ حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ وہ ایک ابتلا تھا جسے یوں ہی ختم ہونا تھا۔
ظاہر ہے کہ موت کا وقت کم و بیش نہیں ہوتا۔
[اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَلَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ] (یونس: 49)
ملک الموت آئے اور تھپڑ کھا کر چلے گئے، شکایت کی، اتنی دیر موسیٰ علیہ السلام زندگی کی بہاریں گزارتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک الموت قبل از وقت آزمائش کے لیے انسانی شکل میں آئے، سیدنا موسیٰ کے سامنے ایک ایسا مطالبہ رکھا اس وضع میں جس کا ان کو حق نہ تھا، اس کی پاداش ملی، یہی قدرت کا منشا تھا۔ انبیاء کی زندگی میں ایسے مرحلے آتے ہیں جو عقلِ عام کی رسائی سے بالا ہوتے ہیں۔ جو شخص اسے عقلِ عام کے پیمانوں سے ناپنا شروع کر دے گا وہ ناکام ہو گا۔ اس کی تسکین اسی صورت میں ہوگی کہ وہ اس کا انکار کرے اور عقل کے لیے تسکین کا بے حقیقت سامان پیدا کرے۔
انبیاء کے معجزات اور ملاءِ اعلیٰ کے ساتھ ان کے تعلقات یہ عقلِ عام کا مسئلہ نہیں، یہاں خواص کی عقلیں بھی حیران رہ جاتی ہیں۔ اگر طبیعت مطمئن ہو سکے تو شارع کے الفاظ میں ہی اسے قبول فرمائیے ورنہ جو جی میں آئے فیصلہ فرمائیے، اسے اگر عقل کی سان پر چڑھایا گیا تو سان ٹوٹے گی یہ واقعات قائم رہیں گے۔
مؤدبانہ گزارش:
مولانا کے ارشادات کا جب یہ مقام جس میں تین احادیث پر شبہہ فرمایا گیا ہے تو مجھے بے حد دکھ ہوا مولانا کے ان ارشادات کے متعلق جب کچھ لکھنے کی کوشش کی تو طبیعت رنج اور افسوس کے جذبات سے لبریز ہو گئی اس لیے قلم رکھ دیا، میں نہیں چاہتا تھا کہ مولانا کے احترام کے خلاف نوکِ قلم سے کوئی فقرہ نکل جائے، آج مدت کے بعد قلم اٹھایا۔ سنتِ نبوی کے متعلق جذبات میں آج بھی دکھ اور قلق موجود ہے اتنی پوزیشن کے لوگ کس بے پروائی سے سنت کے متعلق جو منہ میں آئے کہہ جاتے ہیں۔ اس وقت اگر کوئی ناخوشگوار لفظ قلم سے نکلا تو صمیمِ قلب سے اس کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔ مقصد طعن و تشنیع نہیں۔ اس دو رفتن میں سنت اور علوم نبویہ کے خلاف ایسے الفاظ فی الواقع ناگوار ہیں۔ مولانا پر طنز قطعاً مقصود نہیں سنت کے ساتھ محبت اور قلب کا سنت سے ربط پریشانی خیالات کے اظہار کا موجب ہوا۔
گفتگوئے عاشقاں در باب رب
جذبہ عشق است نے ترکِ ادب
مولانا کے ارشادات کے بعض قصص اور مودودی صاحب کا "مسلکِ اعتدال” قطعاً اس قابل نہیں کہ ان کی اشاعت کی جائے، ان میں کچھ صحیح ہے وہ بھی غلط انداز سے کہا گیا ہے۔ مسلکِ اعتدال میں تو دماغ کے کباڑ خانہ نے خیالات اس بے اعتدالی سے اگل دیئے ہیں کہ اگر کوئی منکرِ حدیث بھی لکھتا تو یہی کچھ لکھتا۔
ائمہ حدیث کے مناقشات:
مولانا نے محدثین کے باہمی مناقشات کو اہل قرآن سے بھی زیادہ نمایاں فرمایا ہے اور اس انداز سے فرمایا ہے کہ شاید مولانا ملت کو کوئی عجیب اور نئی چیز عنایت فرما رہے ہیں۔ مولانا غور فرمائیں یہ انسانی مزاج کی ایک کمزوری ہے، فنِ رجال کو چھوڑیئے، کوئی فن اس سے خالی نہیں۔ شعر و سخن، ادب، نحو اور قواعد، معانی، بیان فقہ اور اصولِ فقہ کس فن میں یہ مناقشات نہیں؟ بقول جناب ائمہ تفسیر میں بھی یہ کمزوری موجود ہے اور آپ کی جماعت اور علماء کے افادات سے دست بردار ہو جانا چاہیے؟ جب سے علم رجال وضع ہوا ہے اس قسم کا ذخیرہ موجود ہے اور اس کے باوجود اس میں حق و باطل کا امتیاز غیر مشتبہ طور پر کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے۔ پھر اس بے ضرورت مواد کو حدیث کے دفاع کے موقعہ پر ذکر کرنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی؟ جہاں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کچھ کہنے کا موقع تھا وہاں آپ نے شرم سے نظر نیچی فرمائی، جہاں تن کر چلنے کا موقع تھا آپ سر بسجود ہو گئے۔
عبداللہ چکڑالوی، خواجہ احمد دین امرتسری، مستری رمضان گجرانوالہ، محبوب شاہ گجرانوالہ، سید عمر شاہ گجرات، شیخ عطاء اللہ وکیل، مفتی محمد دین وکیل گجرات، ملتان کے منکرینِ حدیث، ڈیرہ غازی خاں کے اہل قرآن اور ادارۂ طلوعِ اسلام کے اربابِ قیادت، اور ارادہ ثقافت اسلامیہ کے ملحدین کے نظریات میں بعد المشرقین اور ان کا باہمی برسوں کا جوت پیزار کسے معلوم نہیں لیکن کبھی انہوں نے آپ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا؟ نماز، زکوٰۃ، حج کے متعلق جو پراگندہ خیالی اور اس کے متعلق جو بدعملی ان اساطین الحاد و فسق میں موجود ہے اس کا کبھی انہوں نے اعتراف کیا۔ پھر مولانا مودودی کو کیا مصیبت ہے کہ امام بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے بعض مخالفانہ آراء و افکار کا اشتہار دیں، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور اعمش رحمۃ اللہ علیہ کی چشمک کا نوحہ فرمائیں۔
اس سے اصل فن اور اس کی خوبیوں پر آخر کیا اثر پڑتا ہے اور ان مقدسین میں جن کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے، اگر سو پچاس میں کسی وقت (بشرطِ صحتِ سند) کوئی شکر رنجی یا مناقشہ ہوا بھی ہو تو پورے فن پر اس کا کہاں تک اثر پڑ سکتا ہے؟ میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اول تو آپ حضرات سنت سے دفاع کی یہ ذمہ داری لیتے ہی کیوں ہیں، آپ کے ہاں مولوی عبدالغفار حسن صاحب جیسے دو ایک حضرات اور بھی موجود ہیں جو غالباً آپ کی جماعت کے مزاج اور اس کے نظم کے احترام کی وجہ سے خاموش ہو جاتے ہیں، انہیں اجازت مرحمت فرمائیے، وہ اس موضوع پر لکھیں اور اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق لکھیں۔ جماعت کے اجتماعی مزاج سے انہیں مستثنیٰ فرمایا جائے۔ میرا خیال ہے وہ یہ فریضہ بہتر طور پر ادا فرما سکتے ہیں۔ یہ فرضِ کفایہ اچھا ہے ان پر ڈال دیا جائے۔
آحاد کے متعلق اختلاف اور خرابی کا پہلا دور:
یوں تو زمانۂ نبوت ہی میں ایسا عنصر موجود تھا جو آنحضرت کی تفصیلی ہدایات، تربیت اور آپ کے احتساب سے گھبراتا تھا کبھی غنائم کی تقسیم کے سلسلہ میں یہ ذہن نمایاں ہوتا۔
[ان هذا قسمة لم يرد به وجه الله] [صحیح البخاری: 3150]
کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلو کی نسبت کرتے، مختلف طور پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تنفر پیدا کرنے کی کوشش کرتے [رَاَیۡتَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡکَ صُدُوۡدًا] منافق آپ کی خدمت میں آنے سے گھبراتے اور بد کتے ہیں۔ لیکن دانشمند اور سلجھی ہوئی طبائع کی موجودگی میں اس ذہن کو ابھرنے کی توفیق نہ مل سکی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان لوگوں کو کچھ کھل کر کہنے اور اجتماعی طور پر شرارت کرنے کا موقعہ ملا، اس کی تفصیل احادیث اور ادب کی کتابوں میں ملتی ہے۔
اس ذہن کی تنظیم:
لیکن دوسری صدی میں معتزلہ کی وجہ سے اس ذہن نے ایک باقاعدہ اور اصولی شکل اختیار کر لی۔ مگر خوارج اور یہ حضرات کھل کر حدیث کا انکار نہ کر سکے۔ فضائلِ اہل بیت کا انکار خوارج نے کیا اور احادیثِ صفات کا انکار حضراتِ معتزلہ نے کیا اور احادیثِ مناقب کا انکار شیعہ نے کیا۔ اس کے علاوہ یہ حضرات احادیث کو پورا پورا احترام کرتے تھے۔ معتزلہ فروع میں شیعہ ہیں، بعض حنفی اور شافع ۔ وہ اپنے اپنے اماموں کی طرح فروع میں احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔ اسی طرح خوارج میں آج بھی حدیث پڑھی پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔
الجامع الصحيح کے نام سے حکومتِ مسقط کی طرف سے حدیث کی ایک کتاب خوارج میں موجود ہے جسے وہ بڑی عقیدت سے پڑھتے ہیں۔ خوارج کے اس جزوی انکار کا تذکرہ سنت کی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ اعتزال کی سرپرستی عباسی حکومت نے کی۔ اس فتنہ نے قریباً دوسری صدی میں سر اٹھایا۔ اس لیے انکارِ حدیث کے متعلق یہ چور دروازہ قریباً دوسری صدی میں کھلا۔ ان کا زیادہ زور ان احادیث پر تھا جو صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق ان کے مزعومات کے خلاف تھیں اور حدیث کے متعلق رزق کی سلامتی کا یہ حال ہے کہ وہ متواتر احادیث کو بھی آحاد کہہ کر ٹال دیتے ہیں، نصوصِ قرآنیہ کی تاویل اس طرح کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ بھی اسے سن پائیں تو انہیں حیرت ہو۔
دے تویل اوحیراں ہمی ساخت
خدا و جبرئیل و مصطفیٰ را
آحاد پر اشتباہ دوسری صدی کے شروع میں:
یہ لوگ قرونِ خیر میں تو موجود نہ تھے، ان کی نشاندہی وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کو ان سے سابقہ پڑا۔ ابن حزم فرماتے ہیں:
[وایضا فان جمیع اھل الاسلام کانو علی قبول خبر الواحد الثقۃ عن النبی ﷺ یجری علی ذالک کل فرقۃ فی علمھا کاھل السنۃ والخوارج والشیعۃ والقدریۃ حتی حدث متکلمو المعتزلۃ بعد الماۃ من التاریخ فخالفو الاجماع فی ذالک]
تمام مسلمان اگر راوی ثقہ ہو تو خبرِ واحد کو قبول کرتے تھے۔ اہل سنت، خارجی، شیعہ، قدریہ کا بھی خیال تھا یہاں پہلی صدی کے بعد معتنزلہ متکلمین کی جماعت پیدا ہوئی اور انہوں نے اس اجماعِ امت کی مخالفت کی۔ [الاحکام: ص114]
❀ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور اسحاق بن راہویہ خبرِ واحد صحیح جو کچھ ثابت ہو اس سے انکار کو کفر سمجھتے تھے۔ ابن قیم ایک مقام پر ان لوگوں پر اس طرح سے تعجب فرماتے ہیں۔ "یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی احادیث کو اس لیے نہیں مانتے کہ (وہ آحاد ہیں) ان سے علم حاصل نہیں ہوتا، اور ذہنی خیالات اور باطل شبہات کو قبول کر لیتے ہیں جو معتزلہ، جہمئیہ اور فلاسفہ سے منقول ہیں اور ان کا نام براہینِ عقلیہ رکھ لیتے ہیں۔ [صواعق: ج2 ص375]
❀ ابن قیم نے صواعقِ مرسلہ کی دوسری جلد کے قریباً ایک سو زائد صفحات معتزلہ کے اسی نظریہ کے خلاف لکھے ہیں جنہوں نے خبرِ واحد کے متعلق ظاہر کیا اور اسی نظریہ کے سہارے پر سیکڑوں سننِ صحیحہ کا انکار کیا۔ حق کی جستجو کرنے والوں کو اس کی طرف توجہ کرنا چاہیے۔ حدیث کے متعلق تحقیقی مطالعہ کے لیے موافقات کا باب السنۃ، احکامِ ابن حزم کا باب السنۃ او صواعقِ مرسلہ کا یہ مقام ضرور دیکھنا چاہیے۔
دوسرا دور:
معتزلہ کے اس حملہ سے صرف اہل حدیث اور حنابلہ محفوظ تھے۔ احناف، موالک، شوافع ، شیعہ سے بعض اہل علم اعتزال سے متاثر تھے۔ وہ فروع میں احادیث کو مانتے، احاد کی ظنیت پر یقین کرتے۔ احناف سے بشر مریسی (228ھ) تو کھلے معتزلی ہیں۔ قاضی عیسیٰ بن ابان (221ھ) [قاضی عیسیٰ بن ابان کا مسلک متقدمین ائمہ احناف میں مقبول نہ تھا جیسے اصولِ بزدوی اور اس کی شرح سے ظاہر ہے ۔ متاثرینِ احناف بھی اسے اپنا نظریہ سمجھ کر اس سے فائدہ کرتے رہے اور مصراۃ وعیرہ کی روایات کو رد کرتے رہے۔ آج کل بعض نوآموز اور کم سواد حضرات اس غلط اور منحوس نظریہ کو حضرت امام سیدنا ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ اس نظریہ کی کچھ آبرو رہ جائے یہ روایت ابو مطیع بلخی سے مروی ہے۔ روایت بالکل من گھڑت اور وضعی ہے اس کی نسبت حضرت امام کی طرف بالکل جھوٹ ہے۔ ابو مطیع بلخی ائمہ نقد کے نزدیک نا قابلِ اعتماد ہیں۔ ذہبی فرماتے ہیں وہ آثار کے ضبط دہی ہیں، ابن معین نے فرمایا وہ راشی ہیں، نسائی نے انہیں ضعیف کہا، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ان سے روایت درست نہیں۔ ابو داؤد نے کہا یہ متروک الروایہ اور جہمی ہیں۔ ابن عدی نے کہا ان کا ضعف ظاہر ہے۔ ابن حبان نے فرمایا یہ مرحبہ کا سردار ہے، اسے سنت سے بغض ہے اور اس میں قلب بیانی کرتے ہیں۔ ان کا انتقال 199ھ میں ہوا ۔ (میزان الاعتدال: ایضاً تاریخ خطیب: ص223)
یہ نسبت قطعاً غلط و وضعی اور مختلق ہے۔ آج کل کے بعض نو خیز طلبۂ علم نے اسے نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس اثر کے متعلق باقی باحث دوسرے وقت مذکور ہوں گے۔ سر دست اس قدر اظہار مقصود ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ کی طرف اس جمی نظریہ کی نسبت غلط ہے۔] امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں۔ مولانا عبدالحی نے فوائد البہیہ میں ان کا مختصر ترجمہ لکھا ہے۔ ابن ندیم نے فہرست میں لکھا ہے کہ ان کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔ پھر علمی شغل اختیار فرمایا۔ خطیب نے صراحت کی ہے کہ وہ خلقِ قرآن کے قائل تھے۔
[قال عيسى بن ابان وعبد الجبار من المعتزلة]
ان قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قاضی عیسیٰ بن ابان کا رجحان بھی اعتزال کی طرف تھا۔ [ص175]
❀ ان کی وجہ سے فروع میں بھی اخبارِ آحاد کو اشتباہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ چنانچہ عادل و ضابط راوی اگر فقیہ نہ ہو تو اس کی روایت مقبول نہیں ہو گی بلکہ قیاس کو اس روایت پر ترجیح دی جائے گی۔
[وامأ رواية من لم يعرف بالفقه ولكنه معروف بالعدالة والضبط مثل ابى هريرة وانس بن مالك فأن وافق القياس عمل به وان خالفه لم يترك الا بالضرورة]
عادل اور ضابط راوی اگر فقیہ نہ ہو جیسے ابو ہریرہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما، ان کی روایت اگر قیاس کے موافق ہو تو قبول کی جائے گی ورنہ اسے ضرور ترک کر دیا جائے گا۔ [اصول بزدوی: ج2 ص699]
❀ قاضی عبدالعزیز بن احمد شارح اصولِ بزدوی فرماتے ہیں ’حدیث کو قیاس پر مقدم کرنے کے لیے ہم نے جو فقہ راوی کی شرط لگائی، یہ صرف عیسیٰ بن ابان کا مذہب ہے اور قاضی ابوزید دبوسی نے اسے پسند کیا اور مصراۃ اور عرایا کی حدیث کو اسی اصول پر تخریج کیا ہے اور بہت سے متاخرین نے اسے اپنا لیا۔ امام ابو الحسن کرخی اور باقی قدرِ احناف اس کے خلاف ہیں۔ وہ فرماتے ہیں عادل اور ضابط راوی کی حدیث بہر حال قیاس پر مقدم ہو گی اور اکثر علماء کا یہی خیال ہے۔ خود حضرت امام ابو حنیفہؒ ضعیف حدیث کو قیاس پر ترجیح دیتے ہیں۔ [کشف الاسرار: ج2، ص703]
یہ قاعدہ اصولِ فقہ کی قریباً تمام کتابوں میں مرقوم ہے۔ قدماء احناف نے اسے پسند نہیں فرمایا۔ ویسے بھی یہ قول غلط ہے، قاضی عیسیٰ بن ابان ایسے بزرگ، سیدنا ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ عنہما جیسے بزرگوں کو جو برسوں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر رہے، جن کی مادری زبان عربی ہے، غیر فقیہ کہہ دیں، عجیب ہے۔ حالانکہ وہ خود نہ عرب ہیں نہ علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا تفقہ معلوم ہے، اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم مسائل میں ان کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ گورنر تک کے عہدوں پر فائز رہے۔ خود ائمہ احناف نے ان کی احادیث کو خلافِ قیاس قبول فرمایا۔ کشف الاسرار، کتاب التحقیق وغیرہ مبسوطات میں اس کی تفصیل مل سکتی ہے۔ اس کے باوجود متاخرین احناف میں انکارِ حدیث کے لیے جزوی طور پر یہ چور دروازہ کھولا گیا۔
آحاد کو ترک کرنے کے لیے ایک راہ پیدا ہوئی لیکن اس میں اس قدر احتیاط رکھی گئی کہ وہی احادیث متروک ہوں گی جن کے راوی فقیہ نہ ہوں۔ (یہاں فقہ سے مراد یہ ہے کہ وہ راوی عربی زبان کو اچھی طرح جانتا ہو، روایت بالمعنیٰ میں غلطی نہ کرے)۔ فقیہ رواۃ کی روایات رائے کے موافق ہوں یا مخالف، قاضی عیسیٰ بن ابان اور ان کے اتباع اسے قبول کرتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ رائے کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے، کہیں نہ کہیں اس کے لیے گنجائش نکلنی چاہیے۔ اس احتیاط کے باوجود ان کا یہ مذہب قدماء احناف میں قبولیت حاصل نہ کر سکا۔ امام ابو حنیفہ، امام یوسف، امام محمد رحمۃ اللہ علیہم اور حضرت امام کے مشہور تلامذہ کا قاضی عیسیٰ بن ابان سے ان کی اس احتیاط کے باوجود ان کو اختلاف ہے۔ صحیح وہی راہ ہے جسے جمہور ائمہ سنت نے اختیار فرمایا۔ قاضی عیسیٰ بن ابان کے مسلک میں اعتزال کی بو آتی ہے اور ائمہ حدیث کا نقطۂ نظر تو قدماء اور اکابر احناف سے بھی مختلف ہے۔
تیسرا دور:
متاخرین احناف میں قاضی عیسیٰ بن ابان کے مسلک پر عمل ہونے لگا۔ فقہ اور اصولِ فقہ میں اسی کی بنا پر فروع اور اصول تخریج کیے گئے۔ بعض جگہ سست رفتار احادیث کی بھی بعید از کار تاویلات کی گئیں۔ عینی شرح کنز میں نکاحِ حلالہ کے افادۂ تحلیل کا ذکر فرمایا حدیث [لعن اللہ المحلل والمحلل لہ] کی تاویل اس طرح فرمائی گئی [لعلہ اراد باللعنۃ الرحمۃ] یعنی حدیث میں لعنت سے شاید رحمت مراد ہو۔ [عینی بر حاشیہ کنز کشوری]
غرض متاخرین کی تصانیف میں اعتزال کو کافی دخل ہو گیا۔ اصولِ فقہ میں سب سے پہلی تصنیف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی۔ [اول من صنف فیہ الامام الشافعی] [کشف الظنون: ج1، ص89]
❀ اس کے بعد جب اصولی فقہ فن کی صورت میں مدون کیا گیا تو اس میں اہل حدیث اور معتزلہ نے بہت کچھ لکھا۔
[واكثر التصانيف فى اصول الفقه لاهل الاعتزال المخالفين لنا فى الاصول ولاهل الحديث المخالفين لنا فى الفروع]
اصولِ فقہ میں معتزلہ نے زیادہ کام کیا، وہ اصول اور عقائد میں ہمارے مخالف ہیں، یا پھر اہل حدیث نے تصانیف کیں، وہ فروع میں ہم سے مختلف ہیں۔ [کشف الظنون: ج1، ص89]،[ابجد العلوم: ج2، ص325]
❀ معتزلہ کا اثر عقائد تو تھا ہی فقہیات بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے۔
[بعضهم يزعم ان بناء المذهب علىٰ هذه المحاورات الجدلية المذكورة مبسوط السرخسى والهداية والتبيين ونحو ذالك ولا ان اول من اظهر ذالك فيهم المعتزلة وليس عليه بناء مذهبهم]
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہدایہ، تبیین، مبسوطِ سرخسی میں جو جدلی مباحثات پائے جاتے ہیں، حنفی مذہب کی بناء ان پر ہے، انہیں معلوم نہیں کہ یہ معتزلہ کی مہربانی ہے۔ حنفی مذہب ان پر مبنی نہیں۔ [حجة الله: ص160، ج1]
غرض دوسرے دور میں فروع اس سے متاثر ہوئے اور عقائد بعد اعمال پر اس کا اثر پڑا۔
فقه راوی:
دوسرے مقام پر شاہ صاحب نے فرمایا:
محققین کی یہ پختہ رائے ہے کہ عدل اور ضبط کے بعد راوی کے لیے فقہ کی شرط یہ صرف عیسیٰ بن ابان کا مذہب ہے اور بہت سے متاخرین اس میں ان کے ساتھ ہیں، امام کرخی اس کے خلاف ہیں اور قدماء احناف سے بھی یہ مذہب منقول نہیں۔ ان کی رائے ہے کہ حدیث بہر حال مقدم ہے۔ [حجة الله: ص161، ج1]
غرض رائے اور قیاس کی دھاندلی متاخرین میں ہے، یہ قدماء میں نہ تھی۔ قدماء کی اس احتیاط کے باوجود ائمہ حدیث نہ متقدمین کی روش پر مطمئن تھے، نہ متاخرین کے طریق پر، یہ حضرات دونوں جگہ حدیث اور سنّت کے صافی چشموں کو مکدر پاتے تھے۔
شعبی فرماتے ہیں:
[لقد بغض الى هؤلاء الارائيون المسجد حتى انه لا بغض الى من كناسته دارى قالوا من هم قال الحكم وحماد اصحابه]
[مختصر بیان العلم: ابن عبدالبر، ص146، ج2]،[القول المفید للشوکانی]
جو لوگ اس وقت اس محتاط روش پر مطمئن نہیں وہ آج کل نیچر پرستی پر کیسے مطمئن ہو سکتے ہیں۔ آج کے اہل حدیث حضرات سب کچھ دیکھتے ہیں اور ان کی سلفیت پر کوئی آنچ نہیں آتی۔
اكل امرء تحسبینى امراء
ونار توقد بالليل ناراً
ہمیں یقیناً معلوم ہے کہ ائمہ اربعہ حدیث کو حجت مانتے ہیں، اسے دین کا ماخذ سمجھتے ہیں اور اسی تعریف سے حجت سمجھتے ہیں جو ائمہ سنت اور عامۃ المسلمین میں مسلم ہے، ایک دوسرے کو مسلمان سمجھنے کے باوجود اہلِ حدیث کو احناف، شوافع، موالک اور حنابلہ کی فقہیات سے اختلاف ہے، وہ ان سکول ہائے فکر میں حدیث اور سنت کی تقدیس کو اس قدر محترم اور محفوظ پاتے ہیں۔
چوتھا دور:
انگریز کی آمد کے بعد جب ملک میں تعلیمی نظام تقسیم ہوا۔ دینی تعلیم حضری تعلیم سے الگ ہو گئی۔ سکولوں اور کالجوں کا طریقِ فکر مذہبی مدارس سے مختلف ہو گیا۔ عیسائی مبلغ اپنی حکومت کی سرپرستی میں ہندوستان میں چھا گئے۔ علماء اور مذہبی مدارس تو ان سے کیا متاثر ہوتے، انگریزی تعلیم اور اس کی حمایت کرنے والے ان سے بہت حد تک متاثر ہوئے۔ سید احمد خاں مرحوم سے لے کر سکولوں کے طلبہ اور اساتذہ تک اس کے اثر سے نہ بچ سکے، ان میں سے بعض حضرات کی اسلام سے وابستگی واقعی خلوص پر مبنی تھی۔ ان لوگوں نے عیسائی شبہات کے جواب میں پورے زور سے قلم اٹھایا، ذہن چونکہ متاثر تھا قلم لڑکھڑا گیا۔
"امہات المومنین”، "خطباتِ احمدیہ”، "تفسیر احمدی” (مصنفہ سید احمد خاں) میں یہ چیزیں نمایاں ہیں۔ جو حدیث مقاصد کے خلاف آئی اڑا دی گئی جہاں کسی آیت کا مفہوم یا کوئی معجزہ نیچر سے منحرف ہوا اس کا حلیہ اس طرح بگاڑا، تاویل اور تحریف میں ایسا ترادف پیدا کیا جس پر ملائکہ بھی حیران ہو گئے، حکومت کو بھی اس سے فائدہ ہوا، 1857ء کے مظالم سے جن دلوں میں انتقام کی آگ جل رہی تھی انہیں ایک وقتی مشغلہ ہاتھ آ گیا، اس طریقِ فکر کے اثرات ملک میں مختلف انداز میں ظاہر ہوئے۔
اربابِ قادیان پر تاویل کا فیضان ہوا۔ مولوی عبداللہ چکڑالوی کو انکارِ حدیث کا سبق ملا۔ مولانا شبلی اور مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ جیسے اساطینِ علم و فضل بھی تھوڑے، بہت اس سے متاثر ہوئے۔ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کے جو اجزاء عربی میں شائع ہوئے ہیں ان میں حدیث سے بہت کم استفادہ فرمایا گیا ہے، تورات اور انجیل کے رائج الوقت نسخوں سے کافی استفادہ کیا گیا ہے۔