تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العلق (96) — آیت 9

اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی ۙ﴿۹﴾
کیا تونے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔ En
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے
En
(بھلا) اسے بھی تو نے دیکھا جو بندے کو روکتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَیْتَ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنْ كَانَ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الْهُدٰۤى اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوْ اَمَرَ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقْوٰىتقویٰ کا۔کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔
﴿اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰى کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول الله لهذا المتمرِّد العاتي: {أرأيتَ}: أيُّها الناهي للعبد إذا صلَّى، {إنْ كانَ}: العبد المصلِّي {على الهُدى}: العلم بالحقِّ والعمل به، {أو أمر}: غيره {بالتَّقوى}: فهل يحسُنُ أن يُنْهى مَن هذا وصفه؟! أليس نهيه من أعظم المحادَّة لله والمحاربة للحقِّ؟! فإنَّ النَّهي لا يتوجَّه إلاَّ لمن هو في نفسه على غير الهدى، أو كان يأمر غيره بخلاف التقوى، {أرأيتَ إن كذَّبَ}: النَّاهي بالحقِّ، {وتولَّى}: عن الأمر؟ أما يخاف الله ويخشى عقابه؟! {ألمْ يعلمْ بأنَّ اللهَ يرى}: ما يعمل ويفعل.