زکوٰۃ ادا کرنے سے قبل سونا فروخت کرنے کا حکم

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ

سوال : کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنا زیر استعمال سونا فروخت کر دیا، جبکہ میں نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی۔ اب اس کی زکوٰۃ کیسے ادا ہو گی ؟ معلوم ہونا چاہئیے کہ میں نے وہ زیور چار ہزار ریال میں فروخت کیا تھا۔
جواب : اگر آپ کو سونا فروخت کرنے کے بعد اس پر وجوب زکوٰۃ کا علم ہوا ہے تو اس صورت میں آپ پر کوئی حرج نہیں ہے اور اگر (فروخت سے پہلے) آپ کو اس مسئلے کا علم تھا تو اس رقم میں سے ریٹ (اڑھائی فیصد) سالانہ کے حساب سے زکوٰۃ ادا کریں، اسی طرح گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی مارکیٹ میں سونے کی قیت کے حساب سے ادا کرنا پڑے گی۔ آپ معروف کرنسی کے ساتھ 4/10 یعنی اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کریں۔ اگر آپ کو زیورات پر وجوب زکوٰۃ کا علم آخری سال ہوا تو پھر صرف آخری سال کی زکوۃ دینا پڑے گی۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل