اذان میں اشهدان امير المؤمنين على ولي الله کا اضافہ

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : کیا اذان میں شہادتین کے بعد اشهد ان امير المؤمنين على ولي الله کلمات کہنا درست ہے ؟ قرآن و حدیث سے وضاحت فرمائیں۔
جواب : اذان شعائر اسلام میں سے ہے، اس کے الفاظ وہی درست ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ اذان میں نہ اپنی طرف سے اضافہ جائز ہے اور نہ کمی۔ جو شخص اذان میں بعض کلمات کا اضافہ کرتا ہے، وہ بدعتی ہے، بلکہ لعنت کا مستحق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ کی جو روایت اذان کے بارے میں مروی ہے، اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو نماز کے لیے جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی کے ہاتھ میں ناقوس ہے تو میں نے اس سے کہا: ”اے اللہ کے بندے ! کیا تو ناقوس بیچے گا ؟“ اس سے کہا: ”آپ اس کا کیا کریں گے ؟“ میں نے کہا: ’’ میں نماز کے لیے اس کے ذریعے لوگوں کو ندا دوں گا۔“ تو اس نے کہا: ’’ میں تجھے ایسی بات پر رہنمائی کروں گا جو اس سے بہتر ہے ؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے کہا کہ تو کہہ :
الله اكبر، الله اكبر، الله اكبر، الله اكبر، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الله اكبر، الله اكبر، لا إله إلا الله
صبح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب سنایا تو اُنھوں نے فرمایا:
ان هذا رو يا حق ان شاء الله
”یقینا یہ خواب سچا ہے اگر اللہ نے چاہا۔“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کو یہ کلمات سکھا دو تاکہ وہ اذان کہے کیونکہ اس کی آواز تجھ سے بہتر ہے۔“ [ ابوداود، كتاب الصلاة: باب كيف الاذان 499، ابن ماجه 706، ترمذي 189، احمد 43/4، دارمي 214/1 ]
اسی طرح فجر کی اذان میں حي على الفلاح کے بعد دو بار الصلاة خير من النوم کہنا سنت سے ثابت ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
من السنة إذا قال المؤذن فى اذان الفجر حى على الفلاح قال الصلاة خير من النوم [ ابن خزيمة 386، دارقطني 243/1، بيهقي 423/1، ابن منذر 21/3 ]
صبح کی اذان میں”حی علی الفلاح“ کے بعد ”الصلاة خير من النوم“ کہنا سنت سے ہے۔“
اور اصول میں یہ بات ثابت ہے کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ من السنة كذا مسند اور مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ سے المجموع (232/5) میں، امام ابن ہمام رحمہ اللہ نے ” التحریر“ میں اور اس کے شارع ابن امیر الحاج نے (224/1) پر جمہور اصولین اور محدثین سے یہی موقف نقل کیا ہے۔ اسی طرح سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اذان سکھائی اور فرمایا صبح کی اذان میں الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم کہا کرو۔ یہ حدیث سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق کے ساتھ درج ذیل کتب میں مروی ہے۔ [ احمد 408/3، ابو داؤد،501، نسائي 72، ابن خزيمة 385، دار قطني 224/1، بيهقي 422/1، ابن حبان 289، التاريخ الكبير 123/1، عبدالرزاق 472/1، حلية الاولياء 310/8 ]
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ فجر کی پہلی اذان میں الصلاة خير من النوم کہا جاتا ہے۔ [ طحاوي 137/1، بيهقي 423/1، تلخيص الحبير 201/1 ]
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے اذان میں ترجیع بھی ثابت ہے۔ یعنی شہادتین کے کلمات کو دوبارہ کہنا۔ پہلی بار آہستہ اور دوسری بار اس سے اونچی آواز میں۔ مذکورہ بالا صحیح احادیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اذان کے مذکورہ کلمات ہی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ ان میں نہ اضافہ جائز ہے اور نہ کمی ہی۔ اذان میں أشهد أن عليا ولي الله وغیرہ کے کلمات نہیں ہیں۔ جو لوگ ان کلمات کا اضافہ کرتے ہیں وہ احداث فی الدین کے مرتکب ہیں اور بدعتی ہیں۔ فقہ جعفریہ سے بھی ان کلمات کا اذان میں کہنا ثابت نہیں ہے بلکہ فقہ جعفریہ کی رو سے یہ کلمات اذان میں کہنا گناہ ہے اور کہنے والا لعنت کا مستحق ہے۔
فقہ جعفریہ کی صحاح اربعہ وغیرہ میں مرقوم اذان اور اہل سنت کی اذان میں فرق صرف یہ ہے کہ حي على الفلاح کے بعد فقہ جعفریہ میں حي على خير العمل دو مرتبہ کہا جاتا ہے۔ باقی اذان کے الفاظ وہی ہیں جو اہل سنت کی اذان کے ہیں۔ شیعہ مذہب کی معتبر کتاب الفقيه من لا یحضرہ الفقیہ (188/1) پر ابن بابویہ قمی نے اذان کے الفاظ نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:
هذا هو الأذان الصحيح لا يزاد فيه و لا ينقض منه والمفوضة لعنهم الله قد وضعوا اخبارا و زادوا فى الأذان محمدا و ال محمد خير البرية مرتين و فى بعض رواياتهم بعد أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن عليا ولي الله مرتين و منهم من روى بدل ذلك أشهد أن عليا أمير المؤمنين حق مرتين ولا شك فى أن عليا ولى الله و أنه أمير المؤمنين حقا وأن محمدا واله صلوات الله عليهم خير البرية و لكن ليس ذلك فى اصل الأذان وإنما ذكرت ذلك ليعرف بهذو الزيادة المتهمون المدلسون أنهم فى جملتنا
یہی اذان صحیح ہے، نہ اس میں زیادتی کی جائے گی اور نہ کمی اور مفوضہ فرقہ پر اللہ تعالی کی لعنت ہو، اُنھوں نے بہت سی روایات گھڑیں اور اذان میں محمدا و ال محمد خير البرية ( کے کلمات) دو مرتبہ کہنے کے لیے بڑھا دیے اور ان کی بعض روایات میں أشهد أن محمدا رسول الله کے بعد أشهد أن عليا ولي الله دو دفعہ ذکر کیا گیا ہے۔ ان مفوضہ میں سے بعض نے ان الفاظ کی بجائے یہ الفاظ روایت کئے ہیں: أشهد أن أمير المؤمنين حقا یہ بات یقینی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ کے ولی اور سچے امیرالمومنین ہیں اور محمد و آل محمد خیر البریة ہیں لیکن یہ الفاظ اصلی اذان میں نہیں ہیں۔ میں نے یہ الفاظ اس لئے ذکر کے ہیں تاکہ ان کی وجہ سے وہ لوگ پہچانے جائیں جو مفوضہ ہونے کی اپنے اوپر تہمت لیے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود اپنے آپ کو اہل تشیع میں شمار کرتے ہیں۔“
ابن بابویہ قمی شیعہ محدث کی اس صراحت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اشهد أن عليا ولي الله وغیرہ کلمات اصل اذان کے کلمات نہیں بلکہ اس لعنتی فرقہ مفوضہ نے یہ گھڑے ہیں اور اذان میں داخل کر دیے ہیں۔ ائمہ محدثین کے ہاں ان کا کوئی ثبوت نہیں۔ الفقیہ من لا یحضرہ الفقیہ (188/1) کے حاشیہ میں مفوضہ فرقے کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے:
فرقة ضالة قالك بأن الله خلق محمدا و فوض إليه خلق الدنيا فهو الخلاق و قيل بل فوض ذلك إلى على عليه السلام
مقوضہ ایک گمراہ فرقہ ہے۔ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف محمد ( صلى الله عليه وسلم) کو پیدا کیا، اس کے بعد دنیا کی پیدائش کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔ لہذا آپ ہی خلاق (بہت زیادہ پیدا کرنے والے) ہوئے اور ان کے عقائد کر میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدائش کا معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا۔ “ مذکورہ بالا وضاحت سے معلوم ہوا کہ مفوضہ ایک لعنتی فرقہ ہے، جس نے یہ کلمات اذان میں بڑھائے ہیں، سنت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ شیعہ مذہب کی معتبر کتاب ”المبسوط (99/1)“ طبع تہران، لأبی جعفر بن محمد حسین الطوسی میں لکھا ہے :
فَاَمَّا قَوْلُ اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَآلُ مُحَمَّدٍ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ عَلٰي مَا وَرَدَ فِيْ شَوَاذِّ الْأَخْبَارِ فَلَيْسَ بِمَعْمُوْلٍ عَلَيْهِ فِي الْأَذَانِ وَلَوْ فَعَلَهُ الْاِنْسَانُ يَأْثَمُ بِهِ غَيْرَ اَنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَضِيْلَةِ الْأَذَانِ وَلَا كَمَالِ فُصُوْلِه .
”بہرحال اذان میں اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَآلَ مُحَمَّدٍ خَيْرُ الْبَرِيَّةَ کہنا جیسا کہ شاذ روایات میں آیا ہے، ان کے کہنے پر کوئی کاربند نہیں ہے اور اگر کوئی شخص اذان میں یہ کلمات کہے تو وہ گناہ گار ہو گا، علاوہ ازیں یہ کلمات اذان کی فضیلت اور کمال میں سے نہیں ہیں“۔
اسی طرح شیعہ مذہب کی معتبر کتاب ”اللمعۃ الدمشقیۃ (240/1)“ میں لکھا ہے :
”مذکورہ اذان (جو اہل سنت کے مطابق ہے ) یہی شرع میں منقول ہے۔ اس کے علاوہ زائد کلمات کا شرعی طور پر درست سمجھنا جائز نہیں ہے۔ خواہ وہ اذان کے اندر ہوں یا اقامت میں۔ جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کی گواہی کے الفاظ اور محمد و آل محمد کے خیر البریہ یا خیر البشر ہونے کے الفاظ ہیں۔ اگرچہ جو کچھ ان الفاظ میں کہا گیا ہے وہ واقعی درست ہے (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ولی اللہ ہونا اور محمد و آل محمد کا بہترین مخلوق ہونا) لیکن ہر وہ بات جو واقعتاً درست اور حق ہے، اسے ایسی عبادات میں داخل کر لینا جو شرعی وظیفہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حد بندی کی گئی ہو، جائز نہیں ہو جاتا۔ لہٰذا ان کلمات کا اذان میں کہنا بدعت ہے اور ایک نئی شریعت بنانا ہے “۔
اسی طرح شیعہ حضرات کی کتاب ”فقہ امام جعفر صادق لمحمد جواد (166/1)“ طبع ایران میں لکھا ہے :
وَاتَّفَقُوْا جَمِيْعًا عَلٰي اَنَّ قَوْلَ اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ لَيْسَ مِنْ فُصُوْلِ الْأَذَانِ وَاَجْزَائِهِ وَاَنَّ مَنْ اَتٰي بِنِيَّةِ اَنَّهُ مِنَ الْأَذَانِ فَقَدْ اَبْدَعَ فِي الدِّيْنِ وَاَدْخَلَ فِيْهِ مَا هُوَ خَارِجٌ عَنْهُ
”سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ کلمات اذان اور اس کے اجزاء میں سے نہیں ہیں، اور اس پر بھی کہ جو شخص ان الفاظ کو اس نیت سے کہتا ہے کہ یہ بھی اذان میں شامل ہیں تو اس نے دین میں بدعت نکالی اور وہ بات دین میں داخل کر دی جو اس سے خارج تھی“۔
اسی طرح شیعہ محدث و مفسر شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد بن حسن الطّوسی نے اپنے فتاویٰ ”النھایۃ فی مجرد الفقہ والفتاویٰ (69)“ طبع قم، ایران میں لکھا ہے :
وَاَمَّا مَا رُوِيَ فِيْ شَوَاذِّ الْاَخْبَارِ مِنْ قَوْلِ ”اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ وَآلَ مُحَمَّدٍ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ “ فَمِمَّا لَا يُعْمَلُ عَلَيْهِ فِي الْاَذَانِ وَالْاِقَامَةِ فَمَنْ عَمِلَ بِهَا كَانَ مُخْطِئًا
”شاذ روایات میں جو یہ قول مروی ہے : اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ وَآلَ مُحَمَّدٍ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ یہ ان کلمات میں سے ہے جن پر اذان اور اقامت میں عمل نہیں کیا جاتا، جس شخص نے اس پر عمل کیا وہ غلطی پر ہے “۔
مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اذان کے کلمات شعائر اسلام میں سے ہیں اور یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیے ہیں۔ کسی شخص کو ان میں نہ اضافہ کرنے کی اجازت ہے اور نہ کمی کی۔ جو شخص اذان میں اضافہ یا کمی کرتا ہے، وہ بدعتی ہے اور موجب لعنت ہے۔ فقہ جعفریہ کی امہات الکتب میں بھی یہی اذان جو اہل سنت کے ہاں مشروع ہے، نقل کی گئی ہے سوائے حَيَّ عَلٰي خَيْرِ الْعَمَلِ کے اور فقہ جعفریہ کی رو سے اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ کے کلمات کا اذان میں درج کرنا گناہ ہے اور بدعت ہے بلکہ یہ الفاظ لعنتی فرقہ مفوضہ نے گھڑے ہیں اور اذان میں داخل کر دیے ہیں۔ حالانکہ یہ کلمات اذان میں شامل نہیں ہیں۔
ہم دعویٰ کے ساتھ یہ بات کہتے ہیں کہ سیدنا علی، سیدنا حسن، سیدنا حسین، علی زین العابدین رضی اللہ عنہم وغیرہ جو شیعہ کے ہاں ائمہ اہل بیت، معصوم عن الخطاء شمار ہوتے ہیں، ان سے صحیح سند کے ساتھ تو کیا ضعیف سند کے ساتھ بھی ان کلمات کا اذان میں کہنا ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی نماز کے لیے اذان دی جاتی تھی تو کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات اذان میں کہلوائے تھے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ اذان میں یہ کلمات نہیں کہتے ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہل بیت سے محبت نہیں ہے۔ یہ بات سراسر غلط ہے، اگر محبت کی یہ علامت ہے کہ جس کے ساتھ محبت ہو اس کا نام اذان میں لیا جائے تو ان حضرات کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کی تمام اولاد، اسی طرح ان کے مزعومہ بارہ امام اور ان کی اولاد کے نام بھی اذان میں لینے چاہئیں تاکہ کھل کر محبت کا اظہار ہو اور اگر اس طرح اذان شروع کر دی جائے تو ہو سکتا ہے چوبیس (24) گھنٹوں میں اذان بھی مکمل نہ ہو اور نماز کا وقت ہی نہ ملے۔ اوپر شیعہ مجتہدین سے صراحت کے ساتھ نقل کر دیا ہے کہ جو بات امر واقع میں درست ثابت ہو، اسے اذان میں اپنی طرف سے داخل کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اذان کے کلمات اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں اور متعین ہیں، ان میں اضافہ کرنا اپنے آپ کو لعنت کا حق دار بنانے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو سنت نبوی پر عمل کی کما حقہ توفیق عنایت فرمائے۔

 

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: